رسائی

ٹیکسٹ سائیز

رنگوں کے اختایارات

مونوکروم مدھم رنگ گہرا

پڑھنے کے ٹولز

علیحدگی پیمائش

رپورٹنگ

رپورٹنگ

موضوعات

آن لائن ہراسگی اور گمراہ کن معلومات سے بچنے کے لیے صحافی کیسے تیاری کرسکتے ہیں

یہ مضمون ان زبانوں میں بھی دستیاب ہے

بطور رپورٹر اپنے15 سالہ کیرئیرمیں،ایریک لٹکے کو لوگوں کی غصیلی ای میل اورسوشل میڈیا پیغامات کی عادت ہوگئ تھی جو ان کی سٹوریز سے بھڑک جاتے

"یہ اس کام کا حصہ ہے،” انہوں نے کہا۔

لیکن جب سے انہوں نے یو ایس اے ٹو ڈے اور پولیٹیفیکٹ کے لیے فیکٹ چیکنگ شروع کی ہے، جو کے ملواکی جرنل سینٹینل اور غیر منافع  بخش تنظیم پولیتیفیکٹ کی پارٹنرشپ ہے، انہوں نے اپنے کام کے لحاظ سے عوام میں خیالات کی تبدیلی دیکھی یے۔ وہ ہمیشہ ہی اپنی وہ سٹوریز جس پر انہیں فخر ہوتا ہے وہ سوشل میڈیا پر شئیر کرتے ہیں لیکن گالی آمیز پیغامات پچھلے تین سالوں میں مزید زاتی ہوگئے ہیں اور اب زیادہ تر ان لوگوں سے آنے لگے ہیں جو ان کے دائرے میں ہیں۔ 

حالانکہ ان کی کوشش غیرجانبدیر ہونا ہی ہوتی ہے، ان کے کیے گئے کچھ فیکٹ چیک، جس سے فیس بک کواپنا مواد موڈیریٹ کرنے میں بھی مدد ملتی ہے، بہت ہی جزباتی اورغیرمعقول ردعمل لاتی ہے۔ حال ہی میں ایک بہت ہی پرانے دوست نے انہیں فیس بک پر کہا کہ "وہ پہلے ایسا کام کیا کرتے تھے جس سے فرق پڑتا تھا۔” 

"تبصروں کا لہجہ مختلف ہوتا ہے جب میں تفتیشی سٹوری کرتا ہوں یا جب فیکٹ چیکنگ،” لٹکے نے کہا۔ "اب ایک جبلت بھرا ردعمل آتا ہے جہاں پر لوگوں کودلچسپی نہیں ہوتی کہ وہ تنقیدی طور پر مشغول ہوں اس سارے کام سے جو اس کے پیچھے کیا گیا ہو جیسے ڈیٹا ،نقاط، اور تنقیدی سوچ۔ وہ صرف یہ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ "اچھا تو آپ نے اس شخص کو یہ درجہ دیا ہے تو آپ سے برا کوئی نہیں یا آپ سے بہترین انسان کوئی نہیں۔” صرف اس بنیاد پرکہ آپ اپنے خیالات میں کہاں ٹھہرتے ہیں۔”

اس سے بھی بد تر ان کوایک اجنبی کی طرف سے غیر واضح دھمکی آمیز ای میل آئی جو کے انہیں اور انکے ایڈیٹرکولگا کے اتنی سنجیدہ تھی کہ پولیس کو بتا دیا جائے۔ 

"یہ میرے کیرئیرمیں پہلے نہیں ہوا،” انہوں نے کہا۔ "یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملات اس وقت کہاں جارہے ہیں اور لوگ ایسی ای میل بھیجتے ہیں جن کو پڑھ کے لگتا ہے کہ آپ اس حد تک سوچنے لگتے ہیں” مجھے نہیں لگتا کہ یہ میرے گھرتک آ جائے گا لیکن پھر بھی کچھ لوگوں کے علم میں یہ کاروائی ہونی چاہئیے۔”

یہ موجودہ ماحول رپورٹرز کے خلاف دشمنی کا ایسا ہے کہ آپ کو ایسے امکانات پر سوچنے پر آمادہ کرتے ہیں جیسے کہ جسمانی خطرات، ڈاکسنگ (doxxing)، ڈیجیٹل پرائیوسی اور سیکیورٹی کی خلاف ورزیاں، اورسوشل میڈیا اکاونٹ سے تصاویروں کی بد نیتی سے جوڑ توڑ کرنا۔ ایسے حملے رپورٹرز کی حقیقی زندگی میں حفاظت کے خطرات بڑھا سکتے ہیں، اظہارے رائے محدود کرسکتے ہیں یہاں تک کے انکو یہ پیشہ چھوڑنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔

جہاں ایک طرف آن لائن جگہوں پرغیرجانبدرانہ سچ پرحملہ ہورہا ہے یہ سب رپورٹر پر بھی اثر انداز ہورہا ہے ۔ وہ اب اپنی ڈیجیٹل حفاظات کے بارے میں دودفعہ سوچتے ہیں۔ 

گمراہ کرنے والی معلومات اور آن لائن ہراساں کرنا: غیر منطقی طورپرآپس میں منسلک 

آن لائن ہراسگی اس کو کہتے ہیں جب کوئی فرد یا گروپ کسی اور کو شدید خطرناک انداز میں ٹارگٹ کرتا ہے۔ یہ ایک مجموعی اصطلاح ہے جس میں تفرت بھری باتیں، جنسی طور پر ہراساں کرنا، ہیکنگ، اور ڈاکسنگ  کرنا جس کے معنی کسی کی زاتی معلومات آن لائن شئیر کرنا ہے۔ 

خواتین رپورٹرزغیرمتناسبی طور پران حملوں کا نشانہ بنتی ہیں۔ حال ہی میں شائع ہونے والی یونائیٹڈ نیشنز ایجوکیشنل سائنٹفک اور کلچرل آرگنائیزیشن (ہونیسکو) کی حالیہ رپورٹ اور انٹرنیشنل سینٹرفورجرنلسٹس نے آن لائن ہراساں کرنے کو "خواتین صحافیوں کے لئیے نئ فرنٹ لائن” قرار دیا ہے۔ 700 سے زائد خواتیں صحافیوں پرمشتمل ایک عالمی سروے کے مطابق 73 فیصد نے کہا کہ یہ کسی نہ کسی قسم کی آن لائن تشدد کا شکار ہوئی ہیں۔ 

سروے کا جواب دینے والوں نے بتایا کہ انہیں جنسی اورجسمانی حملوں اور تششد کی دھمکیاں، ڈیجیٹل سیکورٹی، جنسی طور پر واضح اور تبدیل کی گئی تصاویر، اور گالی سے بھرے پیغامات، انکی ذاتی اور پیشہ ورانہ ساکھ کوکمزور کرنے کے کوششیں اور مالی طور پر دھمکیاں دی گئیں۔ تقریباً پانچ میں سے دو نے کہا کہ ان پر حملوں کا تعلق منظم گمراہ کن معلومات پھیلانے والی مہم سے تھا۔ 

آن لائن ہراسگی اورگمرہ کن معلومات کی مہم غیرمنطقی طور پر آپس میں منسلک ہیں جو کے اخبارات اور دوسرے جمہورتی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں لیکن انفرادی رپورٹرز کو بھی نشانہ بناتے پیں، نورا بیناویڈیز نے کہا، جو کے پین امریکہ فرسٹ امینڈمنٹ اور ووٹنگ کے حقوق کی وکالت کرتی ہیں۔ پین امریکہ ملک بھرمیں آن لائن بدسلوکی پر رپورٹرز اور نیوزرومز کو تربیتی ٹریننگ دیتی ہیں۔ 

” یہ مسائل آن لائن دنیا میں ہیں اور ہتھیارکے طورپراستعال کئیے جاتے ہیں لیکن ان کی کا منصوبہ وصیح ہوتا ہے۔ اسکا مقصد مسلسل شک پیدا کرنا ہوتا ہے اور ان بیانیوں کو بدنام کرنا ہوتا ہےجن کو لوگ دیکھتے ہیں،” انہوں نے کہا۔ 

دونوں صورتحال میں ، حملے منطم ہوتے ہیں حالانکہ ایسے لگتا ہے کہ مظلوم  بے ترتیب طریقے سے نشانہ بن رہے ہوں۔ (میڈیا مینیپولیشن کیس بک ایک مجموعہ ہے ایسی تفتیشات کا جو کہ اعلی درجے کی ہم آہنگی دکھاتی ہے آن لائن ہراساں کرنے میں اورگمراہ کرنے والی معلومات پھیلانے کی مہم میں، جس میں کووڈ 19 پینڈمک کے شروع میں آنلائن سیاہ فام کمیونیٹیز سےمتعلق میڈیکل گمراہ کرنے والی  معلومات شامل ہے۔)

"میرا خیال ہے کہ آن لائن ہراسگی اورگمراہ کرنے والی تصویر کے دو رخ ہیں، یا شاید یا نیزے کی دو نوکیں، ہیں نا؟”، وکٹوریا ولک نے کہا، جو کہ، پین امریکہ میں ڈایریکٹر ہیں ڈیجٹل حفاظت اور اظہار رائے پروگرامز کی۔ دونوں کا مقصد  گمراہ کرنے والی معلومات یا غلط معلومات کو پھیلانا ہے۔ صحیح معلومات جس کو بدنام کرنا چاہتے ہیں وہ معروف زرائع سے آرہی ہوتی ہے۔ یہ کرنے کے لیے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کی وہ زرائع قابل اعتماد نہیں ہیں اورآپ کی درست اور پیشہ ورانہ طور پر پروڈیوس کی گئی معلومات کو رپورٹرز کو بدنام، ڈرانا اور خاموش کرانا ہوتا ہے ۔

لیکن اس کا مطلب یہ بلکل نہیں کہ دونوں مسائل ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ہر قسم کی آن لائن ہراسگی  کے واقعات مہم کا حصہ نہیں ہوتے، کبھی کبھار یہ بلکل افرا تفری کا شکار ہوتا ہے صرف اس وجہ سے کے سوشل میڈیا کو استعمال کرنے والوں کو کسی نے ناراض کردیا ہو۔  

یکساں ہونے کے باوجود گمراہ کن معلومات اورآن لائن ہراسگی کوایک ساتھ سمجھا نہیں جاتا۔ بینناواڈز اور ولک کے مطابق، گمراہ کرنے والی معلومات پر ریسرچ کو جبکہ بڑے اثررسوخ رکھنے والے نیٹورک، سوشل میڈیا بوٹس اور ناحقیقت پزیر نئے آوؐٹلٹ کو بے نقاب کرنے کے لئیے استعمال کیا جاتا ہے، انلائن ہراسیگی کو کم سائنسی طریقے سے جانچا جاتا ہے۔ بجائے اسکے کہ حملوں کے پیچھے میکانزم کا سراغ لگایا جائے، ریسرچر اور رپورٹرز اکثر لوگوں کے ٹارگٹ اور ڈاکسنگ سے سنگین تکلیف کے تجربات پر فوکس کرتے ہیں۔

"جیسے ہی یہ واقعات ہوتے ہیں انکے بارے میں اچھی فرانسک تفتیش نہیں ہوتی اس لئے زیادہ ثبوت نہیں ہوتے۔”ولک نے کہا۔ "ویب کے اندھیروں میں ہم آہنگی کے ساتھ کام ہورہا ہوتا ہے لیکن ہمارے پاس بہت ثبوت نہیں ہوتے جس سے ہم بڑے پیمانے پہ یہ ثابت کرسکیں کہ یہ ہراساں کرنے کی تنظیم کتنی منظم ہوتی ہیں۔”

ٹارگٹ ہونے سے پہلے اپنی آنلائن موجودگی کو کیسے مضبوط کریں

لوکل رپورٹرز کے لئیے ڈاکس ہونا ایسا فرضی منظر ہے جو صرف مقامی رپورٹر یا دوسرے ملکوں کے رپورٹرز کے ساتھ ہوتا ہے۔  

"یہ ابھی بھی ایک نیا قسم کا ہراساں کرنے کا طریقہ ہے جو منظر کے کناروں میں ہورہا ہے۔” لٹکے نے کہا۔ "یہ سچ نہیں لگتا اس وقت جب تک آپ کے کسی جاننے والے کے ساتھ نہ ہوا ہو۔”

لیکن جیسے ہی غلط معلومات اورغلط معلومات عوامی گفتگو کا حصہ بنتی ہے اتنا ہی زیادہ رپورٹر بدسلوکی کے لیئے ٹارگٹ ہوتے ہیں۔ پین امریکہ کے آنلائن ہراسیگی کی فیلڈ مینول کے مطابق، ڈاکسنگ، آنلائن ہراسیگی اورنقالی کرنے کے لئیے تیار ہونا اس پر ردومل کرنے سے ذیادہ موثر ہے۔ 

جنوبی فلورڈا سے سیمینول ٹریبیون کے رپورٹر، ڈیمن اسکاٹ، کا کہنا ہے کہ غلط معلومات پر کام کرنا دوسری بیٹس سے مختلف محسوس ہوتا ہے۔ 2020 میں انہوں نے مقامی غلط معلومات کی فیکٹ چیکنگ تنظیم فرسٹ ڈرافٹ کا بطور نیوز فیلو جائزہ لیا۔ انہوں نے اس سے پہلے غلط معلومات پر اتنی گہری نظر نہیں ڈالی تھی "اورروز بروز کس چیز سے نمٹیں گے اس کے بارے میں بھولا ہوگیا تھا،” انہوں نے کہا۔

"میں نے اس فیلوشپ سے پہلے کبھی بیٹھ کر غلط معلومات کا تجزیہ نہیں کیا اور میں اس بات کے لئیے تیار نہیں تھا کہ یہ میرے موڈ اورمیری روح کو کیسے اثر کریگی۔”انہوں نے کہا۔ "یہ پورا تجربہ میرے اندازے سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔ اگر مجھے دوبارہ کرنا پڑے میں کرلوں گا لیکن اس نے میری سوچ سے زیادہ آنکھیں کھل گئیں تھیں۔ 

اس مسئلے کی برائی دیکھ کرمیرا حوصلہ شکست ہوگیا تھا یہ دیکھ کے سوشل میڈیا پر اثررسوخ رکھنے والے لوگ جن کے اتنی اہم فالویئنگ اپنے میگافون کو کتنی غیر ذمہ داری سے استعمال کررہے ہیں۔ لیکن بطوررپورٹر جس کا زیادہ تر کام فلورڈا میں معلوماتی خرابی پر نیوز لیٹر جاری کرنا تھا اور حلانکہ انکا براہراست واسطہ سوشل میڈیا کے برے لوگوں سے نہیں ہوا تھا، اسکاٹ پھربھی اپنی ڈیجیٹل حفاظت کے بارے میں فکر مند ہیں۔ 

 انہوں نے اپنی سوشل میڈیا کی موجودگی کو سخت کیا اوراسکے لئیے اپنے فیس بک نیٹورک میں سب کو ان فرنڈ کیا، اپنا یوزرنیم تبدیل کیا اوراپنے اکاوؐنٹ کو پیشہ ورانہ طریقے سے سامنے لائے۔

"ایسا نہیں ہے کہ لوگوں کو ان فیس بک گروپ میں پتا ہوتا کہ میں کون ہوں ، لیکن اگر کسی کو میرا سراغ لگا نا ہوتا، تو وہ ڈھونڈسکتے ہیں۔”

ایک تعاونی نیٹورک کو بنانا ایک اورموثر طریقہ ہے فوال رہنے کے لئیے۔ وہ رپورٹرزجوٹھوس کام پروڈیوس کرتے ہیں اوراعتباری وسائل بنجاتے ہیں اپنی آنلائن کمیونیٹیز میں ،وہ اپنے آپ کو کم کمزور پایئں گے جب ہیکراور ٹرول انکو ٹارگٹ کرتے ہیں۔ 

"جب آپ کا اپنا اچھا برینڈ بن جاتا ہے،آپ لوگوں کو بتا سکتے ہیں کہ آپکے ساتھ کیا ہورہا ہے اور وہ آپکی مدد کو آئیں گے خاص کر اس وقت کے جب آپ انکو رہنمائی کریں گے کہ آپ کو کس قسم کی مدد درکار ہے،” ولک نے کہا۔

مثال کے طور پر، اگرکسی رپورٹرکو لگے کہ انکی سوشل میڈیا پرنقل کی جارہی ہو، اپنے نیٹورک سے گزارش کر کے کہ ٹیک کمپنی سے اکاوؐنٹ ہٹوایا جاسکتا ہے۔ اور اسکےامکانات زیادہ ہیں کہ وہ ہٹا دیا جایے گا۔ 

"ایسی صورتحال میں یہ بہت ضروری ہے کہ اسکے بارے میں بتایا جائے،”ولک نے کہا۔ "کہیں کہ یہ میں نہیں ہوں اور برائے مہربانی اس اکاوؐنٹ کو رپورٹ کرنے میں میری مدد کریں۔ میری نقل کی جارہی ہے، براہ کرم اس اکاوؐنٹ سے کہی جانے والی باتوں پر یقین نہ کریں۔”

اپنے نیٹورک کے ساتھ بھروسہ اختیار کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بطوررپورٹرآپ اپنےسوشل میڈیا کو استعمال کر کے اپنا نیوز اکھٹے کرنے کے عمل کو بتایئں، بیناوڈیز نے کہا۔  

یہ یقینا آپ کو ہوم ورک لگے گا، لیکن مجھے لگتا ہے کہ ایسے چھوٹے نگٹ پڑھنے والوں کے لیئے بہت ہی طاقتور اوراثر کر سکتے ہیں،”انہوں نے کہا۔ ” اور یہ ایسے ٹولز ثابت ہوسکتے ہیں جو قبل ازوقت استعمال ہوسکتے ہیں جب بھی ایک غلط معلومات پر مہم آپ کو یا آپکی نیوزروم کو ٹارگٹ کرنے والی ہو۔”

بدسلوکی کرنے والوں سے آگے بڑھنے کا ایک طریقہ اور یہ ہے کہ اپنے سوشل میڈیا اکاوؐنٹ اور موجودگی کو سخت کرلیں، ولک نے کہا۔ 

 "رپورٹرز کے لئیے اچھی خبر یہ ہے کہ کہ انکی تربیت ہوئ ہوتی ہے کہ وہ تفتیش کرسکیں۔ وہ بس اس کواپنےاوپرنہیں آزماتے۔”انہوں نے کہا۔ ” لیکن انکو یہ کرنا چاہئیےانکو بطورڈاکسرکی طرح سوچنا اوراپنا آن لائن فٹ پرنٹ کریدیں یہ سمجھنے لے لئیے آپ کے بارے میں باہر کیسی معلاومات شامل ہے اور وہ کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔

اپنے آپکو گوگل کریں: ولک کا کہنا تھا کہ یہ مزاق کے طور پرظاہر سی بات ہے، آپ شروعات کریں اپنا نام، اکاوؐنٹ ہینڈل، فون نمبر، اور گھر کا پتے کو مختلف قسم کے سرچ انجن سے پر ڈالیں۔ گوگل کے ساتھ شروع کریں لیکن اپنے آپکو وہیں تک اپنے محدود نہ کریں۔ گوگل ہرسرچ نتائج کوفرد کے حساب سے دکھا تا ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ ڈاکسرکو آپکی ذاتی معلومات کے بارے میں اسکو مختلف نتائج ملیں گے۔ ڈکڈک گو کیسا سرچ انجن استعمال کریں جو کہ ہرہوزر کی رازداری کو فوقیت دیتا ہے۔ اپنے آنلائن فٹ پرنٹ کے مجموعی اندازے کے لئیے، اپنی معلومات کو چینی سرچ انجن بیدو سے گزاریں۔

الرٹ قائم کریں: آپ یہ امید نہیں کرسکتے کہ اپنے نام نام کا ذکر اور ذاتی معلومات پر ہر گھڑی نظر رکھ پائیں گے اور نہ ہی آپ کو یہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے نام، اکاوؐنٹ ہینڈل ، فون نمبر، اور گھر کے پتے کے گوگل الرٹس قائم کریں۔ کم از کم آپکو اتنی تو خبر رہے گی جب کبھی آپ کی معلومات آنلائن گردش کرنے شروع ہوگی۔ "آپ یہ دوست احباب اور اپنی فیملی کے لئیے بھی کرنا چاہیں گے۔”ولک نے کہا۔ 

اپنی آنلائن موجودگی کا آڈٹ کریں:  شاید سب سے بڑا قدم جو آپ لے سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ اپنے سوشل میڈیا اکاوؐنٹ کی سیٹنگ کو سخت کرلیں تاکہ برے عناصر اپکی اور آپکے چاہنے والوں کی  ذاتی معلومات تک رسائی نہ حاصل کرسکیں۔ ایک حکمت عملی اپنائیں کی کونسے اکاوؐنٹ کس مصرف کے لئی استعمال کررہے ہیں، ولک نے تجویز دی۔ اگر آپ رپورٹر ہیں جو توئیٹر کو اپنی اسٹوریز شئیرکرنے کے لئیے استعمال کرتے ہیں، اور اپنے ساتھ کام کرنے والوں اور پرڑھنے والوں کے ساتھ رابطے میں رہنے کے لئیے رکھتے ہیں، پھر اسکا سختی سے پیشہ وررکھیں۔ یہ وہ جگہ نہیں ہے جہاں پرآپ اپنی بلی کی تصویر یا اپنے رشتہ داروں کے ساتھ چھٹیوں کی تصویریں لگائیں۔ یہ بھی عقل مندی ہوگی کہ آپ اپنے اکاوؐنٹ سے شرمندگی والی توئیٹس اور تصاویر ہٹالیں جن کو بھول چکے ہوں۔ یہ مت شئیر کیں کہ آپ کہا رہتے ہیں، آپکی سالگرہ کب ہوتی ہے، آپ کا موبائیل نمبر کیا ہے، یا ایسا کچھ بھی جس سے آپ کا کھوج لگایا جاسکے۔” اگر آپ اپنے بچے یا کتے کی تصاویرلگانے کے لئیے انسٹاگرام استعمال کرتے ہیں، تو آپ اپنے انسٹاگرام کو پرائیوٹ پر لگا دیں اورجو مرضی آئے وہاں ڈالیں۔” انہوں نے کہا۔ "لیکن وہ عوامی اکاوؐنٹ سے الگ ہونا چاہئیے۔”

پرانی سی وی اور بایو ڈھونڈیں: انٹرنیت کے حالیہ دور میں یہ بہت عام تھا کہ صحافی اورترریسی محققین اپنی سی وی اور باہو جس میں ذاتی معلومات بھی شامل ہوتی تھی اسکو اپنی ویبسائٹ پر اپلوڈ کرتے تھے۔ ایسے دستاویزات جن کو آپ بھول چکے ہوں لیکن وہ آنلائن پائے جاتے ہوں لیکن ڈاکسرز لے لئی سونے کی کان چابت ہوسکتے ہیں، انکو ڈھونڈیے۔ 

ڈیٹا بروکرز کو نہ بھولئیے: بطوررپورٹر، آپ اسپوکیو اور وائٹ پیجز جیسی ڈیٹا بروکر ویبسائٹ پر ضرور آئے ہوں گے جب کبھی آپ مشکل ترین زرائع ڈھونڈرہے ہوں گے۔ ایسسی ویبسائٹس انٹرنیٹ کو ذاتی معلومات کے لئیے چھانتی ہیں اوراسکو بیج دیتی ہیں، جس کے ذریعے ڈاکسر کو بآسانی ٹارگٹ مل جاتا ہے۔ اگست 2020 سے اب آپ درخواست کرسکتے ہیں کہ آپکی ذاتی معلومات      Whitepages.com سے ہٹا دی جائے۔ اسکے لئی اپکو ویبسائٹ کے ہیلب پیج پر کچھ استیپ دئیے گئے ہیں۔ ایسی ویب سائیٹ جن پر قدم بہ قدم پروٹوکول موجود نہیں، آپ ای میل کر کے درخواست کرسکتے ہیں کہ آپکی معلومات کو ہٹایا جائے۔ اگراتنا وقت نہیں ہے تو ڈیلیٹ می اور پرائیوسی ڈک جیسی سبسکریپشن سروسزکا استعمال کریں، اگرچہ انفرادی رپورٹر کے لئیے اسکا خرچہ کوورکرنا کافی ہوگا۔

مضبوط پاسورڈ کا استعمال کریں:  یہ صرف رپورٹرز کے لئیے ہی نہیں بلکہ سب کے لئیے ہے۔ اگر آپ اپنی سالگرہ کی تاریخ  کو اسی طرح چھ کیریکٹر باسورڈ کے طور پر اپنے سارے اانلائین اکاوونٹ مین استعمال کرتے ہیں ، آپ بہت ہی غیرضروری طور پر اپنی حساس معلومات کو  ہیکرز کے آگے بے نقاب کررہے ہیں اور کسی کے لئیے بہت آسان کررہے ہیں کہ وہ آپ بن کرکے آپریٹ کرے۔ پاسورڈ جتنا لمبا ہو اتنا ہی اچھا ہوتا ہے۔ ٹوفیکٹرآتھینٹیکیشن بہت بہتر ہے، اور اس میں عقل مندی ہے کہ آپ ہر اکاوؐنٹ کے لئیے مختلف پاسورڈ استعمال کریں۔

نیوزرومز اپنے اسٹاف کے حمایت کیسے کرسکتے ہیں

رپورٹرز حالانکہ اپنی آنلائن حفاظت خود کرسکتے ہیں، انکو دو موہے جانور غلط معلومات اور آنلائن ہراسیگی کو اکیلے نمٹنے کے لئیے نہیں چھوڑا جا سکتا۔ یونیسکو رپورٹ کے مطابق، کئی مالکان، آنلائن تشدد کوسنجیدگی سے لینے کے لئیے کتراتے ہیں۔ (پین امریکہ کہ گائیڈ دیکھئیے جس میں مالکان کے لئیے آنلائن ہراسیگی کے بارے میں معلومات ہے)۔

"ہم سب کو کچھ کرنے کی ضرورت ہے،” ولک نے کہا۔ "انفرادی طور پر رپورٹرز کو کچھ کرنے کرنا چاہئیے۔ وہ جو کچھ کررہے ہیں نیوزرومز کو اس سے زیادہ کرنا چاہئیے اور پلیٹفارمز کو چاہئیے کے رپورٹرز کو بہتر ٹولز اور فیچر دیں اپنے حفاظت کرنے کے لئیے۔ یہ اتنا بڑا مسئلہ ہے، تو اسکا حل بھی ملٹی اسٹیک ہولڈر ہونا چا ہئیے۔”

بد ترین حالات سے نمٹنے کے لئیے نیوزرومز کو ایسی پالیسیاں اور پروٹوکول بنانے چاہئیے جس سے غلط معلومات اور بدنام کرنے والی مہم سے بدسلوکی کا شکار ہونے والے اسٹاف ممبران کو مدد مل سکے۔

"اس سے یہ پیغام مکتا ہے کہ بدنام کرنے والی مہم اصلی ہوتی ہیں اور نیوزرومز انکو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔” ولک نے کہا۔ "اورایک ایسا ماحول بن جاتا ہے جس میں رپورٹرز آگے آنے میں اپنے آپ کو آرام دہ محسوس کرتے پہں اور اندرونی طور پر ادارے کو بتا پاتے ہیں کی انکے ساتھ کیا معاملات ہورہے ہیں۔” 

وہ ہمیشہ کامیاب نہیں ہوئیں لیکن ولک اس بات کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں کی نیوزرومز ایک اندرونی رپورٹنگ میکانزم اختیار کریں جس کے ذریعے رپورٹرز ایسے متفرق حملوں کی نشاندہی کرسکیں۔ پھر نیوز کی تنظیمیں یہ مسائل تیک کمپنی، قانون نافذ کرنے والے اور نجی سیکورٹی کمپنیوں تک لے جاسکتی ہیں۔

"جب آپ حملے کے درمیان میں ہوتے ہیں جو کہ اتنا ڈرا دینے والا، تکلیف دہ اور بے چین کرنے والا تجربہ ہوتا ہے کہ آپ کو لگتا ہے کہ آپ سکتے میں آگئے۔”انہوں نے کہا۔ "تواس لئیےاگرکوئی پہلے سے موجود پروٹوکول موجود ہوتا ہے توآسان ہوجاتا ہے کیونکہ آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ اسکے بعد کا قدم کیا ہونا چائیےاوراپنے نیوزروم میں آپ کو کس سے بات کرنی چاہئیے،”

نیوزرومز اپنے رپورٹرز کی حمایت ایسے بھی کرسکتے ہیں کہ انفارمیشن اسکربنگ سروسز کی سبسکرپشن کے لئیے سبسڈی دے دیں اور دماغی صحت اور قانونی مشاورت کے لئیے رسائی۔ اور، آخرمیں، اگر رپورٹر اپنے آپ کو گھر میں غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں کیونکہ ہوسکتا ہے انکو ڈاکس اورانکا پتا شئیرکردیا گیا ہو، تو پھر یہ مالک کی ذمہ داری ہے کہ یقینی بنایا جائے کہ انکے پاس جانے کے لئیے ایک محفوظ جگہ ہو۔

"ایمانداری کی بات تو یہ ہے اس میں سے بہت کچھ نہیں ہورہا”، انہوں نے کہا۔ "لیکن ہوسکتا ہے اورہونا چاہئیے۔”

اتنی جامع حمایت آفرکرنا مالی طور پرغیرمستحکم نیوزرومز کے لئیے ممکن نہیں۔ جبکہ غلط معلومات اورآنلائن ہراسیگی آزادی صحافت کے لئیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ بنتا جا رہا ہے، کئی نیوزرومز بدتریں وسائل کی کمی وکی وجہ سے سخت حالٓت سے بھی نمٹ رہے ہیں۔ 

لیکن ولک کو یہاں بھی مواقع نظرآرہے ہیں اسی طرح جیسے کووڈ کے ٹائم پر نیوزتنظیموں نے ایک دوسرے کے ساتھ پارٹنرکرکے اعلی معیارکی رپورٹنگ کی تھی۔ اسی پرجوش پارٹنرشپ کے ساتھ وہ رپورٹرزکو ڈاکسنگ اورہراسیگی ہونے سے بچا سکتے ہیں، انہوں نے کہا۔ مثال کے طور پر، ایک سے ذیادہ نیوز رومز، مشترکہ سیکیورٹی ماہراوراندرونی رپورٹنگ سسٹم میں مل کر حصہ ڈال سکتے ہیں۔ 

"میرا خیال ہے کہ یہی مستقبل ہے،” انہوں نے کہا۔ "یہ ہونا ضروری ہے کیونکہ میرا نہیں خیال کہ غلط معلومات اور بدسلوکی کی مہم کسی وقت جلد ختم ہو گی۔"

_________________________________________________

ہاورڈ ہارڈی میڈکو، وسکونسن میں مقیم ایک فری لانس رپورٹر ہیں۔ 2020 میں ، انہوں نے وسکونسن سنٹر برائے تحقیقاتی صحافت میں انتخابی سالمیت کے رپورٹر اور فرسٹ ڈرافٹ کے ساتھی کی حیثیت سے سوشل میڈیا پر غلط فہمیوں کا انکشاف کیا۔ انہوں نے کیلیفورنیا میں قدرتی آفات اور جنگلات کی صحت کے بارے میں بڑے پیمانے پر تحریر کیا ہے۔

ہمارے مضامین کو تخلیقی العام لائسنس کے تحت مفت، آن لائن یا پرنٹ میں دوبارہ شائع کریں۔

اس آرٹیکل کو دوبارہ شائع کریں


Material from GIJN’s website is generally available for republication under a Creative Commons Attribution-NonCommercial 4.0 International license. Images usually are published under a different license, so we advise you to use alternatives or contact us regarding permission. Here are our full terms for republication. You must credit the author, link to the original story, and name GIJN as the first publisher. For any queries or to send us a courtesy republication note, write to hello@gijn.org.