رسائی

ٹیکسٹ سائیز

رنگوں کے اختایارات

مونوکروم مدھم رنگ گہرا

پڑھنے کے ٹولز

علیحدگی پیمائش
Investigating the Pylos Shipwreck
Investigating the Pylos Shipwreck

A survivor points to where they say a rope was tied onto their boat, the Adriana, shortly before it sank in the Mediterranean in June 2023. Image: Courtesy of Forensis

رپورٹنگ

پائلوس جہاز کی تباہی کی تحقیقات کیسے کی گئیں؟

یہ مضمون ان زبانوں میں بھی دستیاب ہے

14 جون 2023 کی صبح ماہی گیری کے لیے استعمال کی جانے والی ایک چھوٹی کشتی جس میں سینکڑوں تارکین وطن سوار تھے، یونان کے پائلوس کے ساحل پر ڈوب گئی۔ حالیہ برسوں میں تارکین وطن کے سب سے مہلک بحری جہاز (کشتی) کے اس حادثے میں تقریباً 600 افراد ہلاک ہوئے۔

ہیلینک کوسٹ گارڈ، جو یونانی پانیوں میں بچاؤ کی کاروائی کے لیے ذمہ دار ہے، نے جس طریقے اس آپریشن کو نمٹایا اس پر انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے اس واقعے کی ذمہ داری نہیں لی اور یہ دعویٰ کیا کہ جہاز میں موجود تارکین وطن نے مدد کی پیشکش کو مسترد کر دیا تھا اور بظاہر کشتی کے ایک جانب لوگوں کی بڑی تعداد میں نقل و حرکت کے باعث ڈوبی تھی۔

البتہ تفتیشی صحافیوں اور محققین کے درمیان سرحد پار تعاون کے نتیجے میں حکام کی اس کہانی کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں۔

لیویڈیس کا کہنا تھا تحقیاتی ٹیم کے تمام فریق اپنے شعبے کے ماہرین میں سے تھے اور یکساں نوعیت کی اہمیت کے حامل تھے لہذا یہ ایک نتیجہ خیز اور مساوی تعاون تھا۔

برلن میں قائم فارنسس ریسرچ گروپ، گارڈین، یونانی تحقیقاتی یونٹ سولومون اور جرمن پبلک براڈکاسٹر اے آر ڈی نے کشتی کے آخری لمحات کو جاننے اور تشکیلِ نو کے لیے تھری ڈی ماڈلنگ، سیٹلائٹ امیجری، جہاز سے باخبر رہنے کے ڈیٹا اور سرکاری ذرائع کا استعمال کیا۔

ان کی جانب سے پیش کئے گئے شواہد میں انکشاف کیا گیا کہ ایڈریانا (کشتی کا نام) ساحلی محافظوں کی طرف سے کشتی کو کھینچنے کی کوششوں کے نتیجے میں ڈوبی – یہ ایک ایسا الزام ہے جس کی فورس نے مسلسل تردید کی ہے۔ ان تحقیقات میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ جب کشتی مشکل میں تھی تو ساحلی محافظوں نے اپنے کیمرے نہیں چلائے، نوشتہ جات میں تضادات سامنے آئے اور زندہ بچ جانے والوں کے بیانات کو تبدیل کرنے کی کوشش سمیت قبل از وقت بچاؤ کا مواقع ضائع ہوئے۔

مختلف ماہرین کا یکجا ہونا

فارنسس ایک تحقیقی گروپ ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی حوالے سے تحقیقات کے لیے جدید تکنیکوں کا استعمال کرتا ہے۔ زیادہ تر معماروں پر مشتمل اس ٹیم نے مقامی تجزیے اور ڈیجیٹل تعمیر نو میں اپنی مہارت کو پائلوس جہاز کے تباہ ہونے کی تحقیقات میں استعمال کیا۔

یہاں تعاون ضروری تھا۔ فرانسیسی ٹیم کے ایک محقق سٹیفانوس لیویڈیس کہتے ہیں "تحقیق کے کچھ حصے تھے جو ہم نہیں کر سکتے تھے، حادثے میں زندہ بچ جانے والوں اور کوسٹ گارڈ کے اندرونی ذرائع تک رسائی حاصل کرنا، ریاستی آرکائیوز کو کھوجنا اور فنڈنگ کے نشانات تلاش کرنا، یا آپریشنل دستاویزات کی جانچ کرنا، یہ سب تفتیشی صحافیوں کا کام ہے”۔

سولومن کے صحافیوں نے سرکاری دستاویزات کی جانچ پڑتال کی جب کہ گارڈین کی ٹیم نے خصوصی ریکارڈ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے یونانی ریاست کے اندر اپنے وسیع ذرائع کے نیٹ ورک سے فائدہ اٹھایا۔ اے آر ڈی کے صحافیوں کے ساتھ مل کر انہوں نے کشتی کے حادثے میں زندہ بچنے والوں کا انٹرویو بھی کیا۔

لیویڈیس کا کہنا تھا تحقیاتی ٹیم کے تمام فریق اپنے شعبے کے ماہرین میں سے تھے اور یکساں نوعیت کی اہمیت کے حامل تھے لہذا یہ ایک نتیجہ خیز اور مساوی تعاون تھا۔

زندہ بچ جانے والوں کے انٹرویو کے دوران تھری ڈی ماڈلز کا استعمال

فرانسس کے زیرِ انتظام ایجنسی فارنسیس آرکیٹیکچر نے "وقوعے کی گواہی” نامی ایک انٹرویو کی تکنیک بنائی ہے۔ اس تکنیک میں چشم دید گواہوں کو مدعو کیا جاتا ہے کہ وہ حوالے کے طور پر تھری ڈی ماڈلز کا استعمال کرتے ہوئے تکلیف دہ واقعے سے گزرنے کے اپنے تجربے کو بیان کریں۔

لیویڈیس کا کہنا ہے”ہمیں معلوم ہوا  کہ مکانی گواہی اور آلات کے ساتھ کام کرنے سے گواہوں کو اپنی یادداشت کے کچھ ایسے حصوں کو سامنے لانے میں مدد ملتی ہے جو بصورتِ دیگر غیر واضح یا صدمے کے باعث معدوم ہو جاتے ہیں۔”

فرانسس نے ایڈریانا کا تھری ڈی ورچوئل ماڈل بنایا اور حادثے میں بچ جانے والوں کو مدعو کیا کہ وہ اس کے ڈوبنے سے ٹھیک پہلے اور اس کے دوران کے لمحات کو بیان کرنے میں مدد کریں۔

گارڈین ٹیم کی ایک فری لانس صحافی کیٹی فالن نے پہلی بار انٹرویو کے اس طریقے کا مشاہدہ کرنے کے بعد بیان کیا "یہ کرنے سے ہم زیادہ حقیقی انداز میں سمجھ سکے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا تھا، وہ اس بات کی نشاندہی کر سکتے تھے کہ وہ کہاں بیٹھے تھے، ان کے ارد گرد دوسرے لوگ کہاں بیٹھے تھے اور کشتی کے ساتھ کیا ہوا۔ اس نے احساس دلایا کہ یہ سب کس قدر خوفناک تھا”

رپورٹنگ ٹیم نے روایتی انٹرویوز کے ساتھ ان رہنمائی کرنے والے تجربات کو جوڑا۔ لیکن بھاری نفری والے حفاظتی کیمپس میں موجود زندہ بچ جانے والوں تک رسائی حاصل کرنا بہت مشکل تھا۔ صدمے کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ وہ انتقامی کارروائی کے خوف سے صحافیوں سے بات کرنے سے بھی کتراتے تھے۔ایسے میں اعتماد قائم کرنا کلیدی اہمیت کا حامل تھا۔ مقامی عربی بولنے والے اے آر ڈی کے سلیمان تدموری زندہ بچ جانے والے شامی اور مصری افراد کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہے اور انہوں نے پر ہجوم کیمپ کے باہر انٹرویو کیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تارکین وطن محفوظ اور آرام دہ محسوس کریں۔

"ہمیں کیمپ کے اردگرد موجود سیکورٹی والوں نے بچ جانے والوں کے خاندان کے طور پر سمجھا – ہم وہاں جا سکتے تھے جہاں دوسرے صحافی نہیں جا سکتے تھے،” اے آر ڈی کے ایک ساتھی آرمین غسیم نے بتایا جنہوں نے تحقیقات پر بھی کام کیا۔

مجموعی طور پر ٹیم نے بیس سے زائد زندہ بچ جانے والوں سے گفتگو کی۔ متعدد نے بیان کیا کہ کیسے ساحلی محافظوں کے جہاز کی طرف سے کشتی کو ممکنہ طور پر اطالوی پانیوں میں لے جانے کی کوششیں کی گئیں۔ تحقیقات کے نتیجے میں زیادہ شواہد اسی بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ان میں سے ایک کوشش کی وجہ سے ایڈریانا شدت سے لڑھکی اور الٹ گئی۔

ایڈریانا کے آخری اوقات 

ایڈریانا کی نقل و حرکت کی تفصیلی تصویری تمثیل بنانے کے لیے کنسورشیم نے ہیلینک کوسٹ گارڈ اور ای یو بارڈر ایجنسی  فرانٹیکس کی سرکاری رپورٹس، کوسٹ گارڈ کے جہاز اور قریبی ٹینکرز کے ڈیک لاگ، فضائی تصاویر، سمندری ٹریفک ڈیٹا (ای آئی ایس) اور سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر کا استعمال کیا جس سے کوسٹ گارڈ کی لاگ بک میں کئی تضادات کا انکشاف ہوا۔ اس تحقیق کے لیے گارڈین کی ٹیم میں کام کرنے والے یونان میں مقیم صحافی گیورگوس کرسٹیڈز کہتے ہیں، "دھکیلنا محض برف کے تودے کے سرے جیسی سامنے نظر آنے والی غلطی ہے، ہمیں جو کچھ ملا وہ کوتاہیوں کی ایک طویل فہرست جیسا تھا”

کورینا پیٹریڈی اور سولومون کے سٹاوروس مالیچوڈس کی کاوشوں میں بےحد دستاویزی تحقیق شامل تھی۔ ان کے لیے خاص طور پر ایک دستاویز نمایاں تھی جس میں فرانٹیکس کی جانب سے جاری کردہ سفارشات کے ایک سلسلے میں کہا گیا ” اگر ممکن ہو تو فرنٹیکس اور اس سے متعلقہ تمام تر اقدامات کو مسلسل ویڈیو کے ذریعے دستاویز کیا جانا چاہیے۔” یونان کے کوسٹ گارڈ کو 90 فیصد فنڈنگ یورپی یونین کی سرحدی ایجنسی سے ملتی ہے۔

وسیع ذرائع کا نیٹ ورک

یہ ٹیم حکومتی ذرائع کے ایک وسیع نیٹ ورک کو استعمال کرکے یونانی حکام کی کئی نقصان دہ کوتاہیوں کو سامنے لانے میں کامیاب رہی۔

ایک نے انکشاف کیا کہ کوسٹ گارڈ کے قریب ہی کشتیاں تھیں جو ایڈریانا کے ڈوبنے سے پہلے نہیں بھیجی گئی تھیں۔ تحقیقات سے اس راز کا پردہ بھی فاش ہوا کہ کشتی کے ڈوبنے سے پہلے ہی حکام کو مطلع کر دیا گیا تھا کہ اس کی سمندر میں چلنے کی صلاحیت خطرے میں تھی – اس بات کی دستاویز ہنگامی ہاٹ لائن الارم فون اور فضائی فوٹیج کے ذریعے موصول ہونے والی الرٹ ای میلز کے ذریعے کی گئی تھی۔

یونانی حکام کو دی گئی زندہ بچ جانے والوں کی گواہی تک رسائی حاصل کرنے کے بعد تفتیش اس امکان کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے کہ کچھ انٹرویوز کی نقول میں ہیرا پھیری کی گئی تھی جس میں کئی زندہ بچ جانے والوں نے لفظ بہ لفظ ایک جیسی باتوں کو دہرایا –  صحافیوں کی ٹیم کی طرف سے جمع کی گئی گواہی کے برعکس کسی نے بھی کشتی کو کھینچنے کا ذکر نہیں کیا۔

خفیہ سرکاری دستاویزات تک رسائی اور زندہ بچ جانے والوں کی گواہی نے ٹیم کو سرکاری باتوں کو نظر انداز کر کے سچائی تک پہنچنے کا موقع دیا۔

کرسٹائڈز کا کہنا ہے "یہ ایک پہیلی جیسا ہے پر جب آپ ہرچیز کو اکھٹا دیکھیں تو یہ اس نتیجے کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یونان چاہتا تھا کہ وقت گذرنے سے لوگ اس مسلے کو بھول جائیں۔” انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا، "مجھے نہیں لگتا کہ تلاش اور بچاؤ کے حوالے سے آپریشن کرنے کا کبھی کوئی سنجیدہ ارادہ تھا، یہ ایک قابل تدارک سانحہ تھا۔”

اشاعت سے قبل ٹیم نے اپنے نتائج کے بارے میں یونانی حکام کو ایک تفصیلی سوالنامہ بھیجا جس میں وہ شواہد بھی شامل تھے جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوسٹ گارڈ متاثرین کے بیانات میں رد و بدل یا انہیں اپنے طور بر بنا سکتا ہے۔ حکومت نے صرف یہ کہا کے کہ حادثے کے بارے میں ان کی اپنی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ کہانی سامنے آنے کے بعد بھی حکام نے ابھی تک عوامی طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

مل کر کام کرنا

"ہم نے اس کہانی کو تب شائع کیا جب حادثے کو ایک ماہ بھی نہیں ہوا تھا۔ ہم اپنے طور پر ایسا کچھ نہیں کر سکتے تھے، ہر کوئی ایک دوسرے پر انحصار کر رہا تھا اور ہر ایک کی مہارت ، شمولیت اور تعاون اہم تھا "۔ اے آر ڈی کے غسیم نے مزید بتایا کہ تعاون ضروری تھا کیونکہ وہ اپنے طور پر اس معیار کی رپورٹنگ اتنی جلدی نہیں کر سکتے تھے۔

مختلف ہنرمندوں کے یوں ساتھ مل کر کام کرنے سے اس کہانی کی رسائی بیشتر ممالک تک بڑھ گئی۔ تحقیقات کو ہر ممبر کے اپنے پلیٹ فارم پر شائع کیا گیا تھا اور ہر ویب سائیٹ کو ان تفصیلات کو اجاگر کرنے کی خود مختاری دی گئی تھی جو ان کے خیال میں ان کے متعلقہ قارئین کے لئے زیادہ ضروری تھیں۔

کنسورشیم کے کئی اراکین نے نشاندہی کی کہ باہمی تعاون ایسے مشکل موضوع پر کام کرنے کے دوران ہونے والے ذہنی دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔

گارڈین کے فالون کہتے ہیں "میں نے اتنے سارے لوگوں کے ساتھ اس کہانی پر کام کرنے کو سراہا، جب آپ یہ کہانیاں اکیلے کرتے ہیں تو بہت ساری وحشت کا اکیلے ہی سامنا کرتے ہیں”۔

 اثرات

تحقیقات نے 2023 کا ڈیفنی کیروانا گالیزیا پرائز برائے جرنلزم جیتا اور ایوارڈ کی تقریب میں یورپی پارلیمنٹ کی صدر روبرٹا میٹسولا نے اس کا خیرمقدم کیا۔

جیوری کے نمائندے جولیان ہیلشر، جنہوں نے 250 سے زیادہ تحقیقات میں سے انتخاب کیا، کا کہنا ہے "جیتنے والوں نے حالات کی باریک بینی سے تحقیق کی، عینی شاہدین اور زندہ بچ جانے والوں سے بات کی، اعداد و شمار کا تجزیہ کیا اور یہ ظاہر کیا کہ اگر یورپی حکام مختلف طریقے سے کام کرتے تو یہ لوگ ہلاک نہ ہوتے۔”

13 ستمبر 2023 کو بحری جہاز کے حادثے سے بچ جانے والے 40 افراد نے یونان میں پیریئس کی میری ٹائم کورٹ میں ایک مجرمانہ شکایت درج کرائی۔ فرانسس نے اپنی قانونی ٹیم کے ساتھ اپنے نتائج کا اشتراک کرکے ان کی مدد کرنے کا عہد کیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس واقعے کے بارے میں انسانی حقوق کی آزادانہ تحقیقات شروع کیں اور اسی طرح کے نتائج پر پہنچے۔ تاہم ٹیم یورپ کی سرحدوں پر حالات کو بہتر بنانے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت کو تسلیم کرتی ہے۔ لیویڈیس کا کہنا ہے "میں اسے بہت سے معاملات میں سے ایک کے طور پر سوچتا ہوں۔ شاید بہت سے معاملات میں سب سے بڑا، لیکن یہ یورپی سرحد پر موت اور تشدد کے ان گنت واقعات کا صرف ایک حصہ ہے، "اگر ہم واقعتا انصاف کے علمبردار ہیں تو ایسے پرتشدد واقعات کو روکنا ہو گا۔”

اس تحریر کا اردو ترجمہ لائبہ زینب نے کیا یے اور اسے جی آئی جے این کی اردو ریجنل ایڈیٹر نے ایڈٹ کیا ہے۔


ازابیلا کرسپینو نیویارک میں مقیم صحافی اور محقق ہیں۔ انہوں نے بیروت میں دراج اور تیونس میں انکیفاڈا کے تفتیشی اداروں کے ساتھ کام کیا ہے اور وہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی گریجویٹ ہیں۔ فی الحال وہ کولمبیا کے اسکول آف انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیئرز اینڈ سائنسز پو کے درمیان بین الاقوامی امور میں ماسٹرز اور انسانی حقوق میں اپنی سپیشلائزیشن کر رہی ہیں۔

ہمارے مضامین کو تخلیقی العام لائسنس کے تحت مفت، آن لائن یا پرنٹ میں دوبارہ شائع کریں۔

اس آرٹیکل کو دوبارہ شائع کریں


Material from GIJN’s website is generally available for republication under a Creative Commons Attribution-NonCommercial 4.0 International license. Images usually are published under a different license, so we advise you to use alternatives or contact us regarding permission. Here are our full terms for republication. You must credit the author, link to the original story, and name GIJN as the first publisher. For any queries or to send us a courtesy republication note, write to hello@gijn.org.

اگلی کہانی پڑھیں

Karachi Sewerage and Water Board corruption investigation, Dawn newspaper

‎کراچی کی واٹر سپلائی چین میں کرپشن اور ’ٹینکر مافیا‘ پر تحقیقات

کراچی کے پانی کی فراہمی کے بحران کی تحقیق کرنت والی ٹیم نے جی آئی جے این کو بتایا کہ انہوں نے یہ کہانی کیسے کی — اور پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں تحقیقاتی صحافت کو کس قسم کی مشکلات کا سامنا ہے