Beatriz Ramalho da Silva of Lighthouse Reports; Hajira Maryam, advisor at Amnesty International’s Algorithmic Accountability Lab, and Hala Nouhad Nasreddine, head of the investigative unit at Daraj Media (left to right) speaking at GIJC25. Image: Rowan Philp for GIJN
عالمی جنوب میں بائیو میٹرک ٹیکنالوجی میں اضافے پر تحقیق کی حکمتٍ عملیاں
یہ مضمون ان زبانوں میں بھی دستیاب ہے
پاکستان میں آپ بغیر ڈیجیٹل شناخت کے سم کارڈ نہیں خرید سکتے۔ اسی طرح سب صحارا افریقہ میں شہری اچانک اور وسیع پیمانے پر ڈیجیٹل نظاموں پر منتقل کیے جا رہے ہیں۔ دنیا بھر میں خاص طور پر عالمی جنوب میں لوگوں کو شناختی ٹیکنالوجیوں کا استعمال کرنے یا ان میں معلومات درج کروانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
حکومتیں تیزی سے بڑھتی ہوئی بائیومیٹرک ٹیکنالوجی کی صنعت سے یہ ٹیکنالوجیز خریدتی ہیں یا ان کے لائسنس حاصل کرتی ہیں۔ ٹیکس دہندگان کے پیسوں کے استعمال کے علاوہ یہ صنعت معاشرتی اور نہایت ذاتی نوعیت کی بھاری قیمتیں بھی عائد کر رہی ہے ۔
اس صنعت اور اس کے حکومتی حامی دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کی مصنوعات جن میں چہرہ شناسائی اور بائیومیٹرک ووٹر رجسٹریشن سسٹمز سے لے کر آئیرس اسکینرز اور ڈیجیٹل شناختی کارڈز شامل ہیں، بدعنوانی کو کم کر سکتی ہیں۔ تاہم، تحقیقاتی صحافی اکثر اس ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی سے متعلق ِ بڑے پیمانے پر ڈیٹا اکٹھا کرنے کے خطرات، اقلیتوں کے خلاف تعصبات، پرائیویسی کی خلاف ورزیوں، قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور عوامی معاہدوں میں کھلی بدعنوانی کو بے نقاب کرتے رہتے ہیں۔
ملائیشیا میں منعقدہ چودھویں گلوبل انویسٹی گیٹو جرنلزم کانفرنس (جی آئی جے سی 25) کے "بائیومیٹرک ٹیکنالوجی اور شناختی کاروبار کی تحقیق” کے عنوان سے ایک بروقت سیشن میں اس شعبے کی فرنٹ لائن پر کام کرنے والے تین تحقیقاتی صحافیوں نے اس رجحان کی کھوج لگانے اور اس شعبے کی پیچیدہ تکنیکی اصطلاحات سمجھنے کے لیے عملی نکات شیئر کیے۔
اس پینل میں لائٹ ہاؤس رپورٹس کی ایک صحافی بیٹریز رامالہو دا سلوا، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی الگورتھمک اکاؤنٹیبلٹی لیب میں مصنوعی ذہانت اور اسٹریٹجک کمیونیکیشنز کی لیڈ ایڈوائزر حاجرہ مریم اور دراج میڈیا کی تحقیقاتی یونٹ کی سربراہ ہالا نوحاد نصرالدین شامل تھیں۔
”یہ تحقیق کے لیے ایک نہایت دلچسپ میدان ہے کیونکہ یہ ٹیکنالوجی، انسانی حقوق اور پیسے کے سراغ جیسے پہلوؤں اور بے شمار قسم کی زیادتیوں سے منسلک ہے،“ نصرالدین نے کہا۔ ”ہم سب کو اس میں زیادہ شامل ہونا چاہیے۔“
پینل نے افریقہ میں حالیہ تحقیقی انکشافات کی ایک سیریز کے بارے میں بتایا جس میں ضرورت سے کہیں زیادہ مہنگے سرکاری معاہدے اور ناقدین کو نشانہ بنانے کے لئے بائیومیٹرک نظاموں کا استعمال کیا گیا تھا۔
دو ہزار چوبیس میں موزمبیق میں دا سلوا کو پتہ چلا کہ نیا نافذ شدہ، جدید لیکن جانبدار اور مہنگا ووٹر رجسٹریشن سسٹم ”حکمران جماعت کے کنٹرول برقرار رکھنے کا ذریعہ بن چکا تھا۔“
”ہمیں پتہ چلا کہ اس نظام کو انتخابات میں دھوکہ دہی کے لئے بار بار استعمال کیا جا رہا تھا،“ انہوں نے وضاحت کی۔ ”یہ ٹیکنالوجی حکمران جماعت کے حامی ووٹروں کی تعداد بڑھانے اور مخالف ووٹروں کو رجسٹریشن سے روکنے کے لئے استعمال کی گئی تھی۔“ انہوں نے کہا کہ اس نظام کے اثرات کا انتخابی تشدد کے بہت اونچی سطح سے باہمی تعلق معلوم ہوا تھا۔
اسی سال بلومبرگ نے رپورٹ کیا کہ یوگنڈا میں ایک بڑی چینی کمپنی کا نیا قومی شناختی کارڈ کا نظام ایک ”وسیع نگرانی کرنے والی ریاست“ کی بنیاد بنا تھا۔
اس صنعت سے متعلق بلومبرگ کی ایک اور رپورٹ نے انکشاف کیا کہ جمہوری جمہوریہ کانگو میں شناختی کارڈز کی تیاری کے لیے مختص سرکاری رقوم شیل کمپنیوں کے ذریعے چند اشرافیہ کے فائدے اور ایک شاپنگ سینٹر کی تعمیر کے لیے منتقل کی گئی تھیں۔ بائیومیٹرک معاہدوں پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود جمہوریہ کانگو میں 1990 کی دہائی سے کوئی قومی شناختی نظام موجود نہیں ہے۔ ”یوگنڈا میں شناختی بائیومیٹرک نظام کے نفاذ کے بعد ناقدین کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی آئی ہے،“ دا سلوا نے کہا۔
اس صنعت کی تحقیق کے لیے مقررین کی جانب سے دی گئی تجاویز میں شامل تھا:
تازہ ترین پیش رفت سے باخبر رہیں۔ ”نیوز اور مارکیٹ ریسرچ پورٹل بائیومیٹرک اپڈیٹ جیسی ویب سائٹس آپ کو اس صنعت کی بنیادی سمجھ بوجھ حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہیں،“ دا سلوا نے کہا۔ آپ کو مختصر خبروں والے مضامین بھی ملیں گے جن میں بتایا جا رہا ہوگا کہ فلاں کمپنی نے فلاں کنٹریکٹ فلاں کمپنی کو بیچ دیا ہے۔“
لنکڈ اِن پر سابق ملازمین تلاش کریں۔ ذرائع بنانا نہایت اہم ہے۔”یہ معاہدے اور ٹینڈرز اکثر غیر شفاف ہوتے ہیں اور بہت سے ممالک میں ان کا کوئی تحریری ریکارڈ نہیں ملتا،“ دا سلوٰ نے وضاحت کی۔ ”لنکڈ اِن پر جائیں اور ان کمپنیوں اور سرکاری شعبہ جات کے لیے ماضی میں کام کرنے والے لوگوں کو پیغامات بھیجیں۔“ لوشا اور راکٹ ریچ جیسے ٹولز جن کے براؤزر پلگ اِن بھی ہوتے ہیں۔ یہ پلگ اِن آپ کو لنکڈ اِن پر موجود افراد کے ای میل اور فون نمبر دکھا سکتے ہیں۔
ایکسپورٹ ٹریڈ ڈیٹابیسز جیسے سیاری اور 52 ڈبلیو ایم بی کے ذریعے معاہدوں کے سراغ تلاش کریں۔ “ہمیشہ مختلف طریقوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے لیکن ان ڈیٹابیسز کو ضرور آزمائیں،“ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مریم نے کہا۔” 52 ڈبلیو ایم بی کے ذریعے ہم نے ایسی کمپنیاں تلاش کیں جو مسائل پیدا کرنے والے نظام فراہم کر رہی تھیں۔”
آئی ڈی فار افریقہ جیسے وینڈر میلوں میں شرکت کریں۔ پینلسٹوں نے کہا کہ تجارتی میلے رضا کار روابط، مڈل مین، معاہدوں کے سراغ اور مفید، شعبہ مخصوص تجارتی گفتگو کے امیر ذرائع ثابت ہو سکتے ہیں۔
سرکاری ٹینڈرز کی ویب سائٹس اور عدالتی ریکارڈز چیک کریں اور سابق خریداری افسران کو تلاش کریں۔
اگر کوئی بات نہ کر رہا ہو تو صنعتی تنظیموں اور این جی اوز سے رابطہ کریں۔ بہت سے متاثرہ ممالک میں معلومات تک رسائی کے قوانین موجود نہیں ہیں لیکن وہاں صنعتی تنظیمیں اور این جی اوز ہیں جنہیں متعلقہ کنٹریکٹس کے بارے میں علم ہو سکتا ہے۔ آپ ان سے رابطہ کر سکتے ہیں،“ پینل نے کہا۔ "موزمبیق جیسے منصوبوں کے حوالے سے کوئی اوپن سورس معلومات موجود نہیں تھیں۔ اس کے لیے دوبارہ ذرائع بنانے پر واپس جانا پڑا،“ دا سلوا نے کہا۔ ” وہ مشکل کام ہے کیونکہ لوگ دباؤ یا خوف میں ہو سکتے ہیں۔ جہاں تحریری ریکارڈ موجود نہ ہوں وہاں سپلائی چین کے مختلف حصوں میں موجود لوگوں سے بات کرنا مؤثر ثابت ہوتا ہے۔”
ہمیشہ خود سے پوچھیں: یہ ٹیکنالوجی اصل میں کس کو بااختیار بنا رہی ہے یا فائدہ پہنچا رہی ہے؟“ مریم نے کہا۔
”بہت سے لوگ کہہ سکتے ہیں کہ اس قسم کی ٹیکنالوجی بذات خود بری نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ کس طرح استعمال ہو رہی ہے،“ دا سلوا نے وضاحت کی۔ ”لیکن ہم یہاں یہ بات کر رہے ہیں کہ یہ کمپنیاں کس طرح ٹیکنالوجی فروخت کرتی ہیں جس کی وجہ سے عالمی جنوب کے سیاق میں یہ بالکل بے فائدہ ہو جاتی ہیں کیونکہ یا تو یہ عملی طور پر ناکام ہو جاتی ہے کیونکہ وہ اس ماحول کے لیے موزوں نہیں ہوتی یا پھر بدعنوانی کے باعث برباد ہو جاتی ہیں۔“
روان فلپ جی آئی جے این کے عالمی رپورٹر اور امپیکٹ ایڈیٹر ہیں۔ جنوبی افریقہ کے سنڈے ٹائمز کے سابق چیف رپورٹر، وہ دنیا بھر کے دو درجن سے زائد ممالک سے خبروں، سیاست، بدعنوانی اور تنازعات پر رپورٹنگ کر چکے ہیں اور برطانیہ، امریکہ اور افریقہ کے نیوز رومز میں اسائنمنٹس ایڈیٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔