Crime scene after the assassination of Alex Pretti in Minneapolis by ICE
عینی شاہدیںن اور نگرانی کے کیمروں سے حاصل ہونے والی ویڈیوز بڑی خبروں کا ایک اہم ذریعہ بنتی جا رہی ہیں۔
منیاپولس میں امریکی وفاقی اہلکاروں کے ہاتھوں رینی گڈ اور الیکس پریٹی کی ہلاکتیں، امریکہ بھر میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کا قانونی شہریوں کے خلاف پرتشدد رویہ اور جارحانہ کارروائیاں، ٹفٹس یونیورسٹی کی ڈاکٹریٹ کی طالبہ رومیسا اوزترک کو سڑک سے اہلکاروں کے ہاتھوں زبردستی حراست میں لیا جانا اور حالیہ واقعہ جس میں نینسی گتھری کے اغوا کے نقاب پوش اور مسلح مشتبہ شخص کی دل دہلا دینے والی ویڈیو ایک گھر کے ڈور بیل کیمرے میں ریکارڈ ہوئی تھی۔
جدید صحافت میں ویڈیو ثبوت کی طاقتور ترین شکلوں میں سے ایک بن چکی ہے۔ تاہم، ساتھ ہی ساتھ مصنوعی ذہانت اس قسم کے جعلی ثبوت تیار کرنا اور اصل ویڈیوز میں ردوبدل کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا رہی ہے۔ نتیجتاً ایک نئی صورتحال جنم لے رہی ہے: اب صحافیوں کو بصری محققین بھی بننا پڑے گا۔
میں نے اے آئی ویڈیو جنریٹر سورا کی مدد سے صرف چند منٹوں میں اسی طرح کے نقاب پہنے ہوئے ایک حملہ آور کی ڈور بیل کیمرے سے ریکارڈ ہونے والی ایک حقیقت سے قریب تر ویڈیو تیار کی تھی۔ (مدیر کا نوٹ: اوپن اے آئی نے حال ہی میں سورا کو بند کر دیا ہے۔) یہ ایک مسئلہ ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ سرکاری حکام نے بارہا ان واقعات کے بارے میں ایسے غلط بیانیے پیش کیے جو اصل ویڈیوز سامنے آنے کے بعد برقرار نہ رہ سکے۔
"مشکل یہ ہے کہ اے آئی سے تیار کردہ تصاویر کا بڑھتا ہوا رجحان اس وقت سامنے آیا ہے جب جائے وقوعہ کی ویڈیوز کی اہمیت بھی بڑھ چکی ہے،” حال ہی میں ہونے والی ایک لائیو اسٹریم میں منیسوٹا سٹار ٹریبیون کی ڈیجیٹل ڈیزائنر اور پریٹی اور گڈ کی ہلاکتوں کی ویڈیوز کا تجزیہ کرنے والی ٹیم کی رکن انا بون نے کہا۔ "یہ دونوں رجحانات ایک ساتھ بڑھ رہے ہیں اور بے تحاشا مواد پیدا کر رہے ہیں۔”
دا نیو یارک ٹائمز، دا واشنگٹن پوسٹ، سی این این اور سٹار ٹریبیون نے بصری تحقیقات کی مدد سے ان دونوں مسائل کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے مختلف ٹولز اور تکنیکوں کے ذریعے مواد کی صداقت کی تصدیق کی، اے آئی سے تیار کردہ مواد کو غلط ثابت کیا اور ویڈیوز کا فریم بہ فریم تجزیہ کیا۔ اب ہر نیوز روم کو یہ صلاحیتیں درکار ہیں۔
گڈ اور پریٹی کی فائرنگ کے واقعات پر سٹار ٹریبیون کی تحقیق اس کی ایک واضح مثال ہے۔ بصری صحافیوں کی ایک ٹیم نے عینی شاہدین کی ویڈیوز کا فریم بہ فریم تجزیہ کیا جس نے ٹرمپ انتظامیہ کے ارکان کے ان دونوں ہلاکتوں سے متعلق دعووں کی براہِ راست تردید کی تھی۔
طریقۂ کار نہایت باریک بینی پر مبنی تھا۔ ویڈیو صحافی امانڈہ اینڈرسن نے موصول ہونے والی تمام ویڈیو کلپس کو ایڈیٹنگ ٹائم لائن پر ترتیب دیا۔ انہوں نے آڈیو مارکرز (ہر گولی کے چلنے سے پیدا ہونے والی نمایاں لہروں میں واضح اضافے) کا ستعمال کرتے ہوئے مختلف زاویوں سے لی گئی فوٹیج کو ہم آہنگ کیا۔ (سٹار ٹریبیون کی پوری لائیو اسٹریم آپ کے وقت کا بہترین استعمال ہے اور بصری تحقیق کی مہارت سیکھنے کے لیے ایک بہترین سرمایہ کاری ہے۔)
ٹیم یہ بھی جانتی تھی کہ کیا شائع نہیں کرنا۔ گڈ کے مقدمے میں انہوں نے اس بات پر بحث کی کہ آیا وہ یہ رپورٹ کر سکتے ہیں کہ جس افسر جوناتھن روس نے انہیں گولی ماری وہ جائے وقوعہ سے چلے گئے تھے۔ وہ متعدد ویڈیوز میں ان کے بال دیکھ سکتے تھے لیکن کلپس کے درمیان کچھ فریمز میں وہ نظر نہیں آئے تو ٹیم نے اسے شائع نہیں کیا۔
ایسا نظم و ضبط بصری تحقیقات کو اتنا قابلِ اعتماد بناتا ہے کہ وہ سرکاری بیانیوں کو چیلنج کر پاتی ہیں۔
"یہ بات بالکل واضح تھی کہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ویڈیوز کے سیلاب کے مقابلے میں زیادہ تجزیاتی کام سامنے لانے کی ضرورت تھی،” سٹار ٹریبیون کے گرافکس رپورٹر جیک سٹائین برگ نے کہا۔
اچھی خبر: اس کام کو شروع کرنے کے لیے نیوز اداروں کو چھ ہندسی تحقیقاتی بجٹ یا بیس افراد پر مشتمل ٹیم کی ضرورت نہیں ہے۔
ہر چیز محفوظ کریں
سب سے پہلے کام جو کسی بھی رپورٹر کو خبر کے قابل ویڈیو کے ملنے پر کرنا چاہیے، وہ اسے محفوظ کرنا ہے۔ فوراً اور اس کی اصل شکل میں۔
"میرے خیال میں سوشل میڈیا کی تیز رفتار نوعیت کے باعث ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے ویڈیوز کو محفوظ کرنا اور جن ویڈیوز کا ہم مزید جائزہ لینا چاہتے تھے ان کی نقول اپنے آلات پر محفوظ کرنا بہت واضح تھا۔ صرف اس صورتحال سے بچنے کے لیے کہ جب وہ چیزیں ہٹا دی جائیں یا کوئی بھی انہیں سوشل میڈیا سے مٹا دے۔“ اینڈرسن نے کہا۔ ”بس جلد از جلد اور زیادہ سے زیادہ معلومات جمع کرنے کی ضرورت ہے۔“
سوشل میڈیا پوسٹس حذف ہو جاتی ہیں۔ پلیٹ فارمز فائلوں کو کمپریس کر دیتے ہیں اور ان کا میٹا ڈیٹا بھی ختم کر دیتے ہیں۔ منیاپولس میں پیش آنے والے دونوں فائرنگ کے واقعات میں سرکاری اداروں نے شواہد تک رسائی بھی محدود کر دی تھی۔ اگر آپ اصل فائل محفوظ نہیں کرتے تو آپ اسے کھو سکتے ہیں۔
آرکائیو کرنے کے لیے مفت ٹولز میں وے بیک مشین، آرکوائیو ڈاٹ ٹوڈے اور میڈیا والٹ شامل ہیں۔ یہ ٹولز تحقیق کے دوران صحافی کی جانب سے دیکھی جانے والی ہر ویب صفحے کا ریکارڈ اور ٹائم اسٹیمپ محفوظ کرتے ہیں۔ خاص طور پر ویڈیو کے معاملے میں اسکرین ریکارڈنگ پر انحصار کرنے کی بجائے جب بھی ممکن ہو اصل فائل ڈاؤن لوڈ کریں۔ سکرین ریکارڈنگ ویڈیو کے معیار کو بھی کم کرتی ہے اور میٹا ڈیٹا بھی ختم کرتی ہے۔

Wayback Machine es una herramienta gratuita que archiva contenido de internet. Imagen: Captura de pantalla, Wayback Machine / Internet Archive
جغرافیائی محلِ وقوع کی نشاندہی اور ویڈیوز کو ایڈٹ کرنا سیکھیں
"میں سب سے بہترین مشورہ یہی دے سکتا ہوں کہ بس کام کریں،” دی نیویارک ٹائمز کی بصری تحقیقات ٹیم کے انٹرپرائز ڈائریکٹر مالاکی براؤن نے کہا۔ "کسی ایسی بریکنگ نیوز کو دیکھیں جس میں سوشل میڈیا پر بصری مواد شیئر کیا جا رہا ہو۔ جغرافیائی محلِ وقوع کی تصدیق کرنا سیکھیں (یعنی یہ معلوم کرنا کہ کوئی واقعہ کہاں پیش آیا)، زمانی تصدیق کرنا سیکھیں (یعنی یہ معلوم کرنا کہ وہ واقعہ کب پیش آیا) اور بیلنگ کیٹ کی تحقیقاتی ٹول کِٹ میں موجود آلات استعمال کرنا سیکھیں۔ یہ ویڈیو کہاں فلمائی گئی؟ کب؟ کس نے بنائی؟ کیوں بنائی؟ اس میں کیا ہو رہا ہے؟ اور آپ کو یہ سب کیسے معلوم ہے؟”
جغرافیائی محلِ وقوع کی تصدیق بصری تحقیقات کے لیے ایک بنیادی مہارت ہے۔ اس حوالے سے کام شروع کرنے کے لیے چند مفید ٹولز درج ذیل ہیں:
گوگل ارتھ پرو رپورٹرز کو کسی ویڈیو میں نظر آنے والے زمینی خدوخال، عمارتوں اور نمایاں مقامات کا سیٹلائٹ تصاویر سے موازنہ کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ اس میں تاریخی تصاویر بھی موجود ہوتی ہیں جن کی مدد سے یہ جانچا جا سکتا ہے کہ آیا منظر دعویٰ کردہ تاریخ سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔
گوگل سٹریٹ ویو سڑک کی سطح پر موجود تفصیلات مثلاً دکانوں کے سامنے والے حصے، سڑکوں کی نشاندہیوں اور بجلی کے کھمبوں کو ملانے کے لیے نہایت مفید ہے۔
سن کالک سائے کے زاویوں اور سورج کی پوزیشن کی مدد سے یہ جانچنے میں مدد دیتا ہے کہ کوئی بھی تصویر یا ویڈیو دن کے کس وقت لی گئی تھی۔
بیلنگ کیٹ کا اوپن سٹریٹ میپ سرچ ٹول اس وقت مقام کا تعین کرنے میں مدد دیتا ہے جب آپ کے پاس محدود بصری شواہد ہوں۔ مثال کے طور پر ایک گیس سٹیشن کے پاس ایک پل کے قریب ایک چرچ۔
اب جغرافیائی محلِ وقوع کی تصدیق کے لیے خود مصنوعی ذہانت بھی استعمال کی جا رہی ہے۔ بیلنگ کیٹ کی جانب سے حال ہی میں 24 بڑے لارج لینگویج ماڈلز پر کیے گئے ایک ٹیسٹ میں تصاویر سے مقامات کی شناخت کرنے میں گوگل کے اے آئی موڈ نے دیگر تمام ماڈلز سے بہتر کارکردگی دکھائی۔ تاہم محققین نے خبردار کیا کہ اے آئی کے ذریعے کی جانے والی جغرافیائی تصدیق کے نتائج کی انسانی سطح پر توثیق اب بھی ضروری ہے۔
"بصری فرانزک کی تکنیکیں اکثر اوپن سورس انٹیلی جنس کی تکنیکوں سے ملتی جلتی ہیں۔ اس لیے جب بھی موقع ملے، انہیں سیکھنے کی کوشش کریں،“ پوئنٹر کی اے آئی انوویشن لیب کے ایک رکن اور پولیٹی فیکٹ کے رپورٹر لوربن ٹوکیرو نے کہا۔ "سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جدید سرچ تکنیکوں سے واقفیت آپ کو یہ جاننے میں مدد دے سکتی ہے کہ کسی تصویر یا ویڈیو کو سب سے پہلے کس نے پوسٹ کیا تھا اور کیا اس شخص کی پوسٹنگ ہسٹری میں مشکوک مواد موجود ہے یا نہیں۔”
ایڈیٹنگ ٹولز بھی مدد کرتے ہیں۔ کیپ کٹ اور اڈوب پریمئیر پرو جیسے پروگرام ویڈیو کی رفتار سست کر سکتے ہیں، فریمز کو الگ کر سکتے ہیں اور آڈیو مارکرز کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔ یہ وہی تکنیکیں ہیں جو سٹار ٹریبیون کے بصری صحافیوں نے منیاپولس میں ہونے والی فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کے دوران استعمال کی تھیں۔
"لہٰذا مقامی نیوز رومز کے لیے میرا سب سے اہم پیغام یہ ہے: بصری فرانزک کا 60 سے 70 فیصد حصہ انسان پر منحصر ہوتا ہے، ٹیکنالوجی پر نہیں،“ ہینک وان ایس نے کہا جو اوپن سورس انٹیلی جنس اور اے آئی کی مدد سے کی جانے والی تحقیقات کے بین الاقوامی ماہر ہیں اور وہ گلوبل انویسٹیگیٹو جرنلزم کی آے آئی سے بنے مواد کی شناخت کے لیے گائیڈ کے مصنف بھی ہیں۔ ”آپ کو اے آئی میں پی ایچ ڈی کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو ایسے رپورٹرز کی ضرورت ہے جو باریک بینی سے مشاہدہ کریں اور درست سوالات پوچھیں۔”
درست سوالات سے آغاز کریں
وان ایس نے کہا کہ رپورٹرز کو کسی ٹول تک رسائی حاصل ہو تو انہیں شروعات کچھ سوالات پوچھنے سے کرنی چاہیے۔ انہوں نے جانچ پڑتال کی کئی ایسی اقسام بتائیں جو صحافی (اے آئی سے تیار کردہ مواد کی) شناخت کے لیے سیکھ سکتے ہیں۔
ماخذ: یہ مواد پہلی بار کہاں سامنے آیا؟ کیا آپ اس کی اصل اپ لوڈ کا سراغ لگا سکتے ہیں؟
وقت اور تاریخ: کیا موسم، روشنی اور سائے اس وقت اور مقام سے مطابقت رکھتے ہیں جس کا دعویٰ کیا جا رہا ہے؟
مقام: کیا ویڈیو میں نظر آنے والی عمارتیں، سائن بورڈ، گلیوں کی ساخت دعویٰ کیے گئے مقام سے میل کھاتے ہیں؟
ٹیکنالوجی: کیا ویڈیو میں نظر آنے والے آلات اور انفراسٹرکچر اس وقت اور مقام کے مطابق ہیں؟ کیا ویڈیو کا معیار اس کیمرے سے مطابقت رکھتا ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسی سے یہ ویڈیو بنائی گئی؟
رویوں کے نمونے: کیا لوگ فطری انداز میں حرکت کر رہے ہیں اور ایک دوسرے سے تعامل کر رہے ہیں، یا اس میں کچھ سکرپٹ کے مطابق لگ رہا ہے؟
طبیعیاتی اصول: کیا عکس، سائے اور باریک تفصیلات جیسے انگلیاں، دانت یا تحریر حقیقت سے مطابقت رکھتی ہیں؟
اِن وِڈ، ٹِن آئی اور گوگل ریورس امیج سرچ آپ کو ان میں سے بہت سے سوالات کے جوابات دینے کے لیے کسی بھی تصویر کا اصل سورس ڈھونڈنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
اس کے بعد وہ مرحلہ آتا ہے جسے وان ایس "گٹ چیک” کہتے ہیں۔
کیا اس مواد کا وقت، فریمنگ یا بیانیہ بہت آسان لگ رہا ہے؟ وہ اسے "پروڈکشن کوالٹی پیراڈوکس” کہتے ہیں۔ یعنی جب مواد بہت نفیس لگ رہا ہو یا کسی بیانیے کو سہارا دینے کے لیے عین مناسب وقت پر سامنے آئے تو یہی بات بذاتِ خود ایک اشارہ ہے۔
اے آئی کو پہچاننے والی نظر پیدا کریں
اسٹار ٹریبیون کی لائیو اسٹریم کے دوران اسٹین برگ نے بتایا کہ امریکی محکمہ برائے داخلی سلامتی نے منیاپولس میں ایک خاتون کو گرفتار کرنے والے اہلکاروں کی ایک تصویر کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسے تبدیل کیا کہ ویڈیو میں لگا جیسے وہ خاتون رو رہی تھیں۔
جب حکومت نے اس بندوق کی تصویر جاری کی تھی، اس میں کہا گیا تھا کہ وہ پریٹی سے برآمد کی گئی تھی، ”اس کے متعلق فوراً فطری نوعیت کے سوالات اٹھنے لگے کہ آپ جانتے ہیں، کیا یہ واقعی اصلی ہے؟ کیا اس کی تصدیق کی جا سکتی ہے؟“ اسٹین برگ نے کہا۔ "بصری شواہد کے بارے میں ایسے سوالات کرنا جن پر ہم ہمیشہ سے اعتماد کرتے آئے ہیں، ایک نئی حقیقت ہے جو ہمیں اب کرنے چاہیے۔”
متعدد ٹولز صحافیوں کو یہ جانچنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ آیا کوئی مواد اے آئی کے ذریعے تیار کیا گیا تھا یا نہیں:
ہائیو موڈریشن: ایک مفت براؤزر ایکسٹینشن جو تصاویر، ویڈیوز، آڈیو اور متن کو اسکین کرکے یہ جانچتی ہے کہ آیا وہ اے آئی سے تیار کیے گئے ہیں۔ یہ اپنے نتائج کے ساتھ اعتماد کا اسکور بھی دیتی ہے اور اس اے آئی ماڈل کی شناخت بھی کرتی ہے جس کی مدد سے وہ مواد تیار کیا گیا تھا جیسے مِڈ جرنی، ڈی اے ایل ایل ۔ ای یا سٹیبل ڈفیوژن۔ یہ ڈیڈ لائن والے کام کے لیے ابتدائی جانچ کا ایک مؤثر ٹول ہے۔
گوگل سنتھ آئی ڈی: گوگل کے اپنے اے آئی ٹولز جیسے کہ جیمینائی اورویو سے تیار کردہ مواد میں ایک واٹرمارکنگ نظام موجود ہوتا ہے۔ ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ تصویر کو جیمینائی چیٹ میں اپ لوڈ کریں اور سیدھا پوچھیں کہ آیا یہ گوگل اے آئی کے ذریعے بنائی گئی تھی۔
وان ایس کا امیج وِسپرر: یہ بڑے لینگویج ماڈلز اور گوگل وژن پروسیسنگ کا استعمال کرتے ہوئے متوازی تجزیہ کرتا ہے۔
کوئی بھی ٹول حتمی یا فیصلہ کن نہیں ہوتا۔ وان ایس تجویز کرتے ہیں کہ مواد کو متعدد اے آئی کی شناخت کرنے والے ٹولز سے گزارا جائے اور ان کے نتائج کا باہمی موازنہ کیا جائے اور اس پورے عمل کو ہمیشہ انسانی تجزیے کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے۔
ماہرین پر انحصار کریں
"ماہر ذرائع سے روابط بنائیں،” ٹوکیرو نے کہا۔ "جب کسی ممکنہ طور پر اے آئی سے تیار کردہ تصویر یا ویڈیو میں کوئی واضح شناختی نشان نظر نہیں آتا تو میں ایسے افراد سے رابطہ کرتا ہوں جن کے پاس اے آئی سے تیار کردہ نفیس جعلی مواد کی شناخت کے لیے درکار اعلیٰ مہارت اور وسائل موجود ہوتے ہیں۔ ان میں ماہرینِ تعلیم اور محققین شامل ہیں جو اے آئی کی شناخت کے طریقے تیار کرتے ہیں۔”
اے آئی محققین، فرانزک تجزیہ کاروں اور اوپن سورس تفتیش کاروں کا ایک مضبوط نیٹ ورک بنانے میں وقت لگتا ہے لیکن خبر کی ڈیڈ لائن پر یہی نیٹ ورک بہت کام آتا ہے۔
فیکٹ چیکنگ اور ڈیجیٹل تحقیق کے تجربہ کار صحافیوں کریگ سلورمین اور الیکسیوس مانتزارلس کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم انڈیکیٹر جیسے اشاعتی ادارے اس سلسلے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ انڈیکیٹر ڈیجیٹل دھوکہ دہی کے پیچھے موجود ٹولز، تکنیکیوں اور خطرہ پیدا کرنے والے عناصر پر باقاعدگی سے رپورٹنگ کرتا آ رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے بامعاوضہ سبسکرائبرز کے لیے ماہانہ ورکشاپس بھی منعقد کرتا ہے۔ اس کے وسائل کے صفحے پر ٹولز اور اے آئی سے تیار کردہ فریب پر مبنی مواد کے متعلق ایک باقاعدگی سے اپڈیٹ ہونے والی علمی لائبریری بھی موجود ہے۔
"ایسے لگتا ہے ہے کہ پہلے سے کہیں زیادہ قائل کرنے والی ڈیپ فیک ویڈیوز کے دور میں شاید روایتی صحافت ہی بہترین جواب ثابت ہو،” مانتزارلس نے کہا۔
ادارتی نوٹ: یہ مضمون اصل میں دی پوئنٹر انسٹیٹیوٹ نے شائع کیا تھا اور یہاں ان کی اجازت کے ساتھ دوبارہ شائع کیا گیا ہے۔
الیکس مہادیون ایک صحافی، ڈیٹا ماہر، ٹرینر اور محقق ہیں جو جنریٹو اے آئی، میڈیا لٹریسی اور غلط معلومات کے مابین کام کرتے ہیں۔