The 500 euro note and 100 dollar bill are routinely used by money launderers to move large amounts of illicit currency. Image: Shutterstock
صحافی منی لانڈرنگ کی بڑھتی ہوئی لہر کے خلاف کس طرح لڑ سکتے ہیں؟
یہ مضمون ان زبانوں میں بھی دستیاب ہے
تحقیقی صحافی اولیور بولو اپنی تازہ ترین کتاب میں لکھتے ہیں کہ منی لانڈرنگ وہ جرم ہے جس جو جرائم کو منافع بخش بناتا ہے۔ موبائل فون کی چوری، دھوکہ دہی، منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی جیسے جرائم سب منی لانڈرنگ کے ذریعے ممکن ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ غیر قانونی دولت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا پہلے کبھی اتنا آسان نہیں تھا۔
ویلز میں پیدا ہونے والے بولو 2014 سے مالی جرائم کے بارے میں لکھ رہے ہیں۔ اس موضوع پر ان کی تحقیقی کتاب "سب ہمارے ڈالرز سے پیار کرتے ہیں” کا مرکزی نتیجہ خاصا تشویش ناک ہے: "منی لانڈرنگ کیسے جیتی۔”
فیکٹ کوایلیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایان گیری کی طرف سے منعقد کی جانے والی ایک حالیہ کتابی نشست میں بولو نے بتایا کہ منی لانڈرنگ کے ذریعے منتقل کی جانے والی رقم کا ہر سال کاتخمینہ حیران کن حد تک بڑھ رہا ہے۔ یہ عالمی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 2 سے 5 فیصد یعنی 2 سے 5 ٹریلین امریکی ڈالر کے درمیان ہے۔ اگر یہ رقم ایک ملک ہو تو وہ دنیا کا تیسرے سے گیارہویں امیر ترین ملک کے درمیان ہوگا۔ کئی دہائیوں کے معاہدوں، سفارتی کوششوں، قوانین اور خصوصی ٹاسک فورسز کے باوجود یہ تخمینہ تقریباً جوں کا توں برقرار ہے۔
بولو نے بتایا کہ انہوں نے اپنی نئی کتاب کے لیے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہمارے منی لانڈرنگ کے خلاف قائم نظام میں بنیادی خامی کہاں موجود ہے اور اسے کس طرح ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔
بولو نے جی آئی جے این کو دیے گئے ایک علیحدہ انٹرویو میں کہا کہ "اس کتاب کے لیے مجھے جو کہانی ملی وہ دراصل ایک ایسی دوڑ کی کہانی ہے جس میں ایک طرف وکلا، سرکاری ادارے اور نگران ریگولیٹری ادارے ہیں جبکہ دوسری طرف منی لانڈرنگ میں ملوث افراد ہیں۔” "منی لانڈرنگ کرنے والوں کو محدود کرنے کے لیے جو بھی قدم اٹھایا جاتا ہے، اس کا فوری جواب جدت طرازی کی صورت میں انتہائی کاروباری ذہن رکھنے والے مجرمان کی طرف سے سامنے آتا ہے جو اپنے پیسوں کو منتقل کرنے کے نئے طریقے ایجاد کرتے رہتے ہیں،” انہوں نے مزید کہا۔
"یہ تمام نئی ایجادات ایک دوسرے کے اوپر تہہ در تہہ جمع ہوتی ہیں اور مزید پیچیدہ بن جاتی ہیں اور انہیں سمجھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ ایک دفعہ آپ ان سب کو اکٹھا کرنا شروع کرتے ہیں تو کچھ ہی دیر میں ایسا کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے،” انہوں نے مزید کہا۔
بولو نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز روس میں اُس وقت کیا جب پوتن اپنے اقتدار کو مستحکم کر رہے تھے۔ انہوں نے ماسکو میں روئٹرز کے لیے کام کیا اور چیچنیا کی جنگ کی رپورٹنگ کی۔ ان کی ایوارڈ یافتہ کتابوں میں عالمی سطح پر کالے دھن کے نیٹ ورکس ("منی لینڈ") اور اس کے مغرب میں موجود سہولت کار جیسے کہ قانونی فرمیں، بینک اور تعلقاتِ عامہ کی کمپنیاں جو منی لانڈرنگ کرنے والوں کو دولت اور ساکھ بنانے میں مدد دیتی ہیں (بٹلر ٹو دا ورلڈ) ۔وہ کوڈا سٹوری کے لیے "اولیگارکی” کے نام سے نیوز لیٹر لکھتے ہیں اور لندن کی پرتعیش جائیدادوں پر مبنی "کلیپٹوکریسی ٹورز” کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔
منشیات کے بدلے گوچی
"منی لانڈرنگ ایک انتہائی کاروباری نوعیت کی سرگرمی ہے اور 1980 کی دہائی کے بعد سے یہ نمایاں طور پر زیادہ نفیس ہو چکی ہے،” بولو نے ویبینار میں کہا۔
بولو کی کتاب عالمی منی لانڈرنگ کے پزل کے چند نہایت دلچسپ ٹکڑوں پر روشنی ڈالتی ہے۔ جرائم کو منافع بخش بنانا ہی وہ عنصر ہے جو روس کو پرزہ جات پر عائد تجارتی پابندیوں کے باوجود یوکرین میں ڈرون استعمال کرنے کے قابل بناتا ہے اور یہی جرائم پیشہ گروہوں کے لیے جنوب مشرقی ایشیا سے خواتین کو مختلف امریکی شہروں میں اسمگل کرنا منافع بخش بناتا ہے۔
سائیپان اور ٹینین میں واقع اب ویران ہو چکے کیسینو جہاں بولو کو چینی رقوم کی منی لانڈرنگ سے متعلق دستاویزات کا بڑا ذخیرہ ملا اور انگلینڈ کے مضافاتی علاقے میں واقع ایک آؤٹ لیٹ مال جہاں بین الاقوامی سیاح مہنگے ڈیزائنر ہینڈ بیگز خریدتے ہیں، اس عالمی معمہ کے دو مزید اہم حصے ہیں۔ بولو کو اس کتاب کا خیال ایک سینئر پولیس افسر کے ساتھ برطانیہ کے علاقے آکسفورڈ شائر میں واقع ڈیزائنر آؤٹ لیٹ شاپنگ سینٹر بسسٹر ولیج کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے آیا۔ اس گفتگو میں انہوں نے کہا کہ یہ مال چینی خریداروں میں بہت مقبول ہے اور اس کا ذکر برطانوی میڈیا بھی بارہا کر چکا تھا۔
پولیس افسر نے وضاحت کی کہ لوئی وٹاں کے ہینڈ بیگز کی اس غیر معمولی خریداری کے پیچھے بظاہر نظر آنے والی کہانی سے کہیں زیادہ کچھ اور بھی ہے: "ان میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو خریداری کرنا پسند کرتے ہیں،” افسر نے کہا۔ "لیکن اس کی بقیہ خریداری منی لانڈرنگ ہے۔”چین میں فیکٹریاں برطانوی جرائم پیشہ گروہوں کو منشیات فراہم کرتی ہیں جو اس کی ادائیگی برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم چینی طلبہ کو نقد کی صورت میں کرتے ہیں،” افسر نے وضاحت کی۔ "طلبہ یا تو یہ نقد رقم بسسٹر ولیج لے جاتے ہیں یا جانے سے پہلے اسے اپنے بینک اکاؤنٹس میں جمع کروا لیتے ہیں۔ پھر وہ ان پیسوں سےگوچی کے ہینڈ بیگز یا کوئی بھی دوسری مہنگی چیز خریدتے ہیں اور اسے چین بھیج دیتے ہیں، جہاں جرائم پیشہ افراد انہیں فیشن کے دلدادہ خریداروں کو فروخت کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ وی چیٹ کے ذریعے ہوتا ہے اور ہمیں اس کی پیروی کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔”
تو اگر منی لانڈرنگ جیت چکی ہے، تو صحافی کیا کر سکتے ہیں؟ بولو کے پاس اس حوالے سے کام شروع کرنے کی کچھ تجاویز ہیں جو انہوں نے کتابی نشست اور جی آئی جے این کو دیے گئے ایک علیحدہ انٹرویو میں بتائیں۔
۱:منی لانڈرنگ کے خلاف قواعد و ضوابط کے ڈھانچے کو سمجھیں
منی لانڈرنگ کے خلاف کوششوں کی تاریخ کا سراغ لگاتے ہوئے بولو شمال مشرقی ٹیکساس اور منی لانڈرنگ سے متعلق تمام قوانین کے "بانی” رکنِ کانگریس رائٹ پیٹ مین کے آبائی ضلع میں پہنچے۔ پیٹ مین نے 1929 سے 1976 تک امریکی کانگریس میں خدمات سر انجام دیں۔ سنہری دور کے دوران پیدا ہونے والے خانہ جنگی کے قرضوں کے ردِعمل میں ایک زیادہ منصفانہ مالیاتی نظام کی عوامی خواہش کو بروئے کار لاتے ہوئے پیٹ مین کی کوششوں کے نتیجے میں امریکی کانگریس نے 1970 میں بینکنگ سیکریسی ایکٹ منظور کیا جو امریکی بینکوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ منی لانڈرنگ کی نشاندہی اور روک تھام کے لیے حکومتی ایجنسیوں کے ساتھ نگرانی اور رپورٹنگ کے ذریعے تعاون کریں۔
بینکنگ سیکریسی ایکٹ کی وجہ سے بینکوں کو 10 ہزار امریکی ڈالر یا اس سے زیادہ مالیت کے لین دین کی رپورٹ کرنی پڑتی ہے۔ "یہ ایک بالکل نیا تصور تھا،” بولو نے ویبینار میں وضاحت کی۔ "مالیاتی اداروں کی معاشرے کے سامنے یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جس رقم کو منتقل کر رہے ہیں اس کے ذرائع کی جانچ کریں۔”
تاہم منی لانڈرنگ سے لڑنے کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ عالمی سطح پر اس تعاون کی ایک اہم پیش رفت 1989 میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا قیام تھا۔ یہ بین الاقوامی ادارہ سفارشات جاری کر کے، قوانین کی پابندی کے معیارات مرتب کر کے، ممالک کے منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات کا تجزیہ کر کے اور زیادہ خطرے والے خطوں کی نشاندہی کر کے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف لڑتا ہے۔
بولو اپنے سائیپان اور ٹینین کے تجربات اور منی لانڈرنگ سے متعلق حاصل ہونے والئ دستاویزات کی مدد سے ایف اے ٹی ایف میں مفادات کے ٹکرائو کے ایک بڑے نکتے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ گوام کے شمال مشرق میں امریکہ کے ایک کامن ویلتھ شمالی ماریانا جزائر (سی این ایم آئی) میں کیسینو کے ذریعے "بہت بڑی مقدار” میں رقوم کی منی لانڈرنگ کی گئی ہے۔ جبکہ مارشل جزائر جیسے دیگر خطوں کو آف شور مالیاتی نظام اور بینکاری رازداری کے معاملات پر ایف اے ٹی ایف کی جانب سے زیادہ سخت نگرانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سی این ایم آئی میں قائم کیسینو کو امریکی مالیاتی جرائم کے نفاذ کے ادارے فِن سین اور مقامی سطح پر قانون نافذ کرنے والے طریقہ کاروں کی جانب سے بھاری جرمانے عائد کیے گئے ہیں لیکن عمومی طور پر "سی این ایم آئی ایک بہت بڑا مسئلہ رہا ہے۔ یہ خاص طور پر چین سے شروع ہونے والی منی لانڈرنگ کے خلاف امریکی دفاعی نظام میں ایک حقیقی خلا رہا ہے،” بولو نے کہا۔
ایف اے ٹی ایف کے پاس اس سال بہت زیادہ کام موجود ہے۔ یکم جولائی 2026 کو برطانیہ ایف اے ٹی ایف کی باری باری منتقل ہونے والی صدارت سنبھالے گا جبکہ جائزہ لینے والے ماہرین اس سال واشنگٹن جائیں گے کیونکہ امریکا اپنے منی لانڈرنگ کے خلاف معیارات کے جائزے کے عمل سے گزر رہا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے خلاف امریکی قیادت کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ تاریخی طور پر امریکا نے غیر قانونی مالی معاونت کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور اس میں ملوث افراد کو سزا دلوانے میں بھی پیش پیش رہا ہے۔ اس کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے حال ہی میں کارپوریٹ ٹرانسپیرنسی ایکٹ کو کمزور کرنا اپنے پچھلے رویے سے برگشتہ ہونے کی واضح علامت ہے، بولو نے وضاحت کی۔ اسی طرح صدر ٹرمپ کی ہنڈوراس کے سابق صدر خوان اورلینڈو ہرنینڈیز کو حالیہ معافی دینا، امریکی حکومت کی جانب سے کرپٹو کرنسیز کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا اور نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں مشکوک کمپنیوں کی فہرست سازی کے لیے نرم رویہ اختیار کرنا، اس بات کی مزید خطرناک نشانیاں ہیں کہ منی لانڈرنگ کے خلاف امریکی پالیسی نرم ہو رہی ہے۔
"اگر میں امریکا میں مالی جرائم سے نمٹنے کے لیے اقدامات کے ذخیرے میں ایک چیز شامل کرنے کی خواہش کروں تو وہ زیادہ شفافیت ہوگی۔ خاص طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے تاکہ مختلف ریاستوں میں رجسٹرڈ مختلف کمپنیوں اور کارپوریٹ ڈھانچوں کے اصل مالکان کے بارے میں معلومات دستیاب ہوں،” بولو نے کہا۔ "ایف اے ٹی ایف کی اپنے قیام کے وقت تیار کی گئی 40 سفارشات کو بھی وقت کے تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے،” انہوں نے مزید کہا۔
۲:کیوں بڑی مالیت کے نوٹ جرائم ممکن بناتے ہیں
"نقد ڈالر — یا کسی حد تک نقد یورو اور پاؤنڈ — جرائم کی بین الاقوامی کرنسی ہیں،” بولو لکھتے ہیں۔ "بنک نوٹس کسی بھی منی لانڈری کرنے والے کے لیے سب سے زیادہ کارآمد ذریعہ ہیں۔”
یہ بات خاص طور پر بڑی مالیت کے نوٹوں کے حوالے سے درست ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ آپ کو بڑی رقم منتقل کرنے کے لیے ان کی کم تعداد درکار ہوتی ہیں۔ بولو نے لندن میٹروپولیٹن پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر ڈیوڈ وینس کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا جنہوں نے ایک بار کہا تھا: "میڈیلین اور ماسکو کے درمیان تعلق 100 امریکی ڈالر کا نوٹ ہے۔”
اور ان 100 امریکی ڈالر کا تقریباً 70 – 80 فیصد حصہ بیرونِ ملک جاتا ہے جہاں انہیں زیادہ تر جرائم کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ برآمد ان نوٹوں کو ادویات کے مقابلے میں ایک قیمتی برآمد بناتا ہے۔
جرائم کا تعلق چھپنے والی نقد رقم کی طلب سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اپنے باب "دا بَک سٹارٹس ہئیر” میں بولو ایک بار پھر ٹیکساس میں موجود ہیں لیکن اس دفعہ وہ فورٹ ورتھ کے علاقے میں ہیں جہاں ویسٹرن کرنسی فیسلٹی امریکی فیڈرل ریزرو کے لیے زیادہ تر نئے ڈالر نوٹ چھاپتی ہے۔ یہ کام روزمرہ لین دین میں نقد رقم کے استعمال میں کمی کے باوجود بہت زیادہ طلب کو پورا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
تو پھر ممالک اپنی ضرورت سے کہیں زیادہ بینک نوٹ کیوں چھاپ رہے ہیں — نہ صرف امریکا میں بلکہ یورپ، نیوزی لینڈ اور سنگاپور میں بھی؟ "امریکا میں ہر شخص کے حصے میں 7,357 امریکی ڈالر زیرِ گردش ہیں،” بولو لکھتے ہیں۔ یورپی خطے میں ہر شہری کے لیے یہ رقم 4,500 یورو بنتی ہے۔
مرکزی بینکروں کے پاس اس "غائب” کرنسی کے بارے میں بتانے کے لیے حیران کن طور پر بہت کم معلومات ہیں، بولو نے کہا۔ اسی طرح بڑے مالیت کے نوٹ سب سے زیادہ مقبول کیوں ہیں جبکہ زیادہ تر لوگ روزمرہ استعمال میں چھوٹے نوٹ استعمال کرتے ہیں۔ 1970 کی دہائی میں ایک میک کنزی کنسلٹنٹ نے نشاندہی کی تھی کہ امریکا میں صرف دو لین دین بڑے، ناقابلِ سراغ اور کریڈٹ کے بغیر ہونے والی ادائیگیوں پر انحصار کرتے ہیں: "پہلا منافع کے لیے کیے جانے والے جرائم … دوسرا ٹیکس چوری۔”
۳:اسٹیبل کوائنز کا بڑھتا ہوا رجحان
کرپٹو کرنسیز نے دنیا بھر میں غیر قانونی دولت منتقل کرنے کے پرانے طریقوں کی جگہ نہیں لی ہے، بولو نے کہا۔لیکن اب یہ منی لانڈرنگ کی کہانی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ "یہ دنیا بھر میں رقوم منتقل کرنے کا کم لاگت اور تیز رفتار ذریعہ ہے۔”
کرپٹو کرنسی منی لانڈری کرنے والوں کے لیے ایک بڑی سہولت ہے کیونکہ کرپٹو کرنسیز اور اسٹیبل کوائنز روایتی مالیاتی نظام سے باہر کام کرتے ہیں۔ خاص طور پر اسٹیبل کوائنز ایک بڑھتا ہوا مگر کم توجہ حاصل کرنے والا خطرہ ہیں۔
"ایک اہم عنصر جس نے نہ صرف منی لانڈرنگ کے خلاف جنگ بلکہ بدمعاش ریاستوں کے خلاف جنگ کو مستحکم کیا ہے وہ امریکی ڈالر کے غلبے کے ذریعے عالمی مالیاتی نظام پر امریکا کی بالادستی ہے،” بولو نے ویبینار میں کہا۔
"مالی لین دین کی تصدیق اور تکمیل نیویارک کے ذریعے ہونا ضروری ہے۔ اس عمل نے امریکہ کو روسی حکومت اور دیگر ایسے عناصر کی سرگرمیوں پر ایک حد تک قانونی اختیار اور نگرانی فراہم کی ہے۔ یہ اختیار امریکہ کے لیے حقیقی طاقت کا ذریعہ رہا ہے اور پوتن اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک حقیقی کمزوری کا سبب بھی بنا ہے۔”
تیٹھر (یو ایس ڈی ٹی) اور یو ایس ڈی سی جیسے اسٹیبل کوائنز جرائم پیشہ افراد کو امریکی دائرۂ اختیار سے باہر رہتے ہوئے امریکی ڈالر میں لین دین کرنے کی صلاحیت دیتے ہیں، انہوں نے مزید کہا۔
"ہم اب کولمبیا کے منشیات فروش گروہ، ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور کمبوڈیا میں چینی منظم جرائم پیشہ گروہوں کے زیرِ انتظام اسکیم چلانے والی فیکٹریوں میں اسٹیبل کوائنز کا استعمال دیکھ رہے ہیں۔ ان گروہوں کے پاس اب منی لانڈرنگ کے انتہائی متنوع نیٹ ورکس موجود ہیں۔”
۴:بتانے کے لیے کہانیاں تلاش کریں
بولو اپنی کتاب کے اختتامی صفحات میں لکھتے ہیں کہ تمام مسائل کی بنیاد میں موجود سب سے بڑا چیلنج یہ ہے: ہم منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کو کس طرح بے نقاب کریں کہ اس میں ملوث برے عناصر کو جواب دہ ٹھہرایا جا سکے؟
"میرا خیال ہے کہ ہمیں اپنی کہانیاں بیان کرنے کے انداز میں مزید تخلیقی اور جدت پسند ہونے کی ضرورت ہے،” انہوں نے بات ختم کرتے ہوئے کہا۔ "ایسی عوامی تشویش پیدا کرنے کے لیے جس کی وجہ سے سیاست دانوں کے پاس درست قدم اٹھانے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ بچے۔” — اولیور بولو
"واحد طریقہ جو میں جانتا ہوں وہ کہانیاں بتانا ہے،” وہ لکھتے ہیں۔ "عدم اقدامات کی وجہ سے ہونے والے نقصان کو اجاگر کریں اور اس بات پر زور دیں کہ کس قدر اچھا ہوگا اگر حکومتیں آخر کار وہ اقدامات کریں جو انہیں کرنے چاہیے۔”
جب جی آئی جے این نے بولو سے اس نکتے کی مزید وضاحت کرنے کو کہا تو انہوں نے کہا، "سیاستدانوں کو اس مسئلے کی سنگینی کا احساس دلانے کے لیے ہم جن مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔۔۔۔ وہ محض مالیاتی نظام سے کہیں آگے کی ہیں۔ وہ ہماری معیشت کے ہر پہلو میں سرایت شدہ ہیں۔”
بولو صحافیوں اور محققین کو تجویز دیتے ہیں کہ وہ اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ جرائم سے حاصل ہونے والی دولت تجارتی نیٹ ورکس کے ذریعے کس طرح منتقل ہوتی ہے اور یہ بھی تحقیق کریں کہ وہ تمام "غائب” بینک نوٹ آخرکار کہاں پہنچ رہے ہیں۔
"میرا نہیں خیال کہ مسئلہ صحافیوں کے لیے مواد کی کمی ہے،” انہوں نے مزید کہا۔ "میرا خیال ہے کہ کسی وجہ سے ان کہانیوں کا وہ اثر پیدا کرنا مشکل ہو جاتا ہے جو انہیں کرنا چاہیے تھا۔”
"میرا خیال ہے کہ ہمیں اپنی کہانیاں بیان کرنے کے انداز میں مزید تخلیقی اور جدت پسند ہونے کی ضرورت ہے،” انہوں نے بات ختم کرتے ہوئے کہا۔ "ایسی عوامی تشویش پیدا کرنے کے لیے جس کی وجہ سے سیاست دانوں کے پاس درست قدم اٹھانے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ بچے۔”
الیکسا وان سِکل ایک صحافی اور ایڈیٹر ہیں جنہیں ڈیجیٹل اور پرنٹ صحافت، اشاعت اور بین الاقوامی تھنک ٹینکس اور غیر منافع بخش اداروں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ حاصل ہے۔ جی آئی جے این میں شامل ہونے سے پہلے وہ ایوارڈ یافتہ غیر ملکی خط و کتابت اور سفری میگزین "روڈز اینڈ کنگڈمز” میں سینیئر ایڈیٹر اور پوڈکاسٹ پروڈیوسر کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔