Unlicensed gold mine being operated in the Sudanese desert. Image: Shutterstock
جنگ کے دوران ماحولیاتی تباہی کو مالی معاونت فراہم کرنے والے سرمائے کا سراغ لگانا: سوڈان سے ایک کیس اسٹڈی
یہ مضمون ان زبانوں میں بھی دستیاب ہے
سوڈان جیسی کمزور اور تنازعات سے متاثرہ ریاستوں میں ماحولیاتی نقصان معاشی حکمتِ عملیوں کا ایک ضمنی نتیجہ ہوتا ہے۔ جب کمپنیاں یا ریاست سے منسلک ادارے صنعتی آلودگی یا فضلے کو ٹھکانے لگانے پر آنے والی بھاری لاگت سے بچتے ہیں تو ان کی یہ بچت بالآخر ایک ایسی غیر اعلانیہ سبسڈی کی صورت اختیار کر لیتی ہے، جس کا سراغ صحافی یہ سمجھنے کے لیے لگا سکتے ہیں کہ آلودگی کو جاری رہنے کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے۔
اگرچہ ہم عموماً سبسڈی کو حکومت کی جانب سے کسی کاروبار کو دی جانے والی براہِ راست مالی امداد سمجھتے ہیں لیکن یہ پوشیدہ سبسڈی دراصل ایک بالواسطہ فائدہ ہے جو آلودگی کی لاگت عوام پر منتقل کر کے حاصل کیا جاتا ہے۔
تحقیقاتی صحافیوں کے لیے بنیادی سوال یہ ہے: ضابطہ بندی کی عدم موجودگی سے کسے فائدہ پہنچ رہا ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ تنازعات کے دوران ذمہ داری کا تعین کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے لیکن مالی رقوم کے بہاؤ کا سراغ احتساب تک پہنچنے کا ایک راستہ فراہم کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر دی نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک خفیہ رپورٹ کے مطابق 2024 میں نیم فوجی گروہ ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے زیرِ کنٹرول دارفور کے علاقوں میں واقع کانوں سے تقریباً 860 ملین امریکی ڈالر مالیت کا سونا نکالا گیا۔ صحافیوں کے لیے اصل نکتہ یہ ہے کہ وہ یہ سوال اٹھائیں کہ ماحولیاتی تباہی کو ناگزیر کیوں قرار دیا جاتا ہے جبکہ حفاظتی اقدامات کو نظرانداز کر کے بچائی گئی یہی رقم ممکن ہے تنازع کو ہوا دینے یا طاقت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہو۔
رپورٹنگ میں رکاوٹیں: مسائل اور ان کے حل
سوڈان جیسے ممالک میں مؤثر ریگولیٹری اداروں کی عدم موجودگی اور انتہائی خطرناک زمینی حالات کی وجہ سے روایتی تحقیقاتی صحافت کے طریقے اکثر ناکام ہو جاتے ہیں۔ تاہم، رپورٹر بعض متبادل طریقے اختیار کر کے ان میں سے کچھ رکاوٹوں پر قابو پا سکتے ہیں۔ یہ طریقے انہیں تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں ماحولیاتی نقصان کو دستاویزی شکل دینے اور اس کے ذمہ دار مالی اور ادارہ جاتی عناصر کی نشاندہی کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
مسئلہ: معلومات کا دبایا جانا یا سرے سے موجود نہ ہونا۔
حل: تحقیقاتی صحافی مقامی آبادی کی شہادتوں، آن لائن اکاؤنٹس اور صارفین کے تخلیق کردہ مواد کو سیٹلائٹ تصاویر جیسی نئی ٹیکنالوجیز سے حاصل ہونے والے شواہد کے ساتھ ملا کر احتساب کی بنیاد قائم کر سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مقامی عینی شاہدین کے ثبوت، مثلاً تبصروں، تصاویر اور ویڈیوز، تلاش کرنے کے لیے وہ سونے (ذهب)، کان کنی (تعدين) اور متعلقہ جغرافیائی مقامات کے ناموں سے متعلق عربی کے مخصوص الفاظ استعمال کر سکتے ہیں۔
صحافی گوگل ارتھ یا سینٹینل جیسے سیٹلائٹ امیجری ٹولز کو ایسے ماحولیاتی نقصانات ظاہر کرنے کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتے ہیں یا جن تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر، جب غیر منظم کان کنی کے قریب رہنے والے افراد شدید طبی مسائل اور اعصابی امراض، بشمول پیدائشی نقائص، نابینا پن یا فالج، کی شکایات کرتے ہیں تو سیٹلائٹ تصاویر ان رہائشی علاقوں کے قریب پارے سے آلودہ فضلے کے غیر منظم گڑھوں یا کان کنی کے فضلے کے ڈھیروں کی موجودگی کی تصدیق کر سکتی ہیں۔
اگر سرکاری حکام یا صنعت کے تعلقاتِ عامہ کے ترجمان پائیدار طریقۂ کار اپنانے کا دعویٰ کریں لیکن آپ کا ڈیٹا دریا کے بہاؤ کے نچلے حصوں میں بڑے پیمانے پر نباتات کی تباہی یا پانی کے رنگ میں نمایاں تبدیلی ظاہر کر رہا ہو تو آپ کے پاس ان دعوؤں کی تردید کے لیے مضبوط ثبوت موجود ہیں۔
مسئلہ: جاری تنازع کے باعث متاثرہ علاقوں تک جسمانی رسائی کا نہ ہونا۔ مثال کے طور پر سوڈانی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے بہت سے مقامات تک پہنچنا ناممکن ہو گیا ہے۔
حل: چونکہ ماحولیاتی تباہی، جیسے غیر قانونی طریقے سے سونے کی پراسیسنگ یا گوندِ عربی کے جنگلات کی کٹائی، اپنے
واضح جسمانی آثار چھوڑتی ہے، اس لیے نارملائزڈ ڈفرنس ویجیٹیشن انڈیکس (این ڈی وی آئی) جیسے ریموٹ سینسنگ ٹولز کو اچانک جنگلات کے خاتمے کا پتا لگانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ بند ہو چکی جگہوں پر صنعتی سرگرمی سے پیدا ہونے والی حرارت کی نشاندہی کے لیے تھرمل امیجنگ استعمال کی جا سکتی ہے۔
مزید یہ کہ جو تحقیقاتی صحافی خود جائے وقوعہ پر رپورٹنگ نہیں کر سکتے، وہ ناسا کے ایف آئی آر ایم ایس (فائر انفارمیشن فار ریسورس مینجمنٹ سسٹم) کے ذریعے آگ لگنے کے واقعات کی نگرانی کر سکتے ہیں۔ سوڈان کے تناظر میں کسی محفوظ جنگل یا کان کنی کے علاقے کے قریب آگ لگنے کے متعدد انتباہات اکثر زمین صاف کرنے یا "جھلسی ہوئی زمین” کی حکمتِ عملی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ان سیٹلائٹ شواہد کو جغرافیائی محلِ وقوع سے تصدیق شدہ سوشل میڈیا ویڈیوز کے ساتھ ملا کر صحافی کسی جسمانی چیک پوسٹ سے گزرے بغیر تحقیقاتی طریقۂ کار استعمال کرتے ہوئے حقیقی وقت میں ماحولیاتی جرائم کی تصدیق کر سکتے ہیں۔
مسئلہ: کارپوریٹ رجسٹریوں میں شفافیت کا فقدان۔ فوج سے وابستہ کاروباری گروہ اور شیل کمپنیاں اشیا اور آلات کے اصل ماخذ کو چھپانے کی کوشش کرتی ہیں۔
حل: جب آپ کا سامنا کارپوریٹ رجسٹریوں میں شفافیت کے فقدان سے ہو تو تحقیقاتی صحافیوں کو فرانزک اکاؤنٹنٹس کی طرح کام کرنا چاہیے۔ فوج سے وابستہ کاروباری گروہ (مثلاً آر ایس ایف کی ملکیت والے ادارے) بین الاقوامی تجارت میں عموماً اپنے اصل نام استعمال نہیں کرتے بلکہ کان کنی کا سامان خریدنے اور معدنیات فروخت کرنے کے لیے متعدد درمیانی یا نمائندہ کمپنیوں کے ذریعے کام کرتے ہیں۔
اس پردے کو چاک کرنے کے لیے صحافیوں کو کمپنی کے نام کے بجائے "فرنٹ مین” کی شناخت کرنی چاہیے۔ انہیں معروف فوجی کمانڈروں یا ان کے قریبی معاونین کے نام تلاش کرنے کے لیے اوپن کارپوریٹس میں کمپنی کے بجائے "افسر” کے خانے کا استعمال کرنا چاہیے۔ صحافی ایلف (جو او سی سی آر پی نے تیار کیا ہے) جیسے ٹولز کے ذریعے "کارپوریٹ ماحولیاتی نظام” کا نقشہ تیار کر سکتے ہیں۔ ایلف آپ کو لیک ہونے والے ڈیٹا سیٹس کو کارپوریٹ ریکارڈز کے ساتھ جانچنے کی سہولت دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک کان کنی کی کمپنی (کمپنی اے) ہمیشہ ایک ہی ٹرانسپورٹ کمپنی (کمپنی بی) کی خدمات استعمال کرتی ہے اور کمپنی بی ایک فوج سے وابستہ کاروباری گروہ کی ملکیت ہے تو غالب امکان ہے کہ آپ نے کان کنی کے منافع اور فوج کے درمیان ایک منظم تعلق دریافت کر لیا ہے۔
ایک اور طریقہ تجارتی اعداد و شمار میں تضادات کی نگرانی کرنا ہے۔ چونکہ شفافیت کا فقدان اکثر ان معلومات سے ظاہر ہوتا ہے جو ریکارڈ میں موجود نہیں ہوتیں، اس لیے صحافی سوڈان کی وزارتِ معدنیات کے برآمدی اعداد و شمار کا موازنہ اقوامِ متحدہ کے کامٹریڈ ڈیٹا بیس میں موجود درآمدی ریکارڈ سے کر سکتے ہیں۔ اگر وزارتی ریکارڈ ظاہر کرتے ہیں کہ 5 ٹن برآمدات کی گئی تھیں لیکن کسی ریاستی کمپنی کے ریکارڈ میں سوڈان سے 20 ٹن درآمدات درج ہوں تو 15 ٹن کا یہ فرق اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ یہ مقدار شیل کمپنیوں اور اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے ذریعے منتقل کی گئی تھی۔ یہ فرق تحقیقاتی صحافیوں کے لیے ممکنہ طور پر اعلیٰ سطحی بدعنوانی کی نشاندہی کرتا ہے۔
تحقیقاتی صحافیوں کے لیے حفاظتی اقدامات اور خطرات میں کمی کی چیک لسٹ
تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں ماحولیاتی وسائل سے حاصل ہونے والی رقوم اور کارپوریٹ استحصال کی تحقیقات کرتے وقت خطرات میں کمی کے اقدامات محض احتیاطی تدابیر نہیں بلکہ بقا کی حکمتِ عملی ہوتے ہیں۔ چونکہ حکومتی ادارے اور ان کے ساتھ شامل دیگر فریق سونے اور معدنیات سے متعلق معلومات کو ریاستی راز سمجھتے ہیں، اس لیے صحافیوں کو نگرانی، گرفتاری یا جسمانی تشدد جیسے سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ چیک لسٹ ان تحقیقاتی صحافیوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو انتہائی خطرناک حالات یا فعال جنگی علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔ یہ صحافی اور ان کے ذرائع کو محفوظ رکھنے کے لیے "زیرو فٹ پرنٹ” کو ترجیح دیتی ہے۔
1۔ ڈیجیٹل تحفظ اور پیشگی انٹیلی جنس تیاری
زیرو فٹ پرنٹ براؤزنگ: سیٹلائٹ ٹولز اور کارپوریٹ رجسٹریوں تک صرف ملواڈ وی پی این یا ایسے کسی دوسرے ٹول کے ذریعے رسائی حاصل کریں جو آپ کی دیکھی جانے والی ہر ویب سائٹ کو الگ تھلگ رکھے تاکہ تھرڈ پارٹی ٹریکرز آپ کی سرگرمیوں کا سراغ نہ لگا سکیں اور ریاستی نگرانی سے آپ کا آئی پی ایڈریس محفوظ رہے۔
صاف (Clean) ڈیوائس کی پالیسی: فیلڈ ورک کے لیے ایک الگ اور صرف اسی مقصد کے لیے مختص اسمارٹ فون استعمال کریں۔ اپنی ڈیوائس مکمل طور پر صاف کرنے کی یقین دہانی کے لیے سی پی جے ڈیجیٹل سیفٹی کٹ سے رہنمائی حاصل کریں۔
انکرپٹڈ مواصلاتی ذرائع: ڈس اپیئرنگ میسجز کے فیچر کے ساتھ سگنل کا استعمال کریں۔ مزید جدید انکرپشن سیٹنگز کے لیے ای ایف ایف سرویلنس سیلف ڈیفنس گائیڈ کا مطالعہ کریں۔
کلاؤڈ پر مبنی ورک فلو: تمام شواہد کسی مقامی ہارڈ ویئر میں رکھنے کے بجائے پروٹون ڈرائیو جیسے انکرپٹڈ کلاؤڈ والٹس میں محفوظ کریں۔
2۔ آپریشنل اور فیلڈ سکیورٹی
ریموٹ مانیٹرنگ کو ترجیح دیں: بنیادی طریقۂ کار کے طور پر "ریموٹ سینسنگ” استعمال کریں۔ تنازعات والے علاقوں کی نگرانی کے لیے زوائنن برگ اینڈ بیلنجر فریم ورک میں بیان کردہ طریقۂ کار پر عمل کریں۔
میٹا ڈیٹا حذف کریں: تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے سے پہلے ایگزف کلینر کی مدد سے ان کا تمام ایگزف میٹا ڈیٹا حذف کر دیں۔
ہنگامی صورتحال کے لیے پروٹوکول: انتہائی خطرناک علاقے میں جانے سے پہلے سی پی جے جرنلسٹ اسسٹنٹ پروگرام کے ساتھ اپنی موجودگی رجسٹر کرائیں۔
غیر نمایاں انداز میں مواد جمع کریں: زیادہ خطرے والے ماحول میں پیشہ ور تحقیقاتی صحافی کے بجائے ایک عام راہ گیر یا مقامی مسافر دکھائی دینا زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔ ایسے علاقوں میں کام کرتے ہوئے صحافی ہونے کا تاثر کم کرنے کے لیے ریکارڈنگ کے لیے پیشہ ور ڈی ایس ایل آر کیمروں یا لمبے لینز کے بجائے اعلیٰ معیار کے اسمارٹ فون کا استعمال کریں، کیونکہ ایسے بڑے کیمرے اکثر سکیورٹی فورسز کی توجہ اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ اس کے علاوہ روکے جانے کی صورت میں افسران کو دکھانے کے لیے بے ضرر سیاحتی تصاویر پر مشتمل جعلی "ڈیکوئے” ایس ڈی کارڈز کے استعمال پر بھی غور کریں۔
3۔ ذرائع اور معلومات کا تحفظ
انسانی حقوق پر مبنی جانچ پڑتال: کان کنی کی سرگرمیوں پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی او ای سی ڈی ڈیو ڈیلیجنس گائیڈنس سے یہ جان سکتے ہیں کہ آیا کان کنی کی سرگرمیاں مسلح گروہوں کی مالی معاونت کر رہی ہیں یا نہیں۔
شناخت مخفی رکھنے کی تکنیکیں: چہروں اور نمایاں مقامات کو دھندلا کرنے کے لیے وِٹنس ڈاٹ او آر جی کے ویڈیو پرائیویسی ٹولز کا جائزہ لیں۔
اجتماعی اشاعت: اپنی تحقیق کو فوربڈن سٹوریز سیف باکس نیٹ ورک کے ذریعے محفوظ بنائیں جو یقینی بناتا ہے کہ اگر آپ کو دھمکیاں مل رہی ہوں تب بھی آپ کا کام شائع ہو۔
اختتامیہ: ڈیٹا سے احتساب تک
نازک اور کمزور ریاستی ڈھانچوں والے ممالک خصوصاً سوڈان جیسے تنازعات کے شکار ممالک میں ماحولیاتی مالیاتی سرگرمیوں کا سراغ آخرکار ایک ہی منزل تک پہنچتا ہے: ماحولیات کی حقیقی اور قابلِ مشاہدہ تباہی کو دستاویزی شکل دینا تاکہ احتساب کی راہ ہموار کی جا سکے۔ سوڈان کی زمین اور آبی وسائل کی تباہی محض جنگ کا ایک ضمنی نتیجہ نہیں بلکہ بنیادی طور پر ایک مالیاتی فیصلہ بھی ہے۔ جب وزارتِ معدنیات یا فوج سے وابستہ کوئی کاروباری گروہ خود کو ماحولیاتی ضوابط سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے تو وہ صرف دریائے نیل کو آلودہ نہیں کرتا یا لوگوں کے روزگار کو متاثر نہیں کرتا بلکہ تنازع کو جاری رکھنے کے لیے مزید سرمایہ بھی فراہم کرتا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے شناخت کیا گیا ہر ٹیلنگز تالاب یا بے نقاب ہونے والی ہر شیل کمپنی تحقیقاتی صحافیوں کے لیے ایک بڑے معمہ کا حصہ ہے اور اس انجن کا بھی حصہ ہے جو فوری منافع کی خاطر ایک پورے ملک کے ماحولیاتی نظام اور عوامی صحت کا سودا کرتا ہے۔
تاہم، اس نوعیت کی تحقیقاتی صحافت کی اصل طاقت اس کی دیرپا اہمیت میں پوشیدہ ہے۔ جہاں جنگ کی دھند منافع کو ترجیح دینے والے عناصر کو ملک کے اندر جوابدہی سے بچنے کا موقع فراہم کرتی ہے، وہیں ریموٹ سینسنگ اور کارپوریٹ سرگرمیوں کی نگرانی سے بننے والا ڈیجیٹل ریکارڈ کہیں زیادہ عرصے تک محفوظ رہ سکتا ہے۔ آج ان جرائم کو دستاویزی شکل دے کر صحافی مستقبل میں ماحولیاتی انصاف کے لیے ایک بنیادی آرکائیو تیار کر رہے ہیں۔ بالآخر، سوڈان جیسے متاثرہ ممالک میں صحافی کا کردار ان نگران اداروں کے متبادل کے طور پر سامنے آتا ہے جو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
"زیرو فُٹ پرنٹ” کے تصور کو بروئے کار لاتے ہوئے اور عالمی نیٹ ورکس کے ساتھ مل کر کام کرنے سے مقامی ماحول پر ہونے والے نقصانات کو عالمی سطح پر شعور اور توجہ سے جوڑنا ممکن ہو جاتا ہے۔ اس عمل میں صحافی یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اگرچہ ماحولیات اکثر جنگ کا خاموش شکار بنتی ہے لیکن یہی ماحولیات استحصال کرنے والوں کو جوابدہ ٹھہرانے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں۔
پارے سے آلودہ فضلے کے ایک گڑھے سے دبئی کے کسی بورڈ روم تک پہنچنے والا راستہ یقیناً طویل ہے مگر درست ٹولز کی مدد سے یہ ایسا راستہ بن جاتا ہے جسے ماپا جا سکتا ہے، بے نقاب کیا جا سکتا ہے اور ایک دن ختم بھی کیا جا سکتا ہے۔
مطہنی احمد گرین فار سوڈان: سوڈان یوتھ سائنس کمیونیکیشن جرنل کی بانی ہیں۔ ان کا پس منظر کئی شعبوں پر محیط ہے جس میں نیٹ زیرو ٹریکر میں شراکت کے ذریعے عالمی موسمیاتی پالیسی کا تجزیہ، سوڈان یوتھ آرگنائزیشن آن کلائمیٹ چینج کے کلائمیٹ ہیکاتھون جیسے اقدامات کے ذریعے حکمتِ عملی پر مبنی منصوبہ بندی اور یوتھ سٹیم 2030 جیسی تنظیموں کے ساتھ نوجوانوں پر مرکوز سٹیم سرگرمیوں میں شمولیت شامل ہے۔ انہوں نے ایم آئی ٹی سولو اور رائز (شمٹ فیوچرز اینڈ روڈز ٹرسٹ جوائنٹ پروگرام) جیسے عالمی جدت طرازی کے پلیٹ فارمز کے لیے ایپلیکیشن ریویور کے طور پر بھی خدمات انجام دی ہیں اور کانفرنس آف یوتھ آن انوائرنمنٹ میں وفدی رکن کی حیثیت سے بھی شرکت کی ہے۔
