رسائی

ٹیکسٹ سائیز

رنگوں کے اختایارات

مونوکروم مدھم رنگ گہرا

پڑھنے کے ٹولز

علیحدگی پیمائش

Image: Shutterstock

رپورٹنگ

موضوعات

جنگ اور تنازعہ کوور کرنے کے لئیے ڈیٹا جرنلزم کا استعمال کیسے کیا جائے

یہ مضمون ان زبانوں میں بھی دستیاب ہے

جنگ اور تنازعہ

تصور: شٹرسٹاک

سالوں تک شام کے تہ خانے اذیت، بھوک اور قتل کی تصویر بنے رہے۔ ہزاروں لوگ اس نیٹورک کا نشانہ بنے اور غائب ہوئے، جس میں سے کئی نہ واپس آئے اور جو آئے وہ اپاہج تھے اور زہنی طور پر ٹوٹ چکے تھے۔ 

ایک حیرت انگیز تفتیش میں، نیو یارک ٹائمز نے اس تشدد کو بے نقاب کیا اور ان جنگی جرائم کو ریکارڈ پر لائے جو صدر بشرل اسد کے اقتدار میں میں ہوئے۔ 

مارے جانے والے اور غائب شدہ لوگوں کا ڈیٹا این برناڈ کی اسٹوری کا اہم زریعہ بنا۔ وہ ٹائمز کی بیروت سے سابقہ بیوروچیف اورمسلح تصادم کوور کرنے میں تجربہ رکھتی ہیں۔ 

"برناڈ کی رپورٹنگ کی گہرائی کے ساتھ انصاف کرنا تقریبا نا ممکن ہے۔” نیو یارکر کے آیزیک چوٹینر نی کہا جب 2019 میں سٹوری شائع ہوئی تھی۔ مصنف کے ساتھ سوال جواب میں، انہوں نے پوچھا کہ "حیران کن تاریک زده اذیت اور قتل کے اعداد و شمارکہاں سے اکھٹے کیے۔”  

برنارڈ نے رپورٹ کیا کہ ایک لاکھ آٹھائیس ہزار کے قریب لوگ کبھی واپس نہیں آئے اورشام کے نیٹورک آف ہیومن رائٹس کے مطابق، جو کہ ایک آزاد مانیٹرنگ گروپ ہے اور سخت ٹیلی رکھتا ہے،  یا تو وہ مارے جاچکے ہیں یا ابھی بھی تحویل میں ہیں۔  

ایک نیویارک ٹائمز کی اندرونی تحقیق کے مطابق قریب ” 14000 کے قریب لوگ اذیت دے کے قتل کئیے گئے تھے۔ "جیسے جیسے انسانی حقوق کے گروپوں نےتکلیف دینے والی جگہیں اور لاکھوں کی تعداد میں غائب ہونے والے اور جعلی عدالت کے فیصلوں کے بعد پھانسی پر چڑہائے گئے اختلاف رکھنے والے سویلینز پر ڈیٹا جمع کرنا شروع کیا تو ہم نے بھی اپنی کوششیں دگنی کریں۔ 

انکی ٹیم نے ترکی، جرمنی اور لبنان میں بچ جانے والوں کی یادیں اور ان کی تصدیق میں ہفتے گزارے ۔ جب انہوں نے 2012 میں شام کو کوور کرنا شروع کیا، اس وقت ماحول مختلف تھا۔ 

ہم نے ظاہر ہونے والے جنگی جرائم پر فوکس کیا، وہ جو ہم نے خود دیکھے اپنی موجودگی میں یا وہ جن کی ہم گواہوں اور وڈیوز کی ذریعے تصدیق کرسکتے ہیں۔ حراست، تکلیف دینا اورپھانسیاں ہمیں ظاہرنہیں تھی کیونکہ وہ خفیہ تہھانوں میں ہورہے تھے اور بچ جانے والوں کے ذہن نشین تھے،” برنارڈ نے ٹائمز میں لکھا۔

جنگ اور تنازعہ

ڈیٹا صحافت نے ڈیجٹل فورینزک، جیو لوکیشن اور ڈیٹا ویژیولائزایشن کے ذریعے شام میں ظلم کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار کیا اور دیگر ہائی ٹیک ٹولزجو درستگی اورجنگی اثرات کو بہتر انداز میں رپورٹ کرتے ہیں۔ 

تنازعہ پر قابل خبراعداد و شمار موجود ہیں لیکن چیلنج یہ ہے کہ کون سے ڈیٹا سیٹس کو استعمال کرنے کے لیے صحافی نشاندہی کریں؟ وہ باہر موجودہ سارے ڈیٹا سیٹس کا کیسے اندازہ لگائیں؟ وہ کیا دیکھیں؟   

زیادہ ڈیٹا کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ بہتر ڈیٹا ہے۔ ہمیں یہ پتا ہونا ضروری ہے کہ وہ کہاں سے آرہا ہے، اس میں کیا شامل ہے اور کیا نہیں۔ رپورٹرز کو سارے ڈیٹا کوغیرجانبدارانہ حقیقت سمجھ کر تسلیم نہیں کرنا چاہئیے” انڈریاز گورو ٹاولیفسن نے کہا، جو کہ آسلو کے پیش ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں سینئیر ریسرچر ہیں اور تنازعہ کے ڈیٹا کی فیلڈ میں ہیں۔ 

ڈیٹا کے ساتھ تنازع کی رپورٹنگ

تنازعہ کے واقعات پرڈیٹا سیٹس اور اس کی خصوصیات کے پروڈیوسرز کا جائزہ لے کر سرچ کے دائرے کو تنگ کیا جا سکتا ہے۔ مندرجہ زیل ایسے بڑے پیمانے کے ڈیٹا جمع کرنے کے پروجیکٹس کے تھمبنیل خاکے ہیں جن کو میڈیا اور علمی مطالعوں میں ان کے اکثر حوالے دئیے جاتے ہیں۔ اس میں مثالیں بھی شامل ہیں کہ میڈیا میں ڈیٹا سیٹس کو مسلح تصادم پر کیسے رپورٹ کیا جاتا ہے اور گروپ آپس میں کیسے مل کر کام کرتے ہیں۔ 

اپسالا کانفلیکٹ ڈیٹا پروگرام (یو سی ڈی پی): تتنازعہ اورامن رکھوالی جیسے کے امن معاہدے، ریاستوں کے اندرمسلح تصادم، غیرریاستی تصادم، ایک طرفہ تشدد اور تصادم کا خاتمہ۔ یو سی ڈی پی منظم تشدد اور امن رکھوالی پر ایسے ڈیٹا سیٹس فراہم کرتا ہے جو کے مفت میں یو سی ڈی پی کی ویبسائٹ سے ڈاوؐنلوڈ کیے جاسکتے ہیں۔ عکاسی کرنے والے چارٹس، گراف اور میپس بھی دستیاب ہیں۔

مسلح تصادم کی لوکیشن اور واقعہ کا ڈیٹاسیٹ (اے سی ایل ای ڈی)

 اس کو الگ الگ ہوا ڈیٹا، تجزیه، اور بحران کا مپینگ پلیٹفارم کہا جاتا ہے۔ یہ  لوکیشن، تاریخ، ایکٹر، اوراموات پر ریل ٹائم ڈیٹا اورسیاسی تشدد اور مظاہروں کے واقعات پرمعلومات اکھٹا کرتا ہے۔ ایک انٹریکٹیو ڈیشبورڈ پر یوزرز ڈیٹا دریافت کرسکتے ہیں۔ یہ "بحران میں وضاحت” کے پرکام کرتا ہے۔

پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ، آسلو (پی آر آئ او)

یہ بتاتا ہے کہ تنازعے کیسے ابھرتے ہیں اوران کو ختم کیسے کیا جاتا ہے۔ یہ اس کی بھی تفتیش کرتا ہے کہ مختلف اقسام کے تشدد لوگوں کو کیسے اثر کرتے ہیں اور معاشرے بحرانوں کا مقابلہ کیسے کرتے ہیں۔ ڈیٹا پروجیکٹس میں شامل ہیں تنازعے کے شروع اور ختم ہونے کی تاریخیں یہ جاننے کے لئیے کہ تشدد کا دورانیہ کتنا ہے اورسالانہ اموات کےاداد و شمار بھی یہاں موجود ہیں۔ حروف تہجی کے مطابق فوال پروجیکٹس کی فہرست بنائی جاتی ہےاوراس میں درجن موضوع شامل کیے جاتے ہیں۔

یہ گروپ جو ڈیٹا اکھٹا کرتے ہیں وہ متاثر کن  تو ہیں لیکن اکژ اتنے پیچیدہ ڈیٹا سیٹ سے تھوڑا ڈر بھی لگتا ہے۔ یہ اصل دنیا میں کیسے استمعال ہوتے ہیں؟ یہ کس قسم کی سٹوریز بتانے میں مدد کرتے ہیں؟

"صحافی جن کے پاس ڈیٹا اور امپیریکس ہوتے ہیں، ان کے پاس روشنی پھیلانے کا نہ صرف ایک بہت ہی طاقتور آلہ ہوتا ہے بلکہ فیصلہ سازوں سے صحیح سوال کرنے کا موقع،” پی آرای او کے ٹولیفسن نے کہا، جو اپنے آپ کو انسانی جیوگرافر بیان کرتے ہیں۔ "ڈیٹا کو دیکھنا اکثر بیانیے کو چیلنج کرتا ہے اور ایسی انکوائری میں مدد کرتا ہے جو اس کے بغیر ظاہر نہ کیا جا سکتا ہے۔”

مثال کے طورپر، ڈیٹا ٹرینڈ دکھا سکتے ہیں کہ تصادم والے علاقوں میں تشدد کی شرح اوپر گئی ہے یا نیچے، میپ، پیٹرنز، اور یہ سب زمین پر موجودہ حالات سے کیسا تعلق رکھتا ہے اور عام انسانوں پر ان کا کیا اثر ہوتا ہے جیسے کے مہاجروں پر۔ اے سی ایل ای ڈی کے ڈیٹا پر مشتمل اسٹوری نے بتایا کہ شمالی موزمبیق میں تصادم نے 5 لاکھ کے قریب لوگوں کو کیسے بے گھر کیا۔

پی آرآئی او کا ڈیٹا اورذرائع کے ساتھ حال ہی میں سیو دا چلرن رپورٹ میں استعمل کیا گیا۔ اس رپورٹ کا نام”ویپنزآف وار: سیکشوئل وائلنس اگینسٹ چلڈرن ان کانفلیکٹ۔” اعداد وشمار نے دیکھایا کہ اب بچے 10 گناہ زیادہ خطرے میں ہیں بنسبت تین دہائی پہلے سے جب ان کی کل مقدار 85 لاکھ تھی۔

شام، کولومبیا، عراق، سومالیہ، جنوبی سوڈان، اور یمن وہ ممالک ہیں جن کی نشاندہی کی گئیجنگ اور تنازعہ ہے جہاں پر بچوں کو جنسی تشدد کا سب سے زیادہ خطرہ ہے جس میں، جنسی زیادتی، جنسی غلامی، زبردستی جنسی فروشی اور حمل، جنسی طور پرمسخ کرنا اور اسلحه زدہ گروپوں، گوورمنٹ اور قانون نافز کرنے والے فورسز کے ہاتھوں تکلیف پہچانا شامل ہیں۔ 

"ڈیٹا ایک طاقتور ٹول ہے اور ہماری دنیا کی سمجھ کو چیلنج کرتا ہے۔” ٹولیفسن نے کہا، جن کے کام کی توجہ جیو سپیشل ڈیٹا اور جیوگرافک انفارمیشن سسٹمز کا استعمال تصادم کی وجوہات اور نتائج پر تحقیق کرنا ہے۔ 

ایک اور باہمی کوشش سے، پی آر آئ او نے مشرق وسطی میں تصادم کا رجہان 1989 سے 2019 تک دیکھا اور یو سی ڈی پی کے ڈیٹا استعمال کرتے ہوئے عالمی ٹرینڈ سے موازنہ کیا۔ تحقیق کرنے والوں نے تنازعہ کے واپس آنے کو، جنگ بندی کو اور امن کے معاہدوں کا اس عرصے میں  تجزیہ کیا۔

اس تحقیق میں معلوم ہوا کے پچھلے دس سالوں میں، دنیا کے خطرناک ممالک مشرق وسطی سے تعلق رکھتے ہیں جس میں شام سب سے خطرناک رہا۔ ڈیٹا نے بریکنگ نیوز میں بھی اہم کردار ادا کیا جیسے کہ کووڈ 19 کے اثرات دیکھنے میں۔ جیسے جیسے پینڈیمک پھیلتا گیا، ڈیٹا صحافت انٹیریکٹو میپس، گرافکس اور کیس اور اموت کے چارٹس کے ذریعے اہم اور قابل اعتماد معلومات فراہم کی۔

دا واشنگٹن پوسٹ نے اے سی ایل ای ڈی کا ڈیٹا استعمال کرتے ہوئے یہ ڈھونڈنے کی کوشش کی: "کیا کووڈ 19 پرتشدد تصادم کا خطرہ بڑھاتا ہے؟” تصادم کے واقعات کو وقت کے ساتھ ساتھ ٹریک کیا یہ دیکھنے کے لیے کہ جب ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے مارچ 2020 میں اسے عالمی پینڈیمک قرار دیا تھا یا جب ملکوں نے لاکدڈاوؐن کا اعلان کیا تھا۔  

سٹوری میں پوسٹ نے اے سی ایل ای ڈی کے بارے میں کہا تھا :”ایسا ڈیٹا بیس جو کہ دنیا بھر سے روزانہ تصادم کے واقعات گنتا ہے۔ 2019 اور 2020 میں، اے سی ایل ای ڈی سو سے زائد افریقہ، اشیا، لاطینی امریکہ اور مشرقی یورپ کے ممالک کو شامل کرتا ہے اور پر تشدد تصادم کو تین اقسام میں ٹریک کرتا ہے:جنگ، سویلین کے خلاف تشدد اور دھماکے یا ریموٹ تشدد ۔ 

جون 2020 کے جنوبی افریقہ کے میل اینڈ گارڈین کے ایک آرٹیکل میں یہ دیکھا گیا کی پینڈیمک میں افریقہ میں کونڈکٹ کے پیٹرن کیسے تبدیل ہوئے۔  

10 ہفتوں کی سرگرمیوں کو ٹریک کرتے ہوئے، اے سی ایل ای ڈی کو یہ معلوم ہوا کہ تصادم کے ریٹ براعظم میں مستحکم رہے لیکن تشدد کے پیٹرن تبدیل ہوئے جیسے جیسے مسلح گروہ اور حکومتوں کے پینڈیمک سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی فیصلوں کو ترجیح دی۔ ” کلیونادھ رالے نے کہا جو کہ اے سی ایل ای ڈی کے ڈائریکٹر ہیں۔

ان کی سٹوری کے ساتھ ایک تفصیلی انفوگرافک آیا۔ مناسب ذرائع سے تصادم کا ڈیٹا حاصل کرنا پہلا قدم ہے۔ معلومات کی درست تشریح کرنا چیلنجنگ ہوجاتا ہے۔ مندرجہ زیل ماہرین کی طرف سے بتائے ایسے طریقے ہیں جو درست، اعتباری اورغیر جانبداری کے ساتھ   سے تجزیے اور تشخیس کرنا ممکن بناتے ہیں، جو کہ معیاری رپورٹنگ کے نشاندہی ہے۔   

جنگ اور تنازعہ

تصادم ڈیٹا کی تشخیص کرنا

ہارورڈ یونیورسٹی کے ریسرچ فیلو، کیلی ایم گرینہل جو کے شریک مصنف ہیں "سیکس، ڈرگس، اور باڈی کاوؐنٹس: دا پولیٹیکس آف نمبرز ان گلوبل کرائم اینڈ کامفلیکٹ” کی اس میں انہوں نے تصادم کے اعداد و شمار کے غلط استعمال کو جانچا اور یہ دکھایا کہ غلط حساب کتاب سے ٹیڑھے اور متضاد نتائج نکل سکتے ہیں۔” 

اس غلطی سے مثال کے طور پر جنگیں لمبی ہو سکتی ہیں، گوورمنٹ کو ایکشن نہ لینےکا بہانہ مل سکتا ہے، یا پھر کامیاب یا ناکم پالیسیوں کی تشخیصوں میں گڑ بڑ کرسکتی ہیں۔ 

اس کو صحیح کرنے کے لئیے صحافی کیا کرسکتے ہیں؟ گرینہل نے مندرجہ ذیل ایسے سوالات فراہم کئیے ہیں جن کو جرائم اورتصادم کے ڈیٹا کو دیکھتے ہوئے معمول کے مطابق پوچھنا چاہئیے:

1 نمبروں کے ذرائع کیا ہیں؟

2 ذرائع کونسی وضاحتیں استعمال کررہے ہیں اور وہ کیا جانچنا چاہ رہے ہیں؟

3 جو نمبر فراہم کررہے ہیں ان کے مفادات کیا ہیں؟

4 ان ایکٹر کو کیا مل رہا ہے یا وہ کیا کھو رہے ہیں اگر یہ اعداو شمارنہ تسلیم کئیے جائیں؟

5 ان نمبر کو حاصل کرنے لے لئیے کیا طریقہ کاراپنائے گئے تھے؟

6 کیا اس طرح کے اور اعداد و شمار پائے جاتے ہیں۔ اگر ہاں تو ان کے ذرائع اور جانچنے کے کیا طریقے کار ہیں؟

"ان اعداد و شمار کا کسی حد تک سیساستیگی ہونا برحق ہے اورآپ اس سے بچ نہیں سکتے۔ لیکن صحافی ان اعداد و شمار کو استعمال کرنے اور پھیلانے والوں کو اس کو حاصل اور استعمال کرنے کے لئیے زیادہ مہارت اور ساتکھ ہونے چاہئیے ۔” گرینہل نے کہا، جو کہ ٹفٹس یونیورسٹی میں سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کی پروفیسر ہیں۔

ان کو فکر ہے کہ صحافی نادانسته طور پربڑھا سکتے ہیں سیاسی حوصلی افزائی سے مسخ ہونے والے اعداو شمار کو جن کے نتائج  نہ چاہنے والی پالیسیوں میں مرتب ہوسکتے ہیں۔

گرینہل کنسلٹنٹ رہ چکی ہیں عالمی بینک میں، یواین ہائی کمشنرآف ریفیوجیز، اور یو ایس ڈپارٹمنٹ آف ڈیفنس میں تجزیہ کار بھی۔ وہ ایک کتاب لکھ رہی ہیں جس میں وہ افواہوں، سازشی نظریات، پروپیگانڈا اورنام نہاد "فیک نیوز” اور بین القوامی سطح پر دیگر ایکسٹرا فیکچویل معلومات کی دریافت کررہی ہیں۔

ڈیٹا سیٹس کا موازنہ کرنا

ڈیٹا سیٹس میں موازنہ کرنے ایک اور طریقہ ہے تشخیس کرنے کے لئیے کہ اس میں سے کون سے تنازعات کوور کرنے کے لئیے کارآمد ہوگا۔

اے سی ایل ای ڈی کی ریسرچ اور تخلیق کی ڈائریکٹر، رودابة کشی نے ایک اورمصنف کے ساتھ رپورٹ لکھی جس میں انہوں دیگر جانے مانے ذرائع کے تنازع کے ڈیٹا کا موازنہ کیا جس میں گلوبل ٹیریرزم ڈیٹابیس، انٹیگریٹڈ کرائسزارلی وارننگ سسٹم (آئی سی ای ڈبلیو ایس)، فینکس کا ایونٹ ڈیٹا سیٹ، اور اپسالا کانفلیکٹ ڈیٹا پروگرام جیوریفرینسڈ ایونٹ ڈیٹا سیٹ (یو سی ڈی پی جی ای ڈٰی) شامل ہیں۔

"اس ریسرچ کا مقصد یہ دیکھانا ہے کہ جمع کردہ ڈیٹا کوڈنگ کے قواعد، اور ذرائع کے طریقے پر مبنی سیاسی تشدد اور تنازعہ کی تشریح سے متعلق مختلف معلومات کے نتائج دیتا ہے۔” ریسرچرز نے یہ انسانوں اورآٹومیٹک ڈیٹا میں بھی موازنہ کیا۔

صحافیوں کو کیا دیکھنا چاہئیے؟ ڈیٹا کی صداقت کو دیکھنے کے لئیے، رپورٹ نے مندرجہ زیل چیزیں لسٹ کیں:

 ذرائع: وسیع تعداد میں ذرائع جس میں لوکل پارٹنرز، اور لوکل زبان میں میڈیا، سیاسی تشدد اورمظاہروں پر سب سے درست اور جامع معلومات دیتے ہی اوراس کے ساتھ ساتھ درست نمائندگی کرتی ہیں ان خدشات کی جو سویلین اپنے گھروں اور کمیونٹیزمیں محسوس کرتے ہیں۔

 شفافیت: ڈیٹا سیٹس پر اعتبار کرنے کے لئیے وہ باقاعدہ تجزیے کے لئےاستعمال ہونے کے قابل ہونے چاہئیے۔ یوزرزاس کی ہر تفصیل تک رسائی ہو کہ تنازعہ کا ڈیٹا کوڈ اوراس کو جمع کیسےکیا جاتا ہے۔

کووریج اور درجہ بندی: واضح، تسلسل، درست۔ یوزرز کے لئیے درجہ بندی ضروری ہے کیونکہ تنازع یکساں نہیں ہوتے۔ واقعات درجوں، تعداد اور شدت میں ایک جیسے نہیں ہوتے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں "ڈیٹا تو ڈیٹا ہے اور بس”۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ مختلف پروجیکٹ مختلف طریقہ کار، وضاحت کے ساتھ بنتے ہیں اوران کا خاص مینڈینٹ ہوتا ہے،” کشی نے بتایا۔ ڈیٹا سیٹس کون سے ذرائع استعمال کررہے ہیں اس پر توجہ دیں۔ اس سے بہت بڑا فرق پڑتا ہے۔ 

وہ لوگوں کو ابتدائی مرحلے میں یہ مشورہ دیتی ہیں کہ ٹیبلیو جیسی سوفٹوئیر کو سیکھیں، جو کہ اینالیٹیکل ٹول ہے میپس اور چارٹس بنانے کے لئیے جس میں فلٹر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے تشدد اور ایکٹر کو دیکھتے ہوئے۔ اے سی ایل ای ڈی کی ویبسائیٹ پر اس سے متعلق تربیتی وڈیو بھی موجود ہے۔ 

کشی نے ٹیبلیو کی تربیت، اے سی ایل ای ڈی کے ایک پارٹنر، سیرین نیٹورک فار ہیومن رائیٹس (ایس این ایچ آر) کو دی تھی۔ "یہ بہترین ہے۔ آپ اس کو ہمارے ڈیٹا میں دیکھیں گے،” کشی نے شام کے انسانی حقوق کی ٹیم کے بارے میں کہا جو کہ رپورٹ میں ہونے والے اصلی واقعات پر ڈیٹا فراہم کرتی ہے، بجائے اس کے انداز اور ایکسٹراپولیشن کے۔

2011 سے اس کے ابتدا میں، اس گروپ نے گواہوں کے نام، ان کے رابطے کی معلومات اور گواہیاں، تصاویر اور وڈیو احتیاط سے محفوظ کرلی ہیں جو کہ علمی تحقیق، خبروں اورمستقبل کے جنگی جرائم کے لئیے پس منظر فراہم کرسکتی ہے۔

"میڈیا کو اعداو شمار فراہم کرنا ہماری ایڈواکسی کا حصہ ہے،” فادیل عبدلغنی نے کہا، جو کہ گروپ کے بانی اور ڈائریکٹر ہیں۔ وہ 35 افراد پر مشتمل شام کے رضاکار کے کورپس کی نگرانی کرتے ہیں لیکن ان میں وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے ترکی، عمان، اور لبنان میں پناہ لے رکھی ہے۔  

ایس این ایچ آر کا ڈیٹا یو این ہائی کمشنر فار ہیومن رائٹس کی شام پر رپورٹس کے لئیے ایک اہم ذریعہ رہا ہے جو کہ یو ایس ڈپارٹمنٹ پر آتی ہیں۔  مہانہ وار رپورٹس حالیہ اموات کی گنتی، قتل اورسویلین کے خلاف حملے کوریکارڈ کرتی ہیں۔ جنوری میں کووڈأ 19 کے پھیلاو کی معلومات تھی۔ 

فادل کا مقصد شام کو روشنی میں رکھنا ہے۔ "ٹاپ کے میڈیا نیو یارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، اور سی این این میں آنے والی سٹوریز لوگوں کی توجہ لیتی ہیں۔” غنی نے قطر میں اپنے گھر سے بات کرتے ہوئے کہا۔ "ہم صحافیوں کی ہمیشہ مدد کرنے کے لئیے تیار رہتے ہیں۔ ہمیں ای میل کیجئیے اور بتائیے آپ کیا کام کررہے ہیں اور یہ بتیائیں کہ ہم کیسے تعاون کر سکتے ہیں۔”

دیگر ریسورسز جو مدد کرسکتے ہیں

اے سی ایل ای ڈیے کے 10 تصادم جن کے بارے میں آپ کو 2021 میں پریشانی ہونی چاہئیے: اس میں میانمار، بیلاروس، یمن، ایتھوپیا، بھارت اور پاکستان شامل ہیں۔ اے سی ایل ای ڈی یہ مشورہ دیتی ہے کہ ڈیٹا کی "ایکسپرٹ ٹول” سے براہراست رسائی کریں اور طریقہ کار کی کی معلومات ریسورس لائبریری میں لیں۔ ایک وڈیو یوزرس کو ڈیٹا جمع کرنے کے عمل کو لیکر چلتی ہے۔

یوسی ڈی پی کی کانفلیکٹ انسائکلوپیڈیا: یہ اپنے آپکو منظم تشدد کے ڈیٹا کا مرکزی پرووائڈر بتاتے ہیں اور خانہ جنگی پر سب سے پرانا ڈیٹا اکھٹے کرنے کا پروجیکٹ جس کی 40 سالہ تاریخ ہے۔” یہ ویژولائیزیشن، ہینڈلنگ اور ڈیٹا ڈاونلوڈ ویب پر مبنی سسٹم آفر کرتا ہے جس میں منظم تشدد اور امن رکھی کے پہلے سی ہی تیار شدہ مفت ڈیٹا سیٹس شامل ہوتے ہیں۔

اسٹاکاہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ: یہ 2000 سے امن کے آپریشنز، ملٹری کے کے اخراجات، اسلحہ کی منتقلی، اورعارضی پابندیوں پر ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔

جارج میسن یونیورسٹی لائبریری انفوگائیڈ: تصادم کے حل، امن کے آپریشنز، مسلح تصادم اورانسانی تحفظ پرتحقیق کی ریسورسز۔ اس میں امن قائم کرنے کے، انسانی تحفظ اوردہشت گردی پرلنکس شامل ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل: دہ مفت اوپن سورس کورسز آفر کرتا ہے عربی، فارسی، انگریزی اور ہسپانوی زبان میں۔ یہ کورس بطور رہناہ کام کرتے ہیں کہ اوپن سورس تحقیق کے طریقوں کو عمل میں کیسے لا سکتے ہیں اور انکا فوکس انسانی حقوق کی تحقیق اور ایڈووکسی ہوتا ہے۔ بہترین ٹیکنالوجی کے ٹولز اور تکنیک کو ماہرین سکھاتے ہیں اور عملی طریقے سے۔

گلوبل ٹیررزم ڈیٹا بیس، یونیورسٹی آف میری لینڈ:  اپنے آپکو دہشت گردی کے حملوں کا دنیا میں سب سے جامع اور کھلا ہوا ڈیٹا بیس کہلاتا ہے۔ 1970 سے 2 لاکھ سے زائد دہشت گردی کے حملوں کی معلومات اس میں شامل ہے۔

وومنسٹیٹس: "عورتوں کی حیثیت پر معلومات کی جامع ترتیب” ۔ وہ وسیع تعداد میں موجود لٹریچر کو دیکھتا اور 154ممالک میں 310 اے زائڈ عورتوں کی حیثیتوں کے اشاروں دیکھنے کے لئیے کوالیٹیٹو اور کوانٹیٹیٹو معلومات کے لئیے انٹرویو کرتا ہے۔   

کمیشن فورانٹرنیشنل جسٹس اینڈ اکاوؐنٹیبلیٹی: بیان کردہ مقصد، "ایسے جرائم کے لئیے انصاف لینا جو کہ دنیا بھر میں کمزور لوگوں پراثر انداز ہوتے ہیں جیسے کہ جنگی جرائم، انسانوں کے خلاف جرائم، نسل کشی، دہشت گردی، انسانی اسمگلنگ، اور مہاجروں کی اسمگلنگ ۔” یہ 13 ممالک میں قانونی چارہ جوئی میں اور 37 قانوں نافز کرنے والے اور دہشت گردی سے مقابلہ کرنے والی تنظیموں کو  مدد کرتی ہے۔  

سیرین آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس: یہ شام میں ہونے والی سیاسی، ملٹری اور انسانی دوست ترقیوں پر اپنے ذرائع کے نیٹورک کے ذریعے نظررکتھی ہے ۔ رپورٹس ایس او ایچ آر کی ویبسائیٹ پر، فیسبک، ٹویئٹر پر آتی ہیں اور دیگر نیوز آوؐٹلٹس اور حقوق لے لئیے لرنے والی تنظیمیں اس کا حوالہ دیتی ہیں۔

جی آئے جے این کی ممبرسپ کے لیے درخواست دیں

جی آئی جے این میں رکنیت کے لیے درخواست دینے کے لیے اس لنک پر جائیں اور فارم پُر کریں۔ رکنیت کا فیصلہ جی آئی جے این بورڈ آف ڈائریکٹرز کرتا ہے ، جو سال میں تین بار ملتا ہے۔ درخواست دینے سے پہلے ، یقینی بنائیں کہ آپ کی تنظیم ہماری رکنیت کے معیار کے مطابق ہے: یہ ایک غیر منافع بخش یا تعلیمی ادارہ ہونا چاہیے جو تحقیقاتی رپورٹنگ اور متعلقہ ڈیٹا صحافت کی حمایت میں فعال طور پر کام کرے۔

________________________________________________

Sherry Ricchiardi profile thumbnailشیری رچرڈی ایک صحافی اور میڈیا ڈویلپمنٹ اسپیشلسٹ ہیں ، جو اب واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ہیں ، جنہوں نے 37 ممالک ، حال ہی میں ایتھوپیا اور پاکستان میں صحافیوں کے ساتھ کام کیا ہے۔ وہ دی کولمبیا مسوریان کی ایڈیٹر رہ چکی ہیں، انڈیانا یونیورسٹی میں صحافت کی پروفیسر ہیں، اور ڈارٹ سنٹر کی مشاورتی کونسل میں خدمات انجام دیں۔

ہمارے مضامین کو تخلیقی العام لائسنس کے تحت مفت، آن لائن یا پرنٹ میں دوبارہ شائع کریں۔

اس آرٹیکل کو دوبارہ شائع کریں


Material from GIJN’s website is generally available for republication under a Creative Commons Attribution-NonCommercial 4.0 International license. Images usually are published under a different license, so we advise you to use alternatives or contact us regarding permission. Here are our full terms for republication. You must credit the author, link to the original story, and name GIJN as the first publisher. For any queries or to send us a courtesy republication note, write to hello@gijn.org.

اگلی کہانی پڑھیں

Karachi Sewerage and Water Board corruption investigation, Dawn newspaper

‎کراچی کی واٹر سپلائی چین میں کرپشن اور ’ٹینکر مافیا‘ پر تحقیقات

کراچی کے پانی کی فراہمی کے بحران کی تحقیق کرنت والی ٹیم نے جی آئی جے این کو بتایا کہ انہوں نے یہ کہانی کیسے کی — اور پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں تحقیقاتی صحافت کو کس قسم کی مشکلات کا سامنا ہے