عالمی جنوب میں واٹس ایپ کواستعمال کرکے مواد فراہم کریں

Print More

2019 برازیل کے شہر باہیا، سلواڈورکوایک نیا سنت ملا: ارما ڈولس،  جو کہ برازیلین کیتھولک فرانسسکن سسٹر، نوبل پیس پرائز کی منتخب اور برازیل کے سب سے بڑے انسان دوست ہسپتال کے بانی تھی۔ واتیکن کے شہر میں ایک رسمی تقریب میں، ہجوم میں سے ایک شخص جو کینونیزائشیں کے لیے برازیل سے اٹلی آئیں تھی انکو ایک جا نا پہچانا چہرہ نظر آیا: وہ ایک مقامی نیوز آوؐٹلٹ، کوریو، سے منسلک صحافی تھیں جو انھیں واٹس ایپ گروپ کے ذریعے ملیں تھی۔ 

انہوں نے ایک تصویر لی اور اس کو گروپ پر ڈال کر کہا، “یہ بہت دلچسپ اورعقلمند ہیں اورمجھے کوریو بہت پسند ہے،” ولادمیر پنھیرو نے کہا، جو کہ اخبار کے ڈیجیٹل کانٹینٹ کوورڈینیٹر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہترین مثال تھی کہ ایک ذاتی تعلق اور گہرے رشتے کی جو نیوزرومز اپنے پڑھنے والوں کے ساتھ واٹس ایپ کے ذریعے بنا رہے ہیں۔ 

کوریو برازیل کی ریاست باہیا میں شمالی مشرق میں موجود ہے۔ اس کی روزانہ کی ڈسٹریبیوشن 35000 اور 1180 لاکھ آن لائن ویوز ہیں۔ واٹس ایپ کے ساتھ یہ اخبار2014 سے تجربہ کررہا ہے۔ پہلے، وہ یوزرز کی طرف سے تیار شدہ مواد لیتا تھا، لیکن کچھ پیغامات میں ایسی اسٹوریز ہوتی تھی جس کا پیچھا کیا جا سکتا تھا۔ پھر ایک نیا تجربہ شروع ہوا جس میں ایک صحافی نے ایک “دوست اور ماہر” کے طور پر فٹبال کے بارے میں اپ ڈیٹ اور تجزیہ شروع کیا اور ایک کمیونٹی تشکیل کی۔ 

“ہم یہ ٹیست کرنا چاہتے تھے کہ آیا لوگ اس میں خاصیت دیکھ رہے ہیں اور یہ ہمارے لیے استعمال کرنا کتنا آسان ہوگا۔” صحافی جوان ٹورس نے کہا، جنہوں نے کوریو کی ویبسائٹ پر ایک گوگل فارم کے ذریعے 50 ممبران کو فٹبال کے گروپ میں شامل کیا تھا۔  

واٹس ایپ کیوں؟

واٹس ایپ استعمال کر کے، کوریو ایک قومی رجحان کے ساتھ مل رہے ہیں: 2019 میں، ایک پیشنگوئی کی گئی تھی جس میں برازیل کو بھارت کے بعد واٹس ایپ کی دوسری سب سے بڑی مارکٹ بتایا گیا، جس میں 990 لاکھ ایکٹو یوزرز تھے۔ دوسرے شماروں نے اس کے استعمال کرنے والوں کی تعداد تقریباً 1200 لاکھ بتائی۔

یہ رجحان برازیل سے کئی آگے تھا۔ تحقیق کے مطابق، واٹس ایپ لاطینی امریکہ اور افریقہ میں زیادہ استعمال کیا جاتا ہے جس سے ڈجٹل فرسٹ ٹائیٹل اور چھوٹے نیوز رومز کو اپنی ڈسٹریبیوشن بڑھانے کا اہم موقع ملتا ہے۔ 

پبلشرز کے لیے میسیجنگ ایپس اہم ہوتی جا رہی ہیں۔ 2020 کے ڈیجٹل نیوز رپورٹ کے مطابق، سروے کیے گئے آدھے سے ذیادہ (51 فیصد) لوگوں نے کہا کہ وہ : “رابطے میں رہنے کے لیے، معلومات شئیر کرنے کے لیے یا کسی بھی مقامی سپورٹ نیٹورک میں شامل ہونے کے لیے کسی نہ کسی قسم کا کھلا یا بند آنلائن گروپ استعمال کرتے ہیں۔” برازیل میں خاص طور پر، سوشل میڈیا استعمال کرنے والے پلیٹفارم میں واٹس ایپ پہلے نمبر پر ہے( 83 فیصد)۔ 48 فیصد برازیل کے رہائشی اس کو نیوز کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ 

کوریو واٹس ایپ کیسے استعمال کرتا ہے؟

کوریو فلحال 10 واٹس ایپ گروپ آپریٹ کر رہے ہیں۔ اس وقت، سب ہی نیوز پر فوکس کررہے ہیں جس میں پانچ کورونا وائرس کو کوور کرنے کے لیےلانچ کیے گئے تھے۔ واٹس ایپ ایک گروپ میں 284 ممبران سے زیادہ لوگوں کی اجازت نہیں دیتا تو بہت سارے گروپس دیگرسبسکرائبر کے ساتھ وہی اپ ڈیٹ شئیر کرتے ہیں۔ اس سے پہلے، گروپس نے خاص خبروں اور تقریبات پر دیہان بھی دیا تھا جیسے کے میراتھون اور کارنیول جس میں کمیونٹی دلچسپی رکھتی ہے۔

“سوشل میڈیا کے بارے میں کیسے سوچا جاتا ہے، ہم نے واٹس ایپ کے ذریعے اسے تبدیل کیا۔” ٹورس نے کہا۔ “بہت سارے پبلشر واٹس ایپ اور چیٹ ایپس کو مواد پھیلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ایسا ہے کہ آپ دیکھ رہے ہوں کہ آیا اس سے ٹریفک آپ کی ویب سائیٹ پر آئے گا یا نہیں۔ سوشل میڈیا ایسے نہیں چلتا۔ یہ ایسا ہے کہ آپ بطور پبلشر سوشل میڈیا کو ذبردستی اپنے مقاصد سے ملا رہے ہیں۔”  

یہ اخبارواٹس ایپ کا گروپ سیکشن استعمال کرتا ہے نہ کہ براڈکاسٹ لسٹ۔ اس کے پاس ابھی 10 گروپ ہیں آپریشن کے لیے۔ پانچ میں صرف ایڈمن کو پوسٹ کرنے کا اختیار ہے جب کہ پانچ میں ممبران کے لیے پوسٹنگ کی اجازت ہے۔ ایسے گروپس جو کہ خاص تقریبات اور نیوز اسٹوریز کےلیے بنائے گئے تھے وہ پچھلے سالوں میں کھلے اور بند ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر، اصل فٹ بال کمیونٹی ابھی بھی زندہ ہے لیکن کوریو اسے نہیں چلاتا۔  

“ہم اوپن گروپس کو استعمال کرتے ہیں یہ جا ننے کے لیے کہ لوگ کس بارے میں باتیں کر رہے ہیں اور کیا شئیر کر رہے ہیں۔” پن ہیرو نے کہا۔ “ہمیں برا نہیں لگتا اگر ہمارے مدمقابل آوؐٹلٹ کا مواد شئیر کیا جا رہا ہو۔ اگر یہ صرف کوریو ہو تو گروپ مسنوئی لگے۔”

ایک چھوٹی ٹیم پوسٹس کو دیکھتی ہیں، عام طور پر دن کی دس اپ ڈیٹ ڈالتی ہے اور گروپ پر ہونے والی گفتگو اورایڈمن کو الگ سے بھیجے گئے پیغامات کو مانیٹر کرتی ہے جس کے ذریعے جدید اسٹوری آئیڈیا ملتے ہیں۔ تفصیل سے گروپ کے مقصد کی دھن قائم ہوجاتی ہے۔  گمراہ کن معلومات شئیر کرنے کی وجہ سے انہوں نے کووڈ 19 والے فوکس گروپ میں سے ایک ممبر کو نکالا تھا۔ جب ڈایریکٹ چیٹ کے ذریعے ممبر کو بتا یا  گیا تھا تو وہ کافی معزرت خواہ تھا۔ 

“ہم ایک قابل اعتماد ممبر کی طرح ہیں،” ٹورس نے کہا۔ گروپ ممبران اکیلے 200 سے ذائد لوگوں کے گروپ میں چیخنا نہیں چاہتے، اگر یہ امید نہ سیٹ کی گئی ہو۔ یہ سلسلہ پہلے سے قائم کرلینا اور ایسے ایڈمن ہونا جو با قاعدگی سے موجود ہوں بہت اہم ہے، پنہیرو نے کہا۔

کوریو کا واٹس ایپ کا روزانہ کا ٹریفک 7 سے 10 فیصد کا ہوتا ہے، جس سے وہ براہ راست اور گوگل کے بعد تیسرا سب سے بڑا ٹریفک کا ذریعہ بنتا ہے۔ واٹس ایپ کا مقصد کلک نہیں بلکہ مشغول کرنا ہے۔ اس وقت اس کا مطلب 2000 کے قریب بہت ہی مشغول لوگوں سے بات چیت کرنا ہے۔

” ویبسائیٹ پرآنے والوں سے زیادہ ہمارے واٹس ایپ کے ممبر زیادہ مشغولیت کا مظاہرہ کرتے ہیں،” ٹوریس نے کہا۔ “اس میں سیکھنا یہ ہے کہ ہمیں وہ اسٹوریز بتانی ہے جو کہ پلیٹفارم کے لیے مناسب ہوں۔ واٹس ایپ نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ ہمیں اپنے پڑھنے والوں کو بیچ میں رکھنا ہے۔

زمبابوے میں ٹیکسٹنگ

زمبابوے کے آوؐٹلٹ 263chat نے سامعین اور پڑھنے والوں کو ہمیشہ فوکس کیا۔ 2012 میں ٹوئیٹر کے ایک بحثیہ فورم سے نیوزویبسائیٹ بنا اور اس کے بعد ایک روزنامہ ای پیپر پی ڈی ایف فارم میں واٹس ایپ کے ذریعے فراہم کیا گیا۔  ایی پیپر میں گھریلو، تجارتی اور بین الاقوامی خبروں کے سیکشن اور اس کے ساتھ ساتھ کلاسیفایئڈ لسٹنگ بھی ہیں۔ رپورٹس کا انداز ایک روایتی اخبار کا سا ہے لیکں ڈیزائن موبائیل یوزرز کے لیے ہےجس میں ایک آرٹیکل ایک صفحہ پرہے اور 300 سے 400 الفاظ پر مشتمل ہے۔ 

“ہم نے روایتی میڈیا کو دیکھا کہ یہاں کیا چلتا ہے اور اس کو ریورس اینجنئرکردیا۔” نائیجل موگامو نے کہا، جو کہ بانی اور سی ای او اور “چیف اسٹوری ٹیلر” ہیں 263chat k کے۔”میں ہمیشہ اصل استعمال کرنے والوں کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں کہ وہ خبر کیسے پڑھنا پسند کریں گے۔”

2014 میں، زمبابوے میں واٹس ایپ کا رجحان بڑھ رہا تھا اور لوکل موبائیل نیٹورک نے اپنے پروموشن کو سستے ڈیٹا بنڈلز میں بدلنا شروع کیا تاکہ لوگ ٹوئیٹر کے ساتھ ساتھ ایسے پیکجز لیں جس سے انہیں واٹس ایپ کے لیے کم دام کا ڈیٹا ملے۔  263Chat نے گروپس میں لنک شیئر کرنے کے ئیے ایپ کا استعمال کیا۔ 2014 تک،  زمبابوے میں انٹرنیٹ کا پھیلاوؐ باقی افریقن ممالک سے کئی زیادہ تھا۔ “بہت سے لوگوں کے لیے، “واٹس ایپ ہی انٹرنیٹ تھا،” موگامو نے کہا۔

کوریو کی طرح  263Chat نے بھی مختلف پلیٹفارم کے حساب سے ایڈیٹورئیل پراڈکٹ بنائی اور واٹس ایپ کے لیے ایک ہفتہ وارای پیپر ڈیزائن کیا۔ انہوں نے اس پراجیکٹ کو جلدی پر لگائے جب 2017 میں زمبابوے میں “کوپ نہ کوپ” ہوا جس میں ملکی فوج نے صدر موگاپے کو برطرف کیا یہ اصرار کرتے ہوئے کہ یہ فوجہ بغاوت نہیں ہے۔ خبر اتنی تیزی سے تبدیل ہورہی تھی کہ ہفتہ وار ہی پیپر کا باسی ہونے کا خدشہ بڑھتا جا رہا تھا۔ تو 263Chat نے ہر شام کو ایک ایڈیشن نکالنا شروع کیا جو کہ ہر شام 8 بجے مقامی وقت پر نکلتا ہے۔ 

 “263Chat مارکٹ میں خلل پیدا کرنے کے لیے آیا تھا۔” موگامو نے کہا۔ “ہماری سوچ یہ ہے کہ کہ “آج کی خبر جاننے کے لیے کل تک کیوں ٹھہرو؟ یہ تو مرکزی دھارے میں شامل میڈیا کرتا ہے۔”

263Chat کی ٹویئٹر موجودگی سے ایڈووکیٹ کی ایک مضبوط کمیونٹی بننے میں مدد ملی۔ یہ ای پیپر کی شروع کے وصول کندہ تھے اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی تھی اپنے دوست احبابوں سے بھی واٹس ایپ پر شئیر کریں۔ اس پراڈکٹ کے 200 واٹس ایپ گروپس میں اب 44,500 براہراست سبسکرائبرز ہیں۔ ان میں سے 15 فیصد زمبابوے سے باہر مقیم ہیں۔ 

263Chat کے لیے اب اگلا قدم یہ ہے کہ وہ اس پراڈکٹ کا ایس ایم ایس ورژن نکالیں کیونکہ یہ ایک اہم موقع ہے اپنے مشن کو ان کمیونٹیز میں لے جانے کے لیے جہاں پر انٹرنیٹ کی رسائی نہیں ہے۔ “ہماری ویبسائیٹ ان کے لیے ہے جن کے پااس انٹرنیٹ ہے،” موگامو نے کہا۔ “ہمارے پاس ای پیپر ہے ان کے لیے جن کے پاس محدود انٹرنیٹ رسائی ہے۔ جلد ہی، ایس ایم ایس پراڈکٹ ان لوگوں تک بھی پہنچ سکے گا جن کے پاس انٹرنیٹ نیں ہے لیکن موبائیل فون  ہے۔”

دیہی برادریوں کے ساتھ ساتھ ایسی آبادیوں تک پہنچنا جن کے پاس انٹرنیٹ کی رسائی نہیں ہے سیاسی کرپشن کو چیلنج کرنے لے لیے بہت اہم ہے۔  

“یہ لوگ (سیاستدان اور گوورمنٹ افسران) لوگوں کو انٹرنیٹ پر بر طرف کردیتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ یہ زیادہ ترڈائسپورا ہیں” انہوں نے کہا۔ “لیکن جب آپ دیہی علاقوں میں لوگوں کو یہ بتانا شروع کرتے ہیں کہ ہو کیا رہا ہے، ہم ان کوسچ جاننے کے لیے با اختیا ر کردیتے ہیں۔ تاکہ اگلی بار جب وہ ووٹ کریں، تو وہ آگاہ ہوں۔”

آپ کے فون میں اخبار

میسجنگ ایپس کی وہ صلاحیت جس سے وہ پہلے سے موجود لیکن زیر اثر پڑھنے والوں کو مشغول کر سکیں وجہ بنی اپریل 2020 میں ایسے اخبار کے لانچ میں۔ دا کانٹینینٹ، پین افریقن، پی ڈی ایف پیپر ہے جو خاص طور پر واٹس ایپ پر ہر تین ہفتے شئیر کرنے لے ئیے ڈیزائین کیا گیا۔

ایسے پرنٹ پراڈکٹ کو ڈسٹریبیوشن کی مشکلات اوراسکا خرچہ ایک رکاوٹ رہا ہے۔ اس کے علاوہ کئ پین افریقن اخبارات عام طورپر براعظم کے باہر پروڈیوس ہوتے تھے، وہ پیرس یا لندن میں چھپتےاورافریقن دارلحکومت میں لائے جاتے۔ دا کانٹیننٹ اور میل اینڈ گارڈین افریقہ کے ایڈییٹر، سائمن ایلیسن کو احساس ہوا کہ میسیجنگ ایپس اسکے مسئلے کا حل ہوسکتے ہیں۔

“زیادہ تر لوگ جن کو ہم جانتے ہیں ہمیں پتا ہے کہ وہ اپنی معلومات واٹس ایپ سے لے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ہمارے ارد گرد ایسا کوئی میڈیا ہاوس نہیں ہے جو کہ وہاں معلومات ڈال رہا ہو۔” ایلیسن نے کہا۔ 

2020 ڈیجٹل نیوز رپورٹ کے مطابق، جنوبی افریقہ میں اوردوسرے پلیٹفارم کے نسبت واٹس ایپ، 88 فیصد، زیادہ استعمال کیا گیا اور خبروں (49 فیصد) کے لحاظ سے فیس بک (56 فیصد) کے بعد دوسرے نمبر پراستعمال ہوا۔ “یہاں پر ایک ڈسکنیکٹ ہے۔” ایلیسن نے کہا۔ :بحیثیت صحافی، ہم اپنے پڑھنے والوں کو وہاں نہیں مل رہے جہاں پر وہ موجود ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ وہ ویب سائیٹ پر ہوں، یا فیس بک ٹویئٹر پر۔ ہمیں ان تک پہنچنے کا طریقہ ڈھونڈنا تھا۔”

کووڈ 19 وہ آخری دھکا تھا۔ “ہمیں احساس تھا کہ پینڈیمک بین الاقوامی سٹوری ہوگی۔” انہوں نے کہا۔ “اسکو ایک بڑے نظریے کی ضرورت تھی جس میں جنوبی افریقہ کے صحافیوں کو دوسرے ممالک کے ہم منصبوں سے بات کر کے معلومات کو ایسی جگہ پر لانا تھا جو کہ صرف جنوبی افریقہ کے پڑھنے والوں تک نہ محدود رہے۔”  

فلاحال، دا کانٹینینٹ اسکیلیٹن ٹیم میں کام کررہی ہے اوراسکا 70 فیصد کام اصلی کمیشن سے ہورہا ہے جو کہ میل اورگارڈین کے ساتھ ساتھ ایڈیٹوریل پارٹنرشپ کے زریعے کیا جا رہا ہے۔ 

سائزسے فرق پرڑتا ہے

فارمیٹ کی نوعیت اس بات میں مدد دیتی ہے کی ڈیزائن اور سٹوری کی لمبائی پڑھنے والوں کو مشغول کرتی ہے کہ نہیں۔ “ہمارا سب سے لمبا ایڈیشن سب سے کم سبسکرائبر لایا تھا،” ایلیسن نے کہا۔ “تو اگلے ایڈیشن کے لیے ہم نے اس کے بلکل برعکس طریقہ کار اپنایا: بہت ساری تصاویر، کم سے کم مضمون، 250 الفاظ پر مشتمل خبریں اور لانگ فارم 900 الفاظ پر۔ اس ایڈیشن پر رد عمل سب سے زیادہ رہا ہے۔”

دا کانٹینینٹ جو کہ فون کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اس کی بائٹ سائز نیوز پریزینٹیشن ہمیں دکھاتا ہے لوگ اس جگہ میں لوگوں کی معلومات کے ساتھ مشغولیت کیسے ہے۔ “ہم اس کے ساتھ ساتھ فیس بک، انسٹاگرام، ٹوئیٹر اور ٹک ٹاک سے بھی مقابلہ کررہے ہیں جہاں پر مواد کم دورانیہ، تیز اور اسی وقت رسپانس دیتا ہے۔” ایلیسن نے کہا۔ “ہمیں وہ ہی طریقہ کار دہرانہ ہے۔”

لوگوں کہ واٹس ایپ استعمال کرنے کے قدرتی طریقے کو استعمال کرتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھایا جائےاورایسے سبسکرائبرز پر فوکس کیا جائے جو کہ بطور ڈسٹریبیوشن نیٹورک کام کرسکیں۔ پراجیکٹ سے متعلق اعداد و شمار مندرجہ ذیل ہیں:

  • 2020 میں ہونے والے آڈینس سروے کے مطابق، 78 فیصد لوگوں نے جواب دیا کہ وہ دا کانٹینینٹ کو کم سے کم 2 یا 3 لوگوں سے ہفتے میں شئیر کرتے تھے۔  
  •  1300 جواب دینے والوں میں سے تقریباً ایک تہائی نے کہا کہ وہ کم از کم ہفتے میں چھ لوگوں سے شئیر کرتے ہیں۔ 
  • ٹیم اب اس حساب سے کام کرتی ہے ہر 7000 واٹس ایپ سبسکرائبر اور 4000 سے 5000 ای میل سبکرائبر سے 7 یا اس سے زیادہ شئیرز ہو سکتے ہیں۔  اس سے دا کانٹینٹ کی کل آڈینس 8000 بنتی ہے۔ ٹیم نے 94 ممالک سے واٹس ایپ سائن اپ بھی گنے ہیں۔ 

اس طرح قدرتی طورپرڈسٹریبیوشن نیٹورک کو بنانے سے دا کانٹینینٹ کی صحافت پر بھروسہ برھتا ہے۔  “خبر زیادہ طاقتور ہوتی ہے اس وقت جب آپ کو وہاں سے ملے جس کو آپ جانتے ہیں۔” ایلیسن نے کہا۔ ” یہ وہ ذاتی تعلق ہے۔ ہماری صحافت کے لحاظ سے لوگ اس کو بھروسے اور اچھے احساسات سے جوڑتے ہیں۔ یہ ہیں وہ نیٹورکس جنہیں ہم بنانا چاہتے ہیں۔” 

کانٹیننٹ کی کووریج افریقہ سے آگے بڑھ کے ہے۔ 31 اکتوبرکوانہوں نے ایک گیسٹ ایڈیٹڈ ایشو میں امریکہ کےانتخابات پرسٹوری کی جس میں افریقن دانشور، مصنف اورمبصروں سے کہا گیا کہ وہ جس زبان میں چاہیں لکھیں۔ اس نے 11 مختلف زبانیں فیچر کیں۔ “افریقن میڈیا اکثر صرف افریقن اسٹوریز کوور کرنے میں محدود کردیا جاتا ہے۔” ایلیسن نے کہا۔ “بہت کم ایسے افریقن میڈیا ادارے ہیں جہاں پرغیرملکی نمائندگان ہوتے ہیں۔ تقریبا ہماری ساری غیرملکی خبریں مغربی میڈیا آوؐتلٹس سے آتی ہیں۔ یہ وہ ضابطے ہیں جن کو ہم تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔”

واٹس ایپ سے آگے کا مستقبل؟

 کوریو اور دا کانٹینینٹ دونوں ہی میسجنگ ایپس کے ساتھ تجربے کر رہے ہیں اور اپنے پڑھنے والوں کی عادتوں کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں اس صورت میں وہ یہ دیکھتے ہیں کہ بہت سارے لوگ سگنل یا ٹیلیگرام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

واٹس ایپ ایک محدود تعداد میں لوگوں کوگروپ میں ڈال سکتا ہے اور یہ اسکے بڑے پیمانے پر مارکٹنگ کے لیے چیلنج ہے، خاص کردا کانٹینینٹ اور 263Chat جیسے پراڈکٹ کی تقسیم کے لیے۔” ایپ نے بڑے پیمانے کی براڈکاسٹنگ بہت مشکل کر رکھی ہے۔ ہم ایسا کوئی بھی تکنیکی حل نہیں ڈھونڈ پائیں ہیں جو کہ بہت مہنگا نہ ہو۔” ایلیسن نے بتایا، جو کہ سبسکرائبرز کو سگنل اور ای میل کے ذریعے سائن اپ کروا رہی ہیں جہاں پراتنے پابندیاں نہیں ہیں۔ 

2023 میں انتخابات ہیں اور 263Chat کے تکنیکی مسائل اس سے زیادہ ٓاگے جا سکتے ہیں۔ 2019 میں زمبابوے کی حکومت نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف احتجاج کے دوران انٹرنیٹ اور میسیجنگ ایپس بند کردیں تھیں۔   

ملک کے باہر ایک ایسا سسٹم بنانا ضروری ہے جو انکو ایسے سیاسی وجوہات پر شٹ ڈاون ہونے کے باوجود خبریں شائع کرنے دے، مو گامو نے کہا۔ لیکن واٹس ایپ کی طرف سے پابندیاں جس سےآٹومیٹک اور زیادہ مقدار میں پیغامات بھیجنا، ان کو فکر نہیں دے رہی۔  

ایک سے زائد گروپ کو ہاتھ سے خود اپ ڈیٹ کرنا کافی مشکل عمل ہے، لیکن ایسے بڑے پیمانے کا ڈسٹریبیوشن نیٹورک بنانا 263Chat کو ان آڈینسس تک پہنچنے میں رسائی دیتا ہے جنہوں نے ای پیپر کوڈاوؐن لود کرنے مین ڈیٹا استعمال کرنے کا انتخاب کیا اس وقت جب زمبابوے میں ریسورسزبہت محدود تھے۔  تو جب تک یہ انتخاب موجود ہے، موگامو اور263Chat اس سے فائدہ اٹھایئں گے۔

ایسی تکنیکی حدود کا سامنا کر کے دا کانٹینینٹ کا اعتماد دہرا ہوجا تا ہے کہ انکو ایسے سوپر یوزر آڈینس بنانی ہے جو کہ بطور ڈسٹریبیوشن نیٹورک کام کرے اور واٹس ایپ کی پابندیوں سے بالا ترہو کر کام کرے اور ایک مینول براڈکاسٹنگ سسٹم کا بوجھ بھی اٹھا سکے۔  “ہمارے ڈسٹریبیوشن کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہمیں بہت سارے سبسکرائبر نہیں چاہئے ہیں ، ہمیں چھوٹے تعداد کے ساتھ رہنے والے سبسکرائبرز چا ہئیے ہیں کیوںکہ ہمارے سبسکرایبر ہی ہمارا ڈسٹریبیوشن نیٹورک ہے۔” الیسن نے کہا۔ 

حال ہی میں واٹس ایپ سے متعلق سیکورٹی کی فکرات پر، کوریو یہ سوچ رہا ہے کہ آیا ٹیلیگرام زیادہ مشغول ہونے والے سبسکرایبرز کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہےکہ نہیں۔  “میسجنگ ایپس کو مونیٹایئز کرنے میں کافی صلاحیت ہے، جوان ٹوریس نے کہا۔ 

“یہ وہ مفروضہ ہے جس پر ہم اب بھی شرط لگانا چاہیں گے”، انہون نے کہا۔ “کیا ہم سبسکرپشن کے لئے معاوضہ لے سکتے ہیں یا پھر سبکرایبر کے لئیے پریمیئم پراڈکٹ بنا سکتے ہیں؟” 

ایک سال ہی میں، دا کانٹینینٹ کا فوری ارادہ یہ ہے کہ وہ یقین بنائے کہ اس کی بنیادی ٹیم محفوظ رہے اور اسکا پروڈکشن کے طریقہ کار مزید بہتر ہوجائے۔ مختلف زبان اور کمرشل مواقعوں کے ساتھ تجربات کرنا بھی انکے ریڈار پر ہے،” ایلیسن نے کہا۔  

263Chat ای پیپر میں اشتہارات بھی چلاتا ہے ، لیکن انکو گروپس تک کی رسائی نہیں دیتا۔ وہ پے وال بھی نہیں سیٹ اپ کرتا۔ زیادہ بڑی تعدادتک پہنچنے کے لئیے اور ذمبابوے کا بیانیہ سب کے لئیے کھلا رکھنے ککے لئیے مفت رہنا بہت اہم ہے ۔ 

_________________________________________________

لورا اولیور برطانیہ میں مقیم ایک فری لانس صحافی ہیں۔ انھوں نے گارڈین، بی بی سی ، دی ویک ، اور بہت سے اداروں کے لیے لکھا ہے۔ وہ بطور وزٹنگ لکچرر لندن سٹی یونیورسٹی میں آن لائن صحافت اور نیوز رومز کے لیے ناظرین کی حکمت عملی پڑھاتی ہیں ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.