کسی سانحے کے متاثرین، گواہ اور بچ جانے والوں کا انڑویو کرنے کی ٹپس

Print More

تشدد اور جرم، آفات یا حادثات جیسے تکلیف دہ واقعات کے شکار ہوئے اور زندہ بچ جانے والے لوگوں کا انٹرویو لینے کے لیے کوئی ایک قابل عمل طریقہ موجود نہیں ہے۔ ہر معاملہ انوکھا ہوتا ہے اور اپنے اخلاقی چیلنجز اور مخمصے پیش کرتا ہے۔

لیکن ایک صحافی کی حیثیت سے جس نے 12 سال سے مختلف قسم کے تشدد اور اس کے متاثرین کے بارے میں رپورٹنگ کی ہے، میں نے کچھ سفارشات مرتب کی ہیں جو ایک انسانی، حساس اور قابل احترام انٹرویو کے لیے روڈ میپ کے طور پر استعمال ہوسکتی ہیں۔ یہ نکات میری ورکشاپ “درد کو کیسے کور کریں” کا ایک حصہ ہیں اور یہ مختلف نصاب اور لیکچر پر مبنی ہیں؛ ماہر نفسیات ، انسانی حقوق کے محافظوں اور ساتھیوں کا مشاہدہ، اور ان لوگوں کے تجربات جنہوں نے میری ورکشاپس لیں۔

سب سے اہم عنصر، اور اس کام کا ایک اہم حصہ، مناسب دیکھ بھال اور حفاظت ہے ، بشمول:

انٹرویو دینے والوں کی حفاظت (خاص طور پر ان کو دوبارہ شکار ہونے سے بچانے کے لیے)۔

معلومات کی حفاظت

ساتھیوں کی حفاظت جن کے ساتھ ہم کام کرتے ہیں۔

آپ کی اپنی حفاظت۔

اگرچہ انسانی تکالیف، ناانصافی، اورعدم مساوات، جنگ یا قدرتی آفات کے نتائج صحافیوں کے لیے دلچسپی کا حامل موضوع ہیں، لیکن میں تجویز کرتی ہوں کہ کسی بھی انٹرویو کی کوشش کرنے سے پہلے آپ اس کہانی پر غور کریں جو آپ سنانا چاہتے ہیں۔ اپنے آپ سے پوچھیں، کیا واقعی کسی نجی المیے کی ذاتی تفصیلات تک پہنچنا ضروری ہے تاکہ آپ اس کی اطلاع دے سکیں؟ آپ کیا حاصل کریں گے؟ ایک بار جب آپ یہ ثابت کردیں کہ آپ کی کہانی میں کسی شکار یا بچ جانے والے شخص کا انٹرویو شامل کرنے کی ضرورت ہے تو کچھ ٹپس یہ ہیں:

1. اپنی شناخت بطور صحافی کروائیں۔

ایک بنیادی اصول خود کو بطور صحافی متعارف کروانا ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنا محفوظ نہیں ہے تو آپ اس مشورے کو چھوڑ سکتے ہیں۔ لیکن ذہن میں رکھیں کہ آپ کسی ایسے شخص سے منسوب براہ راست معلومات استعمال نہیں کرسکتے جو اشاعت کے لیے انٹرویو دینے پر راضی نہیں تھا۔

2۔ انٹرویو کے لیے وقت کا تعین کریں۔

اگر آپ کے پاس وقت کم ہے تو آپ انٹرویو دینے والے کو اس بارے میں آگاہ کریں، اور کسی تکلیف دہ واقعے کی تفصیلات میں جائے بغیر، اپنے آپ کو صورتحال کے بارے میں بنیادی سوالات تک محدود رکھیں۔ بصورت دیگر، آپ شاید سن نہیں رہے ہوں کیسے کوئی تکلیف دہ تفصیلات بیان کرتا ہے، کیونکہ آپ جلدی میں ہیں۔ اپنے سوالات کو صرف یہ پوچھنے تک ہی محدود نہ رکھیں کہ کیا ہوا ہے، انٹرویو دینے والے سے ان کے بارے میں بھی پوچھیں، یہ بھی پوچھیں کہ وہ کیسے ہیں، اس کا سامنا  کیسے کر رہے ہیں، سوال کریں کہ سانحہے کے تجربے نے ان کو کیسے متاثر کیا، اور یہ پوچھیں کہ وہ اس کے باوجود کیسے زندگی گزار رہے ہیں۔

3۔ مناسب جگہ کا تعین کریں۔

مثالی طور پر، انٹرویو ایک ایسی جگہ پر کرنے جائیں جہاں آپ نجی طور پر اور بغیر کسی مداخلت کے بات کرسکیں، جہاں آپ کسی کو آواز اونچی کیے بغیر سن سکتے ہیں، اور جہاں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ایسی صورتحال سے بچیں جس میں بچے سن رہے ہوں؛ اگرچہ بالغ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس کے عادی ہیں، جو کچھ سنیں اس سے بچے متاثر ہو سکتے ہیں۔

4۔ فیصلہ کریں کہ ریکارڈ کریں گے یا لکھیں گے۔

انٹرویو دینے والے سے پوچھیں اگر ریکارڈنگ کرنے سے وہ مطمئن ہیں۔ اگر آپ نوٹ پیڈ استعمال کررہے ہیں تو لکھتے وقت انٹرویو دینے والے کی آنکھوں میں دیکھنے کی کوشش کریں، کیوںکہ بصری رابطہ ضروری ہے۔ اگر آپ ریکارڈنگ کررہے ہیں تو اچھی طرح سے تیار رہیں اور یہ یقینی بنائیں کہ تکنیکی پریشانیوں کی وجہ سے آپ رکاوٹ کا باعث نہ بنیں۔ بیک اپ بنانا نہ بھولیں۔ اگر گواہی اہم ہے، جیسے کسی گواہ یا زندہ بچ جانے والے کا پہلا بیان جو اس نے پہلے نہیں دیا تو ریکارڈنگ ضروری ہے؛ گواہی عدالتی ثبوت بن سکتی ہے، یا کسی کیس کی تحقیقات کے لیے سچائی کمیشن استعمال کرسکتا ہے۔

5. انٹرویو دینے والے کو تیار کریں۔

انٹرویو شروع کرنے سے پہلے عمومی معنوں میں ان عنوانات کا ذکر کریں جن پر بات کی جائے گی۔ اپنی تفتیش کا مقصد اور آپ کو کیا حاصل ہونے کی امید ہے اس کی وضاحت کرنا ضروری ہے۔ اس سے انٹرویو دینے والے کو جذباتی طور پر تیاری کرنے کا موقع مل جاتا ہے، لہذا وہ سوالوں کوخود پر حملہ محسوس نہیں کرتے ہیں، آپ کے کام سے مختلف توقعات نہیں رکھتے ہیں، اور انہیں یہ فیصلہ کرنے کا مناسب موقع ملتا ہے کہ وہ آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

6. حاصل حصول پر قابو رکھنا۔

انٹرویو دینے والے کو دباؤ محسوس نہیں کرنا چاہیے۔ انٹرویو شروع کرنے سے پہلے، ان کو یہ بتانا ضروری ہے کہ ان کے پاس کنٹرول ہے۔ انہیں آگاہ کریں کہ انہیں صرف ان سوالوں کے جوابات دینے ہیں جن کا وہ جواب دینا چاہتے ہیں۔ کہ وہ وقفہ لے سکتے ہیں یا انٹرویو کو ختم کرسکتے ہیں اگر وہ دباؤ محسوس کریں۔ یا وہ درخواست کرسکتے ہیں کہ آپ امکانی طور پر خطرناک معلومات کو ظاہر نہ کریں۔ یہ ان کے حقوق ہیں۔

7. اپنے سوالات پر غور کریں۔

کسی خوفناک واقعے کے شکار سے انٹرویو کرنے میں ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے، اور خود کو شکار کی جگہ پر رکھنا ہوتا ہے۔ اپنے آپ سے پوچھیں: اگر وہ آپ کے کسی قریبی فرد کے خاندان کا حصہ ہوتا تو کیا آپ اسی طرح سوالات کرتے؟ نیز، ایسے سوالات پوچھنا ضروری ہیں جن کے تفصیلی جوابات دیے جا سکتے ہیں؛ اس سے متاثرہ افراد کو اپنے الفاظ کا انتخاب کرنے کا موقع ملتا ہے۔

8. بصری رابطہ بنائیں اور توجہ سے سنیں۔

آنکھوں سے رابطے کو برقرار رکھیں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ بیرونی آوازوں سے متاثر نہیں ہوں گے۔ جیسے اپنے سیل فون کی وائبریشن یا اندرونی خلفشار- تاکہ کہانی بیان کرنے والے شخص کے ساتھ کوئی تعلق قائم ہو۔ نامہ نگاروں کی حیثیت سے، ہماری توجہ بیک وقت چار چیزوں پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، بشمول: انٹرویو دینے والا ہمیں کیا بتا رہا ہے، دوبارہ بیان کرنے میں ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، ہمارے ارد گرد کیا ہو رہا ہے (اگر دن کی روشنی مدھم پڑ رہی ہے یا آپ کو کسی دوسرے شخص کی موجودگی محسوس ہو رہی ہے) اور انٹرویو کہاں جا رہا ہے۔

9. ان سوالوں سے پرہیز کریں جو فرد کو مجرم بناتے ہیں۔

وکٹم عام طور پر جرم کا شکار ہوتا ہے۔ وہ تنہا ہیں، خوف محسوس کرتے ہیں اور بعض اوقات بہت کم لوگ ان پر یقین کرتے ہیں۔ ان کی سچائی اکثر ایسے نظام کے خلاف کھڑی ہوتی ہے جو اس کو بدنام کرنے کے لیے تشکیل دیا جاتا ہے جو اپنی آواز بلند کرتا ہے اور غلط کاموں کی مذمت کرتا ہے۔

اپنے سوالات میں محتاط رہیں اور یہ یقینی بنائیں کہ آپ متاثرہ شخص کو مجرم قرار دینے سے گریز کریں۔ مثال کے طور پر، “کیا آپ اندھیرے والی جگہ پر اکیلے چلنے سے نہیں ڈرتے ہیں؟” کے بجائے پوچھیں کہ کیا محلے کی اسٹریٹ لائٹس رات کو اکثر بند رہتی ہیں یا کیا وہ علاقہ خطرناک ہے۔ الزام کا وزن وکٹم پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

10. غور کریں کہ خاص طور پر کسی تکلیف دہ لمحے پر نظر ثانی کرنے کا جواز ہے۔

کچھ تفتیشوں میں ان حالات کے بارے میں مخصوص تفصیلات درکار ہوتی ہیں جن میں انتہائی صدمے ملوث ہوتے ہیں، جیسے عصمت دری یا جنسی زیادتی کے پیٹرن کی تفتیش کرتے وقت، یا پولیس تشدد۔ اس طرح کے انٹرویو کا انعقاد تب ہوتا ہے جب بھی وکٹم راضی ہو اور جب بھی ہمیں اپنے کام کے تناظر میں سمجھ آئے۔ یہ سوالات اذیت کا باعث بن سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہیں احتیاط کے ساتھ پیش کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ وقفہ لینے کے لیے وقت نکل سکے۔ اگر آپ کی تفتیش کو ان تمام تفصیلات کی ضرورت نہیں ہے تو بہتر ہوگا کہ وکٹم کی طرف سے دی گئی گذشتہ گواہی حاصل کریں اور اپنے کام میں اس کا حوالہ دیں۔

11. صدمے کو سمجھنے کے لئے مختلف طریقوں پر غور کریں۔

الفاظ ہی درد کا اظہار کرنے کا واحد ذریعہ نہیں ہیں۔ ایسے طریقے ڈھونڈیں جس سے متاثرہ شخص کے جزبات کو، اس تکلیف دہ لمحے کو دوبارہ جیئے بغی، سمجھنے میں آپ کو مدد ملے۔ ان سے پوچھیں کہ اپنی کوئی لکھی ہوئی نظم، گانا ، کوئی ڈرائنگ ، ڈائری کا کوئی ٹکڑا، یا ایسی دعا شیئر کریں جس سے آپ کو ان کے جذبات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، ان کے کچے زخموں کو کریدے بغیر۔ متاثرہ شخص سے ان کے خواب بیان کرنے کا کہنا ایک اچھی حکمت عملی ہے۔ عام طور پر خوابوں کا بیانیہ اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ آپ کو ایسے سوالات کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی جس سے ان کو ایک تکلیف دہ لمحہ دوبارہ جینا پڑے۔

12. اگر فرد تکلیف ظاہر کرتا ہے، یا روتا ہے تو پر سکون ردعمل دیں۔

تکلیف دہ واقعات اور خاندانی نقصانات کے بارے میں انٹرویو تکلیف دہ ہوتے ہیں اور بہت ساری وجوہات ہوسکتی ہیں کہ آپ کو انٹرویو دینے والا رو سکتا ہے۔ بعض اوقات سوالات پوچھنے کے انداز میں تدبیر کا فقدان ہوتا ہے، وہ شخص خود ہی شدید جذبات کو بھڑکاتا ہے، یا کسی واقعے کے بارے میں بات کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دبے ہوئے جذبات کو ظاہر کردیا جاتا ہے۔

اگر انٹرویو دینے والا روتا ہے تو شدید ردعمل کا اظہار نہ کریں۔ تدبیر کے ساتھ، پوچھیں کہ ان کی کیا ضرورت ہے اور کچھ پانی پیش کریں۔ ٹشو دینا ہمیشہ اچھا خیال نہیں ہوتا ہے، اس کی ترجمانی ہو سکتی ہے کہ صحافی متاثرہ شخص سے اپنے جذبات کو قابو کرنے اور انٹرویو کو جاری رکھنے کی تاکید کر رہا ہے۔ گلے ملنا ناگوار ہوسکتا ہے اور اس کی ہدایت نہیں کی جاتی ہے، خاص کر جب تشدد یا جنسی تشدد کے شکار افراد سے بات کی جا رہی ہو۔

بعض اوقات، انٹرویو دینے والے مایوسی، غصہ اور ناراضگی محسوس کرسکتے ہیں۔ یہ ان کی صورتحال میں معمول کے رد عمل ہیں۔ اگر وہ پریس کے بارے میں شکایت کرتے ہیں تو، بہتر ہے کہ شدید ردعمل کا اظہار یا بحث مت کریں۔ اس کے بجائے، سنیں۔ اگر صورتحال قابو سے باہر ہونے لگتی ہے اور آپ کو خطرہ محسوس ہوتا ہے تو مناسب طریقے سے وہاں سے رخصت ہونے کا راستہ تلاش کریں۔

13. اپنے انٹرویو کے اختتام میں لچک پیدا کریں۔

“جو کچھ ہوا اس سے آپ کیسے نمٹے؟” اور “آپ اپنی زندگی کو جاری رکھنے کے لیے کیا کر سکے ہیں؟” کچھ سوالات ہیں جو آپ تکلیف دہ موضوعات کے بارے میں انٹرویو کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ لچک پیدا کرنے کے لیے جواب کا در کھولنا ضروری ہے، جہاں وہ اس بارے میں بات کرسکتے ہیں کہ کیا ممکن ہے، افراد کی طاقت اور اجتماعی جدوجہد کی اہمیت کے بارے میں۔ نامہ نگاروں کو قیمتی معلومات دینے کے علاوہ، یہ آپ کو انٹرویو کو مفلوج کر دینے والے دکھ یا صدمے پر ختم کرنے کے بجائے، کیا حاصل کیا گیا ہے اس کے بارے میں بات کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

جب کسی انٹرویو کے اختتام پر ہوں تو، صحافیوں کوکسی ایسی چیز کے بارے میں بات کرنے کے لیے متاثرہ شخص کا شکریہ ادا کرنا چاہیے جو ان کی تکلیف کا باعث بنی۔ رابطے کی معلومات کا تبادلہ کریں لیکن وہ وعدے جو آپ پورے نہیں کر سکتے یا انصاف کی تلاش میں اس انٹرویو کے اثرات کے بارے میں توقعات پیدا کرنے سے گریز کریں ۔

14. تمام ممکنہ نتائج کا تجزیہ کریں۔

بعض سیاق و سباق میں، جیسے جہاں عام طور پر تشدد اور استثنیٰ موجود ہے، ہر صحافی کا فرض ہے کہ وہ اس مضمون کو شائع کرتے وقت انٹرویو دینے والوں کے لیے ممکنہ نتائج کے بارے میں سوچے۔ تجزیہ کریں – ان کے ساتھ – اگر کچھ بھی بتانے، بولنے سے ان کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں تو پوچھ گچھ کریں کہ کیا وہ یہ خطرہ مول لے سکتے ہیں، اور انہیں کم کیسے کیا جائے۔ اشاعت سے پہلے، آپ معلومات کو دوبارہ سے پڑھنے کے لیے وقت نکالیں اور تجزیہ کریں – شاید اپنے ایڈیٹر کے ساتھ – کن حصوں کے لوگوں پر اثرات ہو سکتے ہیں (مثال کے طور پر، مجرم کی شناخت ظاہر کرنا) اور ذرائع کی حفاظت کے لیے حکمت عملی کے بارے میں سوچیں۔ اس میں بعض اوقات کچھ تفصیلات شامل نہ کرنا، کسی اور وقت کا انتظار کرنا، یا معلومات کو شائع کرنے کے لیے متبادل راستہ تلاش کرنا شامل ہوسکتے ہیں۔

15. معلومات کی تصدیق کریں۔

تکلیف دہ واقعات اکثر یاداشت کو متاثر کرسکتے ہیں۔ یادیں بدل جاتی ہیں اور خوف میں تبدیل ہو سکتی ہیں، سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہوا، وقت گزرنے کے ساتھ ، فراموش کرنے کی خواہش کے ذریعے ، کیس کے بارے میں حالیہ انکشافات کے ذریعے ، یا محض دیگر شہادتوں کو سن کر۔ اس طرح کے انٹرویو میں بہت زیادہ خیال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اگر آپ صحیح تفصیلات حاصل کرنے جارہے ہیں ، اور اس طرح کے بیانات حاصل کریں گے جو آپ کی اشاعت شدہ کہانی کی حمایت کریں گے۔ تفصیلات واضح کرنے کے لئے انٹرویو کے دوران اپنے آپ کو وقت دیں۔

اگر یہ تحقیقاتی کہانی ہے تو ، یہ ضروری ہے کہ آپ ٹھوس رپورٹنگ کریں ، ممکنہ گواہوں کی تلاش کریں ، ایسے شواہد تلاش کریں جس سے آپ نے جو گواہی جمع کی ہے اس کی حمایت ہوسکے ، اور یہ یقینی بنائیں کہ اگر آپ کو کسی متضاد معلومات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو آپ تفصیلات کو ترک نہیں کریں گے۔ .

جب کسی متاثرہ شخص یا بچ جانے والے سے انٹرویو کر رہے ہوں تو، ان کو یہ بتانا ضروری ہے اگر آپ ان کی گواہی ان کی توثیق کرنے، تصدیق کرنے، یا جوابی نقطہ نظر پیش کرنے کے لیے انٹرویو کی تلاش میں ہیں۔ اگر آپ اس جرم کا ارتکاب کرنے والے شخص کا انٹرویو کرتے ہیں یا حکام کا نظریہ شامل کرنا چاہتے ہیں تو ان کے الفظ حتمی نہیں ہونے چاہیے۔ اپنے کام سے کسی متاثرہ شخص، جس نے آپ کو گواہی دی ہو، کو دوبارہ شکار نہ ہونے دیں۔ متاثرہ شخص کو اشاعت سے پہلے اپنے اوپر لگے ہوئے کسی بھی جوابی الزام کا جواب دینے کا موقع ملنا چاہیے۔

صحافت کے اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ آپ اپنی معلومات کی تصدیق کریں۔ ان موضوعات پر کام کرنے کا قاعدہ یہ نہیں ہے کہ متاثرین کو دوبارہ شکار بنائیں۔

رہنمائی حاصل کرنے کے ذرائع میں شامل ہیں:

Tragedies & Journalists: A Guide for More Effective Coverage

Ochberg Fellowship Guidelines

Covering Breaking News: Interviewing Victims and Survivors

Investigating Human Rights from a Psychosocial Perspective,” a manual by Carlos M. Beristáin

The Doctor’s Ethical Office,”  by Javier Darío Restrepo

_________________________________________________

مارسلا توراتی ایک فری لانس تفتیشی صحافی اور میکسیکن تحقیقاتی صحافت کے غیر منافع بخش ادارے کوینٹو الیمینٹو لیب اور ویب سائٹ ویئر ڈو دی دساپئیڑڈ گو کی شریک بانی ہیں۔ تورتی لاپتہ افراد ، جبری گمشدگی ، تارکین وطن کے قتل عام اور اجتماعی قبروں سے متعلق تحقیقات کے لئے مشہور ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.