رسائی

ٹیکسٹ سائیز

رنگوں کے اختایارات

مونوکروم مدھم رنگ گہرا

پڑھنے کے ٹولز

علیحدگی پیمائش
professional studio microphone
professional studio microphone

رپورٹنگ

موضوعات

اپنی رپورٹنگ میں آڈیو شامل کرنے کے 9 طریقے

یہ مضمون ان زبانوں میں بھی دستیاب ہے

professional studio microphone

نابینا اور ایسے لوگ جو مواد کو چلتے پھرتے دیکھنا چاہیں انکے لیے سٹوریز کو سننا ضروری ہے۔ 

2021 میں امریکہ میں سب سے زیادہ پہنچ رکھنے والا میڈیا پلیٹفارم آڈیو پر مبنی  ہے۔ نیلسن کی جانب سے شائع ہونے والے ڈیٹا کے مطابق صرف ریڈیو ہی، جو کہ اس میڈیم کا ایک جزو ہے، تقریبا 88 فیصد امریکیوں تک پہنچتاہے جو کہ اسمارٹ فون (85 فیصد) اور ٹی وی (80 فیصد) سے آگے ہے۔

آڈیو سے ہماری قومی محبت روایتی میڈیا تک محدود نہیں ہے۔ پوڈکاسٹ کا بڑھتا ہوا رجحان ، اور سوشل میڈیا جیسی جگہوں پر آڈیو کا ابھرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس قسم کے مواد میں ہمارا وقت بڑھنے کے ساتھ ساتھ تبدیل بھی ہورہا ہے۔ 

اس سے ہر شکل اور قسم کے نیوزروم میں مواقے پیدا ہورہے ہیں۔ اس رجحان کا حصہ ہونے کے لیے ریڈیو سٹیشن ہونا ضروری نہیں۔ میں نے مندرجہ زیل تین ایسے طریقے نو مختلف مثالوں کے ساتھ آوؐٹلائن کیے ہیں یہ دکھانے کے لیے کہ صحافی اور نیوز آوٹلٹس موئژ انداز میں آڈیو کو کیسے اپنا سکتے ہیں۔  

پردے کے پیچھے دیکھنے کے لئیے سامعین کی حوصلی افزائی کریں

 یہ جانی مانی بات ہے کہ کچھ لوگوں کا صحافت پر اعتبار کم ہوتا ہے۔ آوٹلٹس کو زیادہ کھلا، رسائی بخش اورجوابدہ ہونا چاہئیے۔ آڈیو یہ کرنے کےلیے آسان اور موثر طریقہ ہے۔

1 اسٹوری کے پیچھے کی کہانی بتائیے

 اپنا رپورٹنگ کا طریقہ کار شئیر کرنے سے نیوز رومز کو شفافیت دکھانے میں مدد ملے گی یہ دکھانے کے لیے کہ وہ کیا کرتے ہیں اور کیوں کرتے ہیں۔  جیسے کہ ٹرسٹنگ نیوز پراجیکٹ نے دہکھایا ہے کہ اسے شامل کرنے کے ایک سے زائد طریقے ہیں۔ بائلائن کے پیچھے صحافی کو شناخت دینے کے لیے آڈیو بہترین طریقہ ہے۔ دا ٹپ آف ایک اور مثال ہے تفتیشی رپورٹس کے پیچھے صحافیوں کے لیے۔ 

یہ ایسا ماڈل ہے جو کہ فیس بک لائیو جیسے پلیٹفام پر استعمال ہوتا ہے لیکن آڈیو سامعین کو نیوزروم کے موقف سننے میں مدد دیتی ہے اور اسکے ساتھ ساتھ وہ کچھ اور بھی کرسکتے ہیں۔ 

پریویو دکھائیں

اس ہفتے کے اخبار میں کیا آنے والا ہے؟ یہ طریقہ کار اریگن کے کاٹیج گروو سینٹینل نے 2019 میں اپنایا تھا جب ہفتہ وار پوڈکاسٹ کو لانچ کیا گیا تھا۔ اس وقت ایڈیٹر کیٹلن مے، نے بتا یا تھا:

ہم اس بارے میں بات کریں گے کہ ہمیں سٹوری کیسے ملی، انٹرویو کیسے لیے اور کیوں کچھ چیزیں آرٹیکل کا حصہ بنیں اور کچھ کیوں نہیں۔ مجموعی طور پر، یہ پانچ سے دس منٹ کی ہوں گی تقریباً اتنا ہی وقت جو کہ شہر میں ہوا کھانے کے لیے ہوتا ہے، بچوں کو سکول اتارنے میں یا کافی بریک لینے میں لگتا ہے۔ 

اریگن کے مزید جنوب میں، کلاماتھ فالز میں ہیرلڈ اور نیوز نے ایسا ہی تجربہ کیا جس میں وہ دو سے تین منٹ کی پوڈکاسٹ ٹوموروز ہیڈلائنز ٹوڈے دوسرے دن اخبار میں آنے والی خبروں کا پریویو دیتی ہیں۔ 

سامعین کو کھوج لگانے کا موقع دیں۔ 

3 لانگ فارم اسٹوری ٹیلنگ استعمال کریں

 رایئٹرز نے حال ہی میں معلوم کیا ہے کہ روزنامہ پوڈکاسٹ حالانکہ ایک فیصد سے بھی کم پروڈکشن رکھتی ہیں لیکن مجموعی طور پر یہ ساری ڈاوؐن لوڈ امریکہ میں دس فیصد حصہ رکھتی ہے اور فرانس اور آسٹریلیا میں نو فیصد۔ روز کے مواد کے علاوہ، پبلشرز یہ میڈیم  ڈیجٹل اور پرنٹ رپورٹنگ سے آگے بڑھنے کے لیے بھی استعمال کررہے ہیں۔ 

اسکی ایک مثال ایٹلانٹا جرنل کانسٹیٹیوشن کی پوڈکاسٹ بریک ڈاوؐن ہے، جو کہ اپنے آٹھویں ایڈیشن  میں ہے۔ ہر ایڈیشن ایک مخصوس موضوع میں گہری جانچ پڑتال کرتا ہے جس میں موجودہ سیریز  ۲۵ سالہ سیاہ فام احماد آربری کے کیس کو دیکھ رہی ہے جن کو جاگنگ کے دوران گولی مار کے ختم کردیا گیا تھا۔

اسی دوران آسٹریلیا میں، ایوارڈ یافتہ فیبی فال نے تحقییق کی تھی کہ کیسے 24 سالہ فی بی ہینڈسجک اپنے لگژری اپارٹمنٹ کی تہ میں موجود کچرے کے شوٹ میں مردہ پائی گئی تھیں۔ ایک سال ہی میں، اس چھ حصی سیریز کو 12 لاکھ دفعہ ڈاون لوڈ کیا گیا تھا۔ 

انکے ساتھی پریزینٹر اور ملبورن کے اخبار دا ایج  کےسینیر  تفتیشی صحافی، ریچرڈ بیکر کا کہنا تھا، "ہم خوش قسمت تھے کہ ہمیں 4000 الفاظ کا فیچر مل گیا تھا، لیکن میرا نہیں خیال کہ وہ ہر چیز کی وسعت کو کوور کر پاتا۔”

4 خصوصی مواد آفر کریں

پوڈکاسٹ اینگیجمنٹ اور برینڈ کی معلومات بڑھانے کا بہترین گیٹ وے ہے جس میں وہ مواد کے ساتھ پائیدار رشتہ بنانے میں ور اپنے سامعین کی خدمت کرنے میں مدد کرتا ہے ۔

اس بات کو دیکھتے ہوئے واشنگٹن پوسٹ سبسکرائبرصرف آڈیو مواد فراہم کرتا ہے۔ اپنے ممبرشپ پروگرام کے ذریعے سلیٹ بھی کچھ ایسا ہی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اس کا ٹینٹپول سیریز سلو برن ، بونس قسطوں کے ساتھ ساتھ سلیٹ پلس ممبران کو دوسرا مواد بھی دیتا ہے جس میں اشتہارات کے بغیر سن سکتے ہیں۔

5 محفوظ شدہ اور سدابهار مواد کو نمایا کریں۔

سلو برن کی سٹوریز میں ایک موجودہ دور کی گونج ہوتی ہے حالانکہ ان کا فوکس قریبی ماضی ہوتا ہے۔ آڈیو کے ذریعے  پرانے مواد کو بھی نئی جان دی جاسکتی ہے۔ 

آڈمن ، جو کہ پیڈ ایپ ہے، اس میں 3000 سے ذائد سٹوریز رولنگ سٹون اور دا نیو یارکر جیسےقومی آوٹلٹس علاقائی  سائٹس جیسے دا ٹیکسس آبزرور اور دا بٹر ستھرنر میں محفوظ ہوئی ہیں ۔ یہ پیشہ ورانہ لانگ فارم میں بیان کی ہوئی سٹوریز میں نئی اور پرانی سٹوریز شامل ہیں جو کہ اپنے موثر انداز میں متاثر کر رہی ہیں۔    

6 ٹیکسٹ ٹو اسپیچ سروسز کا استعمال کریں۔

آڈمن کی طرح ہر کوئی اس طرح کی ایوارڈ یافتہ طریقے استعمال نہیں کرسکتا۔ بلکہ اب جیسے جیسے، اے آئی اسپیچ روبوٹ کم اور انسان کی طرح آواز کرنے لگے ہیں، تو ٹیکسٹ ٹو اسپیچ سروسز جیسے ایمیزون پالی، پلے ڈاٹ ایچ ٹی اور ریڈ اسپیکر جیسے سروسز دیکھ سکتے ہیں۔  

اسٹوریز کو پڑھنے کے بجائے سننا ضروری ہے ایسے لوگوں کے لیے جو پڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے یا وہ جو چلتے پھرتے یا اسکرین سے دور مواد سننا پسند کرتے ہیں۔ 

جیسے جیسے زوم کی تھکاوٹ ہمارے اندراتر رہی ہے ہم میں سے کئی اپنے آپکو ان لوگوں میں شامل کرتے ہیں۔ 

نئی جگہوں پر نئی آڈینس تک پہنچے۔

7 آڈیو کے ٹکڑوں کو سوشل میڈیا پر شئر کریں۔ 

آڈیو کے ساتھ ہمیشہ کھڑا چیلنج یہ رہا ے کہ وڈیو کے مقابلے میں یہ کم وائرل ہوتا ہے اور تاریخی طور پراسکو سوشل میڈیا پر شئیر کرنا بھی مشکل رہا ہے۔ 

لیکن ہیڈلائنر جیسے ٹولز کے ذریعے اچھی دکھنے والے آڈیو پر مبنی کہانیاں ٹویئٹر اور انسٹاگرام جیسے پلیٹفارم پر لمبے انٹرویو اور غیر آڈیو والے فیچرز کو پریویو کے طور پر دکھا رہے ہیں۔ 

آڈیوگرام نامی ایک اور پرووائڈر کے مطابق، 85 فیصد سوشل وڈیو بغیر آڈیو کے دیکھا جاتا ہے تو اس پلعٹفارم پر خود بخود ترجمہ کے ساتھ عنواں شامل کیے جاتے ہیں۔ 

دونوں ہی ایپس نیوزرومز اور صحافیوں جو کہ اینگییجمنٹ اور لیڈ بڑھانے کے لیے اس کے ساتھ تجربہ کرنا چاہیں ان کے لیے مفت ورژن  دیتی ہیں، اس طریقے سے کہ نہ وہ زیادہ وقت لیں اور نہ ہی تکنیکی طور پر دشواری ہو۔  

Headline app audio IG gallery

ہیڈ لائنر ایپ کو آپ کی خبروں کے بارے میں انسٹاگرام پوسٹس کے ساتھ آڈیو کے مختصر ٹکڑوں کو جوڑنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تصویر: سکرین شاٹ

8 سمارٹ سپیکر کے رجہان پر نظر رکھیں۔

اسمارٹ اسپیکر، جس میں ڈیجٹل آواز کے اسسٹنٹ جیسے کہ گوگل ہوم، سیری اور ایلیکسا شامل ہیں، یہ نئی ایجادات ہیں جہاں پر ایک جگہ پر انہیں سمارٹفون کے بعد تیزی سے بڑھنے والی ٹیکنالوجی بھی قرار دیا گیا ہے۔ 

سمارٹ سپیکر اس سب جوش و خروش میں ،  موسیقی، فنکشنل معلومات جیسے کہ موسم، ٹریفک اور دوسرے غیر روایتی آڈیو عادات جیسے کہ پوڈکاسٹ وغیرہ سننا کے مقابلے میں ،صارفین کی خبروں کی طرف دلچسپ مسلسل سب سے کم رہی ہے ۔ 

اس نئے میڈیم میں پیش رفت کے فارمیٹ کا تعین کرنا ابھی باقی ہے۔ لیکن اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ جلد نہیں ہوگا یا آپ اس ٹیکنولوجی کو اپنی تقسیم کی حکمت عملی کا حصہ نہ بنائیں۔   

9 سوشل آڈیو سروسز کے لیے تیار رہیں۔ 

آخر میں کلب ہاوس جو سیلیکون ویلی کی ایپ دو ژور اور دیگر "سوشل آڈیو سروسز منطر عام پر آرہی ہیں۔ پچھلے کچھ مہینوں میں، فیس بک نے آڈیو سروسز کا اعلان کیا جبکہ ٹویئٹر اور دیگر اسٹارٹ اپ بھی جلد ہی اسی طرف آرہے ہیں۔  

ٹیک انڈسٹری کی تجزیہ کار جیریمیا اویہنگ نے  ۳۰ سے زائد سوشل آڈیو کی کوششوں کی نشاندہی کی ہے اور انکا 2020 کی دہائی کا "گولڈیلاکس” میڈیم نام دیا ہے۔ ٹیکسٹ ناکافی ہے، وڈیو بہت زیادہ ہے، سوشل آڈیو بلکل صحیح ہے۔”

"سوشل میڈیا کا مستقبل صرف بات پر مبنی ہے"، وائرڈ نے پچھلے سال  پیش گوئی کی تھی، صحافی ایریل پردیس نے یہ مشاہدہ کیا تھا کہ ” اس سارے مواد کو اپنی روز مرہ کے معمولات میں شامل کرنا بہت آسان ہے، بشکریہ، اسمارٹ اسپیکر ، ہیڈفون، ایئربڈ اور دیگر آڈیو ہارڈ وئیر کی مقبولیت کی وجہ سے۔   

یہ تاثرسوشل میڈیا سے آگے بڑھ کر قابل اطلاق ہے اور ایک وہ جو آڈیو کے نیوز رومز کے لئیے مواقعوں کو نمایاں کرتا ہے۔ آڈیو نے ڈیجٹل کو ایک نئی زندگی دی ہے او اپنی موت آپ مرنے سے کہیں آگے ہے۔ یہ ایک سامعین اور صحافیوں کے لئیے ایسی صلاحیت ہے جو میں آنے والے مہینوں  میں آپ سب سے شئیر کرنے کے لئیے پر جوش ہوں۔

___________________________________________________

Damian Radcliffe Thumbnail Profileڈیمین ریڈکلف اوریگون یونیورسٹی میں صحافت میں کیرولین ایس چیمبرز پروفیسر اور کولمبیا یونیورسٹی میں ٹاو سینٹر فار ڈیجیٹل جرنلزم کے ساتھی ہیں۔ وہ ڈیجیٹل رجحانات ، سوشل میڈیا ، میڈیا کا کاروبار ، اور مقامی نیوز روم کس طرح آمدنی بڑھانے ، سامعین کو مشغول کرنے اور ذرائع کو متنوع بنانے کے لیے آڈیو کا استعمال کرسکتے ہیں کے بارے میں لکھتے ہیں۔ 

ہمارے مضامین کو تخلیقی العام لائسنس کے تحت مفت، آن لائن یا پرنٹ میں دوبارہ شائع کریں۔

اس آرٹیکل کو دوبارہ شائع کریں


Material from GIJN’s website is generally available for republication under a Creative Commons Attribution-NonCommercial 4.0 International license. Images usually are published under a different license, so we advise you to use alternatives or contact us regarding permission. Here are our full terms for republication. You must credit the author, link to the original story, and name GIJN as the first publisher. For any queries or to send us a courtesy republication note, write to hello@gijn.org.