Illustration: Siddhesh Gautam
جنوبی ایشیا میں زمینی تنازعات کی تحقیق کے لیے رہنمائی کتابچہ
یہ مضمون ان زبانوں میں بھی دستیاب ہے
جنوبی ایشیائی خطے میں بھارت، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، بھوٹان، مالدیپ اور پاکستان شامل ہیں۔ اس خطے میں دنیا کے کل زمینی رقبے کا صرف تقریباً 3% حصہ موجود ہے تاہم یہ خطہ دنیا کی 22% آبادی، 15.5% پودوں کی اقسام اور 12% جانوروں کی اقسام کا مسکن ہے۔ اس خطے میں تقریباً 750 ملین افراد براہِ راست اپنی روزی روٹی کے لیے زمین پر منحصر ہیں۔ یہ ایک ایسا خطہ ہے جہاں دنیا کی کچھ تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشتیں موجود ہیں جو اپنی معاشی ترقی کے لیے قدرتی وسائل پر بھرپور انحصار کرتی ہیں۔
تاہم، جنوبی ایشیائی ممالک میں زمین کی کمی فطری طور پر مقامی برادریوں، کاروباروں، سیاسی اشرافیہ اور انتظامیہ کے درمیان زمین اور اس کے قدرتی وسائل کے استعمال اور ملکیت کے حوالے سے اندرونی تنازعات کو جنم دیتی ہے۔ یہ اکثر ایسے تنازعات بن جاتے ہیں جن سے خصوصاً پسماندہ برادریاں متاثر ہوتی ہیں، عدالتوں پر بوجھ بڑھتا ہے اور سرمایہ کاری کی غیر معمولی بڑی مقدار منجمد ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات یہ تنازعات پُرتشدد بھی ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورتوں میں لوگ قتل ہوتے ہیں اور املاک تباہ ہوتی ہیں۔
زمین سے متعلق تنازعات کے وسیع اثرات بھی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیش میں 2023 کی ایک تحقیق میں پتہ چلا کہ زمین کے صرف 11,000 ہیکٹر (27,200 ایکڑ) رقبے سے متعلق صرف 34 تنازعات میں 51,000 سے زائد گھرانے متاثر ہوئے تھے۔ نیپال میں 2023 تک کے ایک اندازے کے مطابق اس کی 27 ملین آبادی میں سے ایک چوتھائی افراد بے زمین ہوئے تھے۔ وہاں تقریباً 6,000 ہیکٹر (14,800 ایکڑ) زمین پر مشتمل 49 زمینی تنازعات میں تقریباً 19,000 متاثر گھرانے موجود تھے۔
پاکستان میں زمین سے متعلق تنازعات وسیع پیمانے پر پائے جاتے ہیں۔ سابقہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں کم از کم تیس لاکھ بے گھر افراد زمین کی ملکیت کے جاری تنازعات کی وجہ سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ یہ تنازعات اکثر مسلح جھڑپوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ صرف 2023 میں ہی شمال مغربی پاکستان کے ضلع کرم میں زمین کے پُرتشدد تنازعات کے نتیجے میں 130 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
جبکہ بھارت میں قدرتی وسائل پر کام کرنے والے محققین کے ایک آزاد نیٹ ورک لینڈ کانفلکٹ واچ کے مطابق اس وقت وہاں 900 سے زائد زمینی تنازعات جاری ہیں جن میں 10.5 ملین افراد اور 4.7 ملین ہیکٹر (11.9 ملین ایکڑ) سے زائد زمینی رقبہ شامل ہے اور یہ تنازعات 411.4 ارب امریکی ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری کو متاثر کر رہے ہیں.
یہ رہنمائی کتابچہ صحافیوں کو زمین اور اس کے وسائل جیسے پانی اور جنگلات پر ہونے والے تنازعات کی رپورٹنگ کے لیے ضروری ٹولز اور وسائل فراہم کرتا ہے۔ یہ صحافیوں کو بنیادی سوالات کے جواب دینے میں بھی مدد دیتا ہے مثلاً زمین اور وسائل سے متعلق تنازعات کی وجوہات کیا ہیں، ان کے اثرات کا دائرہ کتنا وسیع ہے، کون اس سے متاثر ہوتا ہے، کون سے کردار اس میں شامل ہیں اور ان کے محرکات ان تنازعات کی نوعیت کو کیسے تشکیل دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ کتابچہ صحافیوں کو ان معلومات کی مدد سے مؤثر اور اثرانگیز کہانیاں بیان کرنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔
زمین کے تنازعات پر رپورٹنگ کرنا کیوں اہم ہے؟
بہت سے جنوبی ایشیائی ممالک میں موجود طبقاتی اور ذات پات کی تقسیم اور بعض اوقات صوابدیدی قوانین قدرتی وسائل تک رسائی اور ان پر کنٹرول کے ضابطوں میں بے قاعدگیوں کا سبب بنتے رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دولت کا غیر معمولی ارتکاز پیدا ہوا ہے جس نے معاشرے کے ایک بڑے طبقے کو وسائل اور روزگار سے محروم کر دیا ہے۔ انہیں سماجی و معاشی طور پر پسماندہ کر دیا ہے اور انہیں ابھرتے ہوئے خطرات جیسا کہ موسمیاتی تبدیلی، خوراک اور پانی کی قلت، آفات، وباؤں، جنگ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شکار بنایا ہے ۔
زمین اور وسائل سے متعلق تنازعات پر رپورٹنگ صحافیوں کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ ان بنیادی وجوہات کا جائزہ لیں جن کی وجہ سے مقامی برادریاں جیسے دلت برادری (ایک مقامی برادری جو ذات پات کے نظام سے باہر سمجھی جاتی ہیں اور پہلے "اچھوت” کہلاتی تھی) محروم بن جاتی ہیں۔
تعریفیں اور تصورات
زمین کے تنازعات پر رپورٹنگ کرتے وقت بعض تصورات کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ درست رپورٹنگ کی جا سکے اور مناسب اصطلاحات کا استعمال کیا جائے تاکہ کسی بھی غیر ارادی تعصب سے بچا جائے۔
تحقیق شروع کرنے سے پہلے صحافیوں کو تنازعے کی نوعیت اور دائرہ کار کا تعین کرنا چاہیے، اس بات کا جائزہ لے کر کہ کتنے افراد یا گھرانے اس تنازعے سے متاثر ہوئے ہیں اور کس طرح؛ آیا زمین نجی ہے یا مشترکہ؛ اور زمین کے قانونی حقوق کس کے پاس ہیں۔ اور یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ حکومتی ادارے ان افراد یا برادریوں کے ساتھ کس طرح معاملہ کرتے ہیں جن کے پاس زمین کی قانونی ملکیت نہیں ہوتی، نیز جنگلات میں رہنے والے افراد اور قبائلی برادریوں کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔
ایک زمینی تنازعہ کس کو کہا جاتا ہے؟
ایک زمینی تنازعہ کسی ایسے واقعے کو کہا جا سکتا ہے جس میں دو یا زیادہ فریقین زمین اور اس سے منسلک وسائل کے استعمال، رسائی یا قبضے کے حوالے سے اختلاف کا شکار ہوتے ہیں۔ ایک زمینی تنازعہ اس وقت جنم لیتا ہے جب زمین کی ملکیت، اس تک رسائی یا اس کے استعمال میں تبدیلی کا مطالبہ کیا جائے یا اس کی مخالفت کی جائے۔ چونکہ اس رہنمائی کتابچے کا مقصد عوامی مفاد کی کہانیاں رپورٹ کرنا ہے، اس لیے یہاں صرف ایسے زمینی تنازعات پر بات کریں گے جن میں کم از کم ایک فریق کوئی مقامی برادری (عوام) ہے۔ دو نجی فریقوں کے درمیان جائیداد کے تنازعات اس رہنمائی کتابچے کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہیں۔
کون متاثر ہوتا ہے؟
زمین کا تنازعہ کتنا سنگین اور اہم ہوگا، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اس سے کتنے لوگ متاثر ہوئے ہیں اور کس طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ایک زمین کا تنازعہ ان برادریوں پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے جو اس زمین پر مقیم ہوتی ہیں یا اپنی روزی روٹی کے لیے اس پر انحصار کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر برادریوں کو بے دخل کیا جا سکتا ہے یا زبردستی ان کے گھروں سے نکالا جا سکتا ہے۔ ان میں سے بہت سے تنازعات زرعی زمین کے حصول سے متعلق ہوتے ہیں جہاں ایک یا ایک سے زیادہ فریق یہ الزام لگاتے ہیں کہ زمین کے حصول کے لیے ان کی رضامندی نہیں لی گئی تھی یا انہیں مناسب معاوضہ نہیں دیا گیا تھا۔
کسی کہانی کی تحقیق کرتے وقت صرف یہ بتانا کافی نہیں ہوتا کہ کتنے افراد یا گھرانے ایک زمینی تنازعے سے متاثر ہوئے ہیں۔ تفصیل فراہم کریں۔ تحقیق کریں کہ یہ تنازعہ برادری کے لیے کس طرح مسائل پیدا کر رہا ہے۔ کیا لوگوں کو بے گھر یا بے دخل کیا جا رہا ہے؟ کیا وہ اپنی زمین یا روزگار سے محروم ہو رہے ہیں؟ کیا انہیں معاوضہ دیا جائے گا؟ اور کیا یہ معاوضہ کسی نئی جگہ دوبارہ زندگی شروع کرنے کے لیے کافی ہوگا؟

آن لائن وسائل جیسے لینڈ کنفلیکٹ واچ رپورٹرز کو زمین کے انفرادی تنازعات کے ساتھ ساتھ ان تنازعات کے قومی سطح کے اثرات کی نشاندہی کرنے میں مدد کر سکتے ہیں، تمام میٹرکس جیسے تنازعات کی کل تعداد، آبادی اور زمین کا رقبہ، اور مالیاتی اقدار۔ تصویر: سکرین شاٹ، لینڈ کنفلیکٹ واچ
نجی زمین اور مشترکہ زمین
نجی زمین وہ زمین ہوتی ہے جس کی قانونی ملکیت کسی نجی فریق کے پاس ہوتی ہے، چاہے وہ کوئی فرد ہو یا ادارہ ہو۔
مشترکہ زمینیں وہ ہوتی ہیں جنہیں مقامی برادریاں اجتماعی طور پر منظم کرتی ہیں اور استعمال کرتی ہیں۔ یہ چراگاہیں، کمیونٹی جنگلات، یا آبی ذخائر ہو سکتے ہیں جنہیں برادریاں رہائش، روزگار یا ثقافتی اور مذہبی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ زیادہ تر صورتوں میں مشترکہ زمین کے کوئی باضابطہ ملکیتی کاغذات نہیں ہوتے۔
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ جن ممالک کا نوآبادیاتی ماضی رہا ہے وہاں "مشترکہ زمین” ایک قانونی اصطلاح نہیں ہے ۔ ایسی زمین کو ان ممالک میں مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ مثلاً بھارت میں زمین کے استعمال کی کوئی ایک واحد درجہ بندی موجود نہیں ہے جو مشترکہ زمین کو بیان کرتی ہو۔ زمینی ریکارڈز میں ایسی زمین کو اکثر جنگلاتی زمین، چراگاہی زمین (یہ مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے جانی جاتی ہے)، گرام سبھا زمین، گرام پنچایت زمین، میونسپل زمین، محض بنجر زمین یا سرکاری زمین کے طور پر درج کیا جاتا ہے۔ یہ مالکانہ ریکارڈز تضادات اور عدم مطابقت کا شکار ہوتے ہیں اور اکثر زمین کے موجودہ استعمال سے متعلق معلومات، بشمول مقامی برادریوں کے روایتی حقوق اور طریقوں سے محروم ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس مقامی برادریاں ان زمینوں پر ملکیت کا دعویٰ اکثر قانونی حقوق کے بجائے روایتی حقوق کی بنیاد پر کرتی ہیں۔ مثلاً جب وہ نسلوں سے بغیر کسی باضابطہ ملکیتی دستاویز کے اس زمین پر کاشت کاری کرتی آ رہی ہوں۔ تاہم، انتظامیہ عموماً ان زمینوں کو سرکاری ملکیت تصور کرتی ہے۔
یہ فرق اس وقت زمین کے تنازعات کو جنم دیتا ہے جب حکومت مشترکہ زمین کے کسی حصے پر ملکیت کا اختیار استعمال کرتی ہے اور برادریوں کے روایتی حقوق کو تسلیم کیے بغیر یکطرفہ اس زمین کے استعمال اور رسائی میں تبدیلی کر دیتی ہے۔ کئی تحقیقات نے دکھایا ہے کہ زمین کے زیادہ تر تنازعات اسی خاص قسم کے متصادم دعوؤں کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔
ناجائز قبضہ
ناجائز قبضہ عام طور پر اس عمل کو کہا جاتا ہے جس میں کوئی شخص بغیر اجازت کسی دوسرے شخص کی زمین یا جائیداد پر قابض ہو جاتا ہے۔ بھارتی قوانین میں ناجائز قبضے کی تعریف اکثر کسی دوسرے کی زمین پر رہائشی، تجارتی یا دیگر استعمال کے لیے عارضی، نیم مستقل یا مستقل ڈھانچے قائم کرنے کے طور پر کی جاتی ہے۔ عدالتیں نجی املاک اور عوامی زمینوں دونوں پر ناجائز قبضے کو بلا شبہ غیر قانونی تسلیم کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے یہی عمل ان افراد یا کمیونٹیز کو بھی "ناجائز قابض” قرار دے دیتا ہے جو روایتی طور پر مشترکہ زمین استعمال کرتی آ رہی ہوتی ہیں لیکن ان کے پاس زمین کی باضابطہ ملکیتی دستاویزات موجود نہیں ہوتیں۔
مثال کے طور پر بھارت میں بعض اوقات خانہ بدوش کمیونٹیز کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔ ان کمیونٹیز کی نسلیں اپنے
مویشیوں کے ساتھ چراگاہوں کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی رہی ہیں۔ تاہم ان میں سے بہت سی کمیونٹیز کو 1871 میں برطانوی نوآبادیاتی حکومت نے کریمنل ٹرائبز ایکٹ کے تحت "مجرم” قرار دیا تھا۔ 1945 میں اس قانون کے خاتمے کے بعد یہ کمیونٹیز "ڈی نوٹیفائیڈ ٹرائبز” یا ڈی این ٹیز کہلانے لگی تھیں۔ اس کے باوجود زمین کے حقوق کے معاملے میں ان گروہوں کو بہت کم تحفظ حاصل رہا ہے۔ ان کے مقابلے میں دوسری محروم قبائلی برادریوں جیسے کہ بھارتی آئین کے تحت درج فہرست پسماندہ ذاتوں اور درج فہرست پسماندہ قبائل میں شامل برادریوں کو زیادہ حقوق حاصل ہیں۔
جب بھی یہ خانہ بدوش مشترکہ زمین استعمال کرتے ہیں تو وہ اس پر اپنے روایتی حقوق کا دعویٰ کرتے ہیں۔ دوسری جانب ریاست انہیں ناجائز قابض سمجھتی ہے کیونکہ ان کا اس زمین پر کوئی قانونی حق نہیں ہوتا جسے ریاست سرکاری زمین تصور کرتی ہے۔ زمین کی ملکیت کے کاغذات یا ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے قوانین کی عدم موجودگی نے ان خانہ بدوش کمیونٹیز کو جبری بے دخلی کے خطرے میں ڈالا ہے جس کے نتیجے میں ان کے خلاف بے گھری اور فوجداری کارروائیاں بھی سامنے آئی ہیں۔
اس لیے یہ یاد رکھیں کہ "ناجائز قابضین” کی اصطلاح زمین کے تنازعے میں کسی فریق کے زمین پر دعوؤں کو کمزور کرنے کے ایک حربے کے طور پر بھی استعمال ہو سکتی ہے۔
مثال کے طور پر اکثر میڈیا یا حکومت افراد یا کمیونٹیز کو "ناجائز قابض” قرار دے دیتی ہے اگرچہ ان کے پاس روائیتی حقوق کی وجہ سے اس زمین کے پر قبضے کے جائز دعوے ہو سکتے ہیں۔ یہ اہم ہے کہ ایسے معاملات میں صحافی "ناجائز قابضین” کی اصطلاح استعمال کرنے سے گریز کریں اور اس کے بجائے متعلقہ کمیونٹی کا نام استعمال کریں۔
ٹِپس اور ٹولز
زمین اور وسائل کے لین دین کی نوعیت کو سمجھیں
زمین کے تنازعات سے متعلق کہانیاں تقریباً ہمیشہ زمین یا اس کے وسائل کے کسی ایسے لین دین کے گرد گھومتی ہیں جس میں وسائل تک رسائی، ان کے استعمال یا ان کی ملکیت ایک فریق سے دوسرے فریق کو منتقل ہوتی ہیں۔ تنازعہ اس وقت جنم لیتا ہے جب یہ لین دین کسی ایک فریق پر زبردستی مسلط کیا جاتا ہے یا اسے غیر منصفانہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ تنازع کسی مجوزہ لین دین، جاری لین دین یا ماضی میں ہونے والے لین دین سے بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ حقیقی کہانیوں کو سامنے لانے کے لیے ایسے لین دین کی نوعیات، ان کی زمانی ترتیب، ان کے طریقہ کار اور ان میں شامل فریقین کو سمجھنا نہایت اہم ہے۔
مختلف فریقین کے کرداروں کی وضاحت
عام طور پر زمین اور وسائل سے متعلق لین دین میں کئی طرح کے فریقین شامل ہوتے ہیں۔ مقامی برادریاں یا شہری جو زمین اور اس کے وسائل کے روایتی استعمال کنندہ، مالک یا نگہبان ہوتے ہیں۔ کاروباری ادارے جو زمین اور اس کے وسائل پر حقوق حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔ حکومتیں جو ان وسائل کی نگہبان ہونے کے ساتھ ساتھ ان سے متعلق لین دین کی سہولت کار اور نگران بھی ہوتی ہیں اور تنازعات کی صورت میں ثالث یا فیصلے کرنے والے ادارے۔
زمینی وسائل سے متعلق لین دین میں شامل تمام فریقین کے کرداروں کا جائزہ لینا نہایت اہم ہے۔
ضابطہ جاتی فریم ورک کو سمجھنا
زمین کے تنازعے پر رپورٹنگ کرنے سے پہلے اس ملک میں زمین کے لین دین پر لاگو قوانین اور ضوابط کو سمجھنا انتہائی اہم ہے۔ صحافیوں کے لیے قانون کی تمام باریک تفصیلات جاننا لازم نہیں ہے لیکن اہم شقوں اور ان کے اثرات سے واقفیت بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ آپ کے ملک میں ان مسائل پر کام کرنے والے وکلا اور محققین اس سلسلے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر جنوبی بنگلہ دیش میں واقع تین پہاڑی اضلاع پر لاگو چٹاگانگ ہل ٹریکٹس (سی ایچ ٹی) ریگولیشن 1900 وہاں زمین کی ملکیت اور استعمال پر لاگو ہے۔ اس قانون کے تحت غیر مقامی افراد کو زمین منتقل کرنے کے لیے خصوصی اجازت نامہ حاصل کرنا پڑتا ہے۔ یہ ضابطہ پیشگی منظوری کے بغیر زمین کی فروخت کو محدود کر کے مقامی باشندوں کے زمینی حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ نیپال میں دا لینڈ ایکٹ 1964 زمین کی اصلاحات پر لاگو ہوتا ہے جن میں نام نہاد لینڈ سیلنگز شامل ہیں جو زمین مالکان کو ایک مقررہ حد سے زیادہ زمین رکھنے سے روکتی ہیں اور حکومت کو اختیار دیتی ہے کہ وہ زائد زمین کو حاصل کر کے بے زمین کسانوں میں تقسیم کر سکے۔

ڈھاکہ، بنگلہ دیش میں مقامی لوگوں کی 2022 کی ریلی، اپنے سی ایچ ٹی حقوق کی حمایت اور زمین پر قبضے کے خلاف۔ تصویر: شٹر سٹاک
بھارت میں حکومت کی جانب سے نجی زمین کے حصول پر 2013 کا لینڈ ایکوزیشن ایکٹ لاگو ہوتا ہے جو حکومت کو پابند کرتا ہے کہ وہ زمین کے حصول سے متاثر ہونے والے مالکان کی ایک مخصوص شرح سے رضامندی حاصل کرے۔ ِاس قانون کے تحت حکومت کے لیے زمین پر قبضہ کرنے سے پہلے ایک سماجی اثرات کے جائزے کا مطالعہ کرنا بھی لازم ہے۔ نیز اس قانون کے تحت بے دخل ہونے والوں کے لیے معاوضے اور آبادکاری کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔ اسی طرح جب جنگلاتی زمین کو صنعتی استعمال کے لیے استعمال کرنا ہو تو 1980 کے فارسٹ کنزرویشن ایکٹ اور 2006 کے فارسٹ رائٹس ایکٹ کے تحت ڈویلپرز کے لیے لازم ہے کہ وہ اس استعمال کے حوالے سے وفاقی حکومت سے اجازت حاصل کریں اور اس زمین پر رہنے یا اسے استعمال کرنے والی قبائلی برادریوں کی رضامندی بھی لیں اور کسی بھی بے دخلی سے پہلے ان کے زمینی حقوق کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں۔
قوانین کی خلاف ورزیوں میں کہانیاں تلاش کرنا
اکثر زمین کے تنازعات اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب پالیسیوں، قوانین یا ضوابط کی خلاف ورزی کی جاتی ہے، انہیں سبوتاژ کیا جاتا ہے یا کسی ایک فریق کو دوسرے کے مقابلے میں فائدہ دینے کے لیے تبدیل کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات موجودہ ضابطہ جاتی فریم ورک کو بھی تنازعے کے بعض فریقین اپنے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے غیر منصفانہ سمجھتے ہیں۔
کیس اسٹڈی: نیپال میں سینٹر فار انویسٹی گیٹو جرنلزم (سی آئی جے این) کی اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ کس طرح ملک کے جنگلاتی قانون میں کی جانے والی ایک ترمیم کی مدد سے نجی امیر افراد (جن میں حکمران جماعت کے ارکان بھی شامل تھے) کو ماضی میں محفوظ علاقوں میں زمین خریدنے کی اجازت دی گئی تھی۔ حکومت نے صحافیوں کو بتایا کہ سابقہ قوانین ترقی کو روک رہے تھے اور ان میں ہونے والی تبدیلیاں بے زمین افراد میں زمین کی دوبارہ تقسیم کرنے کی ایک کوشش کے سلسلے میں کی گئی تھیں۔
سی آئی جے این کی ایک اور تحقیق میں رپورٹ کیا گیا کہ مقامی سرکاری اہلکاروں نے ایک نئے قانون کا غلط استعمال کیا۔ انہیں اس قانون کے تحت زمین کے مالکانہ حقوق کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے اور ملکیت منتقل کرنے کا اختیار ملا تھا۔ وہ لوگوں کی زمین ان کی رضامندی کے بغیر دھوکے سے فروخت کر رہے تھے۔ ملزمان نے الزامات کی تردید کی تھی۔
بھارت کا 2006 کا فارسٹ رائٹس ایکٹ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ جنگلاتی زمین کو صنعتی یا تجارتی استعمال کے لیے اس وقت تک منتقل نہیں کیا جا سکتا جب تک پہلے جنگل میں رہنے والوں کے حقوق کو باضابطہ طور پر تسلیم نہ کیا جائے اور پھر ان کی رضامندی حاصل نہ کی جائے۔ جنوری 2019 میں انڈیا اسپینڈ کی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ ڈویلپرز اس شق کی خلاف ورزی کر کے جنگلاتی زمین تک رسائی حاصل کر رہے تھے۔ مقامی حکام نے دعویٰ کیا کہ اس علاقے میں کوئی قبائلی برادری یا جنگل میں رہنے والے افراد موجود نہیں ہیں یا انہوں نے جعلی سرٹیفکیٹس جاری کیے جن میں کہا گیا کہ جنگلاتی حقوق پہلے ہی حاصل کر لیے گئے تھے اور منصوبے کی کوئی مخالفت نہیں ہوئی تھی۔ جن کارپوریٹ اداروں پر بدعنوانی کے الزامات لگے تھے انہوں نے رپورٹرز کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا جبکہ سرکاری اہلکاروں نے کہا کہ انہوں نے "قانونی تقاضوں” کے مطابق کارروائی کی تھی۔
دستاویزات اور وسائل
یہ دکھانے کے لیے کہ قوانین کو کس طرح موڑا جا رہا ہے یا توڑا جا رہا ہے دستاویزات اور دیگر شواہد نہایت اہم ہوتے ہیں۔ صحافی معلومات تک رسائی کے قوانین کا استعمال کر کے زمین کے وسائل سے متعلق ضوابط اور لین دین کے بارے میں سرکاری محکموں سے ایگزیکٹو احکامات، سرکاری اجلاسوں کی کارروائی، اور سرکاری خط و کتابت حاصل کر سکتے ہیں۔ عدالتی دستاویزات جیسے درخواستیں، حلف نامے، احکامات اور فیصلے بھی معلومات اور ڈیٹا کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح پارلیمانی کارروائیاں بھی جن میں سوال و جواب کا سلسلہ شامل ہوتا ہے کافی مدد فراہم کر سکتی ہیں۔ زیادہ تر ممالک میں یہ وسائل آن لائن تلاش کیے جا سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر بھارت میں منصوبوں کی منظوری کے ڈیش بورڈ پاریویش پر وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کی ماحولیاتی منظوری شائع کی جاتی ہے۔ یہ ایک آن لائن ڈیٹابیس کی بہترین مثال ہے جہاں زمین کے تنازعات سے متعلق ڈیٹا اور دستاویزات محفوظ کی جاتی ہیں۔ لینڈ کنفلکٹ واچ ایک اور ذریعہ ہے جسے صحافی اور محققین زمینی معاملات سے متعلق ڈیٹا اور دستاویزات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ (ادارتی نوٹ: اس رہنمائی کتابچے کے مصنف لینڈ کنفلکٹ واچ کے بانی ہیں۔)
اب زیادہ تر حکومتوں نے زمین کے ریکارڈز کو ڈیجیٹائز کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان ریکارڈز میں ملکیت کے کاغذات، سروے اور لین دین کی تفصیلات شامل ہیں۔ ان حکومتوں نے زمین کی ملکیت اور لین دین کی معلومات آن لائن دستیاب کرنا شروع کر دی ہیں۔ زمینی ریکارڈ کے یہ پورٹلز زمین کی ملکیت اور جائیداد کے لین دین کی تحقیقات کے لیے دستاویزات کا ایک قیمتی ذریعہ ہیں۔ مثلاً بھارت میں زیادہ تر صوبوں کے پاس آن لائن پورٹلز موجود ہیں جہاں کسی مخصوص علاقے اور مخصوص مدت کے دوران زمین کے ریکارڈز اور جائیداد کے لین دین کی تفصیلات ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہیں۔ پرانے نقشے، زمین کے ٹیکس کی رسیدیں، حتیٰ کہ عدالتی نوٹس، سمن یا زمین پر قبضے کے جرمانے کی رسیدیں بھی اکثر مقامی برادریوں کے لیے زمینوں پر قبضے دکھانے کے لیے ثبوت کے طور پر استعمال کی گئی ہیں۔ جیسا کہ جنوبی راجستھان میں جنگلاتی زمین کے تنازعات کے اس معاملے میں ہوا۔ صحافیوں کو روایتی حدود سے ہٹ کر سوچنا چاہیے اور اپنی کہانیوں کی تصدیق کے لیے ایسے شواہد تلاش کرنے چاہئیے۔
سیٹلائٹ تصاویر کا استعمال
سیٹلائٹ تصاویر بھی زمین کے تنازعات کی تحقیق کرنے والے صحافیوں کے لیے ایک طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتی ہیں کیونکہ یہ وقت کے ساتھ زمین کے استعمال میں آنے والی تبدیلیوں کے شواہد کے ساتھ تنازعات کو بصری شکل میں دکھانے میں مدد دیتی ہیں۔ گوگل ارتھ پرو یا ناسا کے لینڈ سیٹ جیسے پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی ہائی ریزولوشن تصاویر صحافیوں کو جنگلات کی کٹائی، مشترکہ زمین پر قبضے یا زرعی نمونوں میں تبدیلیوں کی نگرانی کا موقع دیتی ہیں۔ یہ وہ تبدیلیاں ہیں جو اکثر تنازعات کی بنیاد بنتی ہیں۔ مثال کے طور پر جنگلاتی علاقوں کو ختم کرنے یا کان کنی کے منصوبوں کے پھیلاؤ کو دستاویزی شکل دینے کے لیے صحافی تاریخی تصاویر کا استعمال کر سکتے ہیں۔ یورپی خلائی ایجنسی اور پلانیٹ لیبز جیسی تنظیمیں سیٹلائٹ ڈیٹا تک رسائی کے لیے وسائل اور ٹولز فراہم کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ گوگل ارتھ انجن جیسے پلیٹ فارمز صحافیوں کو بڑے پیمانے پر جغرافیائی ڈیٹاسیٹس کا تجزیہ کرنے کے قابل بناتے ہیں اور انہیں زمین کے استعمال میں تبدیلیوں کے رجحانات اور نمونے سامنے لانے میں مدد دیتے ہیں۔
سیٹلائٹ تصاویر پر جائیداد کے نقشے یا محفوظ جنگلاتی علاقوں کی حدود شامل کر کے رپورٹر زمینی حقائق کو بے نقاب کر سکتے ہیں۔ میپ باکس اور اوپن اسٹریٹ میپ جیسے ٹولز مقامی نقشہ جاتی ڈیٹا کو سیٹلائٹ تصاویر کے ساتھ مربوط کرنے کی سہولت دیتے ہیں جس سے کہانیوں میں مزید سیاق و سباق شامل ہوتا ہے۔
زمین کے تنازعات کی جامع رپورٹنگ کرنا
زمین کے تنازعات تنہا وجود نہیں رکھتے۔ ان میں دیگر سماجی مسائل بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان تمام پہلوؤں کو مجموعی طور پر سمجھنا اور رپورٹ کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ یہ مزید جامع صحافت ممکن بناتے ہیں۔ ایسی رپورٹنگ جو محض سطحی اختلافات سے آگے کی بات کرتی ہے۔ ذیل میں چند اہم شعبے بیان کیے جا رہے ہیں جہاں یہ باہمی تعلقات نمایاں ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی ان کی وضاحت کے لیے کیس اسٹڈیز بھی شامل ہیں۔
زمین اور سیاست
زمینی تنازعات کے پیچھے اکثر گہرے سیاسی پس منظر موجود ہوتے ہیں۔ سیاست دان رئیل اسٹیٹ کی سلطنتیں بنا کر دولت جمع کر سکتے ہیں اور سیاسی جماعتیں انتخابی فوائد کے لیے زمین کے مسائل کو استعمال کر سکتی ہیں جس کے نتیجے میں مقامی برادریوں اور ریاستی اداروں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ ان عوامل پر رپورٹنگ زمین کے تنازعات کے پیچھے موجود پیچیدہ محرکات کو آشکار کرتی ہے اور نتائج کی تشکیل میں ضابطہ جاتی ماحول کے کردار کو اجاگر کرتی ہیں۔
کیس اسٹڈی: اس خفیہ تحقیق میں الجزیرہ کے صحافیوں نے رپورٹ کیا کہ بنگلہ دیش کے سابق وزیر اراضی سیف الزمان چوہدری نے مبینہ طور پر لندن، دبئی اور نیویارک میں لگژری جائیدادوں پر پانچ سو ملین امریکی ڈالر سے زائد خرچ کیے تھے لیکن انہوں نے اپنے بیرون ملک اثاثوں کو بنگلہ دیش کے ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا تھا۔ چوہدری نے کہا کہ ان جائیدادوں کو خریدنے کے لیے رقوم بنگلہ دیش سے باہر موجود ان جائز کاروباروں سے آئیں تھیں جن کے وہ کئی سالوں سے مالک تھے۔ جون 2025 تک برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے ان کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں اور بنگلہ دیشی حکام منی لانڈرنگ کے الزام میں ان کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
انڈین ایکسپریس نے ایودھیا میں رام مندر کے قریب پچیس دیہاتوں میں واقع اڑھائی ہزار سے زائد زمینوں کے رجسٹری ریکارڈز کی تحقیق کی۔ مندر ایک بڑا سیاسی مسئلہ بن گیا تھا۔ صحافیوں کو پتہ لگا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے مندر کی تعمیر کی اجازت کے بعد زمین کی خرید و فروخت میں تیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق ان میں سے کئی سودے مبینہ طور پر سیاست دانوں اور سرکاری افسران کے اہلِ خانہ یا جماعت میں ان سے قریبی تعلق رکھنے والوں نے کیے تھے۔
ان الزامات پر نامزد افراد کا ردعمل مختلف تھا۔ زیادہ تر نے زمین کی خرید میں کسی براہ ِراست شمولیت کی تردید کی تھی جبکہ بعض نے یہ کہہ کر خرید کو کم اہم ظاہر کیا تھا کہ یہ کسی اسکول یا کسی غریب خاندان کی مدد کی نیت سے لی گئی تھی۔
زمین اور کاروبار
نجی کاروباری اداروں کے مفادات اکثر مقامی برادریوں کے مفادات سے ٹکرا جاتے ہیں خاص طور پر اس وقت جب زمین کو صنعتی یا تجارتی استعمال کے لیے دوبارہ مختص کیا جاتا ہے۔ صحافیوں کو تحقیق کرنی چاہیے کہ کاروباری مفادات زمین کے لین دین پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں اور ان فیصلوں کے متاثرہ برادریوں پر اثرات کا تجزیہ کرنا چاہیے۔
کیس اسٹڈی: پاکستان کے اخبار ڈان کی اس تحقیق نے کراچی کے مضافات میں واقع ایک رہائشی منصوبے بحریہ ٹاؤن کی ترقی میں مبینہ مالی بدعنوانی کو اجاگر کیا ہے۔ اس رپورٹ نے بتایا کہ یہ ٹاؤن کس طرح پھیلتا چلا گیا اور اس نے کس طرح 2019 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی تھی جس میں اس منصوبے کو صرف ایک مخصوص رقبے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس میں یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ اس رئیل اسٹیٹ کمپنی نے عدالت کی جانب سے عائد کردہ جرمانہ ادا نہیں کیا تھا۔ رپورٹ میں سیٹلائٹ میپنگ کا استعمال کر کے یہ دکھایا گیا کہ ترقیاتی کام کس طرح منظور شدہ حدود سے باہر زمین پر پھیل گیا تھا۔
عدالت میں کمپنی نے اس بات کی تردید کی کہ اس نے 2019 کے فیصلے کے بعد الاٹ کی گئی زمین سے باہر ترقیاتی کام کیا ہے۔ اپریل 2025 میں اس کیس کی تحقیقات کرنے والے قومی احتساب بیورو (نیب) نے کمپنی کے اثاثے منجمد کر دیے تھے اور مالک کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
زمین اور ذات پات
جنوبی ایشیا میں ذات پات کی حرکیات زمین کی ملکیت اور اس تک رسائی پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ تاریخی طور پر اقلیتیی گروہوں کو اپنے زمین کے حقوق منوانے میں اکثر اضافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان باریکیوں کو سمجھنا رپورٹنگ کو بہتر بنا سکتا ہے اور ان سماجی ناانصافیوں کو بے نقاب کر سکتا ہے جو کئی زمینی تنازعات کی بنیاد بنتی ہیں۔
کیس اسٹڈی: بھارت کی متعدد ریاستوں میں کی جانے والی اس زمینی تحقیق سے معلوم ہوا کہ ماضی میں زمین کی تقسیم کے پروگراموں کے تحت دلتوں کو دیے گئے زمین کے مالکانہ حقوق کی کوئی حیثیت نہیں رہی تھی کیونکہ اعلیٰ ذاتوں سے تعلق رکھنے والے اصل مالکان نے زمین پر اپنی ملکیت کبھی ترک ہی نہیں کی تھی۔
زمین اور ٹیکنالوجی
جنوبی ایشیا کے کئی ممالک اپنے زمین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہاں زمین اور ٹیکنالوجی سے متعلق نئی کہانیاں سامنے آ رہی ہیں۔ ایک طرف ٹیکنالوجی زمین کے لین دین میں شفافیت بہتر بنا سکتی ہے اور مقامی برادریوں کے لیے زمین سے متعلق خدمات کو مؤثر بنا سکتی ہے۔ دوسری طرف یہ عدم مساوات کو بڑھا سکتی ہے خاص طور پر اگر اقلیتی گروہوں کو ڈیجیٹل وسائل تک رسائی حاصل نہ ہو۔
مثلاً بھارت میں ڈیجیٹل انڈیا لینڈ ریکارڈ ماڈرنائزیشن پروگرام پورے ملک میں زمین کی ملکیت کے ڈیٹا کو ڈیجیٹل بنانے، اپ ڈیٹ کرنے اور محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے کے لیے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں کاغذی زمین کے ریکارڈ ختم کیے گئے اور زمین کے انتظامی نظام کو جدید اور ڈیجیٹل بنایا گیا۔ تاہم ملک کے زمین سے متعلق مسائل کے حل کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کے اس دبائو نے مسائل اور تنازعات کے ایک نئے دائرے کو جنم دیا ہے۔
کیس اسٹڈی: ڈاؤن ٹو ارتھ کی اس تحقیق میں نے انکشاف کیا کہ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کے دوران زمین کے ریکارڈ میں جعل سازی کی گئی تھی تاکہ بھارت کے صوبہ مدھیہ پردیش میں دلتوں کی زمین پر قبضہ کیا جا سکے۔
زمین اور ماحولیاتی تبدیلی
موسمیاتی تبدیلی سے متعلق آفات جیسے سیلاب یا خشک سالی کے باعث ہونے والی بے دخلی یا ہجرت زمین کے حقوق اور وسائل تک رسائی پر تنازعات کو جنم دے سکتی ہے۔ صحافیوں کو چاہیے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ افراد کے نقصانات کے بارے میں بات کرنے کے لیے موجود پالیسیوں اور حکومتی اقدامات کی تحقیق کریں۔ مثال کے طور پر بھارت کے صوبہ آسام میں ہر سال لاکھوں لوگ سیلاب سے متاثر ہوتے ہیں لیکن ان لوگوں کے لیے کم معاوضہ یا مدد اکثر نئے تنازعات کو جنم دیتی ہے۔
اگرچہ اس طرح کی کہانیاں روایتی طور پر رپورٹ کی جاتی رہی ہیں تاہم اب زمین کے تنازعات کی نئی اقسام سامنے آ رہی ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کے خاتمے کے لیے پیش کیے جانے والے "حل” سے جنم لیتی ہیں۔ مثلاً بڑے پیمانے پر قابلِ تجدید توانائی، کاربن آف سیٹ، گرین ہائیڈروجن یا نایاب دھاتوں اور معدنیات کی کان کنی کے منصوبے بھی زمین کے تنازعات کا باعث بن سکتے ہیں اگر ان کے سماجی اور ماحولیاتی اثرات کا مناسب طور پر جائزہ نہ لیا جائے اور انہیں کم نہ کیا جائے۔
کیس اسٹڈی: بھارت کے آرٹیکل 14 کی اس تحقیق نے یہ بتایا کہ اگر اہم معدنیات کی کان کنی جیسے موسمیاتی حل کی مقامی برادریوں کے زمین کے حقوق کو مدنظر رکھے بغیر اجازت دی جائے تو زمین کے تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔ اس معاملے میں مقامی حکومت نے دیہاتیوں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کی زمین کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا لیکن اس کے باوجود ان کے گاؤں کو معدنیات کی تلاش کے لیے ہونے والی نیلامی میں شامل کیا گیا تھا۔ اسی طرح فرنٹ لائن میگزین کی اس تحقیق نے انکشاف کیا کہ ایک شمسی توانائی کے پلانٹ نے کس طرح مبینہ طور پر کئی بھارتی کسانوں کی زمین ان کی رضامندی یا کسی معاوضے کے بغیر ہتھیا لی تھی۔ حکام کا دعویٰ تھا کہ مجوزہ زمین کا رقبہ "غیر کاشت شدہ تھا اور خالی پڑا ہوا تھا۔” کمپنی کا کہنا تھا کہ اس نے یہ "زمین اصل مالکان سے خریدی تھی۔”
ایڈیٹر کا نوٹ: دلرکشی ہینڈونیتی اور میر اج چودھری نے بھی اس رہنمائی کتابچے کو بنانے کے لیے کام کیا ہے۔
کمار سمبھَو شریواستو ایک ایوارڈ یافتہ صحافی، محقق اور سماجی کاروباری شخصیت ہیں جو احتساب اور مساوات پر مبنی رپورٹنگ کے لیے جدید تحقیقی طریقوں میں مہارت رکھتے ہیں۔ وہ لینڈ کنفلکٹ واچ کے بانی ہیں جو بھارت میں زمین اور ماحولیاتی تنازعات کا حساب رکھنے والا ایک ڈیٹا پر مبنی تحقیقاتی ادارہ ہے۔ اس سے پہلے کمار نے پرنسٹن یونیورسٹی کے ڈیجیٹل ویٹنس لیب کے لیے بھارتی لیڈ کے طور پر کام کیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ پلٹزر سینٹر کے اے آئی اکاؤنٹبلیٹی فیلو بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی اور بھارتی اشاعتی اداروں کے لیے بھی لکھا ہے۔