ماحولیاتی جرائم کی تفتیش اور ماحولیاتی تبدیلی

Print More

کاروباری نیٹورک، گوورمنٹ افسران اورمجرم گروپ ایسے غیر قانونی آپریشن چلاتے ہیں جو ماحولیات کو بے شامر طریقوں سے نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ دنیا بھر کے جنگلی حیات ،آبی خوراک، لکڑی، معدنیات، مضر فضلہ، زہریلہ کیمیکل کی دنیا بھر میں غیر قانوںی سمگلنگ چلاتے ہیں۔ ایسے ماحولیاتی جرائم منشیاتی سمگلنگ اور منی لانڈرنگ جیسے دیگر جرائم کے ساتھ ملے ہوتے ہیں۔ 

منظم ماحولیاتی جرائم

مجرمانہ ایکٹر کی کنورجنس کو وضاحت کے لئیے، اینڈریہ کروسٹہ، جو کہ ارتھ لیگ انٹرنیشنل کے ایکزینکٹو ڈائریکٹر ہیں، ایک کہانی بتاتی ہیں: ایک جانے مانے اشیائی سمگلر کی جو کے ایک نا معلوم شمالی امریکن ملک میں شارک کے فنس اور دیگر چیزیں فروخت کرتا تھا۔ 

“پھر ایک دم سے ہم منی لانڈرنگ کے بارے بات کرنا شروع کردیتے ہیں۔” پھر ایک تیسرا شخص بھی آجاتا ہے جو کہ ایک بین الاقوامی ہوائی اڈے میں کسٹمس میں کام کرتا ہے اور سمگلنگ میں مدد کرتا ہے “تقریبا ہر چیز کی، جس میں لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔”

” اس ہی طرح ایک اعلی درجے کا ماحولیاتی جرائم نظر آتا ہے۔” کروسٹا نے بتایا۔ 

“ماحولیاتی زیادتی دنیا کی چوتھی بڑی جرائم پیشہ حرکات میں شامل ہے” یونایئٹڈ نیشنز انوائرمنٹ پروگرام نے 2017 میں لکھا تھا۔  “اس کی حیثیت 258 امریکی ارب ڈالر کے برابر ہے، اور ہر سال بایچ سے ساتھ فیصد بڑھ رہا ہے اور دیگر بین الاقوامی جرائم کے ساتھ شامل ہورہا ہے۔”

 لاگت کا حساب لگانے کا ایک طریقہ مونیٹری اندازہ لگانا ہے۔ یہ بہت اہم کہ سائنسدان جنگلات کی کٹائی، ضرورت سے زیادہ ماہی گیری، اور مختلف حیاتیاتی زندگیوں میں کمی، جانوروں سے تعلق رکھنے والے امراض اور ماحولیاتی بحران ہر اس کے اثرات۔  

ماحولیاتی تبدیلیاں دیگر ماحولیاتی جرائم کی وجہ سے بڑھتی ہیں۔ سب سے زیادہ، غیر قانونی لاگنگ جنگلات کی کٹائی کو فروغ دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ایسی اشیا جو کہ گلوبل وارمنگ میں شامل ہوتے ہیں انکو بلیک مارکٹ میں بیچا جاتا ہے۔ اور ماحولیاتی تبدیلی سماجی اور معاشی برائی کو فروغ دیتے ہیں، جس سے ماحول پر مزید دباو پڑتا ہے۔ 

ذرائع ڈھونڈنا

جہاں پر بدعنوانی، منطم جرائم اور ماحولیتی مجرموں کا گہرا تعلق ہو، وہاں پر ذرائع کا بڑا جال بچھانا ہوتا ہے۔ 

مجرموں میں بہت سے اداکار شامل ہیں، زمینی سطح کے کارکنوں سے لے کر حتمی صارفین تک، اور تمام سپلائی چین، بشمول بدعنوان اہلکار۔ منظم جرائم میں ملوث ہونا عام بات ہے، لیکن کچھ محققین کو ان جرائم میں کئی رنگ نظر آتے ہیں، جن میں سے ایک غیر قانونی جنگلی حیات کی سمگلنگ کو “غیر منظم جرم” کہتے ہیں۔

 ایسی جگہیں جہاں جرائم ہوتے ہیں اورغیر قانونی اشیا کو خریدا جاتا ہے اس کے لئیے بہت سے صحافی اور مبصرین اپنی تحقیق کرنے کے لئیے زور دیتے ہیں۔ باقی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سپلائی چین پر توجہ دیں، اور وہ لوگ جو ماحولیتی جرائم میں مدد کرتے ہیں، فنڈنگ دیتے ہیں اور ماحولیتی جرائم سے فائدہ اٹھاتے ہیں انکو بے نقاب کریں۔ اس کو شروع کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ 

بہترین زرائع مندرجہ زیل ہیں:

غیرحکومتی تنظیمیں، این جی اوز، مقامی اور بین الاقوامی

مقامی شہری

 دیگر قسم کے حکومتی افسران، جس میں تجارتی اور موصلات شامل ہیں

تحفظاتی افسران

قانون نافز کرنے والے افسران

جنگلات میں کام کرنے والے، مچھیرے اور شکاری

سپلائی چین میں کام کرنے والے ، نہ صرف بیچنے والے بلکی وہ بھی کو موصلات کے سیکٹر میں کام کرتے ہیں۔ 

زیرحراست لوگ یا پھر وہ جو ماحولیتی جرائم کے جرم میں جیل میں ہیں

صارفین

گرفتاریوں اورعدالتی کیسوں کی خبریں

جنگلی حیات کے سمگلنگ کیونکہ آنلائن بہت زیادہ ہوتی ہے اس لئیے ضروری ہے کہ ان لیڈز کے لئیے آنلائن ڈھونڈیں۔ ماہرین سے مشورہ لیجئیے کیونکہ خریدار اور بیچنے والے اس خریدو فروخت کا بھیس تبدیل کر کے رکھتے ہیں۔ 

اس کے لئیے ضروری ہے کہ قانونی اور ریگیولیٹری ماحول کو صحیح سے سمجھا جائے اور یہ کہ اس سے کیسے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔

اور مخصوص اشیا کے کاروبار کو سمجھنے کے لئیے وقت لگائیں۔ مثال کے طور پر، 2018 کی رپورٹ ریزنگ افریقہ: کومبیٹنگ کرمنل کونسورشیا ان دا لوگنگ سیکٹر ٹمبر کے کاروبار کو پانچ مختلف مرحلوں میں د یکھا جاسکتا ہے: ایکسٹریکشن، ملنگ، مواصلات، مارکٹنگ، اور منافع لانڈرنگ۔ رپورٹ ایک اور نکتہ کی طرف متوجہ کرتی ہے اور وہ ایک بہت عام سا طریقہ کار ہے کہ غیر قانونی اشیا کو قانونی اشیا کے ساتھ ملا کر رکھنا تاکہ پتہ نہ لگ سکے۔

کیس سٹڈیز

“دے آر فنشنگ دا ٹریز”: چینی کمپنیاں اور نمیبیا کے امیر لوگ آخری روزوڈ کی غیر قانونی لوگینگ میں لاکھوں کماتے ہیں۔ 

آرگنائزڈ کرائم اورکرپشن رپورٹنگ پراجیکٹ نے اپنی تفتیش میں یہ جانچا کہ کیسے محفوظ شدہ ہارڈوڈ کی قسم جیسے افریقن روزوڈ دو چینی کمپنیوں کے ہاتھوں غیر قانونی طور پر کاشت کیا جاتا ہے۔ صحافی جان گرابلر نے اپنے آپ کو ایک لکڑی خریدار کے طور پر پوز کیا حالانکہ انہوں نے بڑے پیمانے پر خود ساخہ سفری مشاہدہ اور انٹرویو کیا ۔ گرابلر نے اندرونی گورمنٹ آڈٹنگ رپورٹ اور سرکاری برآمد ڈیٹا بھی حاصل کیا۔ ان کی اسٹوری ایک چینی مہاجر کی ملکیت کی کمپنی کا لمبا مجرمانہ ریکارڈ دیکھتی ہے۔

بولیویا جیگوار کو”امریکن ٹایئگر” کی سرچ میں ٹارگٹ ہوا

ونیسا رومو کے اس مونگابے آرٹیکل میں یہ پتا چلا کہ چینی اسمگلنگ سے تعلق رکھنے والے جیگوار کے جسم کے اجزا بولیویا سے باہر اسمگل ہورہے ہیں۔ اس تفتیش میں بولیویا سے چلنے والے تین مجرمانہ گروپ کی شناخت کی گئی تھی جس میں سارے کے سارے چینی شہریت رکھتے تھے۔  یہ تفتیش ارتھ لیگ انٹرنیشنل اور ڈچ نیشنل کمیٹی کی انٹرنینشنل یونین فور کنزرویژن آف نیچر کی خفیہ انٹیلیجنس کے تعاون سے ہوئی۔ 

بلگیریا میں جلنے والے آر ڈی ایف میں زہریلہ فضدلہ ہوتا ہے

رپورٹر کیسینیا واکھرشیوہ کے مطابق، یہ ایکسپوسے بتاتا ہے کہ ایسے قوانین اور ناکافی کنٹرول موجود ہیں جس سے جلایا ہوا میونسپل فضلہ فضائی اور صحت کے لئے خطرہ ہے۔

“اٹلی جیسے دیگر ممالک سے درآمد فضلہ عوامی صحت اور حفاظت کے لئیے خطرہ ہوتا ہے کیونلی اطالوی اینٹی مافیہ کارکن کا کہنا ہے کہ انکے ملک میں فضلہ پروسیسنگ  کے قریبی تعلقات ہیں منظم جرائم سے جو زہریلے فضلے کو گھریلو فضلے کے ساتھ ملاتا ہے۔” وکریشوا نے لکھا۔ اس کا اصل آرٹیکل بیلونا۔ رو میں جون 2019 میں شائع ہوا تھا اند روسی زبان سے ترجمہ کیا گیا تھا بلولنک۔انفو میں۔ 

زبردست روسی تیل ہائیسٹ

ریڈیوفری یورپ نے معلوم کیا تھا کہ منظم جرائم انڈسٹریل پیمانے کی چوریاں اور تیل کی فروخت میں ملوس ہیں۔ :منظم پیشہ ورانہ گروپ نہ معلوم مقدار کا تیل غیر قانونی نلکوں اور پائپ سے تاکہ اس لوٹے ہوئے تیل کو پائپ لائن کہ زریعے منتظر ٹرک اور دریا بارجس میں ڈالا جاتا ہے جبکہ ، پولیس اور سیکورٹی افسران انکو حفاظت اور لوجسٹیکل مدد فراہم کرتے ہیں جس کے بدلے میں انکو اس غیر قانونی منافع ملتا ہے،” سرگی کھازو کیسیا کی اس تفتیش کے مطابق۔

یورپ کا ہلا دینے والا جرم

برطانیہ میں واقعے ان جی او انوایرئمنٹل انویسٹیگیشن ایجنسی کے مطابق، انہوں نے غیر قانونی نیٹورک کا شناخت کیا تھا جو کہ رومانیہ کو یورپ میں جانے کے لئیے ایک داخلی راستہ استعمال کرتے ہیں جس میں فرج اور ٹھنڈا کرنے کے لئیے ہائئڈرو فلوروکاربن، گرین ہاوؐس گیسیس شامل ہوتی ہیں۔ 

بڑی تصویر

سرسری معلومات کے لئیے بین القوامی تنظیموں کی رپورٹ دیکھیں: 

اقوام متحدہ آفس آن ڈرگس اور کی دا ورلڈ وائلڈلائف کرائم رپورٹ اور یوان او ڈی سی کی 2020 کی سالانہ رپورٹ عالمی نظریہ فراہم کرتی ہیں

فائینیشنل ایکشن ٹاسک فورس  کی رپورٹ، منی لانڈرنگ اور غیر قانونی جنگلی جانوروں کا کاروبار کی رپورٹ فائنینشل فلوز کے بارے میں بتاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ اور ورلڈ وایڈ فنڈ کی رپورٹ نیچرل ریسورس کرپشن بھی دیکھیں۔ 

کنونشن آن بایولیجیکل ڈایورسٹی  اپنے پاچوے جز ، گلوبل بایوڈرسٹی آوؐٹلک میں جانوروں کے ختم ہونے کو دستاویز کرتا ہے۔

الیگل پیسٹیسائڈ، آرگنایزڈ کرائم اور سپلائی چین انٹیگریٹی، اقوام متحدہ کے انٹرریجنل کرائم اور جسٹس انسٹیٹیوٹ کی ایک رپورٹ ہے۔

این جی اوز بھی ان موضوعات پر زبردست تحقیق کرتی ہیں۔

ٹریفک: دا کیس ڈایجسٹ ۔ این انیشیل انالیسیس آف دا فائنینشل فلوز اور پیمنٹ میکنزم بیہائنڈ وائلڈلائد اینڈ فارسٹ کرائم

وائلڈلائف جسٹس کمیشن: وائلڈ لائف کرائم ۔ دا سافٹانڈر بیلی آف آرگنائزڈ کرائم

ورلڈ وائلڈ لائف فیڈریشن: وائے از منی لانڈرنگ آ کریٹکل اشو ان نیچرل ریسورس کرپشن؟

اوزن پینل کی رپورٹ: آرگنائزڈ کرائم ان دا فشری سیکٹر

تدریسی دنیا سے تحقیق پر مبنی ایک رپورٹ دا کنورجنس اوف انوایریمنٹل کرائم ود ادر سیریس کرائم ۔ ” ماحولیتای جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح اور اس کے ساتھ دنیا پر پونے والے ہولناک نتائج  سے ہمیں یہ اہمیت حاصل ہوتی ہے کہ ہم منظم جرائم کے تنوع کی تفتیش کریں قدرتی وسائل کے غیر قانونی کاروبار کے ساتھ ،” ماہر جرم ڈان پی وان اوم اور اک سی سی نجمان نے لکھا۔ 

تحقیق کے لئیے ٹپس اور ٹولز

خفیہ طور پر کام کرنا

جبکہ قانون نافز کرنے والوں اور این جی او ریسرچرز کے لئیے خفیہ ہونا ایک معمول کے مطابق کام کرنا ہے، یہ پھر بھی خطرے کا باعث ہوتی ہے۔  جرائم کے انڈرورلڈ میں گھسنے سے پہلے صحافیوں کو ایک معیار رکھنا چاہیئے کہ آیا وہ اپنی شناخت کچھ اور رکنا چاہتے ہیں کہ نہیں۔ اس طرح کی رپورٹنگ کاروائی کے خطرات اور فائدے جاننے کے لئیے  انٹرنیشنل سینٹر فور جرنلسٹ کی اس چیکلسٹ کو دیکھئیے۔

“خفیہ تفتیش کی اپنی جگہ ہے لیکن میرے خیال میں یہ آخری آپشن ہونا چاہیئے۔” مصنف جولین ریڈمیر اپنی کتاب کلنگ فور پروفٹ: ایکسپوزنگ دا ایلیگل ہورن ٹریڈ میں خبردار کرتے ہیں۔ سائنسی کے فریلانس صحافی اور انٹرنیوز کے جنوبی سوڈان کے ٹرینر ایستھر نکازی کہتے ہیں کہ، “جن لوگوں سے ااپ کا واسطہ پڑا ہوتا ہے وہ پہلے سے خطرناک ہوتے ہیں تو آپ کو احتیاط برتنی ہوتی ہے۔” نیکوزی اور دیگر لوگ کچھ تجاویز دیتے ہیں جس میں کچھ ٹھوس سیکیورٹی کے اقدامات لینا ہوتا ہے۔ “اگر آپ ملاقات کے لئیے جارہے ہیں تو اپنی لوکیشن اپنے ایڈیٹر اور ساتھیوں سے شیئر کریں۔ دو دو لوگ آپس میں مل کر کام کریں۔ اور قائل کریں۔ کامیاب ہونے کے لئیے ضروری ہے کہ آپ “اپنے کوور میں یقین” رکھتے ہیں ، “بزنس والا ماحول رکھیں” اور “ایسے بات کریں جیسے کہ آپ کے پاس رقم وجود ہے۔”

ڈرون اور سیٹلائٹ کم خطرناک مبادلہ ہیں اگر آپ غیر قانونی مائننگ اور لوگنگ میں کھودنا چاہتے ہیں۔ 

“جیسے ہی آپ کو یہ معلومات ملتی ہے آپ وہاں جانے کے لئیے سڑکیں ٹریک کرنا شروع کردیتے ہیں،” او سی سی آر پی کے بانی پال راڈو نے فوربس کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا۔

” ان لوگوں کو یہ ساری غیر قانونی لکڑی کہیں پہنچانی ہوتی ہے تو آپ کا کام یہ بن جاتا ہے کہ آپ یہ سراغ لگائیں کہ یہ گاڑیاں کس کی ہیں یا وہ کہاں جا رہے ہوتے ہیں۔ اس کے لئیے آپ کیمرے درختوں پر نصب کرسکتے ہیں، کچھ انفراریڈ کے ساتھ اور کچھ آواز ایکٹیویشن کے ساتھ یا ہوائی جہاز کے سینسر کے ساتھ یہ جاننے کے لئیے کی جہاز کب آرہے یا جارہے ہیں وغیرہ۔ براہراسٹ مشاہرے کی ساری سگنل انٹیلیجنس پھر اوپن سورس انٹیلیجنس کے ساتھ ملائی جاتی ہے۔ 

سوشل میڈیا کا استعمال

سوشل میڈیا اب بڑے پیمانے پر اسمگلنگ کی مدد میں استعمال ہوتا ہے۔ سرچ کے ذریعے آپ کو اسٹوری آئئڈیا کے ساتھ ساتھ، زرائع اور اشتبہ افریز کے نام اور تصاویر بھی مل سکتی ہیں۔

ایک درست سرچ ٹرم بنانے کے لئیے سپیشلایزڈ معلوماے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوڈورڈ اکثر استعمال ہوتے ہیں۔ جی آئی جے این نے  تفتیش کرنے والے ماہرین سے بات کی کہ وہ کچھ ٹپس دیں۔ ان کی تجاویز: 

ٹارگٹ اسپیشی کےکیورڈ معلوم کریں

لین دین کے ٹرم استعمال کریں جیسے کہ خرید، آرڈروغیرہ

یہ سوچ لیں کی کن پلیٹفارم پر سرچ کرنا ہے۔ 

اگر سوشل میڈیا پر اینگیج ہورہے ہیں تو اپنی شناخت کی حفاظت کریں۔

یہ دیکھنے کے لئیے کی کیا ہورہا ہے، ہاوؐنڈ آف ایکٹیوں کی ٹویئٹر فیڈ دیکھیں جو کہ ایک گروپ پے “سوشل میڈیا پر جنگلی جانوروں ک کاروبار کو بے نقاب کرنے لئیے۔” 

سٹوری کی کچھ مثالیں: 

انسٹاگرام کے سلیبریٹی دبئی کے انڈرگراونڈ جانوروں کے کاروبار کو کیسے پروموٹ کرتے ہیں، فوکی پوسٹما اف بلنگٹن کی طرف سے۔

آسمان سے اسکرین تک: مائغریٹری کرینس کو انٹرنیٹ سے کیا خطرہ ہے، پاکستان کے ڈیلی پارلیمنٹ ٹائمز کے رفیع اللہ مندوکھیل کی طرف سے۔

فیسبک مارکیٹ پلیس ایڈز کے ذریعے ایمیزوں رینفارسٹ پلاٹس کیسے فروخت ہوتے ہیں، جاوؐ فیلیٹ اور بی بی سی برازیل کہ چرلٹ پیمنٹ کی جانب سے۔

مفید ڈیٹا بیسز

زبرست سے جانوروں کے لئیے سپیشل ڈیٹابیس ہیں۔ ان کی فہرست لمبی ہے لیکن یہاں ان میں سے چند کے نام دیے ہیں۔

سائٹیس ٹریڈ ڈیٹا بیس سب سے بڑا ڈیٹا سیٹ ہے معدوم اور تقریبا معدوم اسپیشی کے قانونی کاروبار کے بارے میں۔ 

گلوبل فشنگ واچ کے پاس ایسا نقشہ کو کہ کمرشل طور ہر لنے والی ماہی گیروں کے ویسل کو ٹریک کرتی ہے۔ 

آئی یو یو فشنگ انڈیکس ملکوں کی آئی یو یو فشنگ کی فشنگ میں ملکوں کا رشپانس اور رجحان سیکھتی ہے۔

ایکوکرائم ڈیٹا ایمیزون بیسن پر فوکس کرتا ہے۔ 

ٹریڈ ریکارڈ

 سمگلنگ میں اکثر جعلی دستاویزات، اشیا کو کوئی اور شکل دینا اور افسران کی رشوت خوری شامل ہوتی ہے۔ 

بینالاقوامی ان جی او جو کہ جنگلی حیات کے کاروبار پر فوکس کرتی ہے انکی جانب سے یہ بریف، کچھ عام سی آئی ڈبلیو ٹی کی بدعنوانی کہ طریقہ کار کے بارے میں بتاتی ہے۔ 

یواین کامٹریڈ ڈیٹا بیس سرکاری بین الاقوامی کاروبار کی اعداد و سمار کو رکھتی ہے جس میں اسکا فوکس جانوروں کا وانونی کاروبار شامل ہے۔ لیکن درآد اور برآمد معلومات نے کافی دلچسپ نکات کے ساتھ ساتھ لیڈز پرروشنی ڈالی ہے ۔  

“بلزآف لیڈنگ” جو کے شپمنٹ کے دستاویز ہوتے ہیں یہ معلوماتی سونے کی کان ہوتے ہیں جس سے شپنگ کرنے والی پارٹی کی معلومات، کہاں اور کس کے پاس جارہی ہے اور انکے دستخط ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ معلومات کئی ملکوں میں عوامی معلومات نہیں ہوتی۔ لیکن یہ امریکہ، بھارت اور دیگر لطانوی ممالک میں دستیاب ہوتی ہے جس میں پناما اور پیرو بھی شامل ہیں۔

مختلف قسم کے ٹریڈ ریکارڈ استعمال کرتے ہوئے آپکو کمپنیوں کے نام، جس میں کئی فرنٹ کمپنیاں ہوتی ہیں اور لوگوں کے نام مل سکتے ہیں۔ کچھ صحافیوں کو ٹریڈ اور شپنگ کی کمرشل سروسزسے فائدہ ہوتا ہے جو کہ یقینی طور پر فائہ مند ہوتی ہے لیکن مہنگی بھی۔ اس مین پنجیوا، امپورٹ جینیس اور ایکوسیس شامل ہیں۔ 

کولمبیا یونیورسٹی کی صحافتی پروفیسر جینینا سیگنینی سپنگ کنٹینر اور بلز آف لیڈنگ جیسے موضوعات پر بات کرتی ہیں ایک سلایئڈ پریزینٹیشن کے ذریعے۔ انی سلائڈز لرننگ کسٹم لینگیویج ٹو ٹریک شپمنٹ بھی ضرور دیکھئیے۔ 

اس کے ساتھ ساتھ دیگر اوپن سورس تفتیشی اسکلز بھی مفید ہوتے ہیں جیسے کہ یہ جاننا کہ کمپنی کی اصل ملکیت کس کی ہے۔ 

 گرفتاری کے ریکارڈ

 شپمنٹ کی پکڑ اور گرفتاری کی اخباری رپورٹ اور ڈیٹابیس اسمگلنگ کے بارے میں اپم معلومات دیتی ہیں۔ 

بھارت سے ایسی اسٹوریز (غیر قانونی ٹمبیر لوگنگ) اور آسٹریلیا سے (کاک فائئٹینگ) ہمیں ضروری لیڈز دے سکتی ہیں۔

اںٹرنیشنل پالیسی ڈائجسٹ سے ایک ارٹیکل میں مغربی افریقہ کے کارٹل “سا انٹرپرائز” نے جنگلی حیات کی اسمگلنگ نے گرفتاری کے ریکارڈ سے مدد لی تھی۔ مونگابے ے سرکاری دستاویزات کے مدد لیتے ہوتیے ایک غیر قانونی سونے کی کان کا آپریشن کو ریکنسٹرکٹ کیا تھا جس کو ایک مجرمانی نیٹورک لوز ٹاپوس یا دا مولز چلا رہا تھا۔

گرفتاری کے ڈیٹا بیس میں شامل ہیں:

ٹریفک کی دا وائلڈ لائف ٹریڈ پورٹل، جو کہ ایک انٹریکٹو ٹول ہے جس میں ٹریفک پکڑ اور واقعات سے متعلق اوپن سورس ڈیٹا دیکھاتا ہے۔ اس پورٹل کو آسانی سے سرچ کر سکتے ہیں، جس میں نتائج نہ صرف فہرست کی شکل میں دیکھ سکتے ہیں بلکہ ڈیشبورڈ کی طرح بھی۔

واشنگٹن میں واقع ان جی او، سی فور اے ڈی ایس کی جانب سے دا وائلڈ لائف سیژر ڈیٹابیس۔ اس کی رسائی بزریعہ ای میل ہوسکتی ہے: info@c4ads.org

گلوبل اینوائرمنٹل کرائم ٹریکر جس کو یوکے کی این جی او اینوایرمنٹل انویسٹیگیشن ایگنسی نے تشکیل دیا ہے۔

عدالتوں کی ریسرچ

گرفتار ہونے والوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے اس کی تفتیش رپورٹنگ کے لئیے اچھے نظریات بھی آفر کرتی ہے۔ “ماحولیاتی جرائم کو اڈریس کرنے کے لئیے قانون کی حکمرانی کو لاگو کرنا ہے،” اگراپے انسٹیٹیوٹ کے شریک بانی روبرٹ مگاہ نے مونگابے کو انٹرویو میں کہا۔

یہ ریکارڈ قومی ہوتے ہیں اور انکی رسائی مشکل ہوتی ہے لیکن انکو جمع کر کے دیکھنے سے آپ ایک اسٹوری بنا سکتے ہیں۔ 

جنیوبی افریقہ کی تفتیشی صحافتی تنظیم، دا آکسپیکر سینٹر فور انویسٹیگیٹو انوایرمنٹل جرنلزم نے ایسی کئی ڈیٹا بیس بنائی ہوئی ہیں کجو صحافیوں کی طرف سے صحافیوں کے لئیے ہیں جس کے زریعے وہ جنگلی حیات کے کاروبار میں سزاوؐں کو ٹریک کرسکتے ہیں۔ #WildEye یورپ ک دیکھتا ہے،  #WildeyeAsia جزیرے میں ہونے والے جرائم کو دیکھتا ہے، اور RhinoCourtCases شمالی افریقہ میں ہونے والے کیسز کو دیکھتا ہے۔ 

اوردیگر مجموعوں کو دیکھیں خاص کر کے قومی سظح پر، مثال کے طور پر، بھارت میں وائلڈ لاوئف پر وٹیکشن سوسائٹی آف انڈیا (ؐWPSI) نے وائلڈلائف کرائم ڈیٹا بیس بنایا ہوا ہے۔ 

________________________________________________

ٹوبی ماکینٹاش جی آئی جی این کے ریسورس سینٹر کے سینئر مشیر ہیں۔وہ 39 سال تک واشنگٹن میں بلومبرگ بی این اے کے ساتھ رہے۔ 2010-2017 سے فریڈم انفو کے سابق ایڈیٹر ہیں، جہاں انہوں نے دنیا بھر میں ایف او آئئ پالیسیوں کے بارے میں لکھا، اور ایف او آئی نیٹ کی سٹیئرنگ کمیٹی میں کام کرتے ہیں، جو ایف او آئی کی وکالت کا بین الاقوامی نیٹ ورک ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *