کیس سٹدیز
صحافی روس میں نیوالنی تحقیقی ٹیم سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
زیادہ تر وکلاء پر مشتمل اس بغیر نافع کے لئے قائم ادارے کے بہت واضع سیاسی مقاصد ہیں، ریاستی بدعنوانی کو ختم کرنا اور پیوٹن کو اسکے عہدے سے ہٹانا، واضع رہے کہ یہ ایک صحافتی ادارہ نہیں ہے
زیادہ تر وکلاء پر مشتمل اس بغیر نافع کے لئے قائم ادارے کے بہت واضع سیاسی مقاصد ہیں، ریاستی بدعنوانی کو ختم کرنا اور پیوٹن کو اسکے عہدے سے ہٹانا، واضع رہے کہ یہ ایک صحافتی ادارہ نہیں ہے
ایک چھوٹا لیکن با اثرمہانہ میگزین، کاروان، کے دفاتر نئ دہلی میں واقع ایک سووئیٹ اسٹائیل کی عمارت ک تیسری منزل پر موجود ہیں
وسکونسن میں مقیم فری لانس رپورٹر اور مصنف ہاورڈ ہارڈی آن لائن ہراساں کرنے اور غلط معلومات کے مابین غیر پیچیدہ رابطے کے بارے میں لکھتے ہیں ، اور انفرادی رپورٹرز اور نیوز روم اس کے بارے میں کیا کر سکتے ہیں۔
سن کالک کی مدد سے سائے اورسورج کی پوزیشن کا کسی بھی متعیّن تاریخ اور وقت میں پتا چلایا جاسکتا ہے۔ آپ اس ایپ پر کسی ایک تاریخ کا انتخاب کریں، پھرکسی ایک مقام پر زوم اِن کریں۔
کرونا وائرس کی وَبا کے ابتدائی دنوں میں میڈیا کو فنڈ مہیا کرنے والی لومینیٹ فاؤنڈیشن سے تعلق رکھنے والے نشانت للوانی نے ہمیں بتایا کہ اب تک سامنے آنے والی تجاویز چار زمروں میں شمار کی جاسکتی ہیں: فاؤنڈیشن کے لیے عطیات( فنڈنگ) میں اضافہ کیا جائے، سرکاری زرِتلافی، نئے کاروباری ماڈل کے لیے رقم بڑے ٹیکنالوجی اداروں سے حاصل کی جائے۔
جب فریلانس صحافی سوفیا ہوانگ نے جنسی زیادتی کے کیس کی تفتیش شروع کی تو وہ ہر ملنے والے مظلوم سے کہتی تھیں کہ “اپنی کہانی بتانا ایک بات اور عوامی طورپر ملظم کا نام لینا الگ بات ہے۔”
ان تمام اخباری کہانیوں کا ایک ہی انداز تھا۔ ان میں سے ہر کیس میں انھوں نے ان افراد کو ہدف بنایا تھا جو ریاست کی چھتری تلے کام کررہے تھے۔ تب جنوبی افریقا کے صدر جیکب زوما کے مقرب بدعنوان افراد نے اہم ریاستی اداروں اور عہدوں کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے رکھا تھا اور وہ ان کو بروئے کار لاکر بدعنوانیاں کررہے تھے۔ ان اسٹوریوں کے نتیجے میں ریاست کو اپنے ہاتھ میں لینے والے ان افراد کو عہدے چھوڑنا پڑے تھے اور ان کی جگہ صدر جیکب زوما کے زیادہ وفادار افراد کو عہدوں پر مقرر کیا گیا تھا۔
ہم رپورٹنگ کےعرض، اقسام اورزاویے بھی ظاہر کرنا چاہتے تھے۔ کیوںکہ بہت سے ممالک جہاں ہم کام کرتے ہیں, وہاں پر سماجی اورماحولیاتی اثرات پربہت ٹھوس رپورٹنگ دیکھتے ہیں۔ لیکن ہم ریاست کی ملکیت کے انٹرپرائز سے ہونے والے عوامی سرمایہ کاری اور آمدنی کی تنظیم پرمالی اثرات نہیں دیکھ پاتے ہیں- ریاست کی جیب میں جانے والی رقم کا کیا ہوتا ہے؟
ہم نے صحتِ عامہ کی تحقیقات کے لیے ایک جامع نئی گائیڈ پیش کررہے ہیں۔ اس کو کیتھرین ریوا اور سیرینا ٹیناری نے لکھا ہے