منشیات کی اسمگلنگ کی تفتیش کے لئیے ایک صحافی کی گائیڈ

Print More

منشیات کی اسمگلنگ

جی آئی جی این کی نئی گائیڈ ‘منظم جرائم کی تحقیق کا طریقہ کار سے ایک پیشکش ہے۔ یہ گائیڈ نومبر میں ہمارے عالمی کانفرنس پر لانچ کی جائے گی۔ اس کا یہ حصہ منشیات کی اسمگلنگ پر مرکوز ہے۔ جی آئی جے این کے رکن انسائٹ کرائم کے شریک ڈائریکٹر اور شریک بانی اسٹیون ڈڈلے نے اسے لکھا  ہے۔ 

منشیات کی اسمگلنگ دنیا کا سب سے منافع بخش غیر قانونی کام ہے جس کی مالی حیثیت سالانہ 500 ارب ڈالر کی لگ بھگ ہوتی ہے، جو کہ سوئیڈن کے گراس ڈومیسٹک پراڈکٹ (جی ڈی پی) کے مقابل ہے۔ یہ ایک بہت بڑا ذریعہ ہے صحت سے متعلق مسائل اور اس کے ساتھ جری عوامی صحت کی قیمت، تسادم اور تشدد، سیاسی اورمعاشی گڑبڑ اور بہت کچھ ۔ اس مسائل کی کووریج زیادہ تر کنگپنس کی طرف فوکس رہتی ہے یعنی وہ کھلاڑی جو بین الاقوامی مجرمانہ تنظیموں سے منسلک ہوتے ہیں اور انکے ساتھ کے زیریں کام کرنے والے۔ لیکن اس کاروبار کی کئی تہ، لوگ اور مسائل ہیں جو کہ کوور کرنے کے قابل ہیں۔ 

زیادہ بڑے پیمانے پر کام کرنے والی مجرمانہ تنظیمیں ایک بڑی ڈسٹریبیوشن چین چلاتی ہیں۔  یہ چین دیگر اشیا کے نیٹورک کی طرح ہوتی ہیں: ایک زرائع کا ایریا ہوتا ہے، ڈسٹریبیوشن کے چینل ہوتے ہیں، کانسنٹریشن حب ہوتے پہں، پروسیسینگ اسٹیشن ڈسپیچ پوائنٹ اور صارفین کے ڈسٹریبیشن سینٹرز وغیرہ ہوتے ہیں۔ اس میں سے ہر کوئی یا تو ایک ہی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں یا تیسری پارٹی کانٹریکٹر ہوتے ہیں۔ کچھ صورتحال میں تیسری پارٹی کانٹریکٹر اتنا پیسہ کماتے ہیں کہ وہ اپنی ہی طاقتور مجرمانہ تنظیمیں تشکیل کرلیتے ہیں۔ 

مثال کے طور پر وسطی امریکہ کے منشیات کے ٹرانسپورٹ گروپ جن کو کانٹریکٹ پر منشیات کو چھوٹے فاصلوں پر ٹرانسپورٹ کے لئے رکھا جاتا ہے، خطے کی طاقتور تنظیموں میں شامل ہیں۔ خطے میں ایسے کئی زیر گروپ ہیں کو منی لانڈرنگ میں مہارت رکھتے ہیں۔ پولیس اور فوج میں ایسے کئی لوگ شامل ہوتے ہیں جو انکی حفاظت میں مہارت رکھتے ہیں۔ 

ظاہرہے ان میں سے کوئی بھی تنظیم ٹاپ کوورکے بغیرکام نہیں کرتا۔ یہ ٹاپ کوور سیاستدانوں، قانون نافز کرنے والو پراسیکیوٹر، ریگیولیٹر اور دیگر لوگوں کی مدد سے آتا ہے جو کے مجرمانہ تنظیموں کے بزنس کے مقاصد کی حفاظت کرتے ہیں۔  اس حفاظت کے معاوضے میں انہیں رشوت کے پیسےاور دیگر کیپٹل ملتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک سیستدان اپنی تحریک کی مدد لے سکتی ہے جس میں اتحادیوں براہراست پیسے مل سکتے ہیں اور معاشی انویسٹمنٹ کا وعدہ ملسکتا ہے۔ بینکرزاورمعاشی الیٹس بھی منشیات کی اسمگلنگ کرنے والوں کے لئیے خاموشی سے اپنے دروازے  کھول دیتی ہیں تاکہ سرمایہ کاری اورکیش آنے کے مواقعے بڑھیں۔ اور وقت کے ساتھ ساتھ ، یہ منشیات کے اسمگلر حکمران طبقے کا حصہ بن جاتے ہیں جس میں امیر لوگوں کی پوری کی پوری دوبارہ تشکیل ہوجاتی ہے۔  

منشیات کی اسمگلنگ کے اور بھی ذیلی نتائج ہیں جو کوور کرنے کے قابل ہیں۔ منشیات کی بڑھتا ہوا استعمال جس سے نشے کے مسائل ہوتے ہیں اور صحت کے فراہمی بھی مہنگی ہوتی ہے، منشیات کی اسمگلنگ کے کاریڈورز اور بیچنے کے پوائنٹس میں تشدد، شہری تصادم جو کہ منشیات کی اسمگلنگ کی نقل وحرکت سے ہوتے ہیں ، منشیات کے جائز قانون بننا اور اسکو غیر مجرمانہ قراردینا،  منشیات کی اسمگلنگ سزا دینے والی اسکیموں سے ہونے والی تباہکاریاں جیسے کہ امریکہ کی وارآن ڈرگس وغیرہ شامل ہیں۔

اہم سوالات: ذرائع کون ہیں؟ تحقیق کیسے کرتے ہیں؟ شروعات کہاں سے کریں؟ 

منشیات کی اسمگلنگ کو کوورکرنا مشکل اور خطرناک ہوتا ہے۔ معلومات کم ہوتی ہے، اور ڈیٹا بھی شکی ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ، منشیات کی اسمگلنگ کی پبلک پالیسی متنازعہ ہیں، جیسے کہ سزا دینے کے طریقہ کار حکومت کے سستونوں میں شامل ہوتے ہیں اور ان پالیسیوں کے ساتھ ہونے والی تباہکاریاں کافی پھیلی ہوتی ہیں۔

زیادہ ترحالات میں، بہتر یہ ہوتا ہے بہترین ڈیتا کے ساتھ شروعات کریں۔ منشیات کی اسمگلنگ کے ٹرینڈز کو سرکاری اور مقامی زرائع سے حاصل کیا جاسکتا ہے اوردیگر ایجنسیاں جیسے کہ اقوام متحدہ اور امریکہ کی گورنمنٹ جو کہ منشیات کی اسمگلنگ کے ٹرینڈ پر نظر رکھتے ہیں۔ خاص کر، یونائیٹڈ نیشنز آفس آن ڈرگس اینڈ کرائم (یو ان او ڈی سی) اوریوایس اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ باقاعدہ رپورٹس جاری کرتے ہیں کو کہ مقامی ذرائع سے ہی تشکیل جاتی ہیں۔

لیکن ان سب صورتحال میں، احتیاط سے کام لیجئیے: منشیات کی اسمگلنگ کا ڈیٹا خاص کر انکے ہتھیانے کا ڈیٹا تصویر کا کچھ ہی حصہ دکھاتے ہیں اور حقیات کو مسک کرسکتے پہں۔ مثال کے طور پر، ایک حکومت جو کڑی نظر رکتھی ہو، منشیات کے ضبط میں بہت سرگرم ہو، لیکن اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اس کے بارڈر سے زیادہ منشیات گزر رہی ہوں۔ اس کے برعکس، ایک گوورمنٹ جو کہ غیر فعال اور کرپٹ ہو کم منشیات ضبط کررہی ہو لیکن اسمگلنگ کی نقلو حرکت کا اڈہ ہو۔ 

منشیات کی اسمگلینگ کا کام کیسے چلتا ہے اسکو سمجھنے کے لئیے بہتر ہوگا کہ انکے پاس جائیں جو اس کاروبار میں ہیں۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ منشیات اسمگلر تک رسائی ہو یا انکے بیانات عدالتی دستاویزات میں دیکھ سکیں۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انکے وکیلوں تک جائیں جن کے پاس معلومات ہوتی ہے اور جو شاید اپنے کلائینٹ تک رسائی بھی دیدیں۔ اور، آپ ایک عوامی عدالتی سماعت یا مقدمے میں بھی شرکت کرسکتے ہیں۔ 

اس کے برعکس، آپ قانون نافز کرنے والوں اور انٹیلیجنس کے ذرائع حاصل کرنے کے لئیے محنت کریں۔ کاونٹر ڈرگ یونٹ میں پولیس اور پروسیکویٹربلخصوص مدد کرتے ہیں۔ اگر وہ کسی کیس میں آپکی مدد نہیں کرسیکں گے تو وہ آپ کو یہ بتادیں گے کہ عام طور ہر یہ کاروبار کیسے چلتا ہے، آپکو کہاں دیکھنا چاہئے اور انکے علاوہ آپکوکس سے بات کرنی چاہئیے۔ لیکن محتاط رہئیے گا، قانون نافظ کرنے والے اور انٹیلیجنس ذرائع منشیات کے کاروبار کے بارے میں  اپنے بیانیے  کو فروغ دیتے ہیں اور اس سے مقابلہ کرنے کے لئیے اپنے کام کی تاثیر پر زور دیتے ہیں۔ 

اس دوران، آپ عدالتی دستاویز حاصل کرنے میں لگے رہیں۔ یہ عام طور پر عوامی ریکارڈ ہوتے ہیں ۔ آپ انکی درخواست کرسکتے ہیں ملک کے عوامی ریکارڈ کے قانوں کے مطابق۔ ان قانوں کے بارے میں جانئیے کہ انکو کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایسی خصوسی تنظیمیں بھی ہوسکتی ہیں جو آپ کے لئیے درخواست کرسکتی ہیں یا آپکی درخواست ڈالنے میں مدد کرسکتی ہیں تاکہ کامیابی کے مواقع بڑھ سکیں۔  

جیسے کہ بتایا، ایسی کئی منشیات کی اسمگلنگ سے متعلق اسٹوریز ہیں جوآپ کرسکتے ہیں۔ اس میں زرائع الگ ہوتے ہیں لیکن عام طور پر طریقہ کار ایک ہی ہوتا ہے: ڈیٹا ڈھونٹیں، پرائمری ذرائع کو ڈھونڈین، انکو سیکنڈری زرائع کے ساتھ رکھیں اور عدالتی اور سرکاری دستاویزات دیکھیں۔ 

منشیات کی اسمگلنگ

کیس اسٹڈیز

گواٹمیلہ کے وزیر داخلہ

2012 میں وزیر داخلہ بننے کے ایک سال بعد، ماریسیو لوپیز بونیلا، جو کہ ایک آرائش زدہ سابقہ ملٹری آفیسررہ چکے ہیں انکومارلری چاکون راسیل کی طرف سے غیر متوقع پیغام ملا۔ یوایس ٹریژری ڈپارٹمنٹ نے چاکون کو اپنی کنگپن کی فہرست میں ڈالا تھا، جو کہ ٹاپ ٹارگٹ لسٹ تھی منی لانڈرنگ اور منشیات کی اسمگلنگ کرنے والوں کی۔ لیکنن چاکون کے پاس لوپیز بونیلا کے لئیے ایک آفر تھی: مجھے گورمنٹ کی گاڑیوں اور باڈی گارڈ کے ذریعے دوسرے منشیات اسمگلر سے حفاظت دیں اوع اسکے بدلے میں خوب ساری رقم لے لیں۔ لوپیذ بونیلا اس ڈیل کے لئیے راضی ہوگئے۔

انہوں نے بعد چاکون کے ساتھ براہ راست میٹنگ میں بہت بھاری معاوضے لئیے۔ لیکن انکو نہیں معلوم تھا کی ڈرگ انفورمنٹ ایڈمنسٹریشن نے چاکون کی رہائشگاہ میں ریکارڈنگ کے آلات اور وڈیو کیمرے نصب کئیے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق وہ ایک تعاونی گواہ تھیں۔ یہ انسائیٹ کرائم اسٹوری جو میں نے لکھی تھی قہ اس تعلق کا پیچھا کرتی ہے جو وہ اس وقت کے وزیر داخہ نے جعل سازی طور پر بنائے رکھے تھے، جو کہ اس وقت منشیات کے اسمگلر کے ساتھ کام کر رہے تھی اور امریکی حکومت کے گواٹمیلہ بہترین اتحادی کے طور پرابھر رہے تھے۔ اس کے لئیے انہوں نے چاکون کے بیانات پرانحصار کیا جو انکے وکیل کے ذریعے لائے گئے، ڈی ای اے ایجنٹ اور گواٹمیلہ کہ تفتیشی اہلکاروں اور قانون نافز کرنے والوں کے انٹرویو اور انٹرویو کو لاپیز بونیلا نے خود دئیے تھے۔ اسٹوری شائع ہونے کے دو مہنے بعد، لوپیز بونیلا کو منشیات کی اسمگلنگ کے جرائم میں امریکہ میں فرد جرم عائد کر دی گئی تھی۔

مالی نارکو ٹیرر ٹریپ 

2009 میں،  ڈی ای اے نے وسطی افریقہ میں اسٹنگ آپریشن منعقد کیا۔ میز کی ایک طرف تین ملین شہری تھی جن کا القاعدہ سے منسلک ہونے کا دعوہ تھا اور انکا کہنا تھا کے سہارن صحرا سے یورپ کی منشیات کی اسمگلنگ میں وہ مدد کرسکتے ہیں۔ میز کی دوسری طرف دو آدمی تھے ، ایک خوفیہ ڈی اے ایجنٹ اور دوسرا ایک ادا شدہ مخبر، دونوں ریولوشنری آرمڈ فورسز آف کولمبیا کے امینشری کا تعصب دے رہے تھی جو کوکین کو ٹرانسپورٹ کرانا چاہتے تھے۔

اس میٹنگ کے کچھ دیر بعد ہی تینوں ملینوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور پھر امریکہ لے جایا گیا تھا جہاں پر انکا مقدمہ ہوا اور وہ نارکو ٹیررزم میں سزا ہوگئی تھی۔   جنجر تھامپسن کی پروپبلیکا کی اسٹوری یو ایس قانون نافز کرنے والون کی رسائی کی بات کرتا ہے جو کئ نارکو ٹیریزم اسٹیوٹیو کو استعمال کرکے کیا جاتا ہے۔ 

جبکہ دہشت گرد گروپ اور منشیات کے اسمگلر کے کچھ کنیکشن دستاویز ہوئے ہیں، انکا اسکوپ محدود ہے اور اسٹوری انکو وکالتی مثالوں اورانٹرویو کی مدد سے تفصیل سے بتاتا ہے ۔ اسٹوری میں ملزمان اورانکے زندگیوں کے ایسے قریبی اور نجی، ہلا دینے والے لمحات بھی ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ امریکی قانون نافز کرنے والوں کے طرف سے  انصاف کے لئیے آگے بڑھنے والوں کے لئیے کھلی نظراندازی ہے۔ 

سیکلر فیملی کے یو ایس اوپیآئیڈ تنازعہ میں ملوسگی

ہمیں ایسے نہیں سوچتے لیکن دوائیاں بنانے والی کمپنیاں، جانتے ہوئے اور کبھی کبھار نہ جانتے ہوئے ایک بڑے پیمانے میں غیر قانونی کاروبار میں ایک بڑا کردارادا کرتی ہیں۔ یہہی کیس پرڈیو فارما کا تھا جو کے سیکلر فیملی کی ملکیت ہے اور جس نے کئی سال بہت ہی نشہ آور آکسیکانٹن کو امریکہ میں اوپیآئیڈ کے لیے زور لگایا۔ کمپنی نے بہت ہی پر زور اور غیر اخلاقی مارکٹننک کی تحریک چلائی جو کہ نشے سے متعلق بہت ہی کم سائنسی ڈیٹا پرمشتمل تھی۔ جب ڈاکٹروں نے نسقے کم کئیے تولوگ دیگرغیر قانونی اوپیآئیڈ کی طرف چلے گئے: پہلے ہیرون اور بعد مسنوئی طور پر تیار شدہ فینٹانیل۔ نتائج کچھ یوں تھے کہ ڈوز کی زیادتی سے اموات آسمان کو چھو گئیں۔  پیٹرک ریڈن کی دا نیو یارکرکی اسٹوری میں انہوں نے فیملی کے قانونی کاروایوں کے وجہ سے ہونے والے عروج اور زوال کے بارے لکھا ۔ آرٹیکل کے مطابق، فیملی نے اپنے کرتوت کو کئی انسان دوست تحائف کے ذریعے وائٹواش کرنے کی کوشش کی جس میں نیو یارک کے میٹروپولیٹن میوزم آف آرٹ کی ایک ونگ تشکیل کرنا اور دنیا بھر کے دیگرآرٹ میوزیم اور یونیورسٹیوں میں عطیات فراہم کرنا تھا۔ 

منشیات کی تفتیش کرنے کی ۵ ٹپس اور ٹولز

۔ کم دراصل زیادہ ہوتا ہے: کوشش کریں کے ایک کیس پر فوکس کریں، ایک کریکٹر، ایک اسٹوری لائن پر۔ اس سے آپکو تفتیش کو محدود رکھنے میں مدد ملے گی اوربہترقابل انتظام ہوگی۔ 

۔ پرائمری ذرائع ڈھونڈیں: اپنی تفتیش بنانے کے لئیے انٹرویو کے ذرائع یا پرائمری زرائع کا مواد پکا کرلیں۔ اس سے آپکو انسانی اسٹوریز دلچسپ اور تفصیلی انداز میں بتانے میں مدد ہوگی۔

۔ ذرائع صبراور خیال سے بنائیں۔ زبردست اسٹوریز پہلے ہی کوشش مین نہین بن جاتیں۔ رابطے بنائیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان زرائع سے رابطہ کرتے رہیں اور تعلق بنائیں جو کہ ایک اسٹوری سے آگے بڑھ کر ہو۔

۔ گہرائی میںں جائیں: منشیات کے اسمگلر کی اسٹوریز نہ صرف زبردست اسٹوریز ہوتی ہیں بلکہ ساختی اورسسٹمک مسائل اور ہماری زندگیوں کے مختلف زاویوں کو کھودنے کے بڑے مواقع بھی ہوتے ہیں۔ منشیات کی اسمگلنگ کی اسٹوریز سے اپنی آڈینس کو راغب کریں اور اس موقع کو اور دیگر مسائل پر بات کرنے کے لئیے استعمال کریں۔ 

حفاظت پہلے ہے: زبردست اسٹوریز کو ڈھونڈنا کا ہر گز مقصد یہ نہیں ہے کہ دلچسپ ، فرسٹ ہینڈ کہانیوں کے پیچھے آپ شہید ہو جائیں۔ ایسی اسٹوریز کیجیے جو آپ کے لئیے مناسب ہوں ، جو آپکے ایڈیٹر اور پبلشر تعاون کریں اور جو ناکہ آپ کی یا آپکے پیاروں کو خطرے میں ڈال دیں۔ 

آخر میں، منشیات کی اسمگلنگ ایک کاروبار ہے ہے جو کہ بارڈر کراس کر کے شہراور گاوؐن میں یکساں ہوتا ہے اور جس میں ہر ذات اور نسل شامل ہوتی اور ہر عوامی اور نجی زندگی پر اثر ہوتی ہے۔ اس کو ایکے کوور کریں۔ اسکو چھوٹے حصوں میں کرلیں جو اس بزنس کو بناتی ہیں، اور اسکے پیچھے سیاست اور معاشیت کو سمجھیں اور اسکے ساتھ اس کو چلانے والے اور اس سے متاثر ہونے والے لوگوں کی کہانیاں بتائیں۔

_______________________________________________

سٹیون ڈڈلی انسائٹ کرائم کے شریک بانی ہیں اور ڈائریکٹر، اس اقدام کا مقصد امریکہ میں منظم جرائم کی نگرانی ، تجزیہ اور تفتیش کرنا ہے۔ ڈڈلی امریکن یونیورسٹی کے سینٹر فار لاطینی امریکن اور لاطینی سٹڈیز آف واش میں سینئر فیلو ہیں ، ڈی سی ، اینڈیئن خطے میں میامی ہیرالڈ کے سابق بیورو چیف ، اور ‘MS-13: دی میکنگ آف امریکہ کا انتہائی بدنام گروہ’ کے مصنف ہیں۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *