معلومات تک رسائی بارے گلوبل گائیڈ

English

معلومات تک رسائی کیلۓ قانون کا تالا کھولنے کا عمل

اسوقت 115 ممالک میں ایسے قوانین ہیں جو حکمرانوں پر یہ لازم قرار دیتے ہیں کہ وہ عوامی ریکارڈ تک عام شہریوں کی رسائی کو آسان بنائیں جدھر ایسے قوانین موجود نہیں وہاں پر بھی اسطرح کا ریکارڈ مانگنے میں کی کوشش ضرور کرنی چاہئیے معلومات تک رسائی والے قانون کو استعمال کرنے کے بڑے فوائد ہیں یہ مختلف ممالک میں مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے جیسا کہ معلومات کی آزادی کا قانون، معلومات تک رسائی کا قانون, معلومات بطور حق والا قانون اور جاننے کے حق کا قانون

کورونا بارے تازہ ترین:
اس بارے معلومات حاصل کرنے کیلئے گلوبل انویسٹیگیٹو جرنلزم نیٹ ورک نے کچھ طریقے بتائے ہیں جنہیں استعمال کرتے ہوئے دنیا بھر کے صحافی اپنے ممالک میں ان قوانین کا اطلاق کرتے ہوئے معلومات تک رسائی کی کوشش کرسکتے ہیں

کورونا وائرس بارے ہزاروں کہانیاں عوامی ریکارڈ میں دفن پڑی ہیں وہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ معلومات تک رسائی کے قوانین کو ان کیلئے کیسے استعمال کیا جائے یہ اسٹوری آئیڈیاز Poynter اور BuzzFeed کے صحافیوں نے دئیے ہیں

معلومات کے حصول کیلئے درخواستیں دائر کرنے بارے راہ نمائی کیلئے بہت سا مواد موجود ہے گلوبل انویسٹیگیٹو جرنلزم نیٹ ورک نے اس ضمن میں ایک گلوبل گائیڈ تیار کی ہے تاکہ کسی بھی ملک میں رہنے والے تحقیقاتی صحافی اس سے بھرپور استفادہ کر سکیں یہ مواد تین حصوں میں رکھا گیا ہے

طریقہ استعمال : یہاں مختلف قوانین کے بہترین انداز میں استعمال کے حوالے سے مختلف ماہرین کی رائے دستیاب ہے

قابل تقلید مشورے: یہاں پر آپ ان صحافیوں کی رائے سے مستفید ہو سکتے ہیں جو ان قوانین کے استعمال کے حوالے سے بہت سرگرم ہیں
گلوبل ریسورسز: یہاں ہر ملک کے قوانین بارے الگ سے راہنمائی اور وہاں کے قومی سطح کا اس بارے مواد پڑا ہوا ہے
دوسرے ممالک سے معلومات کے حصول بارے راہنمائی: یہاں پر اس بارے راہنمائی موجود ہے کہ کن ممالک کے قوانین میں غیر ملکیوں کو بھی معلومات کے حصول بارے درخواست دینے کی اجازت ہے

یہ گائیڈ ٹوبی مکانتوش نے تیار کی ہے جو گلوبل انویسٹیگیٹو جرنلزم نیٹ ورک کے ریسورس سنٹر کے ڈائریکٹر ہیں اور اس سے پہلے وہ ایک غیر منافع بخش ویب سائٹ FreedomInfo.org کا ایڈیٹر رہ چکے ہیں یہ ویب سائٹ دنیا بھر میں معلومات تک رسائی بارے دنیا بھر میں نافذ العمل قوانین بارے ہے اس سے قبل ٹوبی بلومبرگ بی این اے کیساتھ 39 سال کام کر چکے ہیں اور اس دوران بہت سی معلومات کے حصول بارے درخواستیں دائر کر چکا ہے علاوہ ازیں اس بارے مختلف ممالک کی پالیسیوں پر لکھا ہے وہ اس بارے قائم ایک بین الاقوامی نیٹ ورک FOIANet کی سٹئیرنگ کمیٹی کے بھی رکن ہیں