رسائی

ٹیکسٹ سائیز

رنگوں کے اختایارات

مونوکروم مدھم رنگ گہرا

پڑھنے کے ٹولز

علیحدگی پیمائش

Изображение: Shutterstock

وسائل

موضوعات

منی لانڈرنگ کی تفتیش کیسے کریں

یہ مضمون ان زبانوں میں بھی دستیاب ہے

پچھلی دودہائیوں میں میں نے کئی مجرموں پر تفتیش کی جو کہ دنیا کے سب سے بہترین خودساختہ کاروباری ہو سکتے تھے۔ ان کے پاس سب کچھ ہے: وسائل، تخلیقی صلاحیت، تیز سوچ، حوصلہ افزائی، نیٹورک اور لیڈ کرنے کی صلاحیت اور رسک کی طرف غیرمعمولی کشش۔ اس میں سے کئی بزنس دنیا کے ایلون مسک جیسے صلاحیت رکھتے ہوں گے لیکن انہوں نے جرائم کو چنا اور انکی مہارتوں نے انکو خطرناک اور ناپسندیده شخص بنا دیا۔

یہ بڑا سوچتے ہیں اور ان کے بزنس ارادے بہت سادہ ہیں : "زیادہ مظلوم، اورزیادہ پیسہ۔” اورانکی زندگیاں آسان اس طرح ہوتی ہیں کہ مجرموں کو براعظم اور عالمی سطح پر استثنی حاصل ہے اور ان جگہوں پر ان کا کوئی قدرتی دشمن نہیں ہوتا کیونکہ قانون کی نفازت قومی بارڈراور دلچسپیوں میں ہوتی ہیں۔

پہلا حصہ: یہ کیسے ہوتا ہے؟

جرائم کے فایننشل بلو پرنٹ

منظم جرائم  پر جنگ با بوجھ اکثر صحافیوں اور کارکنان کے کندھوں پر آ پڑتا ہے کیونکہ ان کے پاس بارڈر پار تعون کی صلاحیت ہے اورعوامی دلچسپی کے لیے کام کرتے ہیں کیونکہ بین الاقوامی انٹرپرائز میں پییچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن ایسی نیوز کمپنیاں کم ہی ہوتی ہیں جو ان طاقتور دھمکیوں سے لڑیں کیونکہ انکے پاس وسائل کی کمی ہوتی ہے۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ تفتیشی رپورٹروں کو یہ اندازہ ہوگیا ہے کہ سرحد پار تعاونی کام کیسے ہوتا ہے ، اور کیسے وہ ایک پیٹرن فالو کرنا ہے جس کا باآسانی شناخت کیا جاتا ہے اور بے نقاب بھی کیا جاتا ہے۔ خلاصتا، اگر ایک جرائم پیشہ سکیم دنیا کے ایک حصے میں کام کرتی ہے وہ ہی ماڈل دنیا کے اور حصوں میں بھی برآمد ہوتا ہے۔  یہ مجرموں کا بلو پرنٹ ہوتا ہے اوراور اسکے حصے جن کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ آپ موثر انداز میں بزند کرنے سے روک سکیں۔

اپنے مخالف کی موثر انداز میں تفتیش کرنے اور انکی غیر قانونی سرگرمیوں کو بے نقاب کرنے کے لئیے ہمیں انکو سمجھنا ضروری ہے۔ تو اس کے لئیے ان چیزوں کو دیکھتے ہیں جو مجرم کو چوری، جرم چھپانے اور سرمایہ کاری میں مدد دیتے ہیں۔ پھر دوسرے حصے میں، ہم ایسے خیالات اور ٹولز کے بارے میں بات کریں گے جس سے ہم تفتیش اور ان سرگرمیوں کو بے نقاب کرسکتے ہیں۔ 

جرائم پیشہ افراد دونوں جو کے شروعات کررہے ہوتے ہیں یا سالوں سے اپنے کام پرقائم ہوتے ہیں اپنے گرد ایک قومی اور عالمی انفراسٹرکچر سے فائدہ اٹھاتے ہیں جس کو آرگنایزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ (او سی سی آر پی) کرمنل سروس انڈسٹری” کہتی ہے۔  اس انفراسٹرکچر میں کئی وکیل، بینکر، اکاوؐنٹینٹ، کمپنی فارمیشن ایجنٹ، ہیکر، نامور کمپنیاِں اور دیگر لوگ شامل ہوتے ہیں جو جرائم کو فروغ کر کے پیسہ کماتے ہیں اور مجرموں کے پیسے کی سرمایا کاری کرتے ہیں۔ تو پیسے پر مبنی ایک جرم کے کے کتنے حصے ہوتے ہیں۔

آف شور کمپنیاں

آفشور مالیاتی اور خفیہ کمپنیوں کے بارے میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے کہ وہ کیسے خفیہ انداز میں جرائم پیشہ افریز کا چوری کیا ہوا پیسہ اپنے دائےرے کار سے ٹرانسفر کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ آف شور کرائم انک، پانامہ پیپرز اور دیگر پروجیکٹ نے اس منی لانڈرنگ انڈسٹری کو منظر عام پر لائے اور اس کے بعد میں ہونے والا تعاونی کام جیسے کہ او سی سی آر پی کا چلنے والا اوپن لکس پروجیکٹ نے اس بات کی نشاندہی  کی کہ لوگزمبرگ جیسی کئی لینڈلاک ممالک نے ایسی ہی خفیہ سروس فراہم کی جیسے کہ روایتی آفشور مقامات کررہے ہیں۔ اعلی سطح کے منظم جرائم اور کرپشن کی تفتیش کے لئیے ضروری ہے کہ یہ سمجھ لیا جائے کے مجرم اپنے کاروبار کو کیسے اسٹرکچر کرتے ہیں اور ان سے ہونے والی غلطیوں کی شناخت بھی کرلیں۔

پراکسی

منظم جرم کو کیسے مختلف شناخت یعنی پراکسی کے پیچھے چھپنا ہوتا ہے۔ اس کے لیئے آف شور کمپنیوں کو لین دین کی خفیہ کاری دینی ہوتی ہے۔ ہماری او سی سی آر پی کی تفتیش کے دوران ہم نے تین قسم کی پراکسی کی شناخت کی ہے: نہ معلوم، نیم آگاہ، اور پوری طرح شریک پراکسی۔

نامعلوم پراکسی ان کوگوں کی ہوتی ہیں جن کی شناخت چوری کی جاتی کبھی کبھار بڑے پیمانے پر انٹرنینٹ سروس پروائیڈر سے معلومات کی چوری سے۔  لوگوں کو خبر نہیں ہوتی کہ انکے نام کی کمپنی یا بینک اکاوؐنٹ بنایا جارہا ہے ۔ نیم آگاہ کی پراکسی اپنے دستاویز کچھ پیسوں کے عوظ دیتے ہیں لیکن انکو اپنے نام سے جڑے بزنس یا لین دین کے بارے میں پورا نہیں پتا ہوتا کی کس حد تک جرائم سے جڑا ہے۔ پوری طرح شریک پراکسی ، جیسے نام سے ظاہر ہوتا ہے، پوری طرح آگاہ ہوتی ہیں اور ہونے والے منافع کا کچھ حصہ لیتی ہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ کس طرح کی پراکسی کس جرم کی اسکیم کے ساتھ لگی ہے رپورٹر کو مدد ملتی ہے کہ اس کو بے نقاب کرنے کے لئیے کیا اقدام لینے ہوں گے۔

بینک

مالیاتی سیکٹر میں کرپٹو کرنسی جیسے جدید پر پراڈکٹ کے باوجود بینک دنیا کے مالیاتی سسٹم کا بڑا حصہ ہیں۔ یہ منظم جرائم پیشہ گروپوں کے ٹارگٹ ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو اس میں شامل کر کے بینکنگ سیکٹر سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پراکسی کی طرح، کچھ بینک یا تو پوری طرح شریک ہوتے ہیں، کچھ نا معلوم ہوتے ہیں اور کئی اس بات کے لئیے تیار نہیں ہوتے کہ وہ اپنے اکاونٹس میں جرائم پر مبنی فنڈ کو روکیں۔ 

بینک کا سسٹم چھوٹے، درمیانے اور بڑے بینک اور انکے ماتحت اداروں سے بنا ہوتا ہے۔ اس میں یہ بتانا اہم ہے کہ چھوٹے بینک کو بڑے مالیاتی سسٹم کا حصہ بننے کے لئیے بڑے بینک میں متعلقہ اکاونٹ کھولیں جوکہ دنیا بھر کے وائیر ٹرانسفر کو یقینی بناتے ہیں۔ ہم نے ایسے کئی چھوٹے اور بڑے بینکوں کی تفتیش کی جو کہ جزوی طور پر مجرموں کی ملکیت ہوتے ہیں یا وہ چلاتے ہیں لیکن پھر بھی بڑے پیمانے پر پیسوں کو لئیے بڑے بینکوں کا سہارا رلیتے ہیں۔ بہت پہلے ہی عقلمند مجرموں کو اندازہ ہوگیا تھا کہ قانون نافز کرنے والی ایجنسیاں اکثر دائرہ کار پر محدود کردی جاتی ہیں، اور بینکوں میں آپس کا تعاون نہیں ہوتا اور یہ کہ مالیاتی کمپلائینس سسٹم افرادوں اور مشقوق  لین دین حرکات کرنے والے چھوٹے ٹرانزاکشن کی شناخت کرتا ہے۔ فن سن فایئلز نے یہ واضح کردیا تھا کہ بینک کیسے بڑے پیمانے کی منی لانڈرنگ کی شناخت کرتے ہیں۔ مجرم اس کا ایسے فائدہ اٹھاتے ہیں کہ وہ اپنی بڑی رقم کو ایک سے زائد بینکوں میں تقسیم کرلیتے ہیں تاکہ کسی ایک بینک کو انکے بڑے، منی لانڈرنگ آپریشن کی واضح تصویر کا اندازہ نہ ہوسکے۔

جعلی معاہدے اور ان وائس

اپنی وسیع پیمانے کی منی لانڈرنگ اسکیم کو کامیاب بنانے کے لئیے، مجرم جعلی کاغذات اور دستاویز، جعلی معاہدے اور ان وائس کی مدد لیتے ہیں جو کہ جواز کے طور پر بینک کی لین دین کے لئیے رکھے جاتے ہیں۔ یہ جعلی ان وائس یہ ظاہر کرتی ہیں کہ مثال کے طورپرپرسنل کمپیوٹر کا کارگو آف شور کمپنی اے سے آف شور کمپنی بی کو بیچا گیا لیکن اصل میں ایسا کوئی کاروبار نہیں ہوا ہوتا جبکہ پیسہ اکاوؑنٹ میں ٹرانسفر ہوجاتا ہے۔ اس غیر قانونی سرگرمی کو ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کہتے ہیں اور یہ دنیا بھر میں اس طرح کے ملیاتی جرم کا سب سے بھرا حصہ ہوتا ہے۔ یہ بینک کے کمپلائنس آفیسر کے لیئے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ ہر شپنگ کنٹینر کی اندردیکھیں کے اس میں کیا  ہے اور منظم جرائم اس پر انحصار کرتا ہے۔ 

دیگر اوقات میں، بینک کے لین دین کے ساتھ جو پیپر ورک لگا ہوتا ہے وہ جعلی قرضوں اور سروس کی تصدیق کرتا ہے ۔ ایک پراثر منی لانڈرنگ کا راز ہوتا ہے کہ یہ چاروں حصوں کو ایک مکمل پیکج کے طور پر مجرموں اور کرپٹ سیاستدانوں کو آفر کرے۔  بلکہ جرائم کی سروس انڈسٹری فراڈ مینول کاری کرتے ہیں جو کہ ایسی ہدایت دیتی ہیں کہ بینک کے ریگیولیٹر اور قانون نافز کرنے والوں کی اسکروٹنی کی توجہ حاصلی کئیے بغیر  بینک اکاونٹس، پرایکسے، جعلی ان وائس اور کمپنیاں کیسے ڈپلائے ہوسکتی ہیں۔ یہ ایک مثال ہے ایک ایسی منی لانڈرنگ مینول کی جس کو لیٹویا کا ایک بینک پروموٹ کررہا تھا اور جس کو او سی سی آر پی نے بے نقاب کیا تھا: 

"معاہدے یا انوائس میں ڈیلوری کی لکھی ہوئی کنڈیشن حقیقت پرمبنی ہونی چاہیئے: جب آپ اشیا کے بارے میں لکھیں تو آپ کو اس کی شپنگ (کارگو کا وزن، مقدار، مینیوفیکچرنگ پلانٹ کا پتہ، ٹرانسپورٹ کی قسم یونی کے ریل، روڈ یا پھرسمندری جہاز) کے بارے میں بھی سوچیں۔ ایسے اوقات میں جب اشیا کی شپنگ کی مقدار بہت زیادہ ہو تو برائے مہربانی ریل یا پورٹ کے پاس کی فیکٹری مخصوص کریں۔”

او سی سی آر پی پر ہم ایسے منی لانڈرنگ سسٹم کو "لانڈرومیٹ” کہتے ہیں ۔ یہ تمام مقصد کے مالیاتی وہیکل بینکوں اور دیگر فائنینشل سروس سیٹ اپ کرتی ہیں اور انکا مقصد ہوتا ہے کہ یہ ایسے کلائینٹ کی مدد کریں جو کی جرائم سے حاصل ہونے والے منافع،  اثاثوں کو چھپائیں، کمپنیوں کے فنڈ میں خیانت کرتے ہوں، کرنسی پابندیوں اور ٹیکس دینے سے بچیں یا پھر پیسہ آف شور منتقل کریں۔ او سی سی پی نے یہ 2014 میں یہ ٹرم متعارف کروایا تھا اپنی تفتیش : "دا رشین لانڈرومیٹ” سے ۔ 

لانڈرومیٹ مالیاتی دنیا کے ٹی اوآر نیٹورک براوزر ہے جو کہ استعمال کرنے والوں کو انٹرنیٹ پر مکمل گمنامی دیتے ہیں۔ لانڈرومنیٹ لوگوں کو اس بات کی مکمل اجازت دیتے ہیں کہ وہ اپنی لانڈری منی کو مختلف بینکوں میں تقسیم کر کے رکھیں جیسے کے ٹی او آر میں ہوتا ہے تاکہ معلومات خفیہ رہے اور کسی ایک ادارے کو مکمل تصویر نہ پتا ہو۔  لانڈرومیٹ ایسی کمپنیوں سے بنا ہوتا ہے جو دنیا بھر میں پھیلی ہوتی ہیں لیکن ایک ہی پارٹی یعنی بینک سے کنٹرول ہوتی ہے۔ لانڈرنگ کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب کلائنٹ نیٹورک کے نوڈ کو جعلی کاغذات کا استعمال کر کے جس میں اچھی سروس کریدتا یا بیچ رہا ہوتا ہے یہ سب دیکھا کر پیسے ٹرانسفر کرتا ہے ۔ یہاں سے پھر پیسہ دیگر نوڈ میں مزید نقلی کاغزات کے ساتھ پارسل ہوتا ہے ۔ آخر میں یہ پیسہ کلائنٹ کی انتخاب سے کسی اور آفشور کمپنی یا مقام پر بھیجا جاتا ہے جس میں لانڈرومیٹ آپریٹر کا کمیشن لیا جاتا ہے۔ اس پیسے کی ملکیت اور اصل شناخت لین دین کی اس بھول بھلیاں میں ایسی غائب کی جاتی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ٹریس نہیں کر سکتے۔ (مزید جاننے کے لئیے کے یہ سب کیسے ہوتا ہے، او سی سی آر پی لانڈرومیٹ کے ایف اے کیو) دیکھئیے۔

ایک لیک ہوا ڈاویچے بینک کا دستاویز سے واضح پتا چلتا ہے کہ لانڈرومیٹ کیسے سکروٹنی سے بچ سکتے ہیں جس میں روسی لانڈرومیٹ کی عالمی مالیاتی انفراسٹرکچر میں گڑبڑ ظاہر ہونے کے ساتھ ساتھ بینک کا پتا لگانے کی ناکامی ظاہر ہوتی ہے۔ 

Deutsche Bank internal memo on money laundering

ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں کہ منظم جرائم کو مالیاتی سسٹم اپنے فائدے کے لئیے کیسے استعمال کرتی ہیں۔ حلانکہ تینوں مثالیں تین مختلف جغرافیائی وقوع کی ہیں، ہم دیکھتے ہیں کہ پیٹرن دہرا رہا ہوتا ہے اوراس میں روسی لانڈرومیٹ کی سازش کا مکمل یا چھوٹا سبسیٹ موجود ہوتا ہے۔ 

ازربائیجان کا لانڈرومیٹ اور ایران کا اینٹی سینکشن معاشی جہاد

آزربائیجان کے لانڈرومیٹ نے باکو کے امیر لوگوں کو اجازات دی کے وہ یورپی سیاسدانوں کو رشوت دیں اور ملک سے لاکھوں ڈالر نکال لیں۔ لیکن او سی سی آر پی نے یہ دریافت کیا کہ یہ منی لانڈرنگ ایران استعمال کرتا تھا امریکی اوریورپی پابندیوں کوبائے پاس بزریعہ منظم گروپ جس کو رضا ضراب لیڈ کرتا تھا جو کے ایرانی ترکی مجرم تھا اور ترکی کے صدر طیب اردوان کے قریب تھا۔ ضراب کے ہاتھوں ہونے والی منی لانڈرنگ میں ترکی، امریکہ اور ایران کے درمیان خالص جیو پالیٹیکل اسکینڈل بن گیا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کے منظم جرائم سیاسی تقسیم سے کیسے فائدہ اٹھاتا ہے۔  

ٹرویکا لانڈرومیٹ

ٹرویکا لانڈرومیٹ ایک ایسے پیچیدہ مالیاتی سسٹم سے بنا ہوا ہے جس نے روسی اولیگارک چھ اور سیاستدانوں کو طاقت کی سب سےاونچی ایکیلوں پر پہنچایا تاکہ وہ خوفیہ طور پر غیر قانونی پیسہ لیا، ٹیکس چھوڑے، ریاست کی ملکیت کمپنیوں میں شئیر حاصل کئیے، روس اور بیرون ملک  میں پراپرٹی لی اور اس کے ساتھ ساتھ بہت کچھ ۔ ٹرویکا لانڈرومیٹ کو ڈیزائن کرنے کا مقصد تھا کی ان لین دین کے پییچھے لوگوں کو چھپا کر رکھیں۔ اس کو دریافت کرنے والا او سی سی آر پی اور اسکے پارٹنر تھے جنہوں نے یہ کام بہت احتیاط سے ڈیٹا کا تجزیہ اور تفتیش کر کے کیا۔  اس تفتیش میں بینکینگ معلومات کی سب سے بڑی ریلیز ہوتی ہے یعنی 31 لاکھ لیک ہوئی لیک معلومات ہوئی جس میں 238000  کمپنیاں شامل تھیں۔ اس اسکیم کی ویڈیو وضاحت کے لئیے دیکھیئے۔

ٹرویکا لانڈرومیٹ کا بےنقاب ہونے کا کام ڈرائے بینکنگ لین دین کے بہت بڑے ڈیٹا سیٹ پرکام ہونے سے ہوا تھا۔ ہمیں ایسے پیٹرن دیکھنے پڑے جن کی ہم شناخت کر کے اور الگ جرسکتے جن کو ہم نے بعد میں ٹرویکا لانڈرومیٹ کا نام دیا۔ یہ جاننے کے لئیے کہ اس سسٹم کا آرگنائزر اور استعمال کرنے والا کون ہے ہمیں اس میں غلطیوں اور خراب لنک کو دیکھنا تھا۔  ڈیٹا کا تجزیہ کر کے ہمیں یہ اندازہ ہوا کہ بینکوں نے ایک بڑی غلطی کی تھی: انہوں نے رقم اور آفشور کمپنیوں کے فارمیشن ایجنٹوں کے لئیے جو کی خود اربوں ڈالر کا لین دین کر رہے تھے اس سب کو ادا کرنے کے لئیے بار بار تین ہی شیل کمپنیوں کا استعمال کیا تھا ۔ ہر ادائگی جو کہ کئی سو ڈالر کی ایک تھیں اورلاکھوں ڈالر کی بڑی لین دین کے سمندر میں کھو گئیں تھیں ان کو دیکھنے کے لیئے ہمیں اس کو ٹریک کرنا پڑا یہ جاننے کے لئیے کی یہ کس بڑے پیٹرن کا حصہ ہیں۔ اس دھاگے کی شناخت کرتے ہوئے پورا ٹروئیکا لانڈرومیٹ فوکس میں آیا۔

ریویریا مایا گینگ

ریویریا مایا گینگ ایک بے رحم اور تشدد پسند سرحد پار تنظیم ہے اور یہ کیس ایک بلکل شفاف مثال دیتا ہے کہ منظم جرائم کو کیسے بڑے پیمانے پر کیے گئے دیگر بزنس میں شامل کیا جاتا ہے۔اس کیس میں بدمعاشوں نے یورپ میں بطور اسکمر کام شروع کیا تھا۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اے ٹی ایم میں ڈیبٹ اورکریڈٹ کارڈ کے نمبرغیر قانونی آلات اور سوفٹویئرلگا کر چورہ کرتے ہیں۔ براعظم سے سرحد پار ان لوگوں نے ایک میکسیکن بینک کے ساتھ پارٹنرشپ بنائی اور ریویریا مایا پر 100 سے زائد اے ٹی ایم لگائے جو کہ جنوبی میکسیکو میں کانکن اور ٹولوم کے درمیان سیاہوں کے لئیے جگہ ہے اور وہاں سے 2000 لاکھ ڈالرر سالانہ منافع کماتے۔ ار ایم جی مے نقلی دستاویزات اور شناخت، اور پراکسی کو استعمال کر کے نہ صرف بزنس بنائے بلکہ انصاف سے بھاگنے والے لوگون کو پناہ بھی دیتے اور اس ہی انفراسٹرکچر کو استعمال کر کے مییکسیکو سے امریکہ تک لوگوں کو سمگل کرتے۔ 

حصہ دوم: اس کو کیسے سلجھائیں: ٹپس اور ٹولز

 جیسا کے مندرجہ بالا مثالوں میں دیکھا ہے، منظم جرائم گروپ چوری، چھپائی اور پیسے کی سرمایہ کاری میں کافی نفیس اور پیچیدہ ہوتے ہیں۔ لیکن ایک چیز جس کو وہ کنٹرول نہیں کرسکتے وہ وقت ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ صحافی، کارکنان اور تفتیش کرنے والے سرحد پار رپورٹنگ کا تجربہ کررہے ہیں جبکہ دنیا بھر کی گوورمنٹ شفافیت، کمپنی ملکیت اور پراپرٹی سے متعلق مشید قوانین لا گو کررہے ہیں۔

بینکنگ اور عدالتی ریکارڈ

منظم جرائم فائنینسگ کے لئیے بینک ریکارڈ تک کی رسائی ایک مقدس گریل ہے لیکن بینکنگ ریکارڈ مشکل سے حاصل ہوتے ہیں کیونکہ وہ رازدارانہ، نجی دستاویزات ہوتے ہیں۔ رپورٹر ہمیشہ بینکوں اور مالیاتی ریگولیٹر پر لیکس اور مخبر پر انحصار نہیں کرسکتے کہ وہ انکو ریکارڈ ہاتھ میں دیں۔ لیکن ان بینک ریکارڈ کو حاصل کرنے کے لئیے ایک اور طریقہ ہے۔ اس قسم کے دستاویزات اکثر منظم جرائم یا پھر کمرشل، سول قانونی چارہ جوئی کے لئیے مجرموں کی عدالتی کیسز کے ساتھ لگائے جاتے ہیں ۔ یہ سب دائرہ کار پر انحصار کرتا ہے اور امریکہ عالمی بینکینگ ریکارڈ کے لئیے ایک انمول زریعہ ہے جس کو پبلک ایکسس ٹو کورٹ الیکٹرانک ریکارڈس (پی اے سی یس آر) کے تحت عوامی کردیا تھا۔ 

مثال کے طور پر، جب امریکہ نے ازربائیجانی لانڈرومیٹ کنگپن، رضا ضراب کے خلاف ایک قانونی کیس کھولا تھا تو او سی سی آر پی نے پیسر کو چیک کر کے اور امریکہ کی عدالتوں کو معلومات کی درخواست کر کے سینکڑوں کے حساب سے بینکنگ ریکارڈ حاصل کئیے تھے۔ اس سے پہلے ہم نے اس جیسے  ہی ریکارڈ دیگر ممالک سے لئیے تھے۔ یہ بینکنگ ریکارڈ قانوں نافز کرنے والے ادارے طلب کرتے ہیں اور اگر تفتیشی رپورٹروں کے ہاتھ لگ جائیں تو بہت کارآمد ہوتے ہیں۔ 

مالیاتی انسٹیٹیوشنز کی مشقوق سرگرمیوں کی خفیہ رپورٹس (ای اے آر) جیسی فن سن فائلذ تفتیش سے حاصل ہوتی ہیں خفیہ بینکینگ کی دنیا کا جھلک بھی دیتا ہے۔ لیکن اپنی معیار اور مقدار میں بڑھتے ہیں اور اگر انکو عدالتی ریکارڈ کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے یہ تفتیشی رپورٹر اورعوام کے لئیے انتہائی قیمتی ثابت ہوتے ہیں۔ 

عدالتی ریکارڈ اور دو مجرمانہ پارٹیز میں کمرشل قانونی چارہ جوئی تفتیش کرنے والوں کے لئیے بہت کارآمد ہوتی ہے جیسے ہی مجرموں کو اپنے خراب حالات اور طلاق کیسز بیان کرنے کو ملتا ہے۔

پراپرٹی ریکارڈ

مجرموں کو چیزوں کی ملکیت رکھنا اچھا لگتا ہے اور جبکہ لگژری کاریں، گھڑیاں اور دیگر چمکتی آرائیش اور لوگوں کے لئیے ضروری ہوتی ہیں، منظم جرائم سے کمایا جانے والا پیسہ اکثر پراپرٹیوں میں سرمایہ کار ہوتا ہے جیسے کہ لگژی حویلیاں یا بڑے پیمانے کے زراعت اور جنگل کی ذمین ۔ تفتیشی رپورٹرکو اپنا فوکس پراپرٹی ریکارڈ کی سرمایہ کاری کو سلجھانے میں لگتا ہے اور جس سکیل پر منظم جرائم منی لاڈرنگ ہوتی ہے۔  زیادہ ترملکوں میں پراپرٹی دستاویزات عوامی ریکارڈ ہوتے ہیں اور موجودہ مالک، پہلے کے مالک اور اس کے ساتھ ساتھ ساری ملکیت کی وضاحت ہوتی ہیں جیسے کی خریداری کی پرائس اور ٹیکس شامل ہوتی ہے۔ 

کمپنی ریکارڈ

قومی اور بین الاقوامی کمپنیوں کی رجسٹریز شئیر ہولڈر اور بورڈ ممبران کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں اور دیگر کیسز میں کمپنی کا مالیاتی ڈیٹا بھی ہوتا ہے۔ کبھی کبھار، یہ ریکارڈ بینکوں کی لین دین، پراپرٹی ریکارڈ، اور باریکی معلومات یا ایسی آفزور کمپنیی جو کہ شئیر ہولڈر ہوتی ہیں بینیفیژل اونرشپ معلومات دیتے ہیں۔ کافی اوقات ہمیں بینی فیشل مالک کی معلومات وہاں سے ملتی ہے جہاں یہ کمپنیاں غیر قانونی فنڈز میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ یہ بات ذہن میں رکھ لیں کہ ساری معلومات ڈیجٹائز اور ڈیٹا بیس میں انڈیکس نہیں ہوئی ہوتی تو ایک فون کال یا پھررجسٹری پر ایک ٹرپ لگایئں جو آپ کوآنلائن ڈیٹا سے زیادہ دے دیں۔ 

بڑے پیمانے کی منی لانڈرنگ کا اہم اسٹیج بینکوں کی بینیفیشل اونرشپ کو بے نقاب کرنا ہے ۔ بینکوں کو کمرشل کمپنی کی طرح سلوک کریں اور یہ سیکھیں کہ ان کی ملکیت کس کے پاس ہے۔ یہ خاص کر کے نئی، چھوٹی ،درمیانی بینکوں کے لئیے اہم ہے۔

درآمد ۔ برآمد ڈیٹا بیس

ہم اکثر امپورٹ جینیس اور پنجیوا جیسے ڈیٹا بیسیش کو درآمد اور برآمد آپریشنز کو ٹریک کرنے میں اتعمال کرتے ہیں۔یہ مہنگی ڈیٹا بیسیس ہوتی ہیں یونی امریکی کا کسی کمپنی کا ایک سال کا امپورٹ ڈیٹا ڈاوؐنلوڈ کرنے میں ۱۹۹ ڈالر لگتے ہیں لیکن یہ ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کی شناخت اور انکے ساتھ منسلک کمپنیوں کے بارے بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ہم نے ڈیٹا بیسس کو یہ بھی تصدیق کرنے کے لئیے دیکھا کہ جو کمپنیاں لانڈرومیٹ میں ہیں کیا وہ جعلی کمرشل آپریشنز سے بھی وابسطہ ہیں۔ نوٹ: کئی ممالک میں سالانہ درآمد اور برآمد لین دین کی معلومات قومی فریڈم آف انفارمیشن لا کے تحت دستیاب ہوتی ہے جبکہ یونائیٹڈ نیشنز کامریڈ سائیٹ عالمی ٹریڈ ڈیٹا آفر کرتا ہے جہاں پر درآمدی اور برآمدی پیٹرن کی شناخت ہوسکتی ہے۔

الیف

او سی سی آر پی میں ہم نے تفتیشی رپورٹنگ کا ریسرچ مواد کا عالمی محفوظ شدہ دستاویزات  بنایا جس کا نام الیف ہے۔ یہاں پر ہم کمپنیوں کی معلومات، پراپرٹی، بینک اکاوؐنٹ، عدالتی کیس، لیک اور دیگر چیزوں کی معلومات کو انڈیکس کرتے ہیں۔ لیکن انڈیتسنگ صرف شروعات ہے کیونکہ ایف صحافیوں کو اجازت دیتا ہے کہ وہ ڈیٹا کو سمجھیں اور اس میں جرائم کے پیٹرن کی شناخت کریں تاکہ وہ عوامی دلچسپی کی بامعنی تفتیش کرسکیں۔ صحافی الیف کے اندر دلچسپ لوگوں کی واچلسٹ بھی رکھ سکتے ہیں اور ہمارا سسٹم مسلسل ان ناموں کو سسٹم میں دیگر ڈیٹا کے ساتھ میچ کرتا رہے گا۔ اس سے ہمارا ورک فلو آٹومیٹ ہوتا ہے اور تازہ اور کارآمد تفتیشی رپورٹنگ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ 

OCCRP Aleph screenshot

The OCCRP has developed Aleph, a useful resource that allows journalists to search for public records and leaks. Image: Screenshot

مستقبل میں کیا ہے؟

کئی دہائیوں سے سرحدوں کے درمیاں ہونے والا منظم جرائم قانوں نافز کرنے والوں، تفتیشی رپورٹروں اور کارکنان سے کئی مرحلہ آگے ہوتا تھا۔ یہ کچھ بدلنے لگا جب صحافیوں نے سرحد پار فورسز کے ساتھ تعاون کیا لیکن مجرموں کے پاس کئی فائدے ہوتے ہیں جن کو پوری طرح اپناتے ہیں اور ٹیکنالوجی کو فورا ہی اپنا لیتے ہیں کو انکو قانون نافز کرنے والوں سے آگے کرلیتا ہے۔ 

ایک ایسا گروپ جو اکثر ہوتا ہے وہ ہے کرمنل انجل انوسٹر ہے، ایسے لوگ جو اور مجرموں کو فائینینس کرتے ہیں کیونکی جرائم پیشہ افراد پر سرمایہ کاری بہترین ریٹرن دیتا ہے اور جرم اس طرح کی طرز زندگی گزارنے والوں کے لئے اور مواقع پیدا کرتا ہے۔ تفتیشی رپورٹروں کو جرائم کے گرد بنا ہوا مالیاتی ایکوسسٹم  کو بہتر سمجھنے کی ضرورت ہے جہاں پر جرائم کی سروس انڈسٹری کو فروغ ملتا ہے اور جہاں پر منی لانڈرنگ اور پوشیدہ سرمایہ کاری کی نئی تکنیک بنائی جاتی ہیں۔

منظم جرائم میں بڑھتی ہوئی ترقی پزیر تیکنیک کے ساتھ ساتھ رہنے کےلئیے ، تفتیشی صحافتی تنظیموں کو وقت اور پیسے انویسٹ کرنے چاہئیے کپٹوکرنسی ، بلاکچین، نان فنگیبل ٹوکن (این ایف ٹی) اور ایسے دیگر ٹولز کو سمجھنے کے لئیے جو کہ ٹریڈ مجرموں نے اپنے بزنس ماڈل کے لئیے چنے ہیں۔

فالو دا منی جلد ہی "فالو دا کوڈ” بن جائے گا (یعنی ایک الگارتم) لیکن آخر میں، یہ سب ایک پراپرٹی یا پھر آنکھوں دیکھا طرز زندگی بن جاتی ہے جس کو جرائم اپنے ساتھ لاتا ہے۔ 

______________________________________________
OCCRP Co-founder Paul Raduپال راڈو او سی سی ار پی میں جدت کے شریک بانی اور چیف ہیں۔ انہوں نے ڈریو سلیوان کے ساتھ مل کر 2007 میں تنظیم کی بنیاد رکھی۔ وہ او سی سی ار پی کے بڑے تفتیشی منصوبوں کی قیادت کرتے ہیں، علاقائی توسیع کا دائرہ کار طے کرتے ہیں، اور سرحدوں کے آر پار منظم جرائم اور بدعنوانی کو بے نقاب کرنے کے لیے نئی حکمت عملی اور ٹیکنالوجی تیار کرتے ہیں۔

ہمارے مضامین کو تخلیقی العام لائسنس کے تحت مفت، آن لائن یا پرنٹ میں دوبارہ شائع کریں۔

اس آرٹیکل کو دوبارہ شائع کریں


Material from GIJN’s website is generally available for republication under a Creative Commons Attribution-NonCommercial 4.0 International license. Images usually are published under a different license, so we advise you to use alternatives or contact us regarding permission. Here are our full terms for republication. You must credit the author, link to the original story, and name GIJN as the first publisher. For any queries or to send us a courtesy republication note, write to hello@gijn.org.