رسائی

ٹیکسٹ سائیز

رنگوں کے اختایارات

مونوکروم مدھم رنگ گہرا

پڑھنے کے ٹولز

علیحدگی پیمائش
Gulf Guide Chapter 1 - Passport_Witheld
Gulf Guide Chapter 1 - Passport_Witheld

Illustration: Marcelle Louw for GIJN

وسائل

» گائیڈ

مہاجر مزدوروں کے حقوق: کووڈ کے دور میں بہترین رد عمل اور کہانیوں کی تجاویز

یہ مضمون ان زبانوں میں بھی دستیاب ہے

Gulf Guide Chapter 1 - Passport_Witheld

Illustration: Marcelle Louw for GIJN

یہ سیکشن Migrant-Rights.org کی وانی سرسوتی نے لکھا تھا۔

 گلف کارپوریشن کاونسل میں مذدوروں کی نقل مکانی پر رپورٹنگ کو اکثر انہیں اکثر مظلومیت کے فریم میں دکھا یا جاتا ہے اور ان کی انفرادیت یا ان کی اور ان کے خاندان کی بہتر زندگی کی خواہش کی صحیح طرح عکاسی نہیں ہوتی۔  

جب 2020 میں کووڈ 19 نے  دنیا کو روک دیا، میڈیا اور دیگر لوگوں کا ماننا تھا کہ اسے عالمی مساوات قائم ہو گا۔ لیکن اس کے کچھ ہی ہفتوں بعد یہ اندازہ ہوا کہ یہ مساواتی نہیں ہے۔ اس کے برعکس اس نے امتیازی پالیسیوں میں مزید فالٹ لائنز کو بڑھایا۔ یہ خلیج اور لیوانٹ میں زیادہ حقیقٹ پزیر تھا۔

کووڈ کی رپورٹنگ پر تین ٹرینڈ

  • خلیجی ممالک میں قومی میڈیا زیادہ تر گورمنٹ کی طرفداری کرتا ہے اور ڈیٹا اور اس کے تناظر پر جانچ کیے بغیر پریس ریلیز جاری کرتا ہے۔

مہاجروں کے اپنے ممالک کا میڈیا چوریوں، خاندانی بے دخلی اور جدا ہونے کی اور مزدوروں کے خطرناک حالات میں پھنسے ہونے پر دیہان دیتا ہے۔

بین الاقوامی صحافی، جن میں کئی ریموٹ کام کرتے ہیں، بڑے سٹروکس میں رپورٹ کرتے ہیں اور انکو زمینی حقائق اور حالات کے بارے میں کم ہی آگاہی ہوتی ہے۔

اس بات پر کوئی شک نہیں کہ مہاجر جو پینڈمک میں مسائل کا سامنا کررہے ہیں وہ کافی حد تک وہ ہی مسائل ہیں جو پہلے سے چلتے آرہے ہیں، خاص کر کے جب وہ ممالک جہاں مہاجر جارہے ہیں وہ خود معاشی بحران کا شکار ہیں۔  لیکن پینڈمک رپورٹنگ کو صحت رپورٹنگ کی بنیادی گائیڈ لائنذ کو مد نظر رکھنا چاہئیے: کہ کوئی نقصان نا پہنچائیں۔ معلومات لوڈ اور پڑھنے والوں کی توجہ جو کہ ایک ٹوئیٹ سے زیادہ نہیں رہتی اور جبکہ خبروں کی مدت حیات ، چوبیس گھنٹے اور سات دن چلنے سے مزید کم ہوگئی ہے، چیزوں کو مزید آسان بنانے کی خواہش اور زیادہ ہوجاتی ہے۔ 

شہری صحافت کی بڑھتی ہوئی ترقی کے ساتھ ہم درمیانی دھارے میڈیا کی سوشل میڈیا کومنیٹری اور پوسٹ ذرائع مواد کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ رپورٹر ان آنلائن شخصیات کے مواد اور مشاہدوں کی صداقت جانچ سکیں۔ 

یہ خاص کر صحت کی رپورٹنگ کے لئیے اہم ہے۔ لیکن خلیجی ممالک میں بیٹ رپورٹنگ عام نہیں ہے جس کا مطلب ہے کہ پینڈمک پر وہ لوگ رپورٹنگ کررہے ہیں جو دستیاب ہیں نہ کے وہ وہ جو صحت کی رپورٹنگ میں تربیت رکھتے ہیں۔ 

مندرجہ زیل صحت کی رپورٹنگ کی گائیڈلائنز کو مد نظر رکھ سکتے ہیں خاص کر کے ہنگامی صورتحال میں:

پڑھنے والوں کو انکے طرز زندگی اور حرکات کی تعلیم دیں

خوف و ہراس پھیلانے سے گریز کریں

کسی بھی ایک گروپ کو مت دبائیں

گوورمنٹ اور پالیسی بنانے والوں کو احتساب ٹھہرائیں

جان بوجھ کر غفلت کرنے سے جو خطرناک رویے بنتے ہیں انکو نمایاں کیجئیے

ایسے نظر انداز پالیسی اور حکومتی چیزوں کو نمایاں کریں جو کہ بیماری کے پھیلنے میں مدد دیتی ہے۔

صحت سے متعلق مشورے دینے سے گریز کریں جب تک کہ وہ پیشہ ورانہ میڈیکل افراد یا ایجنسیاں نہ دے رہی ہوں۔

باقاعدہ اپ ڈیٹس کے ساتھ رپورٹ کیجئیے، کیونکہ پینڈمک ایک یا دو نیوز سٹوریز کے ساتھ رپورٹ نہیں ہوسکتا۔

دوسروں کے راز داری کا احترام کیجئیے چاہے وہ ہوں جن کو انفیکشن ہوا ہو یا پھر وہ لوگ جو پینڈمک سے متاثر ہوئے ہوں یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے کہ وہ لوگ جو آواز اٹھاتے ہیں اور تنقید کرتے ہیں ان پر گورمنٹ اور کام پر مالکان کی طرف سے بدلے کا سامنا ہو سکتا ہے جو ان کے لیے خطرے کا باعث ہوتا ہے۔

صحت کے علاوہ کے پینڈمک نتائج کو دیکھیں جس کے لئیے گورمنٹ اور دیگر اداروں کو تیاری کرنی چاہئے جس میں مندرجہ زیل شامل ہیں:

مزدوروں کے کمزور ہوتے قوانین

اجرت کی چوری میں بڑھتا ہوا رجحان

انصاف تک رسائی میں موجود رکاوٹیں

بھرتیوں میں کرپشن جو کے جبری مشقت اور قرض کی غلامی کی طرف لے کر جاتی ہے۔ 

پینڈمک کی وجہ سے لاگو پابندیاں جو کی ورکروں کی آزادی پر پابندی لگاتی ہیں۔

جی سی سی اور لیونٹ میں ڈیٹا تک کی رسائی دشوار ہوتی ہے لیکن کووڈ کے ٹائم پر ریاستوں نے نہ صرف ڈیٹا باقاعدگی سے شائع کیا بلکہ قومیت کے حساب سے اعداو شمار کو بھی الگ کیا جس سے غیر منصفانہ طور پر مہاجروں پر الزام لگتا ہے کہ وہ انفیکشن پھیلاتے ہیں۔

تناظر اہم ہے

یہ بھی ایک عام تاثر ہے کہ مہاجرعوامی صحت کے لئیے مسئلہ ہے اور یہ کہ ان کی صفائی ستھرائی مشتبہ ہے جو کہ ایک بہت ہی خطرناک بیانیہ ہے اور ایسے رویوں کو جس سے انکو کچھ مخسوص علاقوں میں محدود کیا جاتا ہے ان جگہوں سے دور جو صرف فیملیز اور شہریوں کے لئیے ہوتی ہیں۔ پینڈیمک نے اس پریشان کرنے والے بیانئیے کو مزید ایندھن دیا ہے تو کوریج کو دہائیوں پرانی خراب شہری منصوبہ بندی اور نقل مکانی کا انتظام کو دیکھنا چاہئیے جوانفیکشن پھیلانے میں ان دقیانوسی تصورات سے زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ 

مندرجہ زیل ایسی کہانیاں ہیں جو بارہا پینڈئمک میں مقامی اور بین القوامی طور پر بتائی جاتی ہیں۔ ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ بین الاقوامی نقل مکانی  سے منسلک بڑے مسائل صحیح تناظر کو شامل کرنا کتنا ضروری ہے۔ 

گھریلو کام کرنے والوں کو جب مالکان نکال دیتے ہیں اور وہ سڑک پر رہ رہ رہے ہوتے ہیں 

ورکر جو مالکان کی طرف سے رہائش نہ فراہم کیا جانے پر عوامی پارکوں اور باہر سونے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

ملک کے ایسے علاقے جہاں پر مہاجروں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے وہاں پر مسلسل لاک ڈاون لگایا جاتا ہے۔

پھنسے ہوئے مہاجرجن کو انکے ملک واپس نہیں لے رہے ہوتے

انفیکشن کے پھیلاو میں تقریباً خصوصی مہاجر زاویہ رکھنا

ایسے علاقے جہاں پر مہاجروں کی تعداد زیادہ ہو ان علاقوں کو ہاٹ سپاٹ قرار دینا۔

ان مسائل کی جڑ ایسے افراد اور کارپوریٹ مالکان ہیں جو کے مہاجروں کی دیکھ بھال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ان کا بہت ہی کم تزکرہ ہوتا ہے۔  حالانکہ کفالہ نظام میں اصلاحات متعارف کی گئی ہیں، ایک مہاجر ورکر کا کام اور رہائش اب بھی اس کے مالکان کے ساتھ جڑی ہوتی ہے جو کہ اس کی اچھے اور برے وقتوں کی فلاح کے لئیے ذمہ دار ہوتا ہے۔

نظر انداز سٹوریز کو زیادہ تلاش کرنا ہوتا ہے

وہ کون سی سٹوریز ہیں جن کو رپورٹ کرنے کی اشد ضرورت ہے؟

پینڈیمک نے مہاجر ورکروں کے آبائی ملکوں کو بھی اثر انداز کیا ہے

کیا یہ ورکروں کے تحفظات کے لئیے قوانین میں نرمی لائے گی؟

کیا آباہی ممالک میں کوئی نیچے پہنچنے کی کوئی دور ہوگی؟

آبائی ممالک میں بھرتی کے ماحول میں کوئی کیا تبدیلی ہوگی جب نقل و حرکات کی پابندیوں میں نرمی ہوگی؟

ان بزنسوں کی کیا ذمہ داری ہے جب انکے ملازمین اپنے آبائی ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں؟

اجرتوں اور انٹائٹلمنٹ کو کیسے کوور کیا جاسکتا ہے؟

کیا ایمبیسیاں اور کانسلیٹ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے وسائل رکھتی ہیں؟

سارے جی سی سی ممالک نے ایک میجیر قوانین لاگو کردئیے ہیں جس سے ورکروں کی رضامندی سی معاہدوں میں تبدیلی کی جاسکتی ہے لیکن حقیقی طور پر یہ ورکروں کے رضا مندی کے بغیر ہورہا ہے۔ 

اس میں دیگر مسائل شامل کئیے جاسکتے ہیں: 

عدالتی سسٹم کی نا موصول ہوئی ادائیگیوں سے ڈیل کرنا

کیا عدالت کوئی ایکشن لے رہی ہے جب مالکان پینڈمک کو وجہ بناتے ہوئے ورکروں کے حقوقوں کی پامالی کررہے ہوتے ہیں؟

وہ کاروبار جن کی پینڈمک سے پہلے ہی ناقص اور بدسلوکی کے عمل موجود تھے کیا اب وہ ان اعمال کے جواز پیش کررہے ہیں؟

کیا پینڈیمک سٹوری صرف کم آمدنی رکھنے والے ورکروں کی ہے؟ سفید کالر ورکر اور شہریوں کے بارے میں کیا؟

ضروری ورکر جو کی زیادہ تر مہاجر ہی ہوتے ہیں ان کے لئیے کیسی انشورنس موجود ہوتی ہے؟

راونگی سے پہلے کے صحت کے چیک اپ اب کیسے نظر آرہے ہیں۔ ان سارے خروری ٹیسٹ جو آج کل چل رہے ہیں ان میں خلیجی ممالک اپنے امیگریشن اسٹرکینگ کے عمل میں کیا کردار ادا رسکتے ہیں؟

اپنے آپ سے پوچھیں کہ کہیں آپ کی رپورٹنگ خلیجی ممالک کی صحت کی سہولت کو ایک ہی انٹیٹی تو نہیں شمول کررہی؟ ہر ملک کا اپنا مختلف سسٹم ہوتا ہے جس کی مختلف لیول پر رسائی ہوتی ہے۔ مثال کو طور پر کوویت میں فلو کی ویکسین صرف شہریوں کو دستیاب ہے، جب کے قطر میں یہ شہریوں اور ورکروں دونوں کو مفت دستیاب ہے۔

آگے بڑھتے ہوئے یہ دیکھئے کہ اس علاقے کی صحت کی فراہمی کی قیمت کیا ہے اور اس کا ذمی دار کون ہے؟

جب اپنی رپورٹنگ میں سنف کا زاویہ دیکھ رہے ہوتے ہوں، مندرجہ زیل باتوں کو مدنظر رکھئیے:

مختلف گورمنٹ کی مینکنزم جس میں انصاف اور صحت بھی شامل اس تک رسائی کے لئیے عورتوں کو کس طرح کی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے؟ اس میں دونوں ڈومیسٹک ورکر اور دیگر سیکٹر میں کام کرنے والوں کو دیکھیں۔

کیا آپ درمیانی دھارے سے دور لوگ جیسے کے ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی کو شامل کررہے ہیں اور یہ دیکھ رہے ہیں کہ انکو کیسے صحت کی سروسز سے دور رکھا جا رہا ہے؟

کیا پینڈمک کو عورتوں کو مزید اکیلا کرنے میں اور انکی تحریک کو کنٹرول کرنے میں استعمال کیا جارہا ہے؟

دنیا بھر میں لاک ڈاوؐن کے وقتوں میں گھریلو تشدد برڑھا ہے۔ یہ اس خطے میں کیسے ظاہر ہورہا ہے؟

سماجی اور سیاسی ماحولیات کو نظر انداز نہ کریں جیسے کی نقل مکانی اور پینڈمک کے مسائل کے بیچ میں خلیجی ممالک بڑی تبدیلیوں سے گزررہے ہیں۔

ٹریڈ یونین (ٹی یو) اور سول سوسائٹی آرگنائئزیشن (سی ایس او) کی ان ممامل میں پابندی ہوتی ہے اور جہاں پر یہ ہوتی بھی ہیں یہ کافی محدود ہوتی ہے۔ اس مہاجرین کے حقوق مزید پامال ہوتے ہیں۔ غیر رسمہ سول سوسائٹی پریشان لوگوں کی مدد کے لئیے حرکت میں آجاتی ہے لیکن یہ غیر رسمی جوابات ایک مستقل حل نہیں نکال پاتے۔ 

ٹریڈ یونین اورسول سوسائٹی گروپ اقوام متحدہ جیسے عوامی پلیٹفارم پر ورکروں کی آواز اٹھاتے ہیں۔ اکثرحکومتوں کی نیت ان آوازوں کو دبانا ہوتا ہے۔ 

پینڈیمک اور اس سے آگے

پینڈیمک کے بعد کی دنیا ویسی نہیں ہوگی جیسے ہمارے تصور میں ہو۔ لیکن ایسی کون سی سٹوریز ہیں جن پر آگے بڑھتے ہوئے توجہ دینی چاہیئے ۔

دیکھ بھال کرنے والے ورکروں کا کردار اور اہمیت

مہاجر ورکروں کے لیے پورٹیبل سوشل سیکورٹی کا انعقاد کرنا

اہم نوکریوں کا ریموٹ اور میکینائز ہونا۔ اس علاقے میں کام کا کیا مستقبل ہے؟

ایسے ممالک جو کے دیوالیے کے قریب ہیں جیسے کے لبنان یا بحرین جس کے اقتصادی امکانات کافی کمزور ہیں اور وہ کافی حد تک مہاجر ورکروں پر منحصر ہیں۔ ایسی قوموں میں ورکروں کے حقوق اور ہجرت کے لئیے کیا منصوبہ بندی ہے؟

ہمارے مضامین کو تخلیقی العام لائسنس کے تحت مفت، آن لائن یا پرنٹ میں دوبارہ شائع کریں۔

اس آرٹیکل کو دوبارہ شائع کریں


Material from GIJN’s website is generally available for republication under a Creative Commons Attribution-NonCommercial 4.0 International license. Images usually are published under a different license, so we advise you to use alternatives or contact us regarding permission. Here are our full terms for republication. You must credit the author, link to the original story, and name GIJN as the first publisher. For any queries or to send us a courtesy republication note, write to hello@gijn.org.