رسائی

ٹیکسٹ سائیز

رنگوں کے اختایارات

مونوکروم مدھم رنگ گہرا

پڑھنے کے ٹولز

علیحدگی پیمائش

مقامی کاروباری اداروں کی سادہ گوگل میپس پر تلاش کے بعد رپورٹرز نے جارج فلائیڈ پر پولیس حملہ کی یہ سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی. تصویر: نیو یارک ٹائمز

رپورٹنگ

رپورٹنگ

موضوعات

 پولیس کے غیر قانونی کاروایوں کی تفتیش کے لئے 10 تجاویز

یہ مضمون ان زبانوں میں بھی دستیاب ہے

مقامی کاروباری اداروں کی سادہ گوگل میپس پر تلاش کے بعد رپورٹرز نے جارج فلائیڈ پر پولیس حملہ کی یہ سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی. تصویر: نیو یارک ٹائمز

نیویارک ٹائمز کی  وژیول تفتیشی ٹیم نے امریکہ میں ہونے والے  جارج فلوائڈ کے قتل کی تحقیقات ایک بہت ہی آسان حکمت عملی سے کی : گوگل میپ کو زوم ان کر کے دیکھا اور وہاں پر موجود قریبی کاروباری مراکز  سے سی سی ٹی وی فوٹیج  مانگی.

22 اکتوبر کو جی  آئی جے  این کے  سے پولیس کی تحقیق پر ہونے واالا ویبینار، جو کہ ناجیریا میں پولیس کے تشدد کے خلاف مظاہروں کے دوسرے دن ہوا‏۔ اس میں نیو یارک ٹائمز کی رپورٹر ہیلی ویلیس نے بتایا  کہ ٹیم نے جو فلوائڈ کے قتل کی فوٹیج  حاصل کی اس میں موجود  ٹائم  سٹیمپ کے ذریعے پولیس اسکینر کے محفوظ شدہ ڈیٹا کو، بروڈکاسٹیفائے نامی ایپ استعمال کر کے، پولیس کے درمیان اس افسوسناک دن کی سڑک پر گفتگو ڈھونڈی۔ 

اس سے ظاہرہواکہ اہلکاروں نے فلوائڈ کی حالت کے متعلق کوڈ 3 کے طبی ایمرجنسی کا رات 8:21 منٹ پر بتا دیا تھا۔ اس کے برعکس وڈیو سے ظاہر ہے کے اہلکار اس کے گلے پرآٹھ بج کر اٹھائیس منٹ تک گھٹنا دیے ہوئے ہے۔ اس کےتھوڑی دیر بعدفلوائڈ کی وفات ہوئی- 

ویلس اورُٹیم نے پینل میں پولیسی غیر اخلاقیات سے متعلق تجزیاتی ثبوط اکھٹے کرنے کے لئے مشورے اور نکات  بتائے- پینل میں تیونس، جنوب اافریقہ سے تفتیشی صحافی بھی شامل تھے۔ 

جنوب افریقہ کی احتسابی غیر منافع بخش تنظیم ویو فائنڈر کے بانی دنیل نوئیٹزنے بتا یا “ایک ڈیٹا رپورٹر مجھے ایک مرتبہ بتایا تھا کہ اگر کہیں پولیسی غیر اخلاقیات پرُمشتمل سرکاری ٹیبل ملے تو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اس کے پیچھے بھرپور اورکئی فقروں پہ مبنی ڈیٹا بیس ہیں۔” ان کے مطابق، "یہ سب سے حیرت انگیز نکات میں سے ایک تھا کیونکہ اس کی وجہ سے میں پولیس کے اندر اپنے رابطے قائم کیے جن سے مجھے ان کے ماخذ ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوئی۔”

تیونسی اسٹوری پلیٹفارم انسین کی اڈیٹر ان چیف امل ال میکی کے مطابق، یہ عمل عوامی ریکارڈ حاصل کرنے کی درخواست سے شروع ہوتا ہے اور اس کے لئے قانون نافظ کرنے واللی تنظیموں کا احتساب کرنے کے لئے حوصلہ درکار ہے۔ 

پولیٹزر پرائز ونر اور نیو یارک ٹائمزکی وژول تفتیشی ٹیم کے سینئر اسٹوری پروڈیوسر مالاکی براوُن نے کہا کہ یہ پراجیکٹ ہر مرحلے پر نہایت منظم ہوتے ہیں، سوشل میڈیا سے شواہد اکھٹے کرنے سے لے کر آڈیو اور وڈیو کو تقسیمی اسکرین پراڈیٹ کرنے اور وقت اور اسپیس میں واقعے کوڈہھونڈنے تک۔ 

پینل کے دس اہم تجاویز یہاں جانیے

پولیسی کاروائ کے ثبوت کی شناخت متعلقه ٹوئیٹر لسٹس سے کیجیے- Twitter.com/*/lists، پر کیورڈذ ڈالیے اور اپنی ٹوئیٹر لسٹس کے ساتھ ضم کر لیجیے۔ اسنیپ چیٹ، یوٹیوب اور ٹویٹر پر حقیقی وقت میں وڈیو ڈھونڈنے کے لئے سیم ڈیسک استعمال کریں اوربریکنگ نیوز، جوکہ خطہ سے ڈھونڈی جا سکتی ہے، اس کے لئے ڈیٹا مائینر استعمال کریں- 

جنوبی افریقہ میں پولیس بدانتظامی کے لئے یہ چھوٹی سزا کی شرح دنیا بھر میں اسی طرح کے احتساب کی ناکامیوں کی عکاسی کرتی ہے. ویو فائنڈر کے دانیئل کونیتز کا کہنا ہے کہ ایک مسئلہ یہ ہے کہ سزا یافتہ ہونا اندرونی تفتیش کاروں کے لئے کارکردگی کا پیمانہ نہیں ہوتا ہے۔

"بیڈ ایپل” اہلکاروں کے بجائے نظامی نا کامیوں اور پالیسی کی غلطیوں پرغور کیجیے۔ جو ادارے پولیس کی غیر اخلاقیات کی تفتیش  کر رہی ہیں ان کی جانچ پڑتال کریں، جیسے کہ اندرونی تفتیشی ڈاریکٹوریٹ اور اندرون امور یونٹ۔ یہ دیکھیں کہ پولیس کی کارکردگی سزائیں اور غیر اخلاقیات کی شرح سے جانچی جاتی  ہیں یا صرف بند ہونے والے کیسز سے۔ نوئیٹز کا کہنا ہے کہ ویسے تو بہت ہی کم اہلکار اپنے آپ کو وسل بلوئر سمجھتے ہوں گے لیکن کئی اندرونی تفتیشی افسران بے بسی اور انصاف کے ناتے رپورٹر کی مدد کرتے ہیں۔ 

پولیس آڈیو کی کھوج اور یہ سمجھنے کے لئے کہ پولیس اور ڈسپیچر اہم اوقات میں کیا سوچ رہے تھے یہ معلوم کیجئے کہ آپ کے ملک میں پولیس کی گفتگو ریکارڈ کرنے کی ایپ موجود ہے- امریکہ میں ہیں تو براڈکاسٹیفائےاوراوپن ایم ایچ زیڈ براہراست اور محفوظ شدہ فیڈذ مہیا کرتے ہیں۔ موبائیل کے لئے Radio Pro App تقریبا 30 ممالک کے لئے براہراست ریڈیو فیڈزمہیا کرتی ہے۔

پچھلے پولیس واقعات ڈھونڈنے کے لئے  گوگل پرsite: youtube.com پر کیورڈزُڈالئے اور ٹولز آئکن میں واقعہ کی تاریخ یا اس کے دوسرے دن تک محدود کردیں۔ ٹوئیٹر پوسٹ کے اوقات کے لئے ٹوئیٹر سرچ سے زیادہ ان وڈ درست ہے۔ 

سوشل میڈیا کے ثبوت کی سرچ کی لئے ا یسے پلیٹفارم اور زبان کاُ انتخاب کریں جو حادثے کے علاقے میں استعمال ہوتی ہو۔ مثال کے طور پہ ویلیس کا کہنا ہے کہ ہانک کانگ کے صارفین اکثر وڈیوز ٹیلیگرام اور LIHKG پر پوسٹ کرتے ہیں۔ ٹیلیگرام یا ٹیجیسٹیٹ کوسرچ کرنے کے لئے ٹیلیگاگو ایپ استعمال کریں۔ 

جب قانون نافذ کرنے والے ادارے پولیس کے غیر اخلاقیات پر چارٹس ریلیز کریں تو فرض کر لیں کہ واقعات اور شکایات پرایک بھرپور اور تفصیلی ڈیٹا بیس موجود ہے۔ آپ اس ڈیٹا کو کھوجیں اورمقتول کی فیملی کے ساتھ تعلقات بنائیے۔  

ٹویٹر یا ٹویٹ ڈیک کا جیوکوڈ فنکشن تیزی سے چشمدید گواہوں کی ویڈیو کا سراغ لگا سکتا ہے۔ تصویر: نیو یارک ٹائمز

تفتیش شروع کرنے کے لئے واقعہ کو گوگل میپ پرپن کردیں- اس سے آپ جیو کوڈ کے ذریعے مقامی ٹوئیٹ اور قریبی کاروبار ڈھونڈ سکیں گے جن کے پاس منظر کی سی سی ٹی وی فوٹیج موجوود ہو۔ اگر شروع میں اسٹور تعاون نہ کریں تو اپنی ابتدائی اسٹوری کی کاپی انہیں بھیجیں اور دوبارہ کال ملا کر سی سی ٹی فوٹیج مانگیں- Tweetdeck میں جیو کوڈ استعمال کریں اور comma ڈال کر فاصلے کو "1mi” پر رکھیں اور "پولیس” یا "پولیس اہلکار” جیسے اصطلاح استعمال کریں- 

سی سی ٹی وی جیسی بغیر آڈیو کی وڈیو کلپس ان وڈیو کے ساتھ ہم وت سازی سے ملائیں جن میں آڈیو ہو جیسے کہ لائیو اسٹریم اور کیمرہ فون،  وژیول اشارے کی مدد لے ر  جیسے چمکتی بتیاں اور قدموں کے نقش۔ 

جہاں پر صارفین اجازت دیں اسٹوری میں سوشل میڈیاکے وڈیو کلپس اور ہلکے پھلکے گرافکس جیسے دائرے اور تیر سے وضاحت کریں۔ 

911 کالوں پر ٹائم اسٹامپ سے ان لوگوں کو ویڈیو میں کال ملاتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ تصویر: نیو یارک ٹائمز

911 پولیس کال فائلز کے ٹائم اسٹیمپ اور وڈیو ثبوت کو مد نظر رکھتے ہوئے درست اور تناظری ٹائم لائن کے بیانئے بنائیں۔ 911 آڈیو فائلز سے یہ بھی میچ کیا جاسکتا ہے کہ لگاتار وڈیوز پر لوگوں نے کس ٹائم پر فون اٹھایا اور کب بند کر دیا۔ اس کے علاوہ ہنگامی صورتحال میں تیز آوازیں جیسے گاڑی کا دروازہ بند ہونا یا گولی چلنے کی آوازیں بھی واقعے کی ٹائم لائن بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ 

سیکیورٹی فورسز کی تفتیش کرنے کے لئے مزید وژیول فورنسک طریقے جاننے کے لئے GIJN کی تفصیلی گائیڈ یہاں دیکھئے۔ 

———————————————————————————————

روآن فلپ جی آئی جے این کے لیے بطور کام کرتے ہیں،یہ جنوبی افریقہ کے سنڈے ٹائمزکے سابق چیف رپورٹر بھی رہے ہیں، بطور غیر ملکی نامہ نگار روآن نے دنیا کے دو درجن سے زائد ممالک سے سیاست، بدعنوانی اور تنازعات سے متعلق رپورٹس کی ہیں۔

ہمارے مضامین کو تخلیقی العام لائسنس کے تحت مفت، آن لائن یا پرنٹ میں دوبارہ شائع کریں۔

اس آرٹیکل کو دوبارہ شائع کریں


Material from GIJN’s website is generally available for republication under a Creative Commons Attribution-NonCommercial 4.0 International license. Images usually are published under a different license, so we advise you to use alternatives or contact us regarding permission. Here are our full terms for republication. You must credit the author, link to the original story, and name GIJN as the first publisher. For any queries or to send us a courtesy republication note, write to hello@gijn.org.

اگلی کہانی پڑھیں

گوگل شیٹس کی بنیادی باتوں پر صحافیوں کے لیے مرحلہ وار گائیڈ

اسپریڈشیٹ کو استعمال کرنے کا طریقہ جاننا ایک اہم مہارت ہے، کیونکہ یہ آپ کو ڈیٹا کی بڑی مقدار میں ممکنہ کہانیاں تلاش کرنے اور اسے استعمال کرنے کے طریقے کے بارے میں تنقیدی انداز میں سوچنے کی اجازت دیتا ہے۔

جب آپ کے ملک کے رہنما صحافیوں کے مخالف ہوں: ارجنٹائن کے تحقیقاتی صحافی ہیوگو الکونڈا مون کی طرف سے بقا کے نقات

ارجنٹائن صحافتی تنظیم کے تحقیقاتی ایڈیٹر کو ملک کے سیاسی ہالوں میں زیادہ پسند نہیں کیا جاتا۔ یہاں انہوں نے کچھ نکات دیے ہیں کی مشکل سیاسی حالات میں اپنے آپ کو محفوظ رکھتے ہوئے صحافی تحقیقاتی کہانیاں کس طرح جاری رکھیں

Facebook privacy settings, online security jouranlists

جی آئی جے این ٹول باکس: جدید ترین — اور مفت — آن لائن تحقیقاتی ٹولز جو آپ ابھی آزما سکتے ہیں۔

امریکہ میں ہونے والے نائکار کانفرنس میں کچھ ایسے نئے ٹولز پیش کیے گئے جو صحافیوں کو حقائق کی جانچ پڑتال، موضوع کی بریفنگ، اور آن لائین رازداری برکرار رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔ اس تحریر میں جی آئی جے این نے ان ٹولز کی فہرست بنا کر ان کے بارے میں مختصر معلومات فراہم کی ہے۔