رسائی

ٹیکسٹ سائیز

رنگوں کے اختایارات

مونوکروم مدھم رنگ گہرا

پڑھنے کے ٹولز

علیحدگی پیمائش

رپورٹنگ

موضوعات

تحقیقاتی صحافت کو نئے سامعین تک پہنچانے کے لیے کومِکس، موسیقی اور تھیٹر کا استعمال

یہ مضمون ان زبانوں میں بھی دستیاب ہے

کونووکا، پیرو میں واقع ایک ڈیجیٹل تحقیقاتی پلیٹ فارم، یہ دکھانا چاہتا تھا کہ کس طرح بھاری صنعت سے نکلنے والے سیسہ سے زہر آلود لوگ بھی کووڈ 19 کی وجہ سے جدوجہد کر رہے تھے۔ ان کا منتخب کردہ میڈیم: مکومکس۔

جی آئی جی این کے رکن، کونووکا کی ڈائریکٹر اور بانی، میلاگروس سالازار ہیریرہ نے کہا کہ ٹیم نے کہانی سنانے کے لیے ایک انٹرایکٹو کامک کا انتخاب کیا کیونکہ "اس سے شہریوں کو ایک پیچیدہ حقیقت کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔“

انہوں نے 12ویں عالمی تحقیقاتی صحافتی کانفرنس (#GIJC21) میں کہا، "سیاسی ترجیحات سے بالاتر ہو کر، تحقیقاتی صحافیوں کی حیثیت سے ہم لوگوں کی صحت کی صورتحال پر توجہ مبذول کروانا چاہتے تھے۔” "لہذا، مفاد عامہ میں کہانی سنانے کے لیے ایک اختراعی فارمیٹ کی تلاش ضروری تھی۔“

اس کو پورا کرنے کے لیے، کونووکا کے نامہ نگاروں نے کارٹونسٹ اور پروگرامرز کے ساتھ کام کیا تاکہ لوگوں کے اکاؤنٹس کی نشاندہی کی جا سکے جنہیں گرافکس کی مدد سے کہانی سنانے کی صورت میں بتایا جا سکتا ہے۔ ہیریرا نے کہا کہ زہر سے متاثر ہونے والے افراد کی کہانیاں تلاش کرنا ضروری تھیں جن کی حمایت ٹھوس شواہد سے کی گئی ہو۔

"ایک کہانی کا انتخاب کرنا بھی ضروری تھا جس میں ذرائع اور دستاویزات قابل رسائی ہوں“ سالازار نے مزید کہا۔ "ہماری کہانی میں شامل متاثرہ آبادی کا تعاون ضروری تھا۔“

ٹیم کو سب سے زیادہ صارف دوست ٹیکنالوجی کا تعین بھی کرنا تھا۔ کامک کو تیزی سے لوڈ کرنے اور ڈیسک ٹاپ/ کمپیوٹرز اور سیل فون دونوں کے لیے موافق ہونے کی ضرورت تھی۔

کہانی سنانے کی جدید تکنیکوں کا استعمال پیرو میں کامکس تک محدود نہیں ہے۔ نئے سامعین تک پہنچنے کے لیے، دنیا بھر کے تفتیشی صحافی اپنی کہانیاں سنانے کے لیے نئے طریقوں کے ساتھ تیزی سے تجربہ کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، نیو یارک ٹائمز کے سابق تفتیشی رپورٹر اور اب دی آؤٹ لا اوشن پروجیکٹ کے ڈائریکٹر ائین اربینا کی قیادت میں ایک ٹیم کے کام پر غور کریں۔

اربینا کی ٹیم نے موسیقاروں کے ساتھ مل کر سمندر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ماحولیاتی خدشات پر تحقیقات پیش کرنے کے لیے کام کیا ہے۔

اربینا نے کہا کہ یہ اس لیے ضروری تھا کیونکہ وہ وسیع تر سامعین تک پہنچنا چاہتے تھے جو طویل تحقیقاتی مضامین نہیں پڑھتے، لیکن جو سوشل میڈیا پر مسلسل مواد دیکھتے ہیں: "ہم نے ایک مختلف قسم کے کہانی سنانے والوں کے ساتھ مل کر کام کیا — یعنی موسیقاروں — اور ہم نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ ان کے اپنے فالورز ہیں اور انہیں ان پلیٹ فارمز تک رسائی ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے۔“

اربینا نے کہا کہ وہ سمندر میں موجود کہانیوں کی تعداد سے متاثر ہوئے تھے – ایک ایسی جگہ جسے ٹیم "آخری ناقابل شکست سرحد” کہتی ہے – اور سمندروں پر رپورٹنگ کی کمی۔ جب کہ ٹیم نے جو کہانیاں رپورٹ کی ہیں وہ تفتیشی ہیں — جس میں بحری جہازوں کا بطور مہاجر ہولڈنگ اسٹیشن استعمال، غیر قانونی شکار، غیر قانونی ماہی گیری، اور انسانی غلامی کا احاطہ کیا گیا ہے — وہ انہیں بتانے کے لیے اکثر موسیقی اور دیگر تخلیقی شکلوں کا استعمال کرتے ہیں۔

https://www.youtube.com/watch?v=Bf63neFTOAo&feature=emb_title

ورکشاپ کی تیسری مقرر، جینا ویلچ، جو ایک دستاویزی فلم تھیٹر کمپنی، اسٹوری ورکس، میں آرٹسٹک ڈائریکٹر پروڈیوس کر رہی ہیں، جو تحقیقاتی صحافت کو ڈراموں اور آڈیو ڈراموں میں تبدیل کرتی ہے، نے کہا کہ حقائق پر مبنی رپورٹنگ اور اسے کیسے پیش کیا جاتا ہے اس کے بارے میں ایک مکالمہ ہونا چاہیے۔

"حقائق آرٹ اور خوبصورت سرمئی علاقے (گرے ایریا) کی وضاحت کرتے ہیں،” انہوں نے کہا۔ "مجھے اس لمحے سے محبت ہے جب حقائق اور نتائج آرٹ میں تبدیل ہوتے ہیں۔ سرمئی علاقے (گرے ایریاز) وہ ہیں جہاں ہمیں اپنے اصولوں، اپنی اخلاقیات اور جبلتوں، اور اپنے ناقابل یقین تجسس اور گونج پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہم اس کی تصدیق نہیں کر سکتے تو ہم اس قسم کی چھلانگ نہیں لگائیں گے۔ ہم بہت سے تخلیقی خطرات مول لیتے ہیں لیکن حقائق کے ساتھ ایسا نہیں کرتے۔“

اختراعی کہانی سنانے کے لیے نکات

مقررین نے صحافیوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ کہانی سنانے کی تکنیک کے اپنے ذخیرے کو وسعت دیں۔ سالازار نے کہا کہ ٹیم کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک پروجیکٹ کو کس طرح نظر آنا اور کام کرنا چاہئے، نئے فارمیٹس اور تحقیقاتی کہانیاں سنانے کے طریقوں پر کھلے پن کو برقرار رکھتے ہوئے۔

"ایک دوسرے سے سیکھنے کے لیے چست اور لچکدار پیشہ ور افراد کی کثیر الشعبہ ٹیموں کا ہونا ضروری ہے”انہوں نے کہا۔ "موثر نتیجہ حاصل کرنے کے لیے نئے علم کے لیے بہت زیادہ کھلے پن کی ضرورت ہے۔ مؤثر مواصلاتی چینلز قائم کریں اور ٹیم کے ارکان کے کام کو سنیں۔“

اربینا نے تسلیم کیا کہ یہ فیصلہ کرنا کہ صحافتی مواد ان کی زیادہ تخلیقی اور فنکارانہ مصنوعات میں کتنا شامل ہے ابھی بھی یہ سیکھنے کا ایک جاری عمل ہے۔ انہوں نے کہا، یہ ضروری ہے کہ وہ حدود کھینچیں جنہیں عبور نہیں کیا جا سکتا۔ رویوز کے لیے ذہن کھلا رکھنا ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے ان کی ٹیم اس مسئلے سے نکل رہی ہے۔

ویلچ نے زور دیا کہ تحقیقاتی صحافت کا فنون لطیفہ کے ساتھ امتزاج ایک خیال ہے جس کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا، دونوں کا ایک ہی بنیادی مقصد ہے: "سچائی کی تلاش۔”

ہمارے مضامین کو تخلیقی العام لائسنس کے تحت مفت، آن لائن یا پرنٹ میں دوبارہ شائع کریں۔

اس آرٹیکل کو دوبارہ شائع کریں


Material from GIJN’s website is generally available for republication under a Creative Commons Attribution-NonCommercial 4.0 International license. Images usually are published under a different license, so we advise you to use alternatives or contact us regarding permission. Here are our full terms for republication. You must credit the author, link to the original story, and name GIJN as the first publisher. For any queries or to send us a courtesy republication note, write to hello@gijn.org.