رسائی

ٹیکسٹ سائیز

رنگوں کے اختایارات

مونوکروم مدھم رنگ گہرا

پڑھنے کے ٹولز

علیحدگی پیمائش

Shutterstock

رپورٹنگ

موضوعات

دنیا بھر کے تحقیقاتی نیوزرومز میں کیا تنوع نظر آتا ہے؟

یہ مضمون ان زبانوں میں بھی دستیاب ہے

Shutterstock

علمی کورونا وبا سے لے کر بلیک لایئوز ماٹر کی  تحریک سے ہونے والے تجزیہ ذات سے سنہ 2020  نے معاشرے کے عیبوں کو بے نقاب کیا ہے۔ منتظمین اپنے کردار پر سوال اٹھا رہے ہیں اور صحافت نے اس لمحہ کو خود بینی تجزیے کے لیے ضائع نہیں کیا۔ امریکا کے متعدد بڑے اشاعتی اداروں میں لوگ نسلی عدم مساوات کے جواز کی بنا پرمستعفی ہوئے ہیں اورعملہ نے ان اداروں میں نسلی تنوع نہ ہونے پر احتجاج کیا ہے۔

یہ مسلہ صرف امریکہ میں نہیں ہے۔ رائیٹرز انسٹیٹیوٹ کے ایک مطالعہ میں پانچ ممالک اور چار براعظموں کے 100 خبری اداروں کا ادارتی جائزہ لیا گیا۔ اس  سے یہ پتا چلا کہ بڑے میڈیا اداروں میں ادارت کے اعلیٰ عہدوں پرآبادی کے برعکس سفید فام فائز ہیں۔ برازیل ، برطانیہ ، جنوبی افریقا ، جرمنی اور امریکا میں 88 اعلیٰ مدیروں میں صرف 18 فیصد غیرسفیدفام تھے جبکہ ان ممالک کی 41 فیصد آبادی غیر سفیدفام نفوس پر مشتمل ہے۔ برازیل کی آبادی کی اکثریت غیرسفیدفام ہے، مگرتحقیق سے یہ پتا چلتا ہے کہ وہاں صرف ایک غیرسفید فام مدیر تھا۔ امریکا میں ان کی تعداد صرف دو تھی۔

دنیا بھر میں تحقیقاتی ٹیموں کی ہیئت ترکیبی سے متعلق بہت محدود حقیقی اور درست ڈیٹا دستیاب ہے۔ اس شعبہ میں گیٹ کیپروں میں تنوع نہیں پایا جاتا ہے۔ امریکا میں نیشنل پریس کلب نے متنوع تحقیقاتی ٹیموں کی بھرتی سے متعلق کچھ عرصہ قبل ایک مباحثے کا اہتمام کیا تھا۔ 

اس گفتگو اور اس مضمون کے لیے کیے گئے انٹرویوز اور دنیا بھر میں صحافیوں کے انتخاب کے تناظر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ تحقیقاتی صحافت ان شعبوں میں سے ایک ہے جو ابھی تک مختلف نسلی پس منظرکے حامل صحافیوں کی بھرتی اور انھیں تربیت دینے کے لیے کوشاں ہے۔

جنوبی افریقا کی امابھون گین ٹیم کی سابق رپورٹر زنیل جی کہتی ہیں کہ ’’میں تحقیقاتی صحافت کرنا چاہتی تھی لیکن میں تحقیقاتی صحافی بننے کے خیال ہی سے خوف زدہ تھی لیکن اب میں یہ سمجھتی ہوں کہ ایسا کیوں تھا؟ کیونکہ میں نے اپنے جیسے دکھنے والے کسی شخص کو یہ کا کرتے نہیں دیکھا تھا۔” 

جنوبی افریقہ کے تفتیشی رپورٹر زینیل جی۔ فوٹو: بشکریہ زینیل جی

32 سالہ جی جنوبی افریقا سے تعلق رکھنے والی سیاہ فام رپورٹر ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ جب 2017ء میں انھوں نے تحقیقاتی صحافت کے شعبہ میں قدم رکھا تھا، تواس وقت ان کی رنگت کے حامل بہت کم لوگ اس شعبے میں کام کررہے تھے اور خواتین کی تعداد تو بہت تھوڑی تھی۔ حالانکہ جنوبی افریقا میں نسل پرستی کے دور سے تعلق رکھنے والے سیاہ فام صحافیوں ہینری شومالا اور نیٹ ناکاسا کا شاندار ورثہ اور روایات موجود تھیں۔  

جی کا کہنا ہے،’’ میں صرف یہ جانتی ہوں کہ جنوبی افریقا میں جس طرح کام ہوتا ہے،وہ بالکل غیرمنصفانہ ہے۔‘‘ جی نے اپنے منفرد کام کے لیے ایک نئی بیٹ تراشی ہے اوروہ جنوبی افریقا میں زمین کی ملکیت میں عدم مساوات اورسیاہ فاموں کے ساتھ بدستورمتعصبانہ سلوک سے متعلق تحقیقات کرتی ہیں۔ انھوں نے گپتا لیکس کے دور میں سیاہ فاموں سے متعلق بڑی اسٹوریاں کی ہیں۔ انھوں نے اس دستاویزات کے انبارمیں انڈین نژاد کے گپتا برادرز اور جنوبی افریقا کی حکومت کے درمیان کرپٹ روابط کو بے نقاب کیا۔ جی نے ’’سیاہ فام لوگ، جو غلط قرار دیے گئے‘‘ کے عنوان سے مضامین کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

رائیٹرز کے مطالعے میں یہ انکشاف ہوا کہ جنوبی افریقا میں غیر سفید فام مدیروں کی تعداد اکثریت میں ہے اور وہ 68 فی صد ہیں۔ جی کی اراضی سے بے دخلی کی تحقیقات کا 2018ء میں ٹاکو کوئپر تحقیقاتی صحافت ایوارڈز میں خصوصی حوالہ دیا گیا تھا لیکن اگر گذشتہ چند سال کے دوران میں ان اعلیٰ اعزازات کے لیے  منتخب کردہ صحافیوں کی فہرست پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو یہ پتا چلتا ہے کہ ان میں تنوع کا فقدان تھا۔ 

امریکا سے یورپ اور گلوبل ساؤتھ تک تنوع سے متعلق سوالات مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں۔ یہ نسل، رنگ، مذہب، صنف، سماجی اقتصادی نمایندگی، زبان اور حتیٰ کہ شہری اور دیہی ماحول تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ دنیا بھر کے نیوز روموں میں تنوع سےمتعلق ایشوز کیا کردار ادا کرتے ہیں اور کون سے خبری ادارے توازن کو بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

دیہی خواتین کی آواز 

عالمی سطح پر کرپشن کی تحقیقاتی کہانیاں ہی ہمیشہ اثرانداز نہیں ہوتی ہیں بلکہ مقامی نوعیت کی کہانیاں بھی اہمیت کی حامل ہیں۔ جیسے انڈیا میں ایک تحقیقاتی صحافتی ادارے نے آوارہ مویشیوں سے متعلق ایک رپورٹ تیارکی اور اس میں بتایا تھا کہ ملک کے شمال میں غریب کسانوں کے چھوڑے گئے یہ آوارہ مویشی کیسے موسمیاتی بحران کو شدید تر کررہے ہیں اور ریاست ملک کی غریب آبادی کو ترجیح دینے میں ناکام رہی ہے۔ 

اس اسٹوری کی تحقیقات خبر لہریہ نے کی تھی۔ یہ اخبار مقامی پسماندہ دلت خواتین کے بارے میں کہانیاں منظرعام پر لاتا ہے۔ دلتوں کو انڈیا کے ذات پات کے نظام میں سب سے نیچ سمجھاجاتا ہے۔ اس اخبار کی بانی میراجاتیو کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ ان کی اس موضوع پر تحقیقاتی رپورٹ کے بعد نئی دہلی میں اس موضوع پر پارلیمان میں بحث کی راہ ہموار ہوئی تھی۔

میرا جاتیو کہتی ہیں،’’پدرشاہی ہماری روزمرہ کی زندگیوں میں عام ہے، ہم اس کا سامناکرتے ہیں، ہم اس کا مقابلہ کرتے ہیں، ہم اس سے مکالمہ کرتے ہیں، اپنے گھروں سے ہر اس جگہ تک، جہاں ہم کچھ کرنے کے لیے جاتی ہیں۔‘‘ ان کے اخبار کے عملہ میں قریب قریب تمام خواتین ہی شامل ہیں۔اس کے قارئین کی تعداد 80 ہزار ہے۔ جاتیو نے چتراکوٹ کولیکٹو کے نام سے خواتین کے لیے ایک میڈیا آرگنائزیشن قائم کی ہے۔ یہ اسی نام کے ضلع میں رونما ہونے والے واقعات کو رپورٹ کرتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’’یہ خواتین کے طورپر ہمارے لیے ہر روز کی جنگ ہے کہ ہم کسی ملازمت کے قابل ہوں، گھر سے باہر جاسکیں، رپورٹنگ کی طرح کا کوئی کام کرسکیں۔ خواتین کے بارے میں آج بھی ملک کے اس علاقے میں کبھی یہ سنا نہیں گیا کہ وہ صحافی اور رپورٹر بھی ہوسکتی ہیں۔‘‘

میراجاتیوکا صحافتی کیرئیر دوعشروں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ وہ اب خود سے روا رکھے جانے والےسلوک پر ہنستی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ حکام ہمیشہ ان سے پوچھ تاچھ کرتے رہے ہیں کیونکہ انھیں تو اس بات کا کوئی یقین ہی نہیں کہ کوئی دلت عورت بھی تحقیقاتی صحافی ہوسکتی ہے۔

وہ ایک اور پہلو کو بھی اجاگر کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ جب خبرلہریہ اور چتراکوٹ کولیکٹو میں کام کرنے والی دوسری خواتین نے رپورٹر کی حیثیت سے جب کہیں پوچھ تاچھ کا تقاضا کیا تو حکام نے پہلے تو ان سے اپنی ذات پات کی بابت بتانے کا مطالبہ کیا جب انھوں نے یہ بتانے سے انکارکیا تو پھر ان سے یہ پوچھا گیا کہ ان کے والد حضرات کیا کام کرتے ہیں، ان کا پیشہ کیا ہے تاکہ اس طرح وہ ان کے خاندانی پس منظر کا اندازہ کرسکیں اور یہ فیصلہ کرسکیں کہ ان کے کسی سوال کا جواب دیا بھی جانا چاہیے یا نہیں۔ نیوزرومز کے اندر تعصب کی اس شکل کو بیان نہیں کیا جاتا ہےلیکن یہ بہرحال موجود تو ہے۔ 

چتراکوٹ کولیکٹو کی ایک ایڈیٹر پریانکا کوٹامراجو کہتی ہیں، ’’(بھارت میں) ہر ادارے میں گیٹ کیپرموجود ہیں،خواہ یہ کوئی غیر منافع بخش ادارہ ہے یا قومی سطح کا میڈیا ادارہ ہے، وہاں آج بھی دلتوں یا مقامی افراد کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس وقت شاید ہی کسی میڈیا ادارے میں دلت مقامی شخص یا اسی طرح کے پس منظر کا حامل کوئی ایڈیٹر اعلیٰ عہدے پر فائز ہوگا۔‘‘

میرا جاتیو کا کہنا ہے کہ ’’اگر کسی رنگت سے تعلق رکھنے والی خواتین یا پسماندہ گروپوں سے تعلق رکھنے والی خواتین میڈیا ہاؤسز میں داخل ہونے میں کامیاب ہو بھی جاتی ہیں تو ان کا کردار بہت محدود ہوتا ہے اور اسی طرح ان کے لیے ترقی کے مواقع بھی محدود ہوتے ہیں۔‘‘

کوٹامراجو اس مظہریت کو ایک اور انداز میں بیان کرتی ہیں:’’ان کی شناخت بالعموم مٹا دی جاتی ہے اور انھیں کبھی کسی پسماندہ گروپ سے تعلق رکھنے والے فرد کے طور پر نہیں دکھایا جاتا۔ یہ منظم نسل پرستی کی ایک ایسی شکل ہے کہ اس کا دلت خواتین کو کام کی جگہوں پر اکثر سامنا ہوتا ہے مگر لوگ اس کے بارے میں بات نہیں کریں گے کیونکہ وہ آپ کی شناخت سے متعلق بات نہیں کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ 

چتراکوٹ کولیکٹو سے تعلق رکھنے والی صحافیوں اور برازیل میں تحقیقاتی صحافتی ادارے ایجنسیا پبلیکا نے ایک متبادل پلیٹ فارم مہیا کیا ہے اور اس طرح انھوں نے مرکزی دھارے کے میڈیا میں حائل اَن دیکھی رکاوٹوں اور مناصب کی زنجیروں کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔  

ایجنیسا پبلیکا برازیل کا پہلا تحقیقاتی غیرمنافع بخش ادارہ ہے۔

برازیل کے ایجنسیہ پبلکا کی نتالیہ ویانا۔ تصویر: بشکریہ نتالیہ ویانا

اس نے ملک میں انسانی حقوق کے موضوع پر میڈیا کوریج بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ ایجنسیا پبلیکا کی شریک بانی نتالیا ویانا بتاتی ہیں، ’’ادارے کے آغاز پر بہت سی خواتین صحافیوں نے ہماری ٹیم میں شمولیت اختیار کی تھی۔ تب ہمارے لیے یہ واضح تھا کہ خواتین مکمل طور پر کسی نئی چیز کے قیام میں زیادہ مددگار ثابت ہوسکتی ہیں اور یہ کہ ہماری ضروریات اور ایشوز فطری طور پر کام کے انداز، ادارہ جاتی تعلق داری ، کوریج اور تنظیم  کی شناخت میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔‘‘ 

اس کا یہ مطلب ہے کہ صنفی ایشوز کوئی اضافی مسئلہ نہیں رہے تھے۔ چناںچہ پسماندہ گروپوں کی آوازیں اس ایجنسی کی ادارتی سمت کا حصہ بن گئی تھیں۔ بالخصوص برازیل کے دیہی اور جنگلی علاقوں میں اختیارات کے غلط استعمال اور کرپشن کی تحقیقات اس کی ادارتی پالیسی کا حصہ ٹھہری تھی۔

ویانا نے ایک ای میل کے ذریعے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ’’یہ لوگ یقینی طور پر اختیارات کے ناجائزاستعمال ، کمپنیوں، سیاست دانوں اورحکومتوں کی جانب سے خلاف ورزیوں کے ارتکاب کے بارے میں سب سے زیادہ باخبرہیں۔‘‘ پبلیکا نے گذشتہ سال 10 اور خبری اداروں کے ساتھ شراکت داری شروع کی تھی تاکہ زیادہ متنوع قارئین اور ناظرین تک خبریں پہنچائی جاسکیں۔ نوجوان سیاہ فام اور مقامی پیش کار انسٹاگرام کے ذریعے اسٹوریوں کو تیار اورپیش کررہے ہیں۔‘‘

ویانا نے بھی تنوع اور ادارتی عملہ کی قیادت کے بارے میں ایک اہم نکتے کی نشان دہی کی ہے۔ وہ یہ کہ میز پر بیٹھا کون شخص یہ فیصلہ کرے گا کہ کون سے موضوعات پر تحقیقات کی جائے گی؟ کون سی اسٹوریاں کی جائیں گی اور کن موضوعات کے لیے کون سے وسائل بروئے کار لائے جائیں گے؟ اس ضمن میں ویانا یہ تجویز پیش کرتی ہیں کہ ایک زیادہ متنوع ٹیم اس حوالے سے بہترمددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’ہم صحافی ہیں،اس لیے یہ فیصلہ کرنا ہمارے کام کا فطری حصہ ہے کہ کون سی تحقیقات کو بعض خاص مواقع پر ترجیح دی جانا چاہیے۔ ہم ہمیشہ ان اسٹوریوں پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں جنھیں دوسرے کور نہیں کرتے ہیں، نیز برازیل سے کیا موضوع متعلق ہے؟ اس کے لیے کیا وسائل بروئے کار لائے جاسکتے ہیں اور ان کے کیا اثرات ہوں گے۔‘‘ ان کے ادارے کی اسٹوریاں 13 سو سے زیادہ بین الاقوامی خبری اداروں کے اخبار وجرائد میں شائع ہوتی ہیں اور وہ اب تک دسیوں ایوارڈز جیت چکی ہیں۔

متنوع کمیونٹیوں کے بارے میں حساسیت

ملائشیا میں ڈیجیٹل خبری ادارے ملائشیاکینی میں تنوع سے متعلق ایشوز کو مختلف طریقوں سے بروئے کار لایا جاتا ہے۔اول، یہ کہ اس کے ناظرین اور قارئین ایک وسیع متنوع حلقہ ہیں۔ یہ ادارہ کرپشن اور پسماندہ کمونیٹیوں کے بارے میں اسٹوریوں کو شائع کرتا ہے۔ اس کا مواد چار زبانوں بہاسا، چینی، انگریزی اور تامل میں شائع ہوتا ہے۔ اس کی کووِڈ-19 کی وبا کے بارے میں خصوصی کوریج کامزید تین زبانوں برمی، نیپالی اور بنگالی میں ترجمہ کیا گیا ہے تاکہ ملک میں تارکینِ وطن کی بڑی کمیونٹیوں تک رسائی حاصل کی جاسکے۔

ملائشیاکینی اسپیشل رپورٹس ایڈیٹر، عدیلہ رزاق۔ فوٹو: بشکریہ ملائشیاکینی

پھر اس ادارے کی رپورٹنگ میں نسلی تنوع کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کیونکہ ملائشیا ایک ایسا ملک ہے جہاں نسلی طور پر مختلف قومیتوں کے لوگ آباد ہیں۔ اس کی 62 فیصد آبادی مالے،21 فی صد چینی ،6 فی صد بھارتی اور 11 فیصد دوسری قوموں کے نفوس پر مشتمل ہے۔ ملائشیا کینی کا نیوزروم نسلی لحاظ سے متنوع ہے اور یہ انتظامیہ کا ایک سوچا سمجھا فیصلہ تھا کہ ادارتی عملہ میں مختلف قومیتوں کے لوگ شامل ہوں گے۔

ملائشیاکینی کی اسپیشل رپورٹس ایڈیٹر عدیلہ رزاق نے جنگلات کے کٹاؤ اور تارکینِ وطن کے بچھڑے بچوں کے سفر کے بارے میں تفصیلی فیچر کیے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ وہ بعض خاص اسٹوریوں کو کور کرنے کے لیے حجاب پہنتی ہیں یا مرد صحافیوں کو حساس موضوعات کی کوریج کے لیے بھیجتی ہیں تاکہ وہ خود کسی اسٹوری کا مرکزی کردار نہ بن جائیں۔

لیکن بعض اوقات مقامی قدامت پرست گائیڈز کے ساتھ وہ خود ہی دشوار گذارجنگلوں میں چلی جاتی ہیں تا کہ وہ درختوں کے کٹاؤ کے نتیجے میں ہونے والے اثرات کو بہ چشم خود ملاحظہ کرکے بے نقاب کرسکیں۔ عدیلہ رزاق کہتی ہیں کہ ’’ایسی صورت حال میں ، مَیں خود کو صحافی سمجھتی ہوں، صرف ایک خاتون صحافی نہیں۔‘‘

البتہ انھیں خواتین کو درپیش بعض معاشرتی پابندیوں کے بارے میں تشویش لاحق ہے۔ ان میں کئی کئی گھنٹے تک کام، تحقیقاتی صحافت میں کم تن خواہوں کے کلچر کے پیش نظر خواتین طویل المیعاد تحقیقاتی منصوبوں کو اختیار کرسکتی ہیں۔ بالخصوص ملائشیاکینی جیسے قدرے چھوٹے نیوزرومز میں۔

چیلنج والے ماحول میں تنوع کا فروغ 

گذشتہ عشرہ اخباری صنعت کے لیے سفاک ثابت ہوا ہے کیونکہ بہت سے مقامی اخبارات بند ہوگئے یا انھیں مالیاتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، ڈیجیٹل خبری اداروں نے  ہزاروں کی تعداد میں عملہ کو فارغ خطی دے دی جبکہ صحافتی یونینیں میڈیا ہاؤسز پر یہ زور دیتے رہے ہیں کہ وہ ملازمین کو فارغ کرنے کے بجائے متبادل منصوبے تیار کریں۔ماہرین یہ کہتے ہیں کہ اس مسئلہ کے بھی نسلی تنوع پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

ٹامپا بے ٹائمز کی ڈپٹی ایڈیٹر ماریا کاریلو نے انویسٹیگیٹو ریپورٹرز اینڈ ایڈٹیرز جرنل سے بات کرتے ہوئے کہا ’’میرے خیال میں جب انڈسٹری بے روک ٹوک دھڑام سے نیچے گرتی ہے تو بھرتی کا عمل بھی اس کے ساتھ ہی نیچے گرتا ہے اور ابھی ایسی کوئی کمٹمنٹ بھی نظر نہیں آرہی ہے کہ اخباری اداروں کی بحالی اور نشوونما کا کوئی عمل ہوگا۔

مختلف متنوع پس منظر کے حامل صحافی حضرات کو اب بھی ان کے نسلی یا صنفی پس منظر کی بنا پر تنہائی کا سامنا ہوتا ہے یا ان کے ساتھ ان کے سماجی اقتصادی پس منظر کی بنا پر ٹیم یا نیوزروم میں امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے اور انھیں بالعموم ان کی اپنی کمیونٹی کی ڈی فیکٹو آواز بننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔مزید برآں امریکا میں بعض صحافی حضرات یہ محسوس کرتے ہیں کہ انھیں صرف ان کی کمیونٹی یا نسل یا مخصوص متنوع بیٹ تک ہی محدود کردیا گیا ہے۔یہ اسٹوریاں بھی کیونکہ ضروری ہیں،اس لیے یہ ان صحافیوں کے سپرد کی جاتی ہیں جو زیادہ بہترانداز میں مواد فراہم کرسکتے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے ران نکسن جنہیں گزشتہ سال مارچ میں گلوبل انویسٹی گیشن ایڈیٹر بنایا گیا کا کہنا ہے کہ ’’سیاہ فاموں کو کسی مرکزی دھارے کے میڈیا یا قومی پبلی کیشن میں موقع مہیا نہیں کیا جاتا۔‘‘ اس سے پہلے وہ نیویارک ٹائمز کے ہوم لینڈ سکیورٹی کے نامہ نگار تھے۔ وہ واٹرگیٹ اسکینڈل کا انکشاف کرنے والے مایہ ناز رپورٹر باب ووڈ وارڈ کے نقش قدم پر چل کر ان ہی ایسا بننا چاہتے تھے لیکن جب انھوں نے سی بی ایس کے نامہ نگار ایڈ براڈلے اور پیولٹزرانعام یافتہ رپورٹر لیس پین کے کام کو دیکھا تو یہ محسوس کیا کہ تحقیقاتی صحافت بھی ان کے لیے ایک حقیقت ہوسکتی ہے۔ 

نیکسن کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی صحافت پر صحافیوں کو زیادہ سے زیادہ سیٹ فراہم نا کر پانا ایک ناکامی ہے ۔ یہ امریکہ میں مقیم ایڈا بی ویلس سوسائٹی فارانوسٹیگیٹو جرنلزم کے شریک بانی بھی ہیں جس کا مقصد مختلف رنگت کے تفتیشی صحافیوں کی "صفوں، برقرار رکھنے اور پروفائل میں اضافہ” کرنا ہے۔

نکسن مصری صحافی میگی مائیکل میشال کے کام کا حوالہ دیتے ہیں۔ میگی نے یمن میں جاری جنگ میں انسانی حقوق اور جنگی قوانین کی خلاف ورزیوں پر کام کیا تھا اور اس پر انھیں اور ان کے معاون صحافیوں کو 2019ء میں پیولٹزرانعام سے نوازا گیا تھا۔ 

ران نکسن کہتے ہیں:’’یہی وہ چیز ہے جو اس وقت گم ہوتی ہے جہاں مختلف رنگت کے لوگوں کو شامل کرنے کے لیے تناظر کو وسیع نہیں کیاجاتا ہے کیونکہ اس طرح مختلف تناظر اور مختلف آئیڈیاز سامنے آتے ہیں اور اس طرح آپ ایک مختلف نقطہ نظر کو منظرعام پر لانے کا سبب بنتے ہیں۔‘‘  

___________________________________________________________

لینسی چوٹیل ایک آزاد صحافی کے طورپر کام کرتی ہیں۔وہ جنوبی افریقا کے شہر جوہانسبرگ میں مقیم ہیں۔وہ افریقا کے مشرقی اور جنوبی حصوں میں صنف ، شناخت ، ترقی ، ثقافت کے موضوعات اور روزمرہ کے واقعات کے بارے میں کئی ایک تفصیلی رپورٹس لکھ اورپروڈیوس کرچکی ہیں۔ان کی تحقیقاتی رپورٹس نیویارک ٹائمز،ایسوسی ایٹڈ پریس ، کوارٹز، دا گارڈین اور واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہوتی ہیں۔

ہمارے مضامین کو تخلیقی العام لائسنس کے تحت مفت، آن لائن یا پرنٹ میں دوبارہ شائع کریں۔

اس آرٹیکل کو دوبارہ شائع کریں


Material from GIJN’s website is generally available for republication under a Creative Commons Attribution-NonCommercial 4.0 International license. Images usually are published under a different license, so we advise you to use alternatives or contact us regarding permission. Here are our full terms for republication. You must credit the author, link to the original story, and name GIJN as the first publisher. For any queries or to send us a courtesy republication note, write to hello@gijn.org.