رسائی

ٹیکسٹ سائیز

رنگوں کے اختایارات

مونوکروم مدھم رنگ گہرا

پڑھنے کے ٹولز

علیحدگی پیمائش

Graphic: Courtesy Coda Story

رپورٹنگ

کورونا کے متعلق گمراہ کن معلومات پھیلانے والے کردار کون ؟

یہ مضمون ان زبانوں میں بھی دستیاب ہے

کورونا سے متعلق گمراہ کن معلومات پھیلانے کی مہم نے افریقہ اور مغربی یورپ میں لاکھوں لوگوں کی توجہ حاصل کر لی تھی۔ اس مہم کے تانے بانے کہاں جا کر کس سے ملتے ہیں؟ ان جھوٹی خبروں کے پیچھے عوامل کی تحقیقات فرانس 24 ٹی وی کی ویب سائٹ دی آبزرور کے الیگزینڈر کیپرون نے کی، آغاز میں تو کیپرون کا خیال تھا کہ یہ سب کسی طاقتور ادارے کی ایک منظم سازش ہے۔

صورت حال یہ تھی کہ عوامی جمہوریہ کانگو اور اسکے فرانس میں بڑے پیمانے پر آباد شہریوں کے حکومت مخالف جذبات کو ہوا دینے کے لئیے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جھوٹی خبریں چلائی گئیں۔ پانچ مقبول فیس بک پیجز پر خبری پوسٹوں کے ذریعے سربراہ مملکت اور طبی ماہرین سے جعلی بیانات منسوب کئے گئے جنکے سنگین نتائج ہو سکتے تھے۔

کیپرون نے ایسی مشکوک تنظیموں کا پتہ چلانے کے لئیے  مخصوص آلات اور ویب سائٹس کا سہارا لیا جو اس طرح  کسی منظم مہم کے پیچھے موجود تنظیموں کی نشاندہی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان آلات میں Hoaxy whopostedwhat.com اورخبروں صداقت کو جانچنے کیلیے فیس بک پر دستیاب وہ آلات اور لنکس شامل  ہیں جو فیس بک کے انتہائی موثر "ٹرانسپیرینسی باکس” کا حصہ ہیں۔ ان کے ذریعے مختلف فیس بک پیجزکو چلانے والے لوگوں تک پہنچا جا سکتا ہے۔

مگر اس سے پہلے کے کیپرون کسی ایسے مشکوک ادارے تک پہنچتا اسکی تحقیق اسے عوامی جمہوریہ کانگو کے دارالخلافہ کنشاسہ میں ایک بیس سالہ کالج کے طالب علم اور ایک سولہ سال کے سکول کے طالب علم تک لے گئی جو بقول انکے "ایک کھیل” کا حصہ تھے۔

بیس سالہ طالب علم جو ایک فیس بک پیج چلا رہا تھا اس نے کیپرون کو بتایا کہ وہ زیادہ فالورز حاصل کرنے کے لئیے خبریں گھڑتا ہے۔ اپنے قارئین کو ایسی خبریں فراہم کرتا ہے جو انہیں کہیں اور سے نہیں ملتیں۔

کانگو کے ایک بیس سالہ طالب علم نے ایک صحافی کو بتایا کہ کورونا سے متعلق اسکی ایسی من گھڑت خبروں کے ذریعے ایک ماہ میں اسکے فالورز کی تعداد میں ساٹھ ھزار کا اضافہ ہوا

اس طالب علم کے صرف ایک فیس بک پیج پر ڈیڑھ لاکھ فالورز تھے اور کورونا سے متعلق اسکے گھڑے گئے مضامین کو صرف پانچ ہفتوں میں دو لاکھ چھ ھزار مرتبہ شئیر کیا گیا۔ پوری دنیا کو اس وبا سے متعلق جھوٹی معلومات کے ایک سیلاب کا سامنا ہے اور اس میں ملوث مختلف قوتوں کی ایک کھچڑی ہے جس میں بچے کھچے نظریاتی گروہ، کاروباری فراڈی، ریاستی عناصر، تعلقات عامہ کے پس پردہ ایجنٹ، سازشی کہانیاں گھڑنے والے ٹی وی چینل اور صرف توجہ یا کچھ رقم کمانے کے شوقین طالب علم شامل ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں قائم بین القوامی خبر رساں ایجنسی کے رائیٹرز انسٹیٹیوٹ کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا سے متعلق غلط خبروں کا بھی تقریباً چالیس فیصد ان معلومات پرمشتمل تھا جو خود سے گڑھی گئی تھیں۔ آکسفورڈ انٹرنیٹ انسٹیٹیوٹ کے ایک جائزے میں یہ معلوم ہوا ہے کہ چین اور روس کے ریاستی میڈیا کی طرف سے جاری کردہ کورونا سے متعلق گمراہ کن معلومات نے سوشل میڈیا پر جو توجہ حاصل کی وہ مغربی یورپی ممالک کے قومی میڈیا کی حقائق پر مبنی خبروں سے کہیں زیادہ تھی۔ صورت حال اتنی بگڑ چکی ہے کہ عالمی ادارہ صحت کو یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ کورونا وبا کے ساتھ جڑی غلط معلومات بھی ایک وبا کی صورت اختیار کر چکی ہے اور اسے ادارے نے "انفوڈیمک” ( Infodemic) کا نام دیا ہے۔

سیاسی دروغ گوئی کے برعکس سوچے سمجھے منصوبے کے تحت وبائی امراض سے متعلق جھوٹ کا پرچار جان لیوا نتائج کا حامل ہوتا ہے مثلاً غیر ذمہ دارانہ رویوں کے باعث ہونے والی اموات، جعلی حتی کہ زہریلا طریقہ علاج، تشدد پر اکسانا جس کی ایک مثال بھارت میں مسلمان اقلیتوں پر ہونے والے حملے ہیں۔

جی آئی جے این نے کورونا سے متعلق غلط معلومات کے پھیلاؤ پر تحقیق کرنے والے چھ رپورٹروں اور چھ ایڈیٹروں کے انٹرویو کیے تو ان سب کو تحقیقاتی صحافت کے کردار سے متعلق ایک متفقہ سوچ  کا پایا۔ تحقیقاتی صحافیوں کو بنیادی طور پر ایسی گمراہ کن معلومات کی مہم میں استعمال ہونے والے افراد اور پیسے پر توجہ مرکوز رکھنی چاہئیے بجائے اسکے کہ وہ اپنی توانائیاں ایسی مہم کے نتیجے میں پھیلنے والے جھوٹے دعووں کو محض جھٹلانے میں صرف کرتے رہیں۔

یوں تو خبریں گھڑنے والے عناصر کو بے نقاب کرنے کے لئیے صحافی درجنوں آلات کو بروئےکار لاتے ہیں۔ جی آئی جے این نے ان صحافیوں سے انٹرویو میں ایسے چھ آلات اور چھ طریقوں کا پتہ لگایا ہے جنھیں بیشتر تحقیقات کے لئیے استعمال میں لایا گیا۔

بزفیڈ نیوز کے میڈیا ایڈیٹر کریگ سلورمین کا کہنا ہے کہ جو لوگ گمراہ کن خبروں کو بنانے اور اسکے پھیلاؤ میں ملوث ہیں ایسے افراد اور گروہوں کو بے نقاب کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر لوگوں کا تسلسل سے پیچھا کرنے والے ٹرولز، ریاستی عناصر، کاروباری ادارے سب کی تحقیقات ضروری ہے۔ یہ ایک اچھی کہانی بن سکتی ہے اور ایسی سٹوری سے خبریں گھڑنے والوں کی حوصلہ شکنی بھی ہو گی، خاص کرکہ جب انہیں یہ پتہ چلے کہ صحافی انکے خلاف تحقیقات کر سکتے ہیں۔

سلورمین نے حال ہی میں انٹرنیٹ پر عوام کو دستیاب ان ویب سائیٹس پر "پلگ ان” اور آلات کی فہرست کو مکمل کیا ہے جو جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کی قریب سے نگرانی کرنے میں صحافیوں کی مدد کرتے ہیں۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ سال 2020 میں حقائق کی تصدیق کرنے والی دنیا بھر کی تنظیموں کی ایک زبردست مشترکہ حکمت عملی نے ایسے پس پردہ عناصر کا پیچھا کرنے میں انکی بہت مدد کی۔ امریکہ میں پوائنٹر انسٹیٹیوٹ، حقائق کی جانچ پرکھ کرنے والے ایک بین القوامی نیٹ ورک International Fact Checking Network کی قیادت میں کورونا وائرس سے متعلق حقائق کی تصدیق کرنے والی سو تنظیموں کے اتحاد CoronaVirusFacts Alliance نے سال 2020 میں کورونا سے متعلق سات ھزار سے زائد افواہوں کو غلط ثابت کیا۔ جمہوریت اور معلومات سے متعلق فورم نے حال ہی میں کورونا سے متعلق من گھڑت خبروں کے وبا کی مانند پھیلاؤ (Infodemic) کے مقابلے کے لئے ٹھوس پالیسی پر مبنی رد عمل کو مرتب کرنے کے لئے پالیسی گروپ بنایا ہے۔ فرسٹ ڈرافٹ جیسی غیر منافع بخش تنظیموں کا اتحاد انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات کی تصدیق اور جھوٹی خبروں کی ذمہ دارانہ طریقے سے نشاندہی کے لئیے صحافیوں کی تربیت کر رہا ہے۔

چین میں بڑے پیمانے پرکورونا سے اموات کی یہ تصویر سوشل میڈیا پر مقبول ہوئی، فرسٹ ڈرافٹ نے اس تصویر کی حقیقت جاننے کے لئیے ریورس امیج سرچ کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ یہ تصویر جرمنی میں 2014 کی ایک آرٹ پراجیکٹ کے لئیے بنائی گئی تھی۔ تصویر بشکریہ فرسٹ ڈرافٹ

امریکہ میں فرسٹ ڈرافٹ کی ڈپٹی ڈائیریکٹر ایمی رائن ہارٹ نے بتایا کہ انکی تنظیم نے اپنی توجہ خبری اداروں کے نیوز رومز پر مرکوز رکھی تاکہ وہاں سے وبا سے متعلق خطرناک افواہوں کا پھیلنے سے پہلے ہی سد باب کیا جا سکے۔

رائن ہارٹ کے مطابق تو انٹرنیٹ پر افواہ سازوں سے متعلق روایتی طور پر عوامی نفرت کا اظہار ہوتا رہا ہے مگرکورونا وبا کے آنے سےان افواہ سازوں کو عروج ملا۔ کسی وقت میں انٹرنیٹ پر ٹرولز کا بڑا ہدف تو جارج سوروز تھے مگر کورونا وبا کے آنے کے بعد بل گیٹس ان کے تابڑ توڑ حملوں کی زد میں ہیں ۔ماضی میں غلط معلومات عام تھیں مگر کورونا کے باعث شہروں کے لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج ( Reopen protest) کے دوران ہی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت گمراہ کن معلومات وائرل ہونا شروع ہو گئیں۔ امریکہ میں دو مختلف معاملات پر، مگر ایک دوسرے کو سہارا دیتے بیانئیے سامنے آ گئے جیسے "گھوڑے کی نال کا بیانیہ” ( Horseshoe Narrative ) قرار دیا گیا ہے۔ اس بیانیے میں سیاسی منظر نامے پروبا سے بچاؤ یا اسکے علاج کے طریقوں کے مخالفین گھوڑے کی نال کے ایک سرے پر اور امریکی آئین میں اسلحہ لیکر چلنے کے حق کے علمبردار دوسرے سرے پر ہیں مگر نال کی مانند سامنے سے جدا اور ایڑھی سے یکجان تھے۔ دونوں احتجاج میں الگ تھے مگر پیغام ایک تھا کہ حکومت ہم شہریوں کو کچھ کرنے (ماسک پہننے یا دوسری احتیاطی تدابیر) پر مجبور نہیں کر سکتی
"You can’t tell us what to do”

گمراہ کن خبریں چلانے کی منظم مہم کے خلاف بڑی رپورٹیں

2016 کے امریکی انتخابی عمل کی ساکھ خراب کرنے والی اور برطانیہ کے یورپ سے اخراج پر ریفرنڈم پر اثر انداز ہونے والی گمراہ کن خبروں کی منظم مہم چلانے والی قوتوں سے متعلق تحقیقاتی صحافیوں نے دھماکہ خیز رپورٹنگ کی ہے۔ ان میں سے سلورمین کی ایک رپورٹ ہے جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ مقدونیہ کے ایک چھوٹے سے قصبے میں چند کاروباری نوجوانوں نے کم از کم 140 پراپیگنڈا ویب سائٹس بنائیں جو امریکی ووٹروں پر بھرپور طریقے سے اثرانداز ہوئیں۔ دوسری طرف روس کے شھر سینٹ پییٹرزبرگ میں انٹرنیٹ پر لوگوں کا پیچھا کرنے والے گروہ انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی نامی ایک ٹرولز فورم  سے متعلق روسی رپورٹروں کے انکشافات پر مزید تحقیقات کا بیڑہ نیویارک ٹائمز نے اٹھایا۔ ان اسٹوریز کے علاوہ ابھی تک کسی اور تحقیقاتی رپورٹ میں اتنے بڑے پیمانے پر کورونا سے متعلق گمراہ کن خبروں کو بے نقاب نہیں کیا گیا ماہرین کا کہنا ہے کہ من گھڑت خبروں کی منظم مہمات سے متعلق ایسی بہت سی بڑی کہانیاں ابھی بھی صحافتی تحقیقات کی منتظر ہیں۔

تبلیسی جورجیا میں غیر منافع بخش ادارے کوڈا سٹوری کی ایڈیٹر ان چیف نتالیہ انٹیلوا کا کہنا ہے کہ جھوٹی خبروں کے انبار نے نیوز رومز کو محض ایسی خبروں کے خلاف جوابی کاروائی کرنے کا عادی بنا دیا ہے جیسے کہ وقت گذاری کیلئیے مکھی نظر آنے پر مارنے کا کھیل۔ آئیندہ کے لئیے بہتر حکمت عملی یہ ہو گی کہ اس دھوکے بازی کے پیچھے چھپے اداروں اور انکے مقاصد پر نظر رکھی جائے۔ انٹیلوا کے مطابق جھوٹی خبروں کے سامنے آنے کے بعد انکو محض جھوٹا ثابت کرتے رہنا اصل مقصد سے توجہ ہٹا دیتا ہے اور یہ کہ ہمیں کسی اور کے ایجنڈا پر جوابی ردعمل میں وقت لگانے کے بجائے اس سے بھی آگے جا کر اس ایجنڈے کو جارحانہ انداز میں بے نقاب کرنا چاہئے۔ اینٹلوا کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو جھوٹی خبروں سے متعلق بھی ایسے تحقیقات کرنی چاہئیں جیسے کہ وہ کسی بھی دوسرے بحران سے متعلق کرتے ہیں۔

بشکریہ کوڈا سٹوری

رواں سال فروری میں کوڈا سٹوری نے فائیو جی ٹیکنالوجی کے خلاف ایک فیس بک گروپ کی طرف سے چلائی جانے والی جھوٹ پر مبنی ایک مہم "سٹاپ فائیو جی” (یعنی فائیو جی ٹیکنالوجی کو روکو) کی تحقیقات کی۔ یہ گروپ فائیو جی ٹیکنالوجی کو روکنے کے لئیے من گھڑت خبریں پھیلا رہا تھا اور تب سے کورونا سے متعلق جھوٹی خبروں کا مرکزی ہدف بھی فائیو جی ٹیکنالوجی ہے۔ پراپیگنڈا کیا گیا کہ فائیو جی ٹیکنالوجی والے فون اور انٹرنیٹ کمپنیوں کے بڑے بڑے ٹاورز ایسی شعائیں خارج کرتے ہیں جس کے باعث انسان کا جسمانی مدافعاتی نظام کمزور ہو رہا ہے۔ اس پروپیگنڈا پر یقین رکھنے والے لوگوں نے صرف برطانیہ میں ستر کے قریب فون ٹاورز کو نقصان پہنچایا یا جلا دیا۔ کوڈا سٹوری کی ٹیم نے اس فیس بک پیج کے مینیجر کو زیورچ کے قریب ایک نجی زیر زمین دفتر میں ڈھونڈ نکالا۔ کوڈا سٹوری کا رپورٹر جب متعلقہ مینیجر کا انٹرویو کرنے گیا تو اسکو شعاؤں کی سطح جانچنے والے سکینر سے گذارا گیا تاہم کوڈا سٹوری کے رپورٹر نے اس من گھڑت خبروں کی مہم سے متعلق ٹھوس اور جھوٹے دعووں کو جھٹلانے والے سوالات نہیں کئے جبکہ اس رپورٹ میں سائنسی حقائق سے زیادہ اس شخص کے مقاصد اور خدشات کو جگہ دی گئی۔

جھوٹی خبروں کیخلاف کامیاب صحافتی تحقیقات

مئی کے مہینے میں آرمینیا کی ایک ویب سائٹ نے کورونا وبا سے متعلق جھوٹی خبریں شائع کیں۔ ایک خبر میں عوام کو حفاظتی ٹیکوں کی ممکنہ مہم کا بائیکاٹ کرنے پر اکسایا گیا تھا۔

اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی رپورٹر تاتیو ہاؤہانیسیان کے مطابق Medmedia.am نامی ایک مقامی ویب سائٹ نے کورونا سے متعلق ایسی ہی بہت سی جھوٹی اور غیر ذمہ دارانہ خبریں پوسٹ کی تھیں۔ رپورٹر کا کہنا تھا کہ 30 لاکھ کی آبادی والے ملک میں مذکورہ پوسٹ کو ایک لاکھ اکتیس ھزار افراد نے دیکھا جبکہ اسی ویب سائٹ پر دوسری سب سے زیادہ پڑھی جانے والی سٹوری یہ تھی کہ ایک قبرستان کے حکام مرنے والوں کے  لواحقین کو کیش رقم ادا کرتے تھے جو یہ لکھ کر دیں کہ انکا بندہ کورونا کے باعث مرا۔

رپورٹر نے دریافت کیا کہ یہ ویب سائٹ انتہائی دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے ایک ڈاکٹر کے زیر انتظام ہے جسکا دعوی تھا کہ اسے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی فنڈنگ بھی حاصل ہے۔ اب ایک طرف لواحقین کو کیش رقم دینے کا دعوی تھا جسکو غلط ثابت کرنے کیلئیے تحقیق کرنا ایک بہت بڑا چیلنج تھا تو دوسری طرف سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی فنڈنگ کا بظاہر ایک مضحکہ خیز دعوی مگر اسکا امکان موجود تھا۔ رپورٹر نے فنڈنگ کی تحقیقات کا فیصلہ کیا۔ کافی مشکلات کے بعد اسے امریکی حکومت سے امداد لینے والے اداروں کا ریکارڈ رکھنے والی امریکی حکومت کی ویب سائٹ SAM.gov سے آرمینیا کے نوجوان ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن این جی او کا رجسٹریشن ریکارڈ مل گیا جس کا بانی وہی ڈاکٹر تھا جو جھوٹی خبریں چلانے والی ویب سائٹ کا بھی مالک تھا۔ تھوڑی سی مزید تحقیقات سے یہ انکشاف ہوا کہ امریکی فنڈنگ ابھی بھی اس ویب سائٹ کے لئیے جاری تھی۔ تاتیو ہاؤہانیسیان کی طرف سے اوپن ڈیموکریسی پر یہ سٹوری بریک ہونے کے ایک ہفتے بعد آرمینیا میں امریکی سفارت خانے نے اس این جی او اور کورونا متعلق جھوٹی خبریں پھیلانے والی اس ویب سائٹ کی فنڈنگ بند کرنے کا اعلان کر دیا اور فنڈنگ کا طریقہ کار بھی سخت کر دیا۔ اوپن ڈیموکریسی کی یہ رپورٹ ابتک میڈیا کے لگ بھگ ستر اداروں نے آٹھ زبانوں میں شائع کی۔ رپورٹر نے ان الفاظ میں اپنا موقف بیان کیا:

"میرے ذہن میں سوال تھا کہ کورونا سے متعلق جھوٹی خبروں کو پھیلانے والی ویب سائٹ کو امریکی حکومت کیسے فنڈنگ کر سکتی ہے اور خاص کر جب وہ ویب سائٹ حفاظتی ٹیکوں کے بائیکاٹ کی مہم چلا رہی تھی۔ اس سٹوری کا پوری دنیا پر جو اثر ہوا وہ ہماری توقعات سے بہت بڑھ کر تھا۔ میڈ میڈیا ویب سائٹ نے بھی اپنی سوچ میں بظاہر تبدیلی لائی ہے اور کورونا سے متعلق گمراہ کن اور غلط دعووں پر مبنی خبروں کی تعداد میں بھی کمی دیکھی جا سکتی ہےاور یہ میرے لئیے بہت بڑی تبدیلی ہے جو میری سٹوری کے باعث آئی ہے۔”

کورونا متعلق جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کا کھوج لگانے کے چھ آلات:

HOAXY

اوپن سورس اس ویب سائٹ کی مدد سے آپ یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ کسی بھی آن لائن پوسٹ یا مضمون کا انٹرنیٹ پر کتنا پھیلاؤ ہو چکا ہے اور انکو شائع کرنے والوں کی اپنی ساکھ کیا ہے۔ اس ویب سائٹ سے یہ بھی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ ایک مخصوص وقت میں ایک تحریر کو کل کتنی بار شئیر کیا گیا ہے۔

CrowdTangle

جھوٹی خبریں گھڑنے والے بھی اس ویب سائٹ کو گمراہ کن خبروں کیخلاف سب سے طاقت ور ہتھیار قرار دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی نگرانی کرنے والا یہ پلیٹ فارم کسی بھی مواد کے فیس بک، انسٹاگرام اور ریڈٹ پر شئیر ہونے سے متعلق انتہائی باریک معلومات تک فراہم کرتا ہے۔

Graphika

اس ویب سائٹ سے آپ سوشل میڈیا پر کسی بھی صورتحال کا ایک مکمل نقشہ دیکھ سکتے ہیں اور مختلف ویب سائٹس اور انکے ڈومین ایڈریسز کی مابین تعلق اور رابطوں کا کھوج لگا سکتے ہیں۔ من گھڑت خبروں کے پھیلاؤ اور بہاؤ کی سمت کے گراف کے ذریعے تعین کرنے کیلئیے کچھ پیچیدہ مگر موثر ایک ویب سائٹ Gephi.org بھی ہے۔

اسی طرح پیسے کی خاطر من گھڑت خبروں میں ملوث کرداروں کا پتہ چلانے کیلئیے ایک ویب سائٹ DNSlytic.com ہے جو آپکو مختلف ویب سائٹس پر مشکوک کاروباری سرگرمیوں کو جانچنے میں مدد دیتی ہے۔ اس ویب سائٹ کی اعلی کیٹیگری کی رکنیت کیلئے معمولی سی فیس مقرر ہے۔ مالی اعتبار سے مضبوط خبری ادارے جو تحقیقاتی صحافت کیلئیے زیادہ وسائل مختص کر سکتے ہیں انکے لئے پورے ویب پر سرچ کرنے والی ویب سائٹ Adbeat سکرین پر چسپاں اشتہارات سے متعلق انتہائی اہم معلومات فراہم کرتی ہے۔

whopostedwhat.com

یہ ویب سائٹ آن لائن خفیہ معلومات کی تلاش کے ماہر ہینک وان ایس نے بنائی ہے اور اسکا مقصد مفاد عامہ کے معاملات کی تحقیقات کرنے والے افراد کو فیس بک پر مختلف تاریخوں پر مخصوص الفاظ والی پوسٹیں ڈھونڈنے میں مدد دینا ہے۔ InVid ویڈیو مواد کی تصدیق کرنے والی ویب سائٹ اور CrowdTangle کے ساتھ ساتھ گمراہ کن سوشل میڈیا پوسٹوں کے پس پردہ عناصر کی نشاندہی کیلئیے Whopostedwhat.com سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ویب سائٹ ہے۔

نۓ سوالات کی تلاش بزریعہ گوگل

گوگل پر جوابات تو ڈھونڈے جاتے ہی ہیں مگر عوام کے ذہنوں میں وبا یا اس سے جڑے دوسرے معاملات سے متعلق کیا نئے سوالات ابھر رہے ہیں؟ یہ جاننے کیلئیے صرف گوگل سرچ میں یہ لکھ دیا جائے کہ Why is federal” government ….”

(وفاقی حکومت کیوں ۰۰۰ یا کیا ؟)

تو آپکو وبا سے جڑے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لوگوں کے پوسٹ کئے گئے سوالات کے لنک سامنے آ جائینگے جن سے آپکو لوگوں کی ذہنوں میں روزانہ کی خبروں پر اٹھنے والے تازہ ترین شکوک و شبہات اور سوالات سے آگاہی ہو گی  ایک سب سے مشہور سوال جو گوگل پر پوچھا گیا تھا وہ برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے حق میں اکثریتی بریگزٹ ووٹ کے بعد گوگل پر کیا گیا اور سوال تھا "یہ یورپی یونین کسے کہتے ہیں؟”

ایشیا میں خطرناک جھوٹ کی لہر:

دہلی میں مقیم ایشیائی صحافیوں کی سوسائٹی کے صدر اور جی آئی جے این کے بورڈ ممبر سید نزاکت کا کہنا ہے کہ ایشیا میں چار مرتبہ وبا سے متعلق سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پھیلائی جانے والی جھوٹی معلومات کی لہر آئی پہلی بار اس وبا کی شروعات یا آغاز سے متعلق، پھر غیر متعلقہ ماضی کی سٹوریوں کو وبا سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، پھر وبا کے علاج سے متعلق اور آخر میں لاک ڈاؤن کے بارے میں، نزاکت کا کہنا تھا کہ اب آئندہ چند ماہ میں پروپیگنڈے کی اگلی لہر کا ہدف حفاظتی ویکسین کی تیاری ہو گا

نزاکت کو یقین ہے کہ حفاظتی ویکسین کے خلاف گمراہ کن معلومات کی مہم ابھی تک کے تمام پروپیگنڈے سے زیادہ جارحانہ ہوگی جسکے باعث صورت حال میں کسی قسم کی ممکنہ بہتری کی راہ میں سخت رکاوٹیں آ سکتی ہیں افواہوں کے باعث لوگ حفاظتی ویکسین کا استعمال نہیں کرینگے میری مراد ان ھزاروں پراپیگنڈا ویڈیوز سے ہے جو روزانہ پوسٹ کی جائینگی اور یہ افواہیں صحافیوں کو چین نہیں لینے دینگی نزاکت جس نے اعدادوشمار کے ساتھ رپورٹنگ کے لئیے DataLeads کے نام سے ایک اشتراکی فورم بنایا ہے، اس کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کے پاکستان میں مارے جانے کے بعد افواہوں کے ایک طوفان نے ملک کو گھیر لیا تھا اور میڈیا میں خبریں عام تھیں کہ امریکی حملے سے پہلے سی آئی اے نے اسامہ بن لادن کا پتہ چلانے کے لئیے حفاظتی ٹیکے لگانے والی ڈاکٹروں کی ٹیم کے روپ میں اپنے ایجنٹ بھیجے ویسے ہی خدشات کو اب کورونا وبا کے دوران بھی ابھارا جا رہا ہے نزاکت کے مطابق وبا کے شروع کے دنوں سے ہی کہا جانے لگا کہ کوئی وبا نہیں بلکہ یہ سی آئی اے کا کوئی خفیہ مشن ہے

اسی طرح  ہم نے دیکھا کہ کیسے ہندی اور بنگالی زبانوں میں بنائی گئی ویڈیوز میں متبادل ادویات اور انکے استعمال کی تشہیر کی گئی، ان میں دعوی کیا گیا کہ ادرک اور  گائے کے پیشاب کے استعمال سے کورونا وبا کا علاج کیا جا سکتا ہے اسکے بعد پاکستان اور بھارت میں زیادہ بولی جانے والی اردو زبان میں سازشی کہانیوں کا بازار گرم ہو گیا، ان ویڈیوز کے پیچھے دوسری وجوہات کے علاوہ کورونا کی ویکسین کی متوقع آمد بھی ایک وجہ تھی کورونا وبا کو مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا گیا ہم نے کورونا کے علاج کا دعوی کرنے والی تقریبا سو سے زائد شائع شدہ کہانیوں پر تحقیقات کی جن میں ذرہ برابر بھی سائنسی ثبوت پیش نہیں کیے گئے تھے جب ہم نے ان کہانیوں کے پس پردہ عناصر کو جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ انکے پیچھے متبادل ادویات کا کاروبار کرنے والے مفاد پرست گروہ ہیں

۔Health Analytic Asia کی اس ویب سائٹ پر ایک ڈاکٹر نے فوری طور پر سوشل میڈیا پر پھیلنے والے اس دعوے کی تردید کر دی جس میں کہا گیا تھا کہ لیموں کے رس کا استعمال کورونا سے محفوظ رکھتا ہے ایشیا کے تمام ڈاکٹروں کے بیچ شراکت داری کے نیٹ ورک کی یہ ایک عمدہ مثال ہے جسکے ذریعے کورونا سے متعلق طبی دعووں کی بروقت تصدیق کی جا سکتی ہے۔ سکرین شاٹ: بشکریہ  HealthAnalyticAsia

اپنی نوعیت کے پہلے پروگرام میں DataLEADS کے زیر نگرانیHealth Analytics Asia نے ایشیا کے سترہ ممالک کے ڈاکٹروں کے ساتھ اشتراک کیا ہے تاکہ مختلف سوشل میڈیا پوسٹوں اور مضامین میں کئے گئے کورونا  وبا سے متعلق طبی دعووں کی بروقت تصدیق یا تردید کی جا سکے

افواہ ساز دھوکے بازوں کو بے نقاب کرنا

بذفیڈ نیوز کے تحقیقاتی صحافی کریگ سلورمین نے گمراہ کن معلومات سے نمٹنے کے لئیے بہت سی کتابوں کی تدوین کی ہے جن میں ایک راہنما کتابچہ شامل ہے جو ہنگامی حالات میں انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات کی تصدیق کے طریقے وضع کرتا ہے

سلورمین نے مئی کے مہینے میں کورونا سے بچاؤ کے لئے پہنے جانے والے ماسک سے متعلق فیس بک پر گمراہ کن معلومات کی ایک منظم مہم سے متعلق تحقیقات کی اس نے دیکھا کہ کچھ لوگ حفاظتی ماسک کو انتہائی زیادہ قیمت پر فروخت کرکے نہ صرف صارفین بلکہ فیس بک کو بھی دھوکہ دے رہے تھے اس سکینڈل کی تحقیقات میں جو طریقہ کار اپنایا گیا وہ صحافیوں کے لیے قابل تقلید ہے اسکے ذریعے وہ محض ایک توجہ طلب چھوٹی سی خبر کی مدد سے گمراہ کن کاروباری سرگرمیوں اور معلومات کی ترسیل میں ملوث منظم گروہوں کا پتہ چلا سکتے ہیں

کریگ سلور مین نے ایک فیس بک پوسٹ پر تحقیقات کے ذریعے دھوکے بازوں کے ایک بڑے گروہ کا پتہ چلایا

جی آئی جے این کے منعقد کردہ ایک ویبی نار میں سلورمین نے بتایا کہ N95 ماسک کے ایک فیس بک اشتہار کو لیکر انہوں نے اپنی تحقیقات کا آغاز کیا اشتہار میں غلط اعدادوشمار بتائے گئے تھے اور وبائی امراض کی روک تھام اور ان سے بچاؤ کیلئیے امریکی  ادارے US Centers for Disease Control and Prevention کے سرجن جنرل کا بیان شائع کیا گیا تھا حالانکہ امریکہ میں سرجن جنرل کے عہدے کا کوئی وجود ہی نہیں

ماسک کے اشتہار میں دستیاب آن لائن سٹور کے لنک پر ناکافی معلومات کے باعث سلورمین نے اس لنک کو ایسے کوما “? —-“ میں سوالیہ نشان کیساتھ لکھ کر گوگل سرچ میں ڈال دیا گوگل سرچ سے اس لنک سے منسلک تمام صفحات بشمول “پے پال”  صارفین اور اس دھوکے کا شکار ہونے والے صارفین کی شکایات کے انبار سامنے آگئے اسکے علاوہ ماسک بنانے والی کمپنی ZestAds  کا نام بھی سامنے آ گیا جب الگ سے کمپنی کے نام اور لفظ “Masks” کو گوگل سرچ پر ڈالا تو اس کمپنی کی جھوٹی معلومات، انتہائی مہنگے داموں پر ماسک کی فروخت یا آرڈر شدہ مال کی عدم فراہمی سے متعلق شکایات کا ایک انبار تھا اس نے کمپنی کے اصلی فیس بک پیج پر جا کر  “متعلقہ صفحات” یا Related pages section  ، سائڈ بار لنکس اور لوگوں کی رائے پڑھی، اس نے خاص کر اس پیج پر موجود “Reviews” اور “About” لنکس کے بغور مطالعے کے بعد جب اسی صفحے پر موجود “شفافیت” یا Transparency Box” کے لنک کو کلک کیا تو اسکے سامنے ZestAds کی بجائے ایک امریکی کمپنی کا نام آیا جو اس فیس بک پیج کی "تصدیق شدہ مالک”  تھی سلورمین کے نزدیک اس پیج پر کمپنی کی شناخت اور ملکیت سے متعلق یہ تضاد دوسری بہت سی خطرے کی گھنٹیوں میں سے محض ایک تھی ایک اور تضاد یہ بھی تھا کہ بظاہر اسی امریکی فیس بک پیج کے مینیجر  کی سپین میں موجودگی کے اشارے تھے

ہم نہ صرف صارفین کو جھوٹی معلومات کے ذریعےلوٹنے والی اس کمپنی کو بے نقاب کر رہے تھے بلکہ ہم نے یہ انکشاف بھی کیا کہ فیس بک خود اپنی ہی پالیسیوں پر عملدرآمد کرانے میں ناکام ہو گئی ہے۔ کریگ سلورمین ، بز فیڈ

اس کمپنی کیخلاف شکایات کیلئیے مخصوص فیس بک پیج پر تمام رسیدوں کی کاپیاں دستیاب تھی جن پر ZestAds  کمپنی کے مختلف آن لائن سٹورز کے ویب لنک موجود تھے اس کمپنی کے نیٹ ورک کی وسعت کا اندازہ لگانے کیلئیے سلور مین نے Snowballing Technique استعمال کی  دوسرے لفظوں میں ماسک بیچنے والے ہر نئے آن لائن سٹور پر ملنے والے نئے ویب لنکس کے ذریعے مزید آن لائن سٹورز اور فیس بک پیجز ملتے گئے اور انکے ویب لنک شامل ہوتے ہوتے اس نیٹ ورک کا مزید جال سامنے آتا گیا

سلورمین نے دیکھا کہ فیس بک پر مصنوعات کی فروخت کرنے والی کمپنیاں مخصوص پلیٹ فارم Shopify کے آن لائن سٹورز پر بہت تیزی سے پھیل رہیں تھیں یہ کمپنیاں فیس بک پر چند منٹوں میں shopify کے ایسے سینکڑوں پلیٹ فارم بنا کر اپنی مصنوعات سے متعلق لوگوں کو گمراہ کن معلومات کے ذریعے لوٹ رہیں تھیں

ایسے دھوکے باز لوگ اپنے گمراہ کن آن لائن سٹوروں کے سینکڑوں ویب پیجز  پر الگ الگ اور مختلف الفاظ میں ویب سائٹ کے مقاصد (Mission Statement) تحریر کرنے کا تردد نہیں کرتے اسی بات کا ادراک کرتے ہوئے سلورمین نے ان میں سے آن لائن سٹوروں کے پیجز پر جا کر  About Us  "ہمارا تعارف” کے لنک میں جا کر کچھ تعارفی جملوں کو کوما (“”) کے بیچ کاپی پیسٹ کیا اور گوگل سرچ پر ڈال دیا ایسا کرنے سے تقریباً تین سو کے قریب آن لائن سٹورز کے پیجز سامنے آئے اور سلور مین نے ہر ایک پیج پر جا کر انکی معلومات کو ایک ٹیبل فارم یعنی سپریڈ شیٹ  (Spreadsheet)  پر اپنے ہاتھوں سے نوٹ کیا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا یہ سب پیجز دھوکہ دہی کے اس نیٹ ورک سے منسلک ہیں

سلورمین کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر کے اس دور میں ہاتھوں سے ایسا کام کرنے پر تحقیقات کا جوش ٹھنڈا پڑ جاتا ہے مگر ایسا کرنا انتہائی اہم ہے کیونکہ اتنی باریک بینی سے ہی مجھے ان آن لائن سٹورز کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے، قریب سے جاننے اور محسوس کرنے کا موقعہ ملا

اسکے بعد اس نے فیس بک پر ایک ایک کمپنی کے صفحات کی الگ الگ سرچ کی جو کمپنی کے نام اور فیس بک ڈاٹ کام کے ایڈریس کے ساتھ درج ذیل معلومات کے ساتھ ممکن تھی site:Facebook.com اس نیٹ ورک سے جڑی تقریباً دو سو مذکورہ کمپنیوں کے ناموں کو باری باری اسی طریقے سے سرچ پر ڈالا گیا تاکہ سوشل میڈیا میں ان کمپنیوں سے منسلک دیگر کمپنیوں کا درست اندازہ لگایا جا سکے

فیس بک کے “ ٹرانسپیرنسی باکس” کی مدد سے دو سو آن لائن سٹورز میں سے ایک کے فیس بک پیج سے سلور مین کو ZestAds  (زیسٹیڈز) کمپنی کے دفتر کی اصل لوکیشن پتہ چل گئی جو ملائشیا میں تھی۔ سکرین شاٹ

اس سرچ کی مدد سے سلور مین  ایک آن لائن سٹور کے qomingsoon.com  نامی فیس بک پیج تک پہنچ گیا جس پر "ٹرانسپیرنسی” کے لنک کے ذریعے ان دھوکے بازوں کی کمپنی کی اصل جگہ کا پتہ چلا جو ملائشیا میں واقع تھی

سلورمین کے مطابق زیسٹیڈز نامی کمپنی نے فیس بک پیج کی تصدیق شدہ ملکیت رجسٹر کروانے کی شرط کا کوئی اور طریقہ ڈھونڈ لیا تھا ایسا کرکے یہ کمپنی بڑی تن دہی سے لوگوں کو گمراہ کر رہی تھی اور فیس بک کے قواعد سے ناجائز فائدہ اٹھا رہی تھی اسی تسلسل میں سلورمین نے whois.net پر موجود تمام آن لائن سٹورز کی رجسٹریشن کا ماضی کا ریکارڈ چیک کرنے کے لئیے DomainBigData.com کے لنک پر سرچ شروع کی

 سلور مین کے مطابق اس وقت تک فیس بک نے وبا سے بچاؤ والے ماسک بیچنے کیلئیے اشتہار بازی پر پابندی لگا دی تھی ایسے میں ان تحقیقات کے ذریعے ہم نہ صرف جھوٹی معلومات سے لوگوں کو لوٹنے  والی ایک کمپنی کو بے نقاب کر رہے تھے بلکہ ہم فیس بک کیطرف سے اپنی پالیسیوں پر عملدرآمد میں ناکامی کا بھی پردہ چاک کر رہے تھے

سلورمین کے ادارے بزفیڈ نیوز نے فیس بک کو زیسٹیڈز سے منسلک ایک سو فیس بک پیجز کی فہرست فراہم کی جسکے بعد فیس بک کی انتظامیہ نے زیسٹیڈز نامی کمپنی کو فیس بک کے پلیٹ فارم سے اپنا کام مکمل طور پر روکنے کے لئے خط لکھ دیا اور اس کے بعد اس کمپنی پر فیس بک کے ذریعے کاروبار کرنے پر مکمل پابندی لگا دی

گمراہ کن معلومات پھیلانے والے لوگوں کا کھوج لگانے کے چھ طریقے

1- مشکوک فیس بک پیج کے بننے کے فورا بعد اپ لوڈ کی جانے والی پروفائل پکچر یا پس منظر والی تصویر کو پرانی تاریخوں میں تلاش کیا جائے اسکے بعد ان پہلی تصویروں کو سب سے پہلے لائک کرنے یا اس پر کمنٹ کرنے والوں کے پروفائل کا جائزہ لیا جائے کیونکہ ایسے پیجز اور انکی پروفائل پکچر کو سب سے پہلے لائک یا اس پر کمنٹ کرنے والے یا تو خود پیج کے مالکان ہوتے ہیں یا انکے قریبی دوست یا عزیز جو انکے بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں

2- کسی بھی کمپنی یا فرد کے پرانے اور تبدیل شدہ ڈیزائن والے فیس بک پیجز کی معلومات میں فرق ہوتا ہے اس لیے نئے اور پرانے پیجز پر جا کر دوسرے لنکس یا مفید معلومات کی تلاش کی جا سکتی ہے صارفین کے بنائے گئے فیس بک گروپوں میں مصنوعات کی شکایت کرنے والوں کی طرف سے شئیر کی گئی رسیدوں سے بھی مفید معلومات ملتی ہیں

3- سوشل میڈیا پر اپنے پیجز کے ذریعے لوگوں کی پوسٹوں پر یا اپنے مخصوص ایجنڈے اور تعصب کے باعث کمنٹس یا گمراہ کن معلومات کی بھرمار کرنے والے ٹرولز سے براہ راست رابطے بھی معلومات حاصل کرنے کے لئیے ضروری ہیں انکے اس رویئے اور کام کے پیچھے وجوہات جاننے کے لئے خود کو بطور صحافی متعارف کروانا بھی اہم ہے تاہم کچھ صحافیوں کی رائے میں ایسے لوگ کسی قسم کے انٹرویو کے لئے اس وقت راضی ہوتے ہیں جب گفتگو کا محور ان کے پیجز کی مقبولیت ہوتا ہے نہ کہ انکا جھوٹ پر  مبنی مواد، کیپرون کے مطابق آپکو بطور صحافی اپنی تحقیقات کے اصل مقصد بارے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں مگر یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ لوگ ( ٹرولز) اپنی شہرت کے بارے میں بات کرنا پسند کرتے ہیں

4- مشکوک دھوکے باز ویب سائٹوں کے تعارفی سیکشن “About Us” سے چند جملے کوماز (“___”)  کے بیچ لکھ کر سرچ کریں اور دیکھیں کہ کیا انہیں الفاظ کے ہیر پھیر سے اس نیٹ ورک میں کچھ دوسرے آن لائن سٹورز اور انکے تعارفی سیکشن بھی بنائے گئے ہیں؟ دوسرے  ایسے ہی کوماز  (Quotation Marks Operator )  کے ذریعے ویب سائٹ ایڈریسز ( URLs ) اور ڈومین ( Domain ) کا بھی پتہ چلایا جا سکتا ہے جیسے کہ "site:youtube.com”

5- سوشل میڈیا پوسٹوں کے متن اور انکے الفاظ کا چناؤ بھی آپکے شک کو ابھار سکتا ہے جیسا کہ جذباتی، شدت آمیز اور دردناک انداز بیان  مثلاً جب کہا جائے کہ “اس پوسٹ کو فورا پڑھ لیں اس سے پہلے کہ ٹویٹر اس پوسٹ کو ہٹا دے“ ایک جیسے الفاظ کی ترتیب والی پوسٹیں بھی شکوک کو جنم دیتی ہیں ڈاٹ نیوز ( news. ) ڈومین والی ویب سائٹس سے خصوصی طور پر خبردار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس ڈومین والی ویب سائٹس عموماً عوام پر مختلف نظریات ٹھونسنے کی کوشش میں ہوتی ہیں

6- صحافیوں کو اپنی تحقیقاتی رپورٹوں میں جھوٹے نعروں یا شدت پسند گروہوں کی غیر ضروری  تشہیر سے اجتناب کرنا چاہئیے فرسٹ ڈرافٹ کی رپورٹر ایمی رائن ہارٹ کیمطابق سازشی کہانیاں گھڑنے والے “قانون” نامی ایک شدت پسند گروپ  کی طرف سے گمراہ کن معلومات پھیلانے کی مہم کی تحقیقات کی گئی تو اس بات کا خیال رکھا گیا کہ اس مشکوک گروپ کے نام کا خبر کی سرخی یا ابتدائی متن میں ذکر نہ کیا جائے کیونکہ ایسا کرنے سے ان بدنام گروہوں کی”کمپنی کی مشہوری” ہوتی ہے اور یہ لوگ بدنامی میں بھی نام کما کر خوش ہوتے ہیں

گمراہ کن معلومات کے بین القوامی نیٹ ورک کی گرہ کھولنا

صحافیوں کے ساتھ مل  کر شدت پسندی کے خلاف کام کرنے والی برطانیہ میں قائم ایک سماجی تنظیم انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک ڈائیلاگ (آئی ایس ڈی) نے جون میں ایک جامع تحقیقاتی رپورٹ شائع کی جسس میں کورونا وبا سے متعلق دنیا بھر میں سب سے زیادہ گمراہ کن معلومات پھیلانے والی تنظیموں میں سے ایک کو بے نقاب کیا گیا

اس تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق جون 2019 میں فیس بک سمیت دوسری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنی مرکزی ڈومین پر پابندی کے باوجود امریکہ میں قائم انتہائی دائیں بازو کے “نیچرل نیوز نیٹ ورک” اور اسکے بانی مائک ایڈمز رپورٹ کی اشاعت کے وقت بھی چار سو چھیانوے ویب سائٹ ڈومین ایڈریسز سے منسلک پائے گئے  اس نیٹ ورک نے مائکروسافٹ کے بانی بل گیٹس اور فائیو جی فون ٹیکنالوجی جیسے موضوعات سے متعلق بہت سی جھوٹی سازشی کہانیاں پھیلائیں اسی نیٹ ورک کے ذریعے اس جھوٹی سازشی کہانی کو بھی بڑے پیمانے پر پھیلایا گیا کہ کورونا کی وبا ایک سوچے سمجھے پلان کا حصہ ہے اور اسکے لئیے انگریزی لفظ  Pandemic  کی بجائے Plandemic  استعمال کیا گیا

انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک ڈائیلاگ نے مکڑی کے جالے نما اس نقشے کے ذریعے نیچرل نیوز نیٹ ورک سے منسلک کاروباری کمپنیوں اور ویب ڈومین کے مالکان پر مشتمل کورونا بارے  گمراہ کن معلومات پھیلانے والے اس نیٹ ورک کی نشاندہی کی ہے۔ بشکریہ آئی ایس ڈی

آئی ایس ڈی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ۲۰۱۹ اور پھر ۲۰۲۰ میں فیس بک کی طرف سے پابندی لگنے کے باوجود نیچرل نیوز نیٹ ورک اور اس سے منسلک مختلف ویب ڈومینز کورونا اور جارج فلائڈ کی قتل پر احتجاج جیسے بیشتر معاملات پر گمراہ کن معلومات پھیلاتے رہے ہیں تحقیقات کیمطابق پابندی کے فورا بعد سال ۲۰۲۰  کے پہلے تین مہینوں میں نیچرل نیوز نیٹ ورک سے جڑے ڈومینز سے شئیر کی گئی پوسٹوں پر پانچ لاکھ باسٹھ ہزار ایک سو ترانوے افراد نے اپنا ردعمل دیا

آئی ایس ڈی کے ڈیجیٹل ریسرچ یونٹ کے سربراہ کوہل کولیور کا کہنا ہے کہ گمراہ کن معلومات پر کی جانے والی تحقیقاتی خبروں میں معلومات کے ذرائع اور اصل مجرموں کا ذکر تک نہیں ہوتا شاید اس لئیے کہ یہ بہت جان جوکھوں کا کام ہے ایسا کرنے کے لیے مخصوص تربیت اور حوصلہ چاہئیے کیونکہ ایسے کرداروں کو بھی بے نقاب کرنا پڑتا ہے جو خطرناک شخصیت کے حامل ہوتے ہیں اس سب کے باوجود لوگوں کو یہ باور کروانا ضروری ہے کہ ایسے گروہوں کو روکنا ناممکن نہیں کولیور کا کہنا ہے کہ  ایسے منظم گروہوں کی پشت پناہی کرنے والے سیاسی اثر و رسوخ کے حامل عناصر کے ممکنہ کردار کی تحقیقات کرنا بھی ضروری ہے

کولیور کے مطابق ایسے پیچیدہ نیٹ ورکس کی تحقیقات میں سوشل میڈیا پر مختلف پیجز اور اکاؤنٹس کے مواد کی کارکردگی جانچنے والے پلیٹ فارمز اہم کردار ادا کرتے ہیں جیسا کہ کراؤڈ ٹینگل  (CrowdTangle) گیپی ( Gephi) اورBellingcat’s List of OSINT Tools آئی ایس ڈی کے محققین نے مشکوک  “نیچرل نیوز” سے جڑے اداروں کے آن لائن ایڈریسز کو گوگل ارتھ ( Google Earth ) کے ذریعے ڈھونڈا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ان ایڈریسز پر حقیقت میں دفاتر کی عمارتیں موجود ہیں کہ نہیں

ان تحقیقات سے صحافیوں کے لئیے ایک اہم بات جو سامنے آئی ہے وہ یہ کہ گمراہ کن نظریات کی ترویج کرنے والے سب سے بڑے نیٹ ورکس میں سے کچھ اپنے صارفین کو انکے مخصوص نظریات کے مطابق جھوٹی معلومات فراہم کرتے ہیں کہ کہیں وہ ناراض نہ ہو جائیں اپنی جھوٹی اور گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کے لئیے بھی مختلف نظریات کے حامل صارفین کو انکی نظریات کی مناسبت سے  مختلف ویب سائٹس یا پیجز کی جانب موڑ دیا جاتا ہے

اس کی ایک مثال وہ صارفین ہیں جو انسان کے زندہ رہنے اور اسکی اچھی صحت کو ایک ہی جامع انسانی حق سمجھتے ہیں اور یوں اسلحہ لیکر گھومنے کے حق کے مخالف ہیں تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ایسے صارفین کے لئیے ڈاٹ نیوز (news.)  ڈومین والی ویب سائٹس بنائی گئی جن پر اسلحہ لیکر گھومنے کے حق میں پراپیگنڈے کے بغیر ہی گمراہ کن طبی علاج کے دعوے شائع کئیے جاتے تھے

گمراہ کن معلومات: کن شعبوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے؟

کولیور کا کہنا ہے کہ تعلقات عامہ کے اندر ایک شعبہ ہے "ڈارک پی آر” ( Dark PR) جس سے مراد  رات کی تاریکی میں چھپ کر کی جانے والی پبلک ریلیشنگ ہے اور جس میں ڈارک پی آر کا ماہر یا اسکی کمپنی اپنی شناخت چھپا بھی سکتی ہے اس کا مقصد افراد اور میڈیا سمیت دوسرے اداروں کو بدنام کرنے کے لئیے اہم وقت اور اہم جگہ پر جھوٹی خبروں کو جاری کر کے انہیں پھیلانا ہے اس کام کی ماہر کمپنیوں کو معاوضے کے عوض کاروباری یا سیاسی مخالفین کی ساکھ خراب کرنے کا کام سونپا جاتا ہے اور ڈارک پی آر کا یہ وہ شعبہ ہے جس پر آنے والے وقتوں میں نیوز رومز کے تحقیقاتی صحافیوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے

کولیور کو قوی یقین ہے کہ ڈارک پی آر کے کاروبار پر بلکل بھی تحقیقات نہیں کی گئی ہیں اور کورونا وبا سے متعلق  عوام کو نقصان دہ گمراہ کن معلومات  دینے والوں کے تمام گندے کام غالبأ ڈارک پی آر کا شعبہ کرتا ہے بزفیڈ نیوز کے کریگ سلور مین کو شک ہے کہ دنیا بھر میں چین کیطرف سےچلائی جانے والی گمراہ کن معلومات کی مہم کے پیچھے کیا ہے یہ جاننا بھی بہت ضروری ہے ایسی مہم کے پیچھے غالبا  دنیا بھر کے وہ کاروباری عناصر ہیں جنھوں نے منافع کمانے کے ایسے طریقے ڈھونڈ لئیے ہیں جن سے ابھی تک پردہ نہیں اٹھایا جا سکا ہمارے سامنے تو اب تک سازشی کہانیاں بیچنے والی “قانون” ویب سائٹ کی سوچ کی حامل برادری، کورونا کی حفاظتی ویکسین مخالف لابی، اور حکومتوں کے مخالف شدت پسند عناصر ہیں جو کورونا وبا کے خلاف ایک منظم مگر غیر فطری اتحاد کی شکل اختیار کر رہے ہیں یہ سب حفاظتی ماسک کے استعمال کی مزاحمت میں اکٹھے ہیں اور اس وبا سے متعلق سازشی بیانیہ کو پھیلا رہے ہیں کہ یہ وبا پھیلی نہیں پھیلائی گئی ہے

فرانس 24 کے الیگزینڈر کیپرون نے بتایا کہ انہوں نے ایک ایسے ہی افواہ ساز پیج کے بیس سالہ منتظم کو انٹرویو کیا تو محسوس کیا کہ اسے یہ اندازہ  ہی نہیں تھا کہ اسکی ایسی نام نہاد خبروں سے صارفین کو کتنا نقصان پہنچ سکتا ہے کیپرون کے مطابق یہ بہت نوجوان مگر ذہین لوگ ہیں اور سوشل میڈیا کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور یہ بھی کہ لوگ کیسی خبروں میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ان نوجوانوں کے لئیے شاید اتنا ہی کافی ہے ان میں سے ایک نے تو یہاں تک جھوٹا دعوی کر دیا کہ عالمی ادارہ صحت نے مڈاگاسکر ( Madagascar ) کی ایک جڑی بوٹی کو کورونا وبا کے علاج کے لئیے منظور کیا ہے۔ کورونا ویکسین کی مخالفت کرنے والا ایک جعلی بیان وبائی امراض کے معروف فرانسیسی ماہر  ڈیڈئیر رولٹ سے بھی منسوب کیا گیا۔

اس نوجوان طالب علم نے  بلا جھجھک گمراہ کن اور جھوٹی معلومات سے متعلق اپنی حکمت عملی اور اس کھیل کے تعجب انگیز مقاصد کے بارے میں بتایا اسکا کہنا تھا "ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ اپنی خبروں کو بڑے واٹس ایپ گروپوں میں شئیر کیا جائے اور ایسا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ خبریں حقیقت کا روپ اختیار کر لیں”

کیپرون کیمطابق اس طالب علم کی ایسی خبروں کی مقبولیت کی وجہ کانگو نژاد یورپی شہری تھے جنھوں نے یورپ میں بھی کورونا سے متعلق موجود تحفظات کو ہوا دی کیپرون کے مطابق یہ بہت نوجوان مگر ذہین لوگ ہیں اور سوشل میڈیا کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور یہ بھی کہ لوگ کیسی خبروں میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ان نوجوانوں کے لئیے شاید اتنا ہی کافی ہے

نوٹ:

روآن فلپ جی آئی جے این کے لیے بطور کام کرتے ہیں، آپ جنوبی افریقہ کے سنڈے ٹائمز کے سابق چیف رپورٹر بھی رہے ہیں، بطور غیر ملکی نامہ نگار روآن نے دنیا کے دو درجن سے زائد ممالک سے سیاست، بدعنوانی اور تنازعات سے متعلق رپورٹس کی ہیں

ہمارے مضامین کو تخلیقی العام لائسنس کے تحت مفت، آن لائن یا پرنٹ میں دوبارہ شائع کریں۔

اس آرٹیکل کو دوبارہ شائع کریں


Material from GIJN’s website is generally available for republication under a Creative Commons Attribution-NonCommercial 4.0 International license. Images usually are published under a different license, so we advise you to use alternatives or contact us regarding permission. Here are our full terms for republication. You must credit the author, link to the original story, and name GIJN as the first publisher. For any queries or to send us a courtesy republication note, write to hello@gijn.org.