رسائی

ٹیکسٹ سائیز

رنگوں کے اختایارات

مونوکروم مدھم رنگ گہرا

پڑھنے کے ٹولز

علیحدگی پیمائش

رپورٹنگ

موضوعات

جنسی تشدد اور بدسلوکی کی تفتیش

یہ مضمون ان زبانوں میں بھی دستیاب ہے

جب فریلانس صحافی سوفیا ہوانگ نے جنسی زیادتی کے کیس کی تفتیش شروع کی تو وہ ہر ملنے والے مظلوم سے کہتی تھیں کہ "اپنی کہانی بتانا ایک بات اور عوامی طورپر ملظم کا نام لینا الگ بات ہے۔”

 یہ وہ رپورٹر ہیں جن کی چین کی ٹاپ کی یونیورسٹیوں میں جنسی تشدد کی تحقیق سے چین میں می ٹو تحریک کی حرکٹ شروی ہوئی اور جنہیں اس رپورٹنگ کی وجہ سے 2019 میں جیل بھی ہوئی۔  کہنا ہے کہ اس قسم کی اسٹوریز کے لئے ضروری ہے کہ دونوں فریقین اس عمل کو سمجھ لیں۔

"پہلے میں ان کو بتاتی ہوں کہ مجھ پر کیا گزری, کیا تکلیف ہوئی اور بتا تی ہوں کہ میں تفتیش کیسے کروں گی اور ان کے دوستوں اور ساتھیوں سے کیوں بات کروں گی۔” ہوانگ نے جی آئی جے این کے ویبیناراینویسٹیگیٹنگ سیکشول ابیوس: رہورٹنگ ٹپس اینڈ ٹولز میں رپورٹرز کو بتایا۔ “میں انکو خطرات کے بارے میں بھی بتاتی ہوں، جو آنے والے دنوں میں عواپ کے سامنےجانے کے بعد ہوسکتے ہیں۔ “

ہوانگ کا کہنا ہے کہ جنسی زیادتی کی اسٹوری کے لئے صحافی اور مظلوم اور بچ جانے والوں کے درمیان خاص تعلق ضروری ہے۔ رپورٹر کے لئے ضروری ہے کہ وہ اعتماد کے بنیاد پر تعلق بنائیں لیکن یہ بھی ضروری  ہے کہ غیر جانبداری بھی برقرار رکھیں تاکہ تصدیق شدہ معلومات اور ثبوت کے زریعے اسٹوری سچی ثابت ہو سکے۔ 

ہوانگ جنہوں نے کئی جنسی زیادتی کے الزام پر مبنی اسٹوریز کی ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ یہ بہت ضروری ہے کہ وکٹم بلیمنگ اورسلٹ شیمنگ سے دور رہا جائے۔ وہ مظلوم سی یہ کبھی نہیں پوچھتیں کہ وہ پولیس کے پاس کیوں نہیں گئے۔ اس کے بجائے وہ یہ پوچھتی ہیں کہ وہ کونسی وجاوہات ہیں جس کی وجہ سے وہ حکام کے پاس نہ جا سکے، تاکہ ذمہ داری معاشرے پر جاسکے جس نے انہیں مایوس کیا بجائے اس کے کسی فرد کے عمل کرنے کی ناکامی پر۔ 

لیکن ہوانگ نے زور دیا کے صحافی کی ساکھ اہم ہے۔ رپورٹرز کے لئے ضروری ہے کہ "جتنے ممکن ہوں اتنے لوگوں کو انٹرویو کریں ۔ ساتھی، خاندان، ملظم ٹہرنے والے کو بھی۔ یہ ایک طرفہ اسٹوری کی بات نہیں ہے۔ آپ نے احتیاط سے کام کرنا ہے ، شواہد اکھٹے کرنے ہیں: تصویریں، آڈیو، سی سی ٹی وی۔ اس جگہ پر بھی جائیں جہاں بدسلوکی ہو رہی تھی۔”

وہ انٹرویو کرنے والے افراد سے کہتی ہیں کہ”مجھے آپ پر اعتماد ہے، لیکن آپ نے دوسروں  کے ایتماد کے لئے آمادہ کرنا ہے جب یہ اسٹوری پبلک ہوگی۔”

فرانسیسی تفتیشی صحافی اورمعروف اینڈیپینڈٹ میڈیا ہاؤس میڈیا پارٹ کےصنف کی ایڈیٹر لینیگ بریڈاکس کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو سوچنا چاہئے کی کس قسم کے ثبوت جنسی بدسلوکی کوسپورٹ کر سکتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ موضوع کو مشکل سمجھ کر ترک کردیں۔

"ابھی بھی کئی صحافی ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ جنسی بدسلوکی کی تفتیش ناممکن ہے کیوں کہ کوئی شواہد نہیں ہوتے” بریڈاکس نے کہا۔ ان کا کہنا ہے،”یہ غلط ہے آپ کے پاس ورڈ کے دستاویزات اور ایکسل سپریڈشیٹ نہیں لیکن آپ کے پاس دستاویزات ہوسکتے ہیں: ٹیکسٹ میسجز، ایمیل، واٹس ایپ، انسٹاگرام میسجز۔ آپ کو کبھی کبھار وآئس میسیجز، ڈائری، تصویریں مل سکتی ہیں جس سے آپ ثابت کر سکتے ہیں کہ پروٹیگنسٹ ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔”

جب ڈیجٹل شواہد ہٹا دئیے گئے ہوں جو کہ اکثر بدسلوکی کے کیس میں ہوتا ہے، رپورٹرمعلومات کی حمایت کرنے کے لئے بچ جانے والے کے سوشل سرکل سے رجوع کر سکتے ہیں۔ 

"اکثر انہوں نے  کسی سے بات کی ہوتی ہے: اپنے پارٹنر، خاندان، دوست، ساتھی وغیرہ سے،” بریڈاکس نے کہا۔  "آگر ایسا لگے کہ کسی کو بھی نہیں پتا، یہ ایک غیر معمولی ہےبات کہ انہوں کسی کو بھی نہ بتا یا ہو۔ آپ ایسے پیغامات ڈھونڈ سکتے ہیں جس میں انہوں نے بدسلوکی کے بارے میں دوسرے لوگوں سے کہا ہو۔”

بریڈاکس کی رپورٹنگ، جس میں جنسی تشدد سےمتعلق انقلابی تفتیشات اور فرانسیسی ہدایت کار لک بیسن پر جنسی بدسلوکی کی الزامات شامل ہیں، اس میں اہم بات یہ ہے کہ ایک سے زیادہ گواہ ہوں اور کبھی کبھار مظلومین بھی۔ "جب ایک سے زائد مظلومین ہوں تواسٹوری معتبر بنتی ہے اورایک پیٹرن بنتا ہے۔” 

"اکثر اوقات صحافی مرد گواہوں کے شکوک وشبہات یا وہ سب کچھ جو انہوں نے دیکھا ہوتا ہے اس بارے میں موقف لینے میں ناکام رہتے ہیں۔ بات یہ نہیں ہے کہ صرف عورتوں کو اظہار کرنا چاہئے ۔ وہ اظہار کرتی ہیں ہم بس سنتے نہیں ہیں۔ لیکن یہ مردوں کے لئے بھی ہے۔ یہ خاموشی توڑ سکتے ہیں، مدد کر سکتے ہیں۔ بزات صحافی ہم ان سے پوچھنے کا نہیں سوچتے۔ میرے تجربے میں وہ بہت اچھے گواہ ہو سکتے ہیں۔”

گواہ اپنی بہت "اسپیشل چیز دے رہے ہوتے ہیں:  اپنی ذندگیاں، تجربات، اپنا درد۔”  لیکن جبکہ رپورٹرز کو مظلوم سے ہمدردی ظاہر کرنی چاہئے، یہ بھی ضروری ہے کہ “کچھ فاصلہ رکھا جائے۔ آپ کو ہرایک تفصیل دیکھنی چاہئے ۔ آپ کو شک کرنا ہوگا، آپ کو شواہد اکھٹے کرنے ہوں گے۔ بذات صحافی یہ ہمارا کام ہے۔” 

بھارت میں جنسی بدسلوکی پر لکھنے والی فریلانس صحافی اشواق مسعودی نے کہا کہ صحافی اپنی اسٹوریز کے لئے کس ذبان کا انتخاب کرتے ہیں یہ بھی اہم ہے۔ 

"زنا بلجبر کا تعلق جنسی اختلاط سے نہیں ہوتا۔ اس کا تعلق طاقت سے ہوتا ہے۔” انہوں نے ویبینار میں بتایا۔  آپ  اسے غیرمتفقہ جنسی اختلاط کا نام نہیں دے سکتے۔ رپورٹرز کو چاہئے "بچ جانے والوں سے پوچھیں وہ اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کو کیسے بیان کرنا چاہیں گے، اپنے آپ کو کیسے بیان کریں گے بجائے اس کے کہ وہ ان کی طرف سے خود فیصلہ کر لیں۔”

وہ لوگ جن کے ساتھ جنسی بدسلوکی ہوئی ہوتی ہے اور اعداد و شمارمیں اکثریت عورتوں کی رپورٹ ہوتی ہے وہ اپنے آپ کومظلوم کے بجائے بچ جانے سے مطلوب کرنا چاہتی ہیں۔ اور دوسرے لوگ اپنے  ساتھ ہونے والے واقعات کے لئے کسی اور ٹرم کا انتخاب بھی کر سکتے ہیں۔ 

مسعودی جنہوں نے جنسی بدسلوکی کرنے والوں مردوں کو بھی انٹرویو کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں اس رپورٹنگ کی روایت شہروں پر مبنی اور جانبداررہی ہے۔ “زنا بلجبر کے وکٹورین“اسٹرینجر ڈینجر” جیسے خیالات پر مبنی ہے جب کے اعداد و شمار کے مطابق 99 فیصد کیسز مظلوم کے جاننے والے ہی ہوتے ہیں۔ 

مسعودی کا کہنا ہے 2012 میں دہلی میں جیوتی سنگھ کی اجتماعی زیادتی کے بعد بھارت نےجنسی زیادتی  پرایک ترقی پسند قانون پاس کیا تھا، لیکن ابھی بھی عورتوں کے لئے خطرناک ملک رہا ہے جہاں پرہرپندرہ منٹ میں عورت کے ساتھ زنا بلجبر ہوتا ہے۔  مسعودی کہتی ہیں کہ بھارت میں عورتوں کے خلاف جنسی زیادتی کا تعلق درجہ بندی، ذات کی درجہ بندی اور عزت سے جری ہوئی ہے۔ 

ہوانگ کا کہنا تھا کہ یہ قومی تناظرچین میں بھی پایا جاتا ھے- ان کو اور انٹرویوئیز کو کو بات کرنے سے روکا گیا تھا کیونکہ رپورٹس قومی سلامتی کے لئے نقصان دے تھیں۔ ایک حالیہ کیس میں، ایک مظلوم کو بدنامی کرنے کی وجہ سے عدالت بلا لیا گیا تھا۔ 

“ بچ جانے والوں کو آگے آنے کے لئے  سب سے بڑا چیلنج ریاستی سنسرشپ کا ہوتا ہے۔” ہوانگ نے بتایا۔  بچ جانے والوں کے لئے آگے آنابہت  مشکل ہو جاتا ہے جب حکومت ان پر قومی سلامتی خطرے کا لیبل لگا دیتی ہے۔ بطور صحافی بھی مجھے انٹرویو نہ کرنے کے لئے پولیس کی طرف سے کال آتی ہیں۔ ہمیں لڑنا ہے مجرموں سے، قانون سے اور نظام سے بھی۔ 

ویبینار میں کوور ہونے والے کچھ آخری نکات یہ تھے کہ مظلوم اور بچ جانے والوں کے ساتھ رابطہ جاری رکھا جائے اس وقت تب جب اسٹوری شائع ہو جائے اور اس کے بعد بھی۔ ہوانگ کے مطابق رضامندی کا سوال آخر تک اہم ہے۔ 

“میں انکواتنا وقت دیتی ہوں جتنا ان کو چاہئے ہوتا ہے۔” انہوں نے کہا۔ “میں آرٹیکل ختم کرتی ہوں لیکن شائع نہیں کرتی۔ کچھ ہفتے انتظار کرتی ہوں اور پوچھتی ہوں کہ آیا وہ اس کے لئے تیار ہیں؟ کیا یہ درست ہے؟ کیا میں آپ کع صحیح سے سمجھ پائی ہوں؟ کیا یہ میں نے درست کیا ہے؟ 

بریڈاکس کے مطابق، "اسٹوری ختم ہوتے ہی صحافیوں کی موضوع سے متعلق ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔” اسٹوری کے بعد آپ کو ان سے پھررجوع کرنا چاہئے۔ "انہوں نے کہا۔ “ہمیں خیال رکھنا ہو تا ہے کیونکہ بچ جانے والے ہر جگہ ڈرے ہوئے ہوتے ہیں: سیاست میں، اسکولوں میں، یونیوورسٹیوں میں ۔ اور انکو ڈرنے کا حق بھی ہے۔ جنسی اختلاتی بدسلوکی کا سوال طاقت اور غالب ہونے سے ہے۔ آپ کو اس کا خیال کرنا ہوگا۔ "

__________________________________________________________________

لورا ڈیکسن جی آئی جے این کی اسوسئیٹ ایڈیٹر ہیں اور برطانیہ میں مقیم فریلانس صحافی۔ انہوں نے کولمبیا ، امریکہ ، اور میکسیکو سے رپورٹنگ کی ہے اور ان کے کام کو ٹائمز ، واشنگٹن پوسٹ اور اٹلانٹک کے علاؤہ کئی اور اخبارات نے بھی شائع کیا ہے۔ انہیں بین الاقوامی خواتین کے میڈیا فاؤنڈیشن اور پیولٹزر سینٹر سے رپورٹنگ کی رفاقت ملی ہے۔

ہمارے مضامین کو تخلیقی العام لائسنس کے تحت مفت، آن لائن یا پرنٹ میں دوبارہ شائع کریں۔

اس آرٹیکل کو دوبارہ شائع کریں


Material from GIJN’s website is generally available for republication under a Creative Commons Attribution-NonCommercial 4.0 International license. Images usually are published under a different license, so we advise you to use alternatives or contact us regarding permission. Here are our full terms for republication. You must credit the author, link to the original story, and name GIJN as the first publisher. For any queries or to send us a courtesy republication note, write to hello@gijn.org.

اگلی کہانی پڑھیں

Karachi Sewerage and Water Board corruption investigation, Dawn newspaper

‎کراچی کی واٹر سپلائی چین میں کرپشن اور ’ٹینکر مافیا‘ پر تحقیقات

کراچی کے پانی کی فراہمی کے بحران کی تحقیق کرنت والی ٹیم نے جی آئی جے این کو بتایا کہ انہوں نے یہ کہانی کیسے کی — اور پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں تحقیقاتی صحافت کو کس قسم کی مشکلات کا سامنا ہے