رسائی

ٹیکسٹ سائیز

رنگوں کے اختایارات

مونوکروم مدھم رنگ گہرا

پڑھنے کے ٹولز

علیحدگی پیمائش

رپورٹنگ

موضوعات

جب صحافت پربدنما داغ لگ گیا:جنوبی افریقا سے ایک کیس اسٹڈی

یہ مضمون ان زبانوں میں بھی دستیاب ہے

یہ جنوبی افریقہ کے چار معزز تفتیشی رپورٹرز میں شامل تھے اور حقائق کو بے نقاب کرنے کے ایک طویل ریکارڈ کے حامل تھے۔ کئی اعزازات بھی وصول پاچکے تھے۔ اور انہیں ملک کے سب سے بڑے اور طاقتور ترین اخبار ، 100 سالہ پرانے سنڈے ٹائمز کی وجہ سے بلند مقام حاصل تھا۔ 

رپورٹر مظلی قاضی وا افریقا کی پہلی بڑی سٹوری اپنے چھوٹے سے قصبے سے ملک کے بڑے شہر جوہانسبرگ جاتے ہوئے ایک بس پر سفر کے دوران ملی۔ راستے میں انھوں نے یہ سنا کہ کوئی غیرملکی  کیسے بآسانی نئی سرکاری شناخت حاصل کرسکتا ہے۔انھوں نے یہ انکشاف انگیز اسٹوری کی اور سنڈے ٹائمز نے 7مارچ 1999ء کو اس شہ سرخی کے ساتھ یہ اسٹوری شائع کی تھی:”جعلی آئی ڈی ریکٹ کا انکشاف،صرف 300 رینڈ میں آپ نئی زندگی خرید کرسکتے ہیں”۔ 

تب جنوبی افریقا کے داخلی امور کے ڈائریکٹرجنرل البرٹ موکوینا نے واافریقا پر یہ الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے اس اسٹوری کی معلومات کے لیے رشوت دی ہے۔ پھر کیا تھا۔ وا افریقا نے ان صاحب پر نظر رکھنا شروع کردی اور چند ماہ کے بعد انھوں نے یہ انکشاف کیا تھا کہ مسٹر موکوینا اپنے دفتر سے باسکٹ بال کی ایک ٹیم کو چلا رہے ہیں اور وہ غیرملکی کھلاڑیوں کو مقامی شناخت دینے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہیں۔ اس انکشاف کے بعد موکوینا کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔

اس کے بعد کے عشرے میں انھوں نے اور بھی بہت سے انکشافات کیے:جعلی ڈگری کے حامل ایک صوبائی ڈائریکٹر جنرل کی کہانی ؛ جنوبی افریقا کے فٹ بال سپر اسٹار کی تاریک تاریخ؛ ملک کے بدنامہ زمانہ اسلحہ کے سودوں میں بدعنوانیوں کی ہوشربا تفصیل،وغیرہ۔ 

2010ء میں وا افریقا کو اچانک ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔ ان پر یہ الزام عاید کیا گیا کہ وہ اخبار کی ملازمت کے ساتھ ایک کاروبار بھی چلا رہے تھے اور انھوں نے اس مفاداتی تصادم کو ظاہر نہیں کیا تھا۔ وہ چند سال کے بعد دوبارہ اخبار میں واپس آئے۔ اس مرتبہ انھوں نے جنوبی افریقا کی کابینہ کی ایک سینیرخاتون وزیر سے متعلق انکشاف انگیز خبریں چلائیں اور پھراس خاتون وزیر کو بددیانتی پر وزارت سے ہاتھ دھونا پڑے۔

اسٹیفن ہافسٹیٹر کا کیرئیر بھی ایسی خوبیوں سے متصف ہے۔ انھوں نے زمینی اصلاحات سے متعلق بڑی اسٹوریاں کی تھیں۔ انھوں نے ریاست کے خوراک کی پیداوار کے ایک پروگرام میں لوٹ کھسوٹ؛ کان کنی کے معاہدوں میں، جعلی شناخت کے ذریعے اپنا کیس آگے بڑھانے والوں اور لینڈ بنک میں کرپشن سے متعلق رپورٹس پر متعدد ایوارڈز جیتے ہیں۔

انھوں نے وا افریقا کے ساتھ مل کر پولیس کے طاقتور کمشنر کے خلاف پولیس ہیڈکوارٹر کے لیے زمین کی خریداری کے سودے میں بدعنوانیوں کو بے نقاب کیا تھا اور اس طاقتور پولیس کمشنر کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔ پھروہ کابینہ کے ایک سینیر وزیر کی بیوی کی بدعنوانیوں کو منظرعام پر لائے تھے۔ یہ خاتون اپنے خاوند کے محکمے کے ساتھ کاروبار کرنے والے لوگوں سے خفیہ طور پر رقوم اینٹھ رہی تھیں۔ 

ان دونوں رپورٹروں کے ساتھ صحافت کا ایک اور روشن ستارہ پائیٹ رام پیڈی شامل ہوگئے۔ انھوں نے ملک کی سیاسی اشرافیہ کو اپنا موضوع تحقیق بنایا۔ ان کے چوتھے ساتھی مالیاتی صحافت پر رپورٹنگ کرنے والے راب روز تھے۔ انھوں نے بڑے بڑے کاروباری اسکینڈل بے نقاب کیے تھے۔

 چاروں ہوا کے گھوڑے پر سوار تھے کہ 2010ء میں انھیں حریف نیوز گروپ ’میڈیا 24 ‘نے دُگنا تنخواہوں پر ملازمت کی پیش کش کردی اور انھیں کہا کہ وہ اپنے ادارے کو خیرباد کہیں اور اس خبری ادارے میں آجائیں۔ وہ سنڈے ٹائمز میں پہلے ہی دوسرے ملازمین سے زیادہ تنخواہیں وصول پا رہے تھے۔ اب اخبار کو انھیں اپنے ہاں ملازمت پر برقرار رکھنے کے لیے خصوصی نیوزروم کا درجہ دینا پڑا۔

اس کے بعد پے درپے کئیسٹوریز (کہانیوں) نے جنم لیا، وہ بظاہر چونکا دینے والی تھیں مگر ان کے جلد ہی تاروپود بکھر گئے۔ انھوں نے کاٹو مینور کے قصبے میں پولیس کے ایک ‘ڈیتھ اسکواڈ کا انکشاف کیا۔ زمبابوے سے تعلق رکھنے والے جرائم پیشہ افراد کو غیر قانونی طور پر ٹھکانے لگانے میں سینیر پولیس افسروں کے کردار سے متعلق خصوصی رپورٹ شائع کی تھی؛ انھوں نے ملک کی ریونیو سروسز میں ایک "بھوت یونٹ” کا سراغ لگایا۔ وہ مبیّنہ طور پر ایک قحبہ خانہ چلا رہا تھا اور ایوانِ صدر کے زیرسایہ بلا روک ٹوک کام کررہا تھا۔   

ان تمام اخباری کہانیوں کا ایک ہی انداز تھا۔ ان میں سے ہر کیس میں انھوں نے ان افراد کو ہدف بنایا تھا جو ریاست کی چھتری تلے کام کررہے تھے۔ تب جنوبی افریقا کے صدر جیکب زوما کے مقرب بدعنوان افراد نے اہم ریاستی اداروں اور عہدوں کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے رکھا تھا اور وہ ان کو بروئے کار لاکر بدعنوانیاں کررہے تھے۔ ان اسٹوریوں کے نتیجے میں ریاست کو اپنے ہاتھ میں لینے والے ان افراد کو عہدے چھوڑنا پڑے تھے اور ان کی جگہ صدر جیکب زوما کے زیادہ وفادار افراد کو عہدوں پر مقرر کیا گیا تھا۔

سنڈے ٹائمز نے ان تمام متاثرہ افراد کے احتجاج اور نقطہ نظر کو نظرانداز کیا تھا کہ انھیں کیوں ہدف بنایا جارہا ہے؟ تب دوسرے خبری ذرائع نے یہ رپورٹ کرنا شروع کیا کہ سنڈے ٹائمز کے ثبوت مسخ شدہ ہیں اور اخبار صدر جیکب زوما کے بعض مقربین کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے لیکن اخبار نے ان سب باتوں کو نظرانداز کردیا۔ انھوں نے مہینوں اپنا بیانیہ جاری رکھا اور جوابی بیانیے کو کوئی وقعت نہیں دی بلکہ اس کو سرے سے تسلیم کرنے ہی سے انکار کردیا۔

اس اخبار کے ایڈیٹروں اور مینجروں کی تبدیلی میں چھے سال کا عرصہ لگا۔ پریس کونسل نے تین تباہ کن حکم نامے جاری کیے اور اخبار کو صفحۂ اوّل پر معذرت نامے شائع کرنے کا حکم دیا۔ سنڈے ٹائمز نے حتمی طور پر یہ اعتراف کیا کہ اس نے غلط طور پر اسٹوریز شائع کی تھیں۔ اس کے بعد اخبار سے وابستہ سینیر صحافیوں کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔ اخبار نے یہ اعتراف کیا کہ اس نے "کھیل کھیلا” اور رپورٹروں کو کھل کر کھیلنے کا موقع دیا۔ پھر اخبار نے ان میں سے بعض رپورٹروں کو با تن خواہ ملازمتوں سے فارغ خطی دے دی تاکہ وہ خاموش رہیں۔ سنڈے ٹائمز نے پھر یہ کہا کہ وہ اس قسم کی صورت حال کے اعادے کو روکنے کے لیے اقدامات کررہا ہے۔

یہ جنوبی افریقا کی صحافت کے لیے ایک تباہ کن لمحہ تھا۔ انھوں (سنڈے ٹائمز) نے یہ نہیں بتایا کہ انھیں کس نے استعمال کیا اور وہ اپنی صحافت کو درست سمت استوار کرنے کے لیے کیا اقدامات کررہے تھے۔ اس دوران میں ملک کے بہترین سرکاری ملازمین کی زندگیاں اور کیریئر داؤ پر لگیں اور اخبار نے جیکب زوما کی صدارت کا خاصہ ’ریاست پربدعنوانی کا کنٹرول‘‘ برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ 

میں نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے۔ اس کا عنوان ‘سو فار دی ریکارڈ: بیہائنڈ دی ہیڈلائنز ان این ایرا آف سٹیٹ کاپچر’ (So, For The Record: Behind the Headlines in an Era of State Capture). ہم یہ جاننا چاہتے تھے،ان صحافیوں کو کس نے استعمال کیا اور وہ ان کے ہاتھوں میں کیوں کھیلتے رہے؟ اگر ہم اس مسئلہ کا ازالہ چاہتے ہیں اور اپنی صحافت کا علاج چاہتے ہیں تو ہمیں بیماری کی تشخیص کرنا ہوگی۔ ہمیں باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا کہ کیا غلط ہوا ہے؟ اور کیونکر ہوا ہے؟ تحقیقات کاروں کی تحقیق وتفتیش سے ہمیں نہ صرف سنڈے ٹائمز کے بارے میں پتا چلے گا بلکہ ہماری بیشتر صحافت کو درپیش بحران کا بھی پتا چلے گا اور یہ کہ ہم اس کو دوبارہ پٹڑی پر کیسے لا سکتے ہیں؟  

میں اس تمام معاملہ کا ایک غیرروایتی پس منظر رکھتا ہوں کیونکہ میں سنڈے ٹائمز کے 2007ء میں مقرر کردہ چار افراد پر مشتمل ایک آزاد پینل کا حصہ تھا۔ یہ پینل نیوزروم کے داخلی مسائل کی جانچ پرکھ کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ ہم نے عملہ کے دسیوں ارکان کے انٹرویو کیے تھے اور نیوز روم میں موجود زہرناک کلچر کی تبدیلی کے لیے کئی ایک سفارشات پیش کی تھیں لیکن اس رپورٹ کو دفن کردیا گیا اور ہماری بیشتر تجاویز کو نظرانداز کردیا گیا۔

میں نے اپنی کتاب میں یہ بتایا ہے کہ اسٹیٹ سکیورٹی ایجنسی اور پولیس کرائم انٹیلیجنس کے عناصر نے کیسے رپورٹروں کو غلط اور گمراہ کن معلومات فراہم کی تھیں۔ دراصل یہ عناصر ہی ریاست پرقبضے کے منصوبہ (اسٹیٹ کیپچر پراجیکٹ) کا حصہ تھے۔ میں نے اہم کاروباری شخصیات کے اس معاملے میں ملوّث ہونے کا سراغ لگایا تھا۔ بالخصوص تمباکو کی صنعت سے وابستہ افراد۔ وہ ٹیکس حکام کی جانب سے سخت دباؤ میں تھے اور وہ رپورٹروں کو نقصان پہنچانے کے درپے تھے۔

ان مفادات کے تحت بہت سے اخباروں کو غلط معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن سنڈے ٹائمز ہی ان کے جال میں کیوں پھنسا؟ میری تحقیقات سے یہ انکشاف ہوا تھا کہ اخبار کوتہلکا خیز اسٹوریزشائع کرنے کے لیے مالی دباؤ کا سامنا تھا۔ چناںچہ اخبار نے خوب مرچ مسالا لگایا اور ان شواہد کو نظرانداز کردیاجو اس کے موافق نہیں تھے۔ اس طرح سالہاسال کی کامیابی نے رپورٹروں اور ایڈیٹروں کو متکبربنا دیا تھا اوران میں یہ احساسِ تفاخر پیداہوگیا تھا کہ انھیں ہر طرح کا استثنا حاصل ہے اور وہ اپنے ناقدین کے بارے میں کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ تب ہی ممکن تھا جب وہ ایجنڈا وضع کرنے کی طاقت کے حامل تھے لیکن سوشل میڈیا کے آنے سے ان کا اثرورسوخ جاتا رہا تھا اور وہ گیٹ کیپر کا کردار کھو بیٹھے تھے۔ اب ہر کوئی گیٹ کے ارد گرد یا اس کا اوپر ناچ رہا تھا لیکن انھوں نے سست روی سے اس حقیقت کا ادراک کیا کہ ان کی دنیا کتنی تبدیل ہوچکی تھی۔

مالی دباؤ کے تحت اخبارنے صفحہ اوّل پرایسی سنسنی خیز رپورٹس کی اشاعت کو ترجیح دی، جن کی بدولت اس کی فروخت میں اضافہ ہوتا لیکن نیوزروم اخبار کی لاگت پر قابو پانے کی دوڑ میں متاثر ہوا اور اس کی ہفتے میں کوئی ایک جاندار اسٹوری شائع کرنے کی صلاحیت محدود ہوکررہ گئی۔ پھر یہ بھی ہوا کہ اس نے اندرونی صفحات پر شاملِ اشاعت ہونے کی حامل عام اسٹوریوں کو صفحہ اوّل میں جگہ دینا شروع کردی۔ چناںچہ جب اخبار ایسی کوئی سنسنی خیز اسٹوری شائع کرتا تو ایڈیٹرحضرات یہ محسوس کرتے کہ انھیں اس کے ساتھ کھڑے ہونا اور اس کو اپنانا ہے،حتیٰ کہ اس عمل سے ان کی اپنی دنیا تاریک ہو رہی تھی۔ 

سالہاسال تک نیوزروم نے ایسی اسٹوریزوضع کیں جو 800 الفاظ سے کم تھیں۔ انھیں "سنڈے ٹائمز ٹریٹمنٹ” کا نام دیا گیا تھا۔ ان کا واضح اورغیرمبہم بیانیہ ہوتا تھا۔ سنڈے ٹائمز کے قارئین ابہام نہیں، صاف گوئی چاہتے تھے۔ وہ ہیروز اور ولن چاہتے تھے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ایڈیٹروں کی کھیپ کا کردار صرف یہ رہ گیا تھا کہ وہ ان اسٹوریز کی نوک پلک سنواریں، ان میں مرچ مسالا لگائیں۔ وہ ان میں سے اگر، مگر،کسی سے منسوب قول وکلام پرقوسین اور دوسرے انتسابی الفاظ جیسے مبیّنہ اور دعویٰ وغیرہ حذف کردیتے تھے۔ یہ کامیابی کا ایک فارمولا تھا اور اس کو اخبار کی فروخت کے اعدادوشمارسے بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ مگر اس عمل میں بعض اوقات الزامات اعلامیے بن جاتے، دعوے ثبوت بن جاتے اور ثبوت حقائق بن جاتے تھے۔

ایڈیٹروں اور رپورٹروں نے یہ پالیسی وضع کررکھی تھی کہ وہ موردِالزام فریقوں پر بالکل آخری لمحے میں الزامات کی بارش کرتے تھے۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ وہ ایسا اس لیے کرتے تھے کہ ان کی کہانیوں کے معمول اکثر حفظ ماتقدم کے طور پر پیشگی ہی حرکت میں آجاتے تھے اور وہ ان کی اشاعت رکوا دیتے تھے لیکن اس کا تویہ مطلب ہوا کہ جواب کا حق محض باکس میں نشان لگانے کی مشق رہ گیا تھا۔ چناںچہ ان کے معمول جو کچھ بھی کہتے تھے،اس پر سنجیدگی سےغورکم ہی کیا جاتا تھا۔

اگر کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ ہماری تمام صحافت اس طرح کی ہے تو میں جنوبی افریقا کی صحافت کی ایک حالیہ فتح عظیم کی کہانی بیان کرتا ہوں۔ یہ گپتا لیکس اسٹوری تھی۔ اس میں برقی مراسلت (ای میلز) کے انبار سے ریاست پر قبضے کے ٹھوس ثبوت فراہم ہوئے تھے اور ان سے صدر جیکب زوما کو اقتدارسے ہٹانے میں مدد ملی تھی۔ یہ دلیرانہ صحافت کی سب سے دلچسپ اور بہترین کہانی ہے لیکن پھر یہ بھی ہوا کہ یہ کیسے قریب قریب غلط ثابت ہوگئی تھی۔ اس کے مرکزی کردار دو غیر روایتی نیوز روم تھے:خصوصی تحقیقاتی یونٹ امابھون گین (AmaBhungane) اور ڈیلی ماوریک (Daily Maverick) کے نام سے ویب سائٹ ۔ 

مجھ پر یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اب صحافت روایتی نیوزرومز کے بجائے تنہا پروازاورخصوصی غیر منافع بخش خیراتی فنڈ سے چلنے والے یونٹوں سے برآمد ہورہی ہے۔ اگر ہمیں اپنی صحافت کو پروان چڑھانا ہے تو ہمیں ایسے خصوصی یونٹوں کو بناناہوگا،ا ن کی معاونت کرنا ہوگی۔ ہمیں صحافت کو ایک منافع بخش مشین کے بجائے خدمتِ عامہ کے طورپر دوبارہ بنانا، سنوارنا ہوگا۔ہ میں ایک پیچیدہ صحافت کو قبول کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسی صحافت جس میں محض سادہ اور یک طرفہ اسٹوری کے بجائے کثیر پہلو، باہم متناقض اور متنازع بیانیے کو قبول کیا جائے۔   

_________________________________________________________

نوٹ از ایڈیٹر: سنڈے ٹائمز کی "کاٹو مینور:جنوبی افریقا کےڈیتھ اسکواڈ کی اندرونی کہانی” نے متعدد ایوارڈ جیتے تھے۔ ان میں جنوبی افریقا کا تحقیقاتی صحافت کا سب سے بڑا اعزاز "کوئپر ایوارڈ برائے تحقیقاتی صحافت” بھی شامل ہے۔ 2013ء میں اس نے جی آئی جے این کا گلوبل شائننگ لائٹ ایوارڈ جیتا تھا اور اس کے حصول میں پہلی جگہ پائی تھی۔ یہ ایوارڈ ترقی پذیر ممالک میں جبرواستبداد کے ماحول میں تحقیقاتی صحافت پر دیا جاتا ہے۔ اس اسٹوری میں رپورٹنگ کی اغلاط اور دوسرے اسقام و مسائل تھے۔ اس وجہ سے سنڈے ٹائمز خود ہی 2018ء میں اس کے حقِ ملکیت سے دستبردار ہوگیا تھا اور اس نے اسٹوری پر کام کرنے والی ٹیم کو ملنے والے تمام اعزازات بھی واپس کردیے تھے۔ اس کے ردعمل میں جی آئی جے این نے بھی کاٹو مینور کی اسٹوری کو گلوبل شائننگ لائٹ ایوارڈ سےہٹا دیا تھا۔ اس اسٹوری کے ایک لکھاری ظلی قاضی وا افریقا جی آئی جے این بورڈ کے 2014ء سے 2017ء تک رکن رہے تھے۔ 

_________________________________________________________


آنٹن ہاربر وٹ واٹرزرینڈ یونیورسٹی جوہانسبرگ میں جرنلزم کے کیکسٹن پروفیسر ہیں۔ وہ کتاب ‘سو فار دی ریکارڈ: بیہائنڈ دی ہیڈلائنز ان این ایرا آف سٹیٹ کاپچر’ کے مصنف ہیں اور جی آئی جے این کے بورڈ کے رکن ہیں۔ وہ میل اینڈ گارڈین کے بانی شریک ایڈیٹر اور آزاد نیوز چینل ای این سی اے کے ایڈیٹر ان چیف رہ چکے ہیں۔

ہمارے مضامین کو تخلیقی العام لائسنس کے تحت مفت، آن لائن یا پرنٹ میں دوبارہ شائع کریں۔

اس آرٹیکل کو دوبارہ شائع کریں


Material from GIJN’s website is generally available for republication under a Creative Commons Attribution-NonCommercial 4.0 International license. Images usually are published under a different license, so we advise you to use alternatives or contact us regarding permission. Here are our full terms for republication. You must credit the author, link to the original story, and name GIJN as the first publisher. For any queries or to send us a courtesy republication note, write to hello@gijn.org.