تحقیقاتی صحافت کسے کہتے ہیں؟

English

اگرچہ اس بارے کسی ایک تعریف پر اتفاق نہیں تاہم اس بات پر اکثریت متفق ہے کہ تحقیقاتی صحافت میں درج ذیل خوبیوں کا ہونا ضروری ہے یہ منظم انداز میں مطلوبہ ہدف کا اسطرح سے کھوج لگانے کا عمل ہے کہ جس سے معاملے کی تہہ تک پہنچا جاسکے اور اسکے نتیجے میں حاصل کردہ معلومات ایسی ہوں جو نئی ہوں اس عمل میں اکثر اوقات بہت بڑے رازوں سے پردہ اٹھایا جاتا ہے اس شعبے کا ایک طبقہ فکر یہ سمجھتا ہے کہ تحقیقاتی صحافت دراصل عوامی ریکارڈ اور ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے سماجی انصاف کیلئے جدوجہد اور طاقتور لوگوں کو جوابدہ بنانے کا نام ہے

یونیسکو نے تحقیقاتی صحافت پر ایک کتابچہ شائع کیا ہے جو معلومات کی بنیاد پر تحقیق سے متعلقہ ہے اس کتابچے میں تعریف کچھ یوں کی گئی ہے: “تحقیقاتی صحافت ایسے عوامی مفادات کے معاملات کو منظر عام پر لانا ہے جنہیں جان بوجھ کر یا انجانے میں عوام سے چھپایا گیا ہو جس کے نتیجے میں کسی معاملے پر عوام کو مکمل آگہی نہ ہو اسطرح کے تحقیقی عمل میں عوامی ریکارڈ اور مخفی ذرائع دونوں استعمال ہو سکتے ہیں” ایک اور ادارے نے اس کو “تنقیدی اور گہرائی میں جاکر کھوج لگانے والا صحافتی عمل” قرار دیا ہے

کچھ صحافیوں کے مطابق ہر طرح کی رپورٹنگ تحقیقاتی صحافت کے زمرے میں آتی ہے اس دعوے میں کسی حد تک صداقت بھی ہے کیونکہ بیٹ رپورٹرز بھی معلومات کے تعاقب میں وہ طریقے استعمال کر سکتے ہیں جو تحقیقاتی صحافی کرتے ہیں المختصر تحقیقاتی صحافت کھوج لگانے کے مختلف طریقوں کا ایک مجموعہ ہے جن پر عبور حاصل کرنے میں وقت لگتا ہے اگر ایسی رپورٹنگ کا جائزہ لیا جائے جس پر ایوارڈ ملے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس میں تحقیقات اور رپورٹنگ کے اعلی معیار کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہوتا ہے جس کا یہ پیشہ متقاضی ہے دوسرے الفاظ میں کرپشن، فنڈز میں خرد برد، طاقت کے ناجائز استعمال، ماحولیاتی مسائل، نظام صحت اور دیگر معاملات کا گہرائی میں جائزہ لیتے ہوئے اصل وجوہات کی نشاندہی کرنا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے

“تحقیقاتی صحافت کیا ہے” بارے ویڈیو دیکھنے کیلۓ ہمارا یوٹیوب چینل چیک کریں

تحقیقاتی رپورٹنگ کو بعض اوقات انٹرپرائز، گہری اور پراجیکٹ رپورٹنگ کا نام بھی دیا جاتا ہے تاہم “لیک جرنلزم” اس زمرے میں نہیں آتی لیک جرنلزم کیا ہے؟ یہ وہ سکوپ ہے جو ایک رپورٹر کو مسودے یا خبر کی شکل میں اکثر اوقات حکومت میں موجود لوگوں سے ملتا ہے درحقیقت ایسے ممالک جدھر جمہوریت ابھی پنپ رہی ہے وہاں تحقیقاتی صحافت کی تعریف بڑی مبہم ہے عام طور پر تنقیدی یا ایسی رپورٹنگ جو لیک مسودے کی بنیاد پر کی گئی ہو اسے بھی تحقیقاتی صحافت میں شمار کیا جاتا ہے یہاں تک کہ جرائم اور بدعنوانی بارے کسی بھی قسم کی رپورٹنگ، تجزیہ یا ذاتی رائے پر مبنی مضامین کو بھی غلطی سے تحقیقاتی صحافت تصور کیا جاتا ہے

دراصل تحقیقاتی صحافت منظم انداز میں معاملے کی تہہ تک پہنچتے ہوۓ نۓ حقائق منظر عام پر لانےکا نام ہے جس دوران بعض اوقات نۓ راز بھی افشا ہوتے ہیں

اس شعبے میں تربیت فراہم کرنے والے نامور اساتذہ کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی صحافت کرنیوالے معلومات کا کھوج لگانے کیلئے محتاط انداز میں مناسب طریقہ کار کا انتحاب کرتے ہیں اور انکا زیادہ انحصار بنیادی نوعیت کے ذرائع معلومات پر ہوتا ہے اور تحقیق کے عمل کے دوران وہ اپنے وضع کردہ مفروضے بھی ٹیسٹ کرتے ہیں اور حاصل معلومات کی کڑی چھان بین کرتے ہیں تاکہ جھوٹ کی آمیزش نہ رہے تحقیقات بارے اگر ڈکشنری سے تعریف دیکھی جائے تو اس کا مطلب “منظم انداز میں حقائق کی جانچ پرکھ ہے” جو عام طور پر ایک یا دو دن میں مکمل نہیں ہوتی بلکہ اسکے لئے طویل عرصہ درکار ہوتا ہے اس شعبہ کے دیگر ماہرین تیکنیکی جدت کا کریڈٹ بھی تحقیقاتی صحافت کو دیتے ہیں جیسا کہ ڈیٹا کے تجزیے اور اسے پیش کرنے کے نت نئے انداز اسکی وجہ سے ہی ایجاد ہوئے برانٹ ہوسٹن ایک امریکی یونیورسٹی میں تحقیقاتی صحافت کے استاد ہیں ان کا کہنا ہے کہ “تحقیقاتی صحافت اسلئے بھی اہم ہے کیونکہ یہ چیزوں کو نئے انداز میں کرنے کا فن سکھاتی ہے جو بعد ازاں روزمرہ رپورٹنگ کا حصہ بھی بن جاتے ہیں جس کے نتیجے میں صحافت کے پورے شعبے کا معیار بڑھانے میں بھی تحقیقاتی صحافت کا کردار ہے”

درج بالا اقتباسات ڈیو کیپلن کے کتابچے Global Investigative Journalism: Strategies for Support سے لئے گئے ہیں جو 2013 میں Center for International Media Assistance کے تعاون سے لکھا گیا تھا کیپلن گلوبل انویسٹیگیٹو جرنلزم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں جس کیساتھ 77 ممالک سے 184 غیر منافع بخش ادارے منسلک ہیں

مزید معلومات: تحقیقاتی صحافت کے بارے مزید جاننے کیلئے آپ The Investigative Journalism Manual بھی پڑھ سکتے ہیں جو پہلا باب ہے Konrad Adenauer Stiftung کے 2010 کے گلوبل میڈیا پراجیکٹ کا۔