گلوبل انویسٹیگیٹو جرنلزم نیٹ ورک کے اردو ایڈیشن کا مقصد: اردو زبان میں تحقیقاتی صحافت کے بارے میں بین الاقوامی رحجانات سے آگاہ رکھنا اور پیشہ وارانہ فرائض کی بہتر ادائیگی کیلئے نوجوان صحافیوں کو راہنمائی فراہم کرنا ہے. اس ایڈیشن میں آپ  کودنیا بھر سے میڈیا  کے بارے معلوماتی مضامین، تحقیقاتی صحافت کیلئے موجود وسائل، پیشہ ورانہ تربیت کے بارے میں مختلف پروگرام، قانونی معاونت، ذاتی تحفظ اور معلومات تک رسائی کے لیے مختلف ممالک میں درخواست دینے کے طریقہ کار کے بارے میں رہنمائی کیلئے مواد دستیاب ہو گا.

تازہ ترین

فیمیسائیڈ کی تفتیش: جی آئی جے این کی گائیڈ

September 13, 2021

فیمیسائیڈ، عورتوں کا ان کا عورت ہونے کے ناتے خود ساختہ قتل ایک عالمی مسئلہ ہے۔ اقوام متحدہ کے حالیہ کے شمار میں، 50 ہزار کے قریب عورتوں کا قتل ان کے قریبی پارٹنر اور دیگر فیمبلی ممبران کے ہاتھوں ہوتا ہے۔ جہ آئی جی این کی اس گئیڈ کا مقصد صحافیوں کو یہ سمجھنے میں مدد کرنا ہے کہ نسائی قتل کیا ہے، دستیاب ڈیٹا کو تلاش کرنے اور سمجھنے کا طریقہ کار ، اور کن ماہرین کا انٹرویو کیا جا سکتا ہے۔

ڈیٹا کو ریڈیو رپورٹنگ میں ابھارنے کی 12 ٹپس

September 08, 2021

ریڈیو رپورٹنگ نے ڈیٹا جرنلزم میں میڈیا کے دوسرے فارمیٹس سے کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ لیکن ریڈیو پر ڈیٹا رپورٹنگ کے لیے کے تخلیقی حل ابھر رہے ہیں – یہاں ماہرین نے 12 تجاویز شیئر کیں تاکہ ریڈیو رپورٹرز اپنے کہانیوں کے ذخیرے کو وسیع کر سکیں

جنگ اور تنازعہ کوور کرنے کے لئیے ڈیٹا جرنلزم کا استعمال کیسے کیا جائے

September 06, 2021

ڈیٹا جرنلزم رجحانات ، نقشے اور نمونے دکھا سکتا ہے ، اس بات کو اجاگر کر سکتا ہے کہ تشدد کسی علاقے میں زیادہ ہوا ہے کم ہوا ہے ، جہاں تنازعہ واقع ہے، اور اس کا ان حالات سے کیا تعلق ہے جس سے شہری متاثر ہوتے ہیں ، جیسے ہجرت کرنا یا پناہ گزین بننا۔ اپنی اگلی تفتیش میں آپ اس ڈیٹا کو کس طرح استعمال کر سکتے ہیں اس کے بارے میں مزید جانیں

professional studio microphone

اپنی رپورٹنگ میں آڈیو شامل کرنے کے 9 طریقے

July 31, 2021

یہ بات سب کو معلوم ہے کہ کچھ سامعین میں صحافت پر اعتماد کم ہے۔ صحافتی اداروں کو زیادہ شفاف، قابل رسائی اور جوابدہ ہونے کی ضرورت ہے۔ آڈیو ایسا کرنے کا ایک آسان اور موثر ذریعہ پیش کرتا ہے۔

اگر آپ یا آپ کے ذرائع کا پیچھا کیا جا رہا ہے تو کیا کریں؟

July 26, 2021

2018 میں ، نجی تفتیش کار ایگور آسٹوروسکی نے امریکی تفتیشی رپورٹر رونن فیرو کے سامنے انکشاف کیا کہ وہ ان کی جاسوسی کررہے ہیں ، اور “صحافیوں کے شکار” پر وسل بلوئر بن گئے۔ اوستروسکی نے حال ہی میں صحافیوں کو جسمانی نگرانی کی بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے بارے میں آگاہ کیا۔