گلوبل انویسٹیگیٹو جرنلزم نیٹ ورک کے اردو ایڈیشن کا مقصد: اردو زبان میں تحقیقاتی صحافت کے بارے میں بین الاقوامی رحجانات سے آگاہ رکھنا اور پیشہ وارانہ فرائض کی بہتر ادائیگی کیلئے نوجوان صحافیوں کو راہنمائی فراہم کرنا ہے. اس ایڈیشن میں آپ  کودنیا بھر سے میڈیا  کے بارے معلوماتی مضامین، تحقیقاتی صحافت کیلئے موجود وسائل، پیشہ ورانہ تربیت کے بارے میں مختلف پروگرام، قانونی معاونت، ذاتی تحفظ اور معلومات تک رسائی کے لیے مختلف ممالک میں درخواست دینے کے طریقہ کار کے بارے میں رہنمائی کیلئے مواد دستیاب ہو گا.

تازہ ترین

آن لائن ہراسگی اور گمراہ کن معلومات سے بچنے کے لیے صحافی کیسے تیاری کرسکتے ہیں

June 15, 2021

وسکونسن میں مقیم فری لانس رپورٹر اور مصنف ہاورڈ ہارڈی آن لائن ہراساں کرنے اور غلط معلومات کے مابین غیر پیچیدہ رابطے کے بارے میں لکھتے ہیں ، اور انفرادی رپورٹرز اور نیوز روم اس کے بارے میں کیا کر سکتے ہیں۔

عالمی جنوب میں واٹس ایپ کواستعمال کرکے مواد فراہم کریں

May 23, 2021

لاطینی امریکہ اور افریقہ میں واٹس ایپ کی مقبولیت ابھرتے ہوئے ، ڈیجیٹل اور چھوٹے نیوز رومز کے لیے ایک موقع پیش کرتی ہے۔ لورا اولیور نے وضاحت کی ہے کہ کس طرح زمبابوے سے لے کر برازیل اور جنوبی افریقہ تک اخبارات اور اسٹارٹ اپ پلیٹ فارم واٹس ایپ کو اپنی کہانیاں بانٹنے کے لیے جدید طریقوں سے استعمال کررہے ہیں۔

اپنے نیوز روم میں سوشل میڈیا کا استعمال زیادہ کرنا: تقسیم اور مشغول قارئین سے متعلق ایک ٹپ شیٹ

April 21, 2021

آپ کے قارئین کون ہیں، وہ کس طرح آن لائن جاتے ہیں، اور وہ کون سا مواد پسند کرتے ہیں، جاننا کسی بھی تنظیم کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ پھر بھی، اگر آپ اپنے پڑھنے والوں اور ناظرین کے بارے میں یہ چیزیں جانتے ہیں تو، سیکھنے اور ان پر غور کرنے کے لیے اور بھی بہت کچھ ہے۔

کسی سانحے کے متاثرین، گواہ اور بچ جانے والوں کا انڑویو کرنے کی ٹپس

April 19, 2021

تکلیف دہ واقعات اکثر یاداشت کو متاثر کرسکتے ہیں۔ یادیں بدل جاتی ہیں اور خوف میں تبدیل ہو سکتی ہیں، سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہوا، وقت گزرنے کے ساتھ ، فراموش کرنے کی خواہش کے ذریعے ، کیس کے بارے میں حالیہ انکشافات کے ذریعے ، یا محض دیگر شہادتوں کو سن کر۔

سنکیانگ حراستی مراکز پر تحقیق کے لئے  چین کے گوگل میپس کی چھان بین

April 15, 2021

آرکیٹیکٹ ایلیسن کِلنگ کا کہنا ہے کہ سنکیانگ میں چین کی جانب سے تعمیر کیے جانے والے حراستی مراکز کی کھوج لگانے اور شناخت کرنے کے لئے نقشہ سازی سائٹ بائیڈو پر خالی ٹائلویں ان مر۱کز کا پہلا سراغ تھیں۔